ساحرہ —- مریم عرفان کا افسانہ

0

وہ اور اس کی بیوی ایسے ہی تھے جیسے بارش میں نکلی دھوپ یا پھر بہت کچھ یا شاید کچھ بھی نہیں۔ معید احمد اور ساحرہ وقار جیسے ایک ستارہ رات کو نکلا اور دوسرا دن کو۔ دو متضاد لوگ ایک پلیٹ فارم پر کھڑے گاڑی کا انتظار کرتے رہے۔ گاڑی آئی دونوں سوار ہوئے لیکن سٹیشن بدل گئے۔ ساحرہ اپنے نام کی طرح تھی مسحور کر دینے والی، سحرانگیز، جادو پھونک دینے والی جو اس کی زندگی میں آئی تو سب کچھ الٹ پلٹ ہوگیا۔ اس کے مساموں سے پھوٹنے والی خوشبو، اس کے گورے ہاتھوں پر لگی مہندی اور گردن میں پڑی سونے کی زنجیر کے بل معید کو کروٹیں بدلنے پر مجبورکرنے لگے۔ وہ اس کی زندگی میں آ تو گئی لیکن ایسے جیسے کوئی کشتی بادبان کے بغیر سمندر میں اترتی ہے یا پھر جیسے کوئی مسافر نقشے کے بغیر سفر کو نکلے تو نہ منزل ملے اور نہ واپسی کا راستہ۔ وہ بہت عجیب دن تھے جو دونوں کو اکٹھے جینا پڑے۔ گھر کا بڑا لڑکا معید احمد دھان پان سی ساحرہ کے آگے پدی کا شوربہ تھا۔

ٹھنڈی سڑک جیسی ساحرہ پر کبھی سورج نہیں اگا بس سائے ہی تنے رہے اور معید احمد ایسا الاؤ جس کی تپش سونگھ کر کچی مٹی بھی اپنا اثرچھوڑ دے۔ معید کی ان دنوں عجیب حالت تھی۔ کام میں من لگتا اور نہ گھر میں سکون ملتا جیسے سب کچھ اتھل پتھل ہوگیا ہو۔ ساحرہ اس کے دماغ میں تیز نشے کی بو بن کر گھس چکی تھی، اس کے نتھنے اس بو کی کاٹ سے چھلنی تھے۔ سب ٹھیک چل رہا تھا لیکن معید کے لیے ابھی بھی کچھ کمی تھی۔ اسے ملازمت میں ترقی سے زیادہ ساحرہ کے خواب آتے تھے۔ یہ خواب جاگتے میں سانپ کی طرح دل کے سنگھاسن پر کنڈلی مار لیتے۔ وہ اس وقت کیا کر رہی ہوگی۔ کیا سوچ رہی ہو گی۔ تیار ہوکرکیسی دکھے گی، جب گھر جاؤں گا تو کیسے ملے گی۔ ایسی سوچیں معید کو فائلوں کے ڈھیر پر مسکراتی ملتیں لیکن گھر لوٹنے پر وہ معید کو ایسے ملتی جیسے کوئی زبردستی کا سودا ہو۔ یا دروازے پر آیا پھیری والا، جسے سودا بیچنے کے سوا کوئی سروکار نہیں۔ پیشانی پر تناؤ، کھنچے ہوئے ہونٹ اور پھیکی سی مسکراہٹ۔ بعض اوقات تو سردمہری کی آنچ اسے گھرکی دہلیز پر ہی جلا کر خاک کر دیتی۔

معید احمد دیگ میں پک پک کر ختم ہونے لگا تھابس اک آس تھی کہ شاید اسے ساحرہ پوری مل جائے۔ پھر وہی روایتی قصے اور گلے شکوے شروع ہوگئے۔ الگ گھر چاہیے، جہاں میں آزادی سے رہ سکوں، پرندے رکھوں، چھوٹے سے کچن میں شام کی چائے بناؤں، جہاں صبحیں میری مرضی کی محتاج ہوں اور راتیں تمہاری۔ بس وہ کچھ ایسا ہی کہا کرتی تھی جادو جو آتا تھا اسے۔ ساحرہ جانتی تھی کہ جس پر سحرچلتا ہے وہ اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہو پاتا۔ تو پھر گھٹنوں کے بل کھڑا معید اس کے قد کے برابر کیسے ہو جاتا۔ ساحرہ اس کے لیے کھجور کا درخت بن چکی تھی جو دھوپ میں سایہ نہیں دیتا یا شاید پاپولر کے پیڑکی طرح جس پر پھول بھی نہیں لگتا۔ ویسے ہی ساحرہ اپنے قد کی دھوپ میں ٹنڈ منڈ کھڑی رہی۔ پھر راستے بدل گئے۔ ایک ٹریک پر دونوں ٹرینیں کانٹا بدلنے سے الگ ہو گئیں۔ معید احمد زندگی میں شاید پہلی بار تکیے میں منہ دے کر رویا۔ جیسے کوئی نئی نویلی بیوہ اپنے گہنے توڑتی ہے ویسے ہی ایک جوان نے اپنے اندر کے مرد کو ٹوٹتے دیکھا۔ زندگی کی گاڑی پٹری کے کانٹے بدلنے سے کبھی نہیں رکتی ویسے ہی معید کی زندگی کو بھی چلتے رہنا تھا۔ ماں کا کہنا تھا کہ ساحرہ جیسی پچھل پیری اس کے لیے منحوس تھی۔ وہ ابلتے ہوئے دودھ پر آئی جھاگ جیسی تھی جو ایک ابال آنے پر چمچ ہلانے سے حل ہوجائے اور ٹھنڈی ہونے پر پتیلی کے پیندے اور دیواروں سے چپکے۔ معید کو لگتا تھا جیسے ساحرہ چیونگم بن کر اس کے جسم سے چپک گئی ہے۔ جسے وہ کبھی برف مل کر اتارتا اور کبھی چھری سے چھیلنے کی کوشش کرتا مگر سب بے سود۔

معید دو سال تک خود کو سہلاتا رہا۔ زیادہ تنگ ہوتا تو پچھل پیری کے قدموں کے تعاقب میں نکل کھڑا ہوتا۔ شاید وہ کہیں نظر آجائے، اپنے گھر کی دہلیز کے باہر ہی سہی لیکن کبھی ایسا ہوا نہیں۔ پھر وقت نے سب بھر دیا۔ درختوں کی چھال اترگئی۔ زردیاں سبز ہوگئیں اور معید کے چہرے پر ساحرہ کے دکھ کو دوسرے سہرے نے چھپا لیا۔ اس کی جگہ باکرہ نے لے لی۔ یہ ہر عورت اپنے نام جیسی کیوں ہوتی ہے۔ معید کی سمجھ سے باہر تھا۔ ساحرہ کی آنکھوں میں تو کالا جادو تھا اور باکرہ کی آنکھوں میں چکا چوند چاندنی کی طرح شفاف اور بہتی روشنی جس نے معید کے تنور کو دہکا دیا۔ باکرہ کا اندر باہر ایک تھا۔ اس کی آنکھیں ساحرہ کی آنکھوں کی طرح چغلیاں نہیں کھاتی تھیں۔ باکرہ نے معید کو پاؤں پاؤں چلنا سکھایا، وہ اس کا ہاتھ تھامے آگے بڑھ رہا تھا۔ اب دن معید کی مرضی سے پروان چڑھتے اورراتیں بھی اسی کے تابع تھیں۔ معید کو انتہا چاہیے تھی سو باکرہ کی صورت میں مل گئی۔

مرد کی زندگی میں دو عورتیں ایسے ہی ہیں جیسے ایک قبرپر دوسری قبر۔ بندہ فاتحہ کس پر پڑھے۔ معید کی سمجھ میں بھی نہیں آتا تھا سو اس نے فاتحہ پڑھنا ہی چھوڑ دی۔ باکرہ اپنے حصے کی کامیابی اور رزق لائی، بے چینی جو نہ تھی اس میں، فرار نہیں تھا، اضطراب نہ تھا وہ پرسکون تھی۔ سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا لیکن ایک دن معید کے سینے میں جیسے کسی نے چھرا گھونپ دیا۔

وہ بھی عام سا دن تھا جب گھر کی لڑکیاں خریداری کے لیے نکلیں۔ معید کی جمائی ابھی پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ بہن نے گاڑی کا دروازہ دھڑ سے بند کیا اور پھر لفظوں کا بارود اس کی زبان سے تڑا تڑ گولیاں برساتا رہا۔ ایک کے بعد دو، دو کے بعد تین اور پھر پوری رائفل خالی ہوگئی۔ ’’ساحرہ کی شادی ہوگئی ہے‘‘۔

اس سے آگے کیا کہا گیا کہ اسے کچھ خبر نہیں۔ وہ گھر پہنچنے کے بعد بستر پر نڈھال ہوکر گر گیا جیسے اس کے بدن میں سوئیاں کھبی ہوں اور وہ آئی۔ سی۔ یو میں پڑا ہو۔ اس سچ نے چھرا ہی تو گھونپا تھا اس کے سینے میں اور لفظوں کی تلخی نے سچائی کا زہر رگوں میں انڈیل دیا۔ جس کی آنکھیں اس کے کمرے کے دروازے پر گڑی تھیں وہ ملک ہی چھوڑ کر چلی گئی۔ عورت اور مرد کے ملاپ کا فلسفہ بھی بڑا مضحکہ خیز ہے۔ مرد کی دوسری شادی ’’پین کلر‘‘ ہوتی ہے اور پہلی شادی ساحرہ اور معید جیسی۔ ساحرہ کسی سے مکمل نہیں ہوتی اور مرد کو مکمل عورت چاہیے آدھی نہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: