خلافت، شورائیت اور جمہوریت: اسلام کے سیاسی نظام کی بحث —- احمد الیاس

0

اسلام کا سیاسی نظام کے متعلق نت نئے مغالطے آئے روز سننے کو ملتے رہتے ہیں۔ ان میں سے اکثر ‘خلافت’ کے نام پر ہیں۔ یہ نام حامیوں اور مخالفوں کی طرف سے دن رات رٹا جاتا ہے مگر کم ہی لوگوں نے اس کو تھوڑی گہرائی سے سمجھنے کی کوشش کی۔ اس حوالے سے کوئی یہ کہتا نظر آتا ہے کہ صدارتی نظام اسلام سے قریب تر ہے تو کسی کے خیال میں ملوکیت غیر اسلامی نہیں مگر جمہوریت کفر ضرور ہے۔ کسی کے نزدیک خلیفہ مشورے سے منتخب ضرور ہوتا ہے مگر مشورے سے حکومت چلاتا نہیں اور کوئی اسلامی نظام کو نیک اور پڑھے لکھے افراد کی حکومت خیال کرتا ہے۔ یہ سب اٹکل پچو ہیں جن کی کوئی مضبوط بنیادیں نہیں۔

لفظ خلافت تین معنوں میں رائج ہے۔ پہلے معنوں میں یہ ایک سیاسی ضابطہ ہے، دوسرے معنوں میں تاریخ کا ایک خاص دور اور تیسرے معنوں میں ایک سیاسی ٹائٹل۔

سیاسی ٹائٹل کے طور پر یہ 1924 تک برقرار رہا اور مختلف خاندانوں کے ڈیڑھ سو کے لگ بھگ بادشاہوں کے لیے استعمال ہوا (خلیفۃ الرسول و امیر المومنین)۔ یہ فقط ایک سیاسی سٹنٹ تھا جس کی کوئی شرعی حیثئیت نہ تھی۔ ہاں کچھ سیاسی اور تمدنی افادیت ضرور بن گئی تھی۔

تاریخ کے ایک خاص دور کے طور پر یہ عموماً چار، پانچ یا چھ ہستیوں کے دورِ حکومت کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے جنہوں نے رسول اللہ کے طریقے یعنی شوریٰ و شریعت پر حکومت چلائی۔ اس میں ابوبکرؓ و عمر، عثمان و علی کے نام تو معروف ہیں۔ مگر سیدنا حسن کے چھ ماہ اور عمر بن عبدالعزیز کے ڈھائی سال بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سنت کے مطابق تھے کیونکہ یہ عادل حکمران تھے اور بلاجبر بیعت لے کر اقتدار میں آئے۔ انہیں بھی اس حوالے سے شمار کیا جاسکتا ہے۔

اصل چیز خلافت بہ طور سیاسی ضابطہ ہے۔ اس طور پر خلافت اسلام کی سیاسی قدروں کا مجموعہ ہے جو کبھی بھی کسی نہ کسی سطح تک اختیار کیں جاسکتیں ہیں۔ اس کے لیے کوئی مخصوص سیاسی سیٹ اپ لازم ہے نہ ہی خلافت کا ٹائٹل۔ اسلام سیاسی نظام کی روح فراہم کردیتا ہے مگر اسے جسم عطاء کرنے کا کام آپ کے ذمے ہے کہ اپنے وقت اور جگہہ کے مطابق ایسا کریں۔ یہی وجہ ہے کہ تمام خلفائے راشدین کا انتخاب مختلف طریقے سے ہوا کیونکہ اسلام کوئی طریقہ انتخاب نہیں دیتا، اس حوالے سے صرف ایک قدر یعنی آزاد اور بلاجبر انتخاب کا اصول فراہم کردیتا ہے۔ باقی اس قدر کو آپ کس انتخابی ڈھانچے میں بروئے کار لاتے ہیں۔ ۔ ۔ یہ آپ کی مرضی۔

اسلام کی سیاسی قدروں کی تین فکری بنیادیں ہیں۔ حاکمیتِ خدا، رسالتِ محمدیہ اور خلافتِ جمہور۔ یعنی اللہ بادشاہ ہے، عوام اس کے نائب ہیں اور اللہ بادشاہ نے اپنے نائب یعنی عوام کو اپنے کچھ احکام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے پہنچا کر اختیار دیا ہے مل جل کر حکومت کرنے کا۔ اب چونکہ کسی طبقے، خاندان یا فرد کو خلافت نہیں سونپی گئی بلکہ آدم کو سونپی گئی لہذا آدم کے سب بچے اس میں حصہ ڈالنے کے حقدار ہیں۔ مولوی صاحب، شاہی خاندان یا سپریم لیڈر کے پاس کوئی اسلامی بنیاد نہیں ہے حکمرانی کا حق جتانے کی۔ اسلام کے عمومی نظریہِ حیات سے جنم لینے والی اس سیاسی تھیوری سے مختلف اسلامی سیاسی قدریں جنم لیتی ہیں۔ جن میں بنیادی و صرف دو ہیں۔ پہلی شوریٰ اور دوسری شریعت۔

شوریٰ سے مراد یہ کہ خلیفہ منتخب بھی مشاورت اور اعتمادِ جمہور سے ہو اور حکومت کے امور بھی اسی طریقے سے چلائے۔ اس کے انتخاب میں جبر کا کوئی عنصر یعنی جنگ سے اقتدار میں آنا، الیکشن میں دھاندلی، مکاری یا بزور طاقت بیعت لینا شامل نہ ہوں۔ اور وہ کوئی ایسا کام نہ کرے جس پر مسلمانان کی رائے عامہ متفق نہ ہو۔ گویا حکمران دراصل نائبینِ خدا یعنی عوام کا نائب ہے اور ان کی مرضی سے حکومت کرنے کا پابند۔

شریعت سے مراد جمہور کا ان قوانین کا پابند رہنا ہے جو اللہ نے بنائے اور رسول اللہ ص لے کر آئے۔ ان قوانین کی تشریح جمہور کے نمایندہ ادارے اور علماء مل کرسکتے ہیں۔ مگر ایک مرتبہ جب جمہور نظام کو اسلام کے مطابق چلانے کا فیصلہ کرلیں تو وہ اور ان کے نمائندگان شریعت سے ماورا کوئی فیصلہ یا اجتہاد نہیں کرسکتے۔ کوئی فیصلہ یا اجتہاد شریعت کے مطابق ہے یا نہیں یہ کام تمام دستوری مملکتوں کی طرح عدلیہ کرسکتی ہے۔

گویا حکمران شوریٰ کے نام پر جمہور کا ماتحت ہے اور جمہور شریعت کے نام پر اللہ کی ماتحت۔ شوریٰ کے نفاذ کا ذریعہ مجلسِ شوریٰ بنتی ہے اور شریعت کے نفاذ کا ذریعہ عدلیہ۔ ان دونوں اداروں کے ارکان کا ایک خاص معیار بھی اسلام کے پیش نظر ہے اور شریعت کا حصہ ہے۔

ان ساری اقدار کو ایک صدارتی نظام میں بھی اختیار کی جاسکتا ہے اور پارلیمانی نظام میں بھی اور قبائلی نظام میں بھی۔ واحدانی حکومت میں بھی اور وفاقی حکومت میں بھی۔ ماتحتِ جمہور یعنی سربراہ حکومت کا نام خلیفہ و امیر رکھ کر بھی اور صدر و وزیر اعظم رکھ کر بھی۔ آپ کیا ڈھانچہ اختیار کرتے ہیں، کونسے نام اختیار کرتے ہیں اور سیاسی نظام کا کیا جسم بناتے ہیں۔ ۔ ۔ اسلام کو غرض نہیں۔ اسلام صرف اپنے اصولوں یعنی حاکمیتِ خدا، رسالتِ محمدیہ اور خلافتِ جمہور اور اپنی سیاسی قدروں یعنی شوریٰ اور شریعت کو آپ کے سیاسی جسم میں روح کے طور پر موجود دیکھنا چاہتا ہے۔

(Visited 190 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: