آج کی عورت مظلوم؟ جھوٹ یا لطیفہ؟ —- شوکت نیازی

0

یہ ایک اجڈ گنوار گاؤں ہے۔ یہاں سب لوگ ہنسی خوشی رہتے ہیں۔ سب لوگ محنتی ہیں اور یکسوئی اور لگن سےاپنے اپنے کام کرتے ہیں۔ مرد کوہلو میں جتُے بیل اور عورت دودھ اور بچے پیدا کرنے والی بھینس کے فرائض سرانجام دیتی ہے۔ دونوں ازل سے خوش ہیں اور ابد تک خوش رہیں گے۔ بچے اپنے بہن بھائیوں اور ہمسائیوں کے ساتھ کھیل کود میں مصروف ہیں اور اپنے آئندہ پیدا والے بہن بھائیوں کے انتظار میں مگن ہیں۔

یہ ایک جدید تعلیم یافتہ شہر ہے۔ یہاں سب لو گ ہنسی خوشی رہتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں مرد دفتروں بازاروں کارخانوں میں محنت مزدوری کرتے ہیں۔ عورتیں بیچاری بھی محنت مشقّت کرتی ہیں۔ ریسٹورانٹ، کافی ہاؤسز، شاپنگ مالز، ڈیزائینر بوتیکس، بیوٹی پارلرز، لان سیلز، کٹِی پارٹیز، جہاں دیکھو، عورت ہمہ وقت مصروف رہتی ہے۔ مصائب و الم کے گرداب میں پھنسی دکھائی دیتی ہے۔ اور اس کا واحد ذمہّ دار کون ہے؟ مرد۔ ۔ ۔

مردوں کو یہ اعلیٰ مقام یونہی نہیں ملا۔ تمام زبانوں کے کلاسیکی ادب، تمام ممالک کی فلم انڈسٹری، بین الاقوامی اور مقامی ذرائع ابلاغ، وطنِ عزیز کے ٹی وی ڈراموں، مبیّنہ دانشوروں اور خصوصاً این جی اوز چلانےوالی عورتوں نے عورتوں کو قائل کر دیا ہے کہ مردوں کے اس کائنات میں ظہور پذید ہونے کا واحد مقصد عورتوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنا ہے۔

معاشرے میں نوّے فیصد خواتین کو یقین ہے کہ مرد ظالم اور شقی القلب ہوتے ہیں۔ نو فیصد کا یہ ماننا ہے کہ مرد تجاہل اور تغافل کے پُتلے، غیر ذمہّ دار اور ڈھیٹ ہوتے ہیں۔ بقیہ ایک فیصد خواتین یہ سمجھتی ہیں کہ تمام مرد پیدائشی احمق ہوتے ہیں۔ تاہم معاشرے میں سو فیصد مرد انہی ایک فیصد خواتین کے خیالات سے اتفاق کرنے میں ہی عافیت جانتے ہیں۔

لیکن کیا واقعی مرد اتنے ہی ظالم اور سنگدل ہوتے ہیں؟ نہیں ہر گز نہیں۔ مردوں کی معصومیت کا تو یہ عالم ہے کہ جس عمر میں خواتین کو دیکھ کر ان کے ہوش و حواس اڑنے لگتے ہیں وہ بیچارے اسی وقت کو ہوش و حواس سنبھالنے کی عمر قرار دیتے ہیں۔ مرد پر ہونے والے اس ظلم و ستم کی داستان اسی دن شروع ہو تی ہے جب وہ چند دن کی عمر میں ایک شخص کواسترا ہاتھ میں تھامے اپنی جانب بڑھتے دیکھتا ہے۔ عین اس لمحے اس کے والدین کو یہ فکر لاحق ہوتی ہے کہ مٹھائی کا ٹوکرا کہاں دھرا ہے۔

جس دن مرد زندگی میں پہلی مرتبہ اپنے دونوں پیروں پر کسی کا سہارا لئے بغیر پہلا قدم بھرتا ہے اسی روز اسے بتایا جاتا ہے کہ عورت بیچاری بڑی مظلوم ہے۔ بیٹیاں پیدا ہوتی ہیں تو انہیں پریوں اور شہزادیوں کی کہانیاں سنائی جاتی ہیں چندا راجہ کی لوریاں سنائی جاتی ہیں۔ بیٹوں کو روزِ اوّل سے بس ایک ہی بات ذہن نشین کرائی جاتی ہے کہ ان کے ابّا نے کیسے ان کی ماں کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے۔ ایسی داستانوں میں پھوپھیوں اور دادیوں کا کردار بھی بیان کیا جاتا ہے لیکن محض اس صورت میں کہ تمہارے ابّا کانوں کے کچےّ ہیں صرف اپنی بہنوں اور ماں کی ہی سنتے ہیں۔ کیا یہ تعصّب کی بدترین مثال نہیں ہے کہ ایک ہی مرد ایک عورت کا بیٹا ہو تو زن مرید اور دوسری عورت کا داماد ہو تو لچاُ لفنگا؟

تعلیم کے اختتام اور نوکری یا کاروبار کی ابتدا پر جوں ہی مردوں کو یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ دور افق کے اس پار آزادی کی صبحِ نو کی کرن پھوٹنے کو ہے تو اس کی شادی کردی جاتی ہے۔ جتنے دن نوجوان کے گھر شہنائی اور ڈھولک بجتی ہے اتنے دن تمام دوست احباب اور اہل و عیال نوجوان کی طرف دیکھ کر ہنستے مسکراتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے قربانی سے چند روز قبل گھرمیں لائے گئے بکرے کو دیکھ کر گھر کے بچے کھلکھلاتے ہیں اور اس کی کھال پر مہندی سے عید مبارک لکھتے ہیں اور اس کے سینگوں میں پھولوں کی مالا ٹانگتے ہیں۔

لیجئے مرد کی زندگی کا ایک اور دور شروع ہوا چاہتا ہے۔ صبح نوکری کے لئے گھر سے نکلو اور شام کو چاکری کے لئے واپس لوٹ آو۔ نام کا مجازی خدا اور حقیقت میں ڈرائیور، الیکٹریشن، پلمبر، چوکیدار، قُلی، چوہے، چھپکلی اور لال بیگ کا شکاری۔ ۔ ۔ یہ کیسا مجازی خدا ہے جسے اپنی گھر میں ہی صوفے پر ٹانگیں پسار کر بیٹھنے کا حق حاصل نہیں؟ یہ کیسا خاندان کا سربراہ ہے جو بستر میں لیٹ کر دو بسکٹ بھی نہیں کھا سکتا؟ یہ کیسا گھر کا مالک ہے جو دس منٹ سے زیادہ ٹی وی کا ریموٹ ہاتھ میں تھام کر بیٹھ نہیں سکتا ؟ میں تو جانوں بہت سی گھریلو اشیا مثلا ً استری، باتھ روم کی ٹونٹی، پانی کی موٹر، گیس کا چولہا وغیرہ چھٹی والے دن محض اس لئے خراب ہو جاتی ہیں کہ خدا نخواستہ مجازی خدا یا خاندان کا سربراہ اتوار کے دن دو گھنٹے زیادہ بستر پر نہ پڑا رہے۔

خواتین کی ایک بڑی تعداد اس بات پر یقین ِ کامل رکھتی ہیں کہ مردوں کو سارا دن قہقہے لگانے، ریڈیو پر کرکٹ کمٹری سننے، سگریٹ یا حقہّ یا چاِئےپینے، میز پر پاؤں ٹکائے محمد رفیع اور مکیش کے فلمی گیت گنگنانے یا ایک دوسرے کوصرف بالغوں کے لئے لطیفے سنانے کے عوض تنخواہ یا معاوضہ ملتا ہے۔

خواتین کو کیا معلوم کہ روز مرّہ کی زندگی میں مردوں کو ابتدا ہی سے کیسے کیسے سنگین اور دگرگوں حالات سے نمٹنا پڑتا ہے۔ کیا کوئی عورت جانتی ہے کہ کسی لڑکی کے تانگے کے پیچھے سائیکل چلاتے ہوئے ایک ہاتھ سے بال سنوارتے ہوئے توازن بگڑنے پر سائیکل سمیت کسی سبزی فروش کے چھابڑے میں اوندھے منہ جا گرنے سے شخصیت پر کیسے منفی نفسیاتی اثرات ثبت ہوتے ہیں؟

کیا کسی عورت کو احساس ہے کہ کسی لڑکی کو ایک نظر دیکھنے کے لئے گرمیوں کی تپتی دھوپ یا جاڑے کی ٹھٹھرتی بارش میں گھنٹوں اس کے کالج کے سامنے کھڑا ہونا کس قدر تکلیف دہ امر ہے؟

کیا کوئی عورت سمجھ سکتی ہے کہ بازار میں کسی دبلی پتلی حسین نوجوان لڑکی سے مڈبھیڑ کی صورت میں آدھ گھنٹہ سانس روک کر پیٹ اندر کھینچ کر رکھنا کس عذاب کا نام ہے؟

کیا آج تک کسی نے یہ میسج دیکھا یا پڑھا ہے، “میرا نام بشیر یا شفیق ہے، میں بڑی مشکل میں ہوں، مجھے پچاس روپے کا بیلنس بھجوا دو، اللہ پاک کی قسم واپس لوٹا دوں گا۔ “اور پھر خواتین کو اعترض ہے کہ مرد ان کے لئے کرتے ہی کیا ہیں؟

یہ امر اظہر من الشمس ہے کہ یہ سارا معاشرہ اور اس کے اصول مردوں کے خلاف تعصب کی بنیاد پر ایستادہ ہیں۔ ہر ہر موقع پر عورتوں کے لئے ترجیحی سہولیات اور ان کے ساتھ ترجیحی برتاؤ؟ ہر ہر موقع پر مرد کا مخفی استحصال۔ ۔ ۔ یہ کس کا قانون ہے کہ مرد چار گھنٹے سے دو کلو میٹر طویل قطار میں کھڑے ہوں اور ایک عورت لٹکتی مٹکتی نمودار ہو اور قطار میں سب سے آگے پہنچ کر “لیڈیز کاؤنٹر” تک جا پہنچے؟ ظلم کی انتہا یہ کہ خاتون کو دیکھ کر خبیث کلرک بھی بتّیسی نکالنے لگتا ہے۔

یہ کونسا کاروباری اصول ہے کہ خواتین اگر مرد درزی یا ڈیزائینر یا بیوٹیشن کی خدمات حاصل کریں تو ٹھیک لیکن مرد اگر اپنے لئے خاتون درزن، خاتون حجام تلاش کرے تو اس کا کردار ڈھیلا پڑ جاتا ہے؟

یہ کیسے ممکن ہے کہ مرد ایک ہی دکان سے کوٹ پینٹ ٹائی قمیض چرمی پیٹی جرابیں بنیان حتیٰ کہ جوتے اور جانگیہ تک خرید لیتا ہے اور عورتوں کو اڑتالیس دکانیں کھنگالنے کے بعد بھی ایک چپل نہیں ملتی؟

یہ کیوں ہے کہ کسی دعوت میں ایک حسین عورت کے گرد چند مرد جمع ہو جائیں تو وہ “پارٹی کی جان” کہلاتی ہے، اور اسی دعوت میں ایک خوبرو مرد کے گرد چند خواتین موجود ہوں تو اسے “خبیث بڈھا فلرٹ ” کہا جاتا ہے؟

یہ کس کا فیصلہ ہے کہ شدید گرمی میں عورت باورچی خانے میں کھڑی ہو تو مظلوم، اور چلچلاتی دھوپ میں اسی عورت کا دوپٹہ رنگ کرانے رنگ ساز کے کھولتے ہوئے کڑاھے کے سامنے کھڑا ہو تو مردظالم؟

یہ کہاں کا انصاف ہے کہ مرد عورت کو گال پر ہلکی سی چپت بھی لگا دے تو میکہ، محلہّ، میڈیا، ٹی وی چینل اوردرجن بھر این جی اوز ہاہا کار مچا دیتی ہیں کہ عورت پر ظلم ہوگیا، جبکہ عورت مار مار کر اپنے مرد کا بھرکس نکال دے اور وہ بیچارہ شرم کے مارے کسی سے ذکر بھی نہ کر سکے تو بھی مرد ظالم؟

کس کتاب میں لکھا ہے کہ رمضان میں عورت سحری کے وقت دو پراٹھے بنا ئے تو مظلوم، اور اسی عورت کی افطاری کے لئے اس کی پسندیدہ دکان سے جلیبیاں، دہی بڑے یا سموسے خریدنے بھوکا پیاسا قطار میں لگے تو مرد ظالم؟

یہ کہاں کی سماجی رسومات ہیں کہ ماں باپ کی مرضی سے شادی پر عورت کی امنگوں کا خون ہو جائے تو عورت مظلوم، اور شادی کی رات اسی عورت کا گھونگٹ اٹھاتے ہی مرد کی زیرِ لب دبی دبی چیخ نکل جائے تو مرد ظالم ؟

یہ کس نے کہا کہ شادی کے بعد یہ عقدہ کھلے کہ عورت کو توے اور کڑاہی میں فرق معلوم نہیں ہے تو وہ “آج کی عورت ” ہے اور اگر مرد اپنی تنخواہ میں پچیس روپے زیادہ بتا بیٹھے تو وہ “جھوٹا مکارّ” قرار پاتا ہے؟

یہ کہاں کی مساوات ہیں کہ عورت جیسی بھی ہو میک اپ کے بعد شادی کے دن چند گھنٹوں کے لئے کترینہ کیف دکھائی دینے لگے تو ٹھیک اور مرد اگر اسی موقع پر اپنی مونچھوں کو سیاہ رنگ لگوابیٹھے تو دھوکہ باز؟

یہ جینیات کا کون کا اصول ہے کہ بچے اگر انسان کی شکل کے ہوں تو نانا نانی پر جاتے ہیں اور اگر بصورتِ بندر ہوں تو “اُن” پر چلے گئے ہیں؟
یہ کہاں کی اخلاقیات ہیں کہ اپنے پیچھے آنے والی خاتون کے لئے مرد دروازہ کھول کر نہ رکھے تو “بدتہذیب ” ہے اور تھام کر رکھے تو “ٹھرکی”؟

یہ کس نے کہا ہے کہ عورت اگر ایک لان کے سوٹ کی خاطر اپنے سامنے آنے والی ہر شے کو تہس نہس نیست و نابود کر دے تویہ اس کے حقوق کی جدوجہد ہے اور اگر مرد سینما کی کھڑکی کے سامنے قطار میں اپنے سے اگلے شخص کی بغل سے بازو بڑھا دے تو یہ گنوارپن کا مظاہرہ ہے؟

یہ کہاں کا معیار ہے کہ عورت بیس ہزار کا لان کا سوٹ خرید لائے جو پانچ کے بعد چھٹی دھلائی برداشت نہ کر پائے اور پھر توقع کرے کہ اسے عقلی اور شعوری طور پر مرد کے برابر جانا جائے جو پچیس ہزار میں وہ سوٹ خریدتا ہے جسے وہ آئندہ دس سال دفتراور شادیوں میں پہن سکتا ہے؟

لسانیات کے یہ کون سے اصول ہیں جن کے تحت عورت کی “فل فِگر” ہوتی ہے اور مرد کی “توند” ؟ اگر عورتوں کے لئے “ھئیر لاس” ہوتا ہے تو مردوں کے لئے “ٹنڈ یا گنج ” کیوں ہوتےہیں؟

کسی خاتون کی ساڑھی اور بلاؤز کے درمیان کا حدود اربع دکھائی دے تو ساری محفل لطف اندوز ہوتی ہے جبکہ دوسری جانب کسَی ہوئی چست ٹی شرٹ کے نیچے کسی مرد کے پیٹ کے چند بال دکھائی دینے پر قیامت کیوں ٹوٹ پڑتی ہے؟

یہ کہاں کا انصاف ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل خواتین کو تادیبی طور پر ریشمی رومال سے چھونے کی اجازت دے تو انسانی حقوق کے علم برداروں کے نتھنوں سے شعلے نمودار ہوتے ہیں جبکہ جوابی کارروائی کے طور عورت کے بیلن یا کفگیر جیسے خوفناک ہتھیار یا ای سی ایل کے سینڈل جیسے نفسیاتی ہتھیار استعمال کرنے پر تیار ہونے کی صورت میں یہی کونسل قطعی طور پر خاموش ہے۔

آخر ہم مردو ں کے حقوق کا دفاع کون کرے گا؟ آخر کب تک ہم مرد پسے ہوئے دانتوں کے ساتھ مسکراتے رہیں گے؟ ہے کوئی جو حقوق ِ مرداں کی خاطر آواز بلند کرے؟ یا اس کام کے لئے بھی کیا ہمیں اپنی ماؤں بہنوں بیویوں بیٹیوں اور سہیلیوں سے اجازت درکار ہو گی؟

(Visited 384 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: