ڈاکٹر انور سجاد —— شہزاد وریا

0

“کشتی کنارے سے پھسل گئی۔ چند لمحوں کے لیے خاموشی رہی۔ کو ندراتی دنبالی پتوار تھام کے بیٹھ گیا۔ ژورولوف اپنے خیالوں میں گم یاسمین کی ڈالی سونگھنے لگا جو وہ کشتی میں چھوڑ گیا تھا۔ پھول بدرنگ سے ہو گئے تھے۔ خوشبو باسی اور نم آلودہ ہو گئی تھی۔
ژورولوف اب بھی لینن کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اسکے ہونٹوں پر وہ پیار بھری طویل مسکراہٹ پھیل گئی جو ان لوگوں کے ہونٹوں پر پھیلا کرتی تھی جیسے انہوں نے کوئی بہت ہی پیاری، خوشگوار شئے دیکھ لی ہو۔

دزدرہنسکی کے ذہن پر بھی لینن چھایا ہوا تھا۔ یکدم اسکی آواز نے تاریکی کو چیرا، ” لینن کبھی نہیں ٹوٹ سکتا۔ “
یہ اقتباس”نیلی نوٹ بُک‘‘ سے لیا گیا ہے۔

ڈاکٹر انور سجاد صاحب سے میرا تعارف “نیلی نوٹ بُک‘‘ سے ہوا۔ عمانوئیل کزاکیویچ نے سوویت انقلاب پر یہ کتاب تحریر کی۔ ڈاکٹر انور سجاد نے اس کتاب کا اردو میں ترجمہ کیا۔

ڈاکٹر انور سجاد 27 مئی 1935ء کو چونا منڈی (لاہور)، ڈاکٹر دلاور علی کے گھر پیدا ہوئے۔ ڈاکٹر دلاور، لاہور کے اوّلین ڈاکٹروں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور سے ایم بی بی ایس کیا۔ پھر ڈی ٹی ایم اینڈ ایچ کا امتحان لندن سے پاس کیا۔ انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز افسانہ نگاری، ڈرامہ نگاری، مصوری، ناول نگاری، رقاص اور ایک سیاسی لیڈر کی حیثیت سے کیا۔ پہلے کہانیاں لکھنی شروع کی انہوں نے پہلی کہانی ’نقوش‘میں لکھی۔ ڈاکٹر انور سجاد کا پہلا ناولٹ ’’رگ سنگ‘‘ 1955میں شائع ہو۔ ڈاکٹر عبادت بریلوی نے اس کا دیباچہ لکھا تھا کور فلیپ لکھا تھا عارف عبدالمتین نے۔
ڈاکٹرانور سجادکہتے ہیں :

“اکسٹھ یا باسٹھ میں وہ میری پہلی کہانی تھی مارشل لاء کے بعد، “سازشی”۔ استعارے کی پہلی کہانی بھی سازشی ہی ہے۔ اس میں میری واحد حمایت شیر محمد اختر نے کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ”آپ کو پتہ ہی نہیں ہے کہ یہ کہانی کیا ہے”۔ باقی لوگوں نے بس پاگل پاگل کہنا شروع کر دیا۔ کچھ نے کہا کہ کہانی ہے نئی لیکن سوچنا پڑے گا کہ ہے کیا۔ میں بالکل مایوس نہیں ہوا۔ حلقے میں تو میں منٹو صاحب کے ساتھ بھی جاتا تھا نا۔ پہلی بار میں ان سے انیس سو پچاس میں ملا تھا اور ان سے ہمارے بہت تعلقات بن گئے تھے۔ انیس سو انچاس میں انجمن ترقی پسند مصنفین کی کانفرنس ہوئی تھی۔ میں اس وقت سولہ سال کا تھا۔ اس زمانے ایک تنظیم ہوتی تھی ’ڈیموکریٹک سٹوڈنٹس فیڈریشن‘ جس کے جنرل سیکرٹری ہوتے تھے منصور ملک جو بعد میں پیپلز پارٹی پنجاب کے بھی جنرل سیکرٹری ہوئے۔ ان سے دوستی ہوئی تو مزدور یونینوں اور مرزا ابراہیم سے بھی رسم و راہ ہوگئی۔ سجاد ظہیر کو میں کافی دور سے دیکھا ہوا ہے”۔
“سازشی” وہی کہانی ہے جس کے بارے میں ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں ” میں نے کہانی جیسے ہی ختم کی تو منٹو صاحب نے کہا ’چل خواجہ چل کم ہو گیا اے‘۔

اس کے علاوہ ان کی کتابوں میں استعارے، آج، پہلی کہانیاں، چوراہا، زردکونپل، خوشیوں کا باغ، نگار خانہ، صبا اور سمندر، جنم روپ، نیلی نو ٹ بُک، رسی کی زنجیر، سورج کو ذرا دیکھ اورمجموعہ ڈاکٹر انور سجاد شامل ہیں۔

1965 میں پاکستان ٹیلی ویژن کے لیے ڈرامے لکھنے کا آغاز کیا۔ 1970 مین آرٹسٹ ایکٹویٹی کی بنیاد رکھی جس کا مقصد اداکاروں اور فنکاروں کے حقوق و مفادات کا تحفظ تھا۔ 1970ہی میں حلقہ ارباب ذوق لاہور کے سیکرٹری منتخب ہوئے۔ 1973 میں ڈرامے اور موسیقی کا جو میلہ منعقد ہوا تھا۔ اس میں پاکستان وفد میں رکن کی حیثیت سے شرکت کی۔ 1989ء میں حکومت پاکستان کی طرف سےانہیں صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔
ان کے بارے میں ایک مشہور واقعہ بھی بیان کیا جا تا ہے کہ جنرل ضیاء کے دور میں ایک روز پولیس کی چار پانچ گاڑیاں اس نہتے اداکار، فنکار، ڈاکٹر اور سیاسی ایکٹوسٹ کو چونا منڈی میں اُن کے کلینک سے گرفتار کرنے آ گئیں۔ پولیس افسر نے کہا، چلیں ڈاکٹر صاحب، آپ کی گرفتاری کا حکم ہے۔ ۔ وہ اپنے کلینک سے اٹھے، پولیس کو گرفتاری دی اور پولیس وین میں بیٹھ گئے۔ محلے والے اکٹھے ہوگئے۔ گاڑی چلنے لگی۔ سگریٹ کا کش لگاتے ہوئے مارشل لاء کے زندان میں جاتے انقلابی دانشور نے مسکراتے ہوئے تھانیدار سے کہا، ٹھہرو ابھی گاڑی نہ چلاؤ، وہ رک گئے اور پوچھا کہ کیوں؟ ڈاکٹر انور سجاد نے کہا، گاڑیوں کے اوپر لگے ہوٹر بجاؤ، ، محلے میں پتا چلے کہ میری بارات پسِ زندان جا رہی ہے۔ میرا ٹہکا ہونا چاہیے کہ آمریت کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے گرفتار ہوا ہوں۔ یوں ان گاڑیوں کے ہوٹر بجنے لگے اور ڈاکٹر انور سجاد شان وشوکت سے چونا منڈی سے جیل چلے گئے۔

فرخ سہیل گوندوی نے لکھا ہے:
” ڈاکٹر انور سجاد کس قدر بڑے ادیب ہیں، اس کا اندازہ اپریل 2007ء میں دہلی میں ایک حقیقی عالمی کانفرنس میں ہوا، جس کے وفد کی تشکیل اور قیادت میرے حصے میں آئی۔ اس وفد میں دیگر مہمانوں کے علاوہ عمران خان اور سردار آصف احمد علی بھی تھے۔ دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں قیام کے دوران بھارت کے معروف ادیب جس طرح اردو کے اس ناول نگار سے ملنے آئے، اُن کی تعداد عالمی شہرت یافتہ کرکٹر عمران خان سے ملاقاتوں سے زیادہ تھی۔ بھارت کے ہندی اور اردو کے ادیب، ڈاکٹر انور سجاد سے ادب کے دیوتا کے طور پر ملنے چلے آئے”۔

2008کے انتخابات میں انہوں نے ایم این اے کی نشست کے امیدوار کے طور پر کاغذات نامزدگی جمع کرا دیئے۔ ان کے مقابلے میں مسلم لیگ نون کا امیدوار کامیاب ہوا تھا۔ جس سے ڈاکٹر صاحب دلبرداشتہ ہو کر کراچی چلے گئے۔ پھر آپ کی بیوی آپ کو لاہور واپس لےآئی۔
ڈاکٹر انور سجاد جدید افسانے کا ایک معتبر نام ہیں۔

ممتاز نقاد شمس الرحمٰن فاروقی، ڈاکٹر انور سجاد کے فن اور افسانہ کے بارے میں کہتے ہیں :

” انور سجاد کے افسانے سماجی تاریخ نہیں بنتے بلکہ اس سے عظیم تر حقیقت بنتے ہیں۔ اس لیے کہ ان کے یہاں انسان یعنی کردار، علامت بن جاتے ہیں۔ یہ بات قابلِ لحاظ ہے کہ انور سجاد کے کردار بے نام ہوتے ہیں اور وہ انہیں ایسی صفات کے ذریعے مشخص کرتے ہیں جو انہیں کسی طبقے یا قوم سے زیادہ جسمانی یا ذہنی کیفیات کے ذریعے تقریباً دیو مالائی فضا سے متعلق کردیتے اور خطِ مستقیم کی بجائے دائرے کا تاثر پیدا کرتے ہیں۔

ممتاز شاعر و افسانہ نگار احمد ندیم قاسمی، ڈاکٹر انور سجاد کی تکنیک اور اسلوب کے بارے میں کہتے ہیں :
” انور سجاد کے افسانوں کے اسلوب پر غور کرتے ہوئے مجھے غزل بہت یاد آئی۔ شعور کی رو میں ایک غیر شعوری باظنی ربط ضرور ہوتا ہے۔ یہی ربط ایک اچھی غزل میں بھی موجود ہوتا ہے۔ یوں اردو کی یہ صنف جدید ذہن کے قریب پہنچ جاتی ہے”۔

یہ نامور ادیب ، افسانہ نگار، ڈرامہ نگار، مصور، ڈاکٹر انور سجاد آج (06جون2019) لاہور میں وفات پا گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

 

(Visited 132 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: