فوج کی پیشکش کا شکریہ لیکن دفاعی بجٹ میں کمی کیا واقعی ضروری ہے؟ —- نعمان علی خان

0

پاک فوج نے دفاعی اخراجات کے بجٹ میں کمی کا فیصلہ کرکےملکی تاریخ میں ایک انتہائی درخشندہ مثال قائم کی ہے۔ وزیر اعظم نے بھی اِس فیصلے کو بے حد سراہا ہے۔

ہم ملک کے عام شہری بھی اِس فیصلے کو واقعی عید کا ایک تحفہ سمجھتے ہیں جو ہماری اپنی افواج نے ہماری اپنی حکومت کے مصیبت ذدہ عوام کی فلاح کیلئیے کئیے جانے والے ممکنہ اقدامات میں آسانی فراہم کرنے کیلئیے کیا ہے۔ ہم اپنی افواج کے تہہ دل سے شکر گذار ہیں۔
اب یہ ہماری منتخب حکومت پر منحصر ہے کہ وہ فوج کے اِس عوام دوست “جیسچر” کو کیا فقط سراہ کر قبول کرلیتی ہے یا خودبھی کسی عوام دوست اور ریاست دوست طرزِ عمل کا مظاہرہ کرتی ہے۔

لیکن اِس سے بھی پہلے جو اہم بات ہے اور جس پر حکومت کی وزارتِ دفاع کو فوج کی اعلیٰ کمان کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھنا چاہئیے وہ یہ ہے کہ، موجودہ وقت میں کہ جب ہمارے مشرق اور شمال مغرب کی سرحدوں پر صورتحال شدید کشیدہ رہ چکی ہے اور یہ کشیدگی تاحال موجود ہے، خلیج میں عالمی طاقتوں کا انتہائی جدید اسلحوں اور بحری بیڑوں کے ساتھ ارتکاز، اسرائیل، امریکہ، خلیج کی ریاستوں اور ایران کے بدلتے بگڑتے تعلقات اور عالمی پیمانے پر ہونے والی نئی صف بندیاں اور پھر اس پورے خطرناک منظرنامے میں پاکستان کا انتہائی اہم سٹریٹجک رول؛ یہ تمام وہ عوامل ہیں کہ ہمیں اپنے سٹریٹیجک کردار پر نئے سرے سے غور کرنے کی ضرورت ہے اور اسی تناسب سے اپنے دفاعی بجٹ کی ترجیحات کا تعین کرنا ہے۔
سو، موجودہ حکومت کو بہت زیادہ غورو فکر کے بعد یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا واقعی اسے افواجِ پاکستان کی دفاعی بجٹ میں کمی کی پیشکش کو قبول کرلینا چاہئیے؟

ایک بات ہمارے دانشوروں اور انٹیلیجنٹسیا پر واضع رہنا ضروری ہے اور وہ یہ کہ بجٹ میں ملک کے دفاع کیلئیے کتنی رقم مختص کی جاتی ہے اس سے عام پاکستانی کو اسی طرح کوئی غرض نہیں جِس طرح ملک میں آمدنی سے دوگنی قیمت پرجو امپورٹس ہوتی ہیں، عوام اس بارے میں بھی “مغائرت” کا شکارہیں۔ لیکن اگر ملک کے دفاع کے بجٹ میں تو کمی کردی جائے اور امپورٹس کے اللے تللے کے بجٹ میں کوئی کمی نہ کی جائے تو یہ یقین رکھیں کہ یہ بات عوام سے زیادہ دیر چھپائی نہیں جاسکے گی، ایسے میں اگر خدانخواستہ ملک کے دفاع میں بھی کوئی کسر رہ گئی، تو عوام ایسی صورت میں اپنی فوج کے حق میں بپھر کراپنی”مغائرت” سے باہربھی آسکتے ہیں۔

یہ ملک جو اس وقت تک الحمدوللہ اپنے پیروں پر کھڑا ہے، وہ کسی اعلیٰ سیاسی یا جمہوری کارگزاری کی بنا پر نہیں کھڑا ہے بلکہ عوام کے اپنی فوج پر اِس اعتماد کی بنا پر کھڑا ہے کہ فوج اللہ کی مدد کے ساتھ اسے گرنے نہیں دے گی۔

ہمارے قومی بجٹ میں ہر سال انٹیلیجنٹسیا اور لبرل دانشوروں کو جو اعتراض ہوتا ہے وہ فقط دفاعی بجٹ پر ہوتا ہے۔ لیکن کوئی اس بات کو نوٹ نہیں کرتا کہ انٹیلیجنٹسیا سے بالکل متضاد، ملک کے عوام کی جانب سے دفاعی بجٹ کے بارے میں معمولی شکوہ تک نہیں ہوتا، وہ صرف حکمرانوں سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ مہنگائی کم کی جائے، تنخواہوں [کے بجٹ] میں اضافہ کیا جائے، تعلیم اور صحت کی سہولیات پر زیادہ رقم خرچ کی جائے۔ اِس کا کیا مطلب ہے؟ اِس کا صرف یہ مطلب ہے کہ ایک مخصوص انٹیلیجنٹسیا اور لبرل لابی، ایک خاص عالمی ایجنڈے کے تحت، ہمارے دفاعی بجٹ کو تمام مسائل کی بنیاد ثابت کرکے، ھدف بناتی رہتی ہے۔

تو بہت اچھی بات ہے کہ وزیراعظم صاحب نے فوج کے بجٹ میں کمی کی پیشکش کو سراہا ہے لیکن وزیرِاعظم کو مندرجہ بالا گذارشات کو بھی مد نظر رکھنا ہوگا اور جواباً فوج کو شکرئیے کے ساتھ اس کی پیشکش لوٹانی ہوگی، عوام اور فوج کو یقین دلانا ہوگا کہ ملک کی لٹی ہوئی دولت میں سےِ کِس قدر اور کب تک جمہوری حکومت ملک میں واپس لارہی ہے اور جب تک لٹی ہوئی دولت ملک میں واپس نہیں آتی یہ حکومت اپنے اخراجات اور امپورٹس کے بجٹ میں کتنی کمی کرے گی؟

یہ بات واشگاف الفاظ میں اپنی تمام سیاسی-جمہوری اشرافیہ کو بتانا ضروری ہے کہ ہم باشعور پاکستانیوں کو فوج کے بجٹ سے کوئی تکلیف نہیں کیونکہ تم جیسی سفاک اور خود غرض اشرافیہ کی موجودگی میں ایک کمزوربجٹ والی فوج کا مطلب، عوام اور ریاست کیلئیے شدید نقصان کا باعث ہوسکتا ہے۔ لہٰذہ ہمارے خون پسینے کی کمائی کا ایک ایک پیسہ ہماری فوج پر قربان۔ لیکن تم “عوامی نمائندوں” کی لش پش کرتی مرسیڈیزوں اور پارلیمنٹ لاجز میں تمہارے کھانے پینے اورعیاشیوں کیلئیے اب ہم کوئی قربانیاں دینے کو تیار نہیں۔ وزیرِاعظم صاحب، اِس بار قربانی فوج اور عوام سے نہ لیں۔ اِس بار اپنی جمہوری اشرافیہ سے لیں۔ اور ان سے بھی لیں جنہوں نے ملک کی دولت لوٹ کر ملک سے باہر بھیجی ہے۔

(Visited 119 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: