عید کا میلہ اورخالی بٹوا —- محمد حمید شاہد

0

اب تو عید اور لوگوں کے یکا یک غائب ہونے اور گرتی ہوئی لاشوں کا ایک ساتھ تصور باندھا جاسکتا ہے۔

مگر ایک زمانہ ایسا بھی تھا کہ عید یوں نہیں آیا کرتی تھی۔ تب رنگوں کی اور خوش بوئوں، خوشیوں کی پھوار انسانی وجود کے باطنی آفاق سے یوں برسا کرتی تھی کہ سارا ماحول اس میں بھیگ بھیگ جایا کرتا۔ یہ کچھ زیادہ پرانی بات نہیں ہے، بس یوں کہیے کہ تب کی بات ہے جب ایک بے گناہ قتل ہوتا تو چاروں کھونٹ میں سنسنی سرایت کر جاتی۔ اُفق سرخ ہو جاتا اور لوگ سہم کر استغفار کرنے لگتے کہ تب ایک بے گناہ کا قتل، انسانیت کا قتل ہوتا تھا اور لوگوں کو یقین ہوتا کہ یہ قبیح عمل قرب قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ اب تو پے در پے قیامتیں کچھ اس طرح ٹوٹی ہیں، کہ بچوں کو بھی باہر نکلتے دیکھتے ہوئے دل کانپتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں وہ کمپیوٹر پر بیٹھے رہیں، مانیٹر پر نظریں جمائے گیمز کھلیں، نیٹ سے چپکے چیٹ کر تے رہیں، ٹی وی پر کئی کئی بار دیکھی ہوئی فلمیں اور کارٹون دیکھیں یانیوز چینلز کے اینکرز اور سیاست دانوں کے درمیان ہونے والی نورا کشتی دیکھیں، میوزک چینلز پرسر اور آہنگ سے بے نیاز ہو جانے والی بے ہنگم موسیقی سنیں یا پھرہم کچھ زیادہ ہی ان پر مہربان ہوں تو انھیں افغانی برگر، چائینز سوپ، رشین سلاد اور اب تک ملٹی نیشنل ہو جانے والا پیزا کھلانے لے چلیں۔

پہلے عیدیں ایسے نہیں آیا کرتی تھیں۔

مجھے یاد ہے، پنڈی گھیب میں محلہ ملکاں والا اپنا گھر، جو خوشیوں سے لبالب بھر جایا کرتا تھا؛ یوں، جیسے آپ پیالے میں نور جیسا اجلا دودھ انڈیلتے جائیں اور وہ کناروں تک بھر کر چھلکنے لگے۔ تب ہم اپنی آنکھ سے بھی عید کا چاند دیکھ لیا کرتے تھے، اور اگر نہ بھی دیکھ پاتے تو جن لوگوں نے دیکھا ہوتا اُن کی شہادت پر ہمیں ایمان جیسا اعتماد ہوا کرتا تھا۔ رمضان المبارک کے پورے مہینے میں تواتر سے سحری کے اوقات میں جگانے والے بھانڈوں کی پارٹی، چاند نکلتے ہی گلی میں پہنچ جاتی تھی۔ یہ وہی پارٹی ہوتی جو ڈھول یا کنستر بجا کر گلی سے گزرا کرتی تھی اور جنھیں بھانڈ کہنے پر ابا اکثر ناراض ہوتے اور کہا کرتے: جس نام سے کوئی پہچانا جانا پسند نہ کرے، انھیں نام سے اسے مت پکارو، انھیں فن کار کہو۔

ہمارا گھر جامع مسجد شیعیان سے جڑا ہوا تھا، جتنا مسجد کا صحن چلتا وہاں تک ہمارے گھر کی دیوار چلتی، مگر تب شیعہ سنی کے درمیان اس طرح کا بیر نہ تھا۔ مجھے یاد ہے، شروع شروع میںجب اس مسجد میں مجالس ہوتیں تو شہر بھر کی بیبیاں ہمارے گھر کی چھت پر مسجد کے صحن کی سمت والے جنگلے سے لگ کر بیٹھ جاتی تھیں۔ ہم نے ان کے مجلس سننے کا اہتمام پہلے سے کر رکھا ہوتا تھا۔ گھر کی ساری کھاٹیں اوپر چھت پر چڑھا دیتے، کم پڑتیں تومحلے بھر سے مانگ لایاکرتے۔ مجھے یاد ہے کھاٹیں ہم الٹی بچھایا کرتے تھے، یعنی پائے اوپر کو۔ پھر جب مجلس شروع ہو جاتی اور کر بلا والوں کے ذکر پر الٹی پڑی کھاٹوں میں دھنسی ہوئی عورتوں کی سسکیاں سنائی دینے لگتیں تو شربت کی بھری بالٹیاں لے کر بھاگتے ہوئے سیڑھیاں چڑھتے۔ یہ شربت اماں نے کھانڈ گھول کر پہلے سے تیار رکھا ہوتا، وہ اسے سبیل کہتی تھیں۔ یہ شربت ہم ان بیبیوں کوکمہاروں کی آویوں میں پکے ہوئے پیالوں (کہ جنھیں ہم ٹاسیں کہتے تھے) میں بھر بھر کر پیش کرتے تھے۔ تب دکھ سانجھے ہوتے تھے۔

ہاں تب دُکھ سانجھے ہوتے تھے، اب کچھ بھی سانجھا نہیں رہا۔

تب دوسروں کے عقیدے کا احترام کیا جاتا اب عقیدہ کیا انسانی جان بھی محترم نہیں رہی۔ بات کہیں اور نکل گئی، میں بتانا چاہتا تھا، کہ اسی مسجد سے عید کا چاند نکلتے ہی، مسجد کی خدمت کے لیے اپنی زندگی وقف کرنے اور ساری عمر مجرد رہنے والا شبیرحسین مسلسل اعلانات کرنے لگتا۔ اس کی آواز جوش سے بھری ہوئی ہوتی۔ یہ اعلان صرف اپنے مسلک کی مساجد کا نہیں ہوتا تھا، سب مسجدوں اور عیدگاہ میں نماز عید کے اوقات کا بھی ہوا کرتا تھا۔

ان دنوںچاندرات کا ہنگامہ بھی عجب رنگ پچکاری بر ساتا تھا۔ کھلے صحن کے بیچ دھریک کاچھتنار قدیمی درخت تھا۔ اس سے جھولا بندھ جاتا۔ جھولا باندھنے ابا خود دھریک پر چڑھ جاتے، ہم رسی اوپر پھنکنے کا مقابلہ کرتے، مگر وہ ابا کے ہاتھ تک نہ پہنچ پاتی۔ کئی حیلے ہوتے، حتی کہ ابا کو کچھ اور نیچے آنا پڑتا تھا۔ اس سارے عرصے میں ہم لڑکوں کے اندر عجب طرح کا جوش بھرا ہوا ہوتا۔ بلا وجہ چیخنا، اچھلنا کودنا۔
’’پکڑیے، اوہ، یہ تو آپ کا ہاتھ چھو کر نیچے آرہی‘‘۔
’’تم سے نہیں پھینکی جائے گی‘‘
’’مجھے دو‘‘۔

غرض ایک ہنگامہ سا مچ جاتا۔ ادھر لڑکیاں، اس سارے عرصہ میں، ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ دیے، گاتے گاتے گھوم رہی ہوتیں :
’’بنے بنے وینیاں ــ‘‘
’’اینگن مینگن، تلی تلینگن ‘‘

اور نہ جانے کیا کچھ۔ مگر جوں ہی پینگ بندھ جاتی، وہ اس پرٹوٹ پڑتیں۔ اماں کہتی رہتیں کہ شام ڈھلے لڑکیاں دھریک تلے پینگیں جھولیں تو ان پر جن عاشق ہو جاتے ہیں، مگر وہ ایک نہ سنا کرتیں اور پینگ آسمان کے ستاروں کو چھونے لگتی تھی۔

ہمیں عید کی رات نیند کہاں آیا کرتی۔ ذرا ایک ایسے گھر کا تصور باندھیے، جس کے وسیع آنگن میں آسمان ہررات، سارے تارے جھولی میں بھر کر، اُترا کرتا تھا۔ عین وہاں جہاں سہ پہرہوتے ہی پورے آسمان تلے کھلے آنگن میں چھڑکائو ہواتھا اور شام پڑتے ہی بہن بھائیوں اور اَمّاں ابا کی کھاٹیں ایک خاص ترتیب میں بچھا دی گئی تھیں۔ اُدھر اوپر کی سمت ابا کے لیے، دائیںکو اَمّاں اور باجی کے لیے، جب کہ بائیں کو، جدھر بکائن سے پرے ڈیوڑھی تھی، ہماری کھاٹیں۔ اوپر لینے کو سب کے پاس سفید چادریں تھیں۔ جب ہم ان چادروں کو تان کر عید سے پہلے والی رات سو نے کا سوانگ بھر رہے ہوتے تو رات سارے تارے ان کی سفیدی پر انڈیل دیا کرتی تھی۔ آپ کو یقین نہیں آئے گا مگریہ واقعہ ہے کہ تارے اُن اجلی چادروں پر بھی لش لش کرتے رہتے تھے۔ ہمارے سونے کا ایک وقت مقر ر تھا۔ نیند آئے نہ آئے ہمیں اپنے اپنے بستر وں پر لیٹ کر خامشی سے نیند کا انتظار کھینچنا ہوتا تھا۔ چاند رات کو ایسا ہوتا مگر کچھ دیر بعد۔ نیند دبے پائوں آئی، جس طرح ہر روز بلا ناغہ آتی تھی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ عین اس وقت، جب میں چمکتے تاروں کے آبدار کناروں کو اپنے تصور کی نازک پوروں سے ٹٹول رہا ہوتا تورات مجھے اپنے آپ سے بے گانہ کر دیا کردیتی۔ چاند رات کو بھی یہی وہ لمحات تھے جب آسمان کالا چغا پہن کر میرے قدموں کی سمت سے نمودار ہوتااور اپنی بھری جھولی کے سارے تارے میرے اوپر بچھی دودھ جیسی سفیدچادر پر ڈال دیتا تھا۔ یکایک سارے میں یخ لَو بھر جاتی۔ میں بے تابی سے تاروں کو ٹٹولتا جاتا۔ وہ مجھے اتنے نرم اوراتنے ملائم لگتے کہ اُن کا گداز میرے دل میں بھر جاتا تھا۔ ساری رات میں ان تاروں سے کھیلتا رہتا یا پھر اس چاند سے، جو آخری روزہ افطار ہونے کے بعدابا کے کندھوں پر سوار ہو کر ان کی انگلی کی سیدھ میں نظر جمانے پر نظر آتا اور انگلی گراتے ہی غائب ہو جایا کرتا تھا۔

ہم چاند رات کو سیر ہو کر نہ سو پاتے تھے، مگر ابا یا اماں کی ایک ہی آواز پر یوں بستر چھوڑ دیا کرتے جیسے ہمارے بدنوں میں بجلی بھر گئی ہو۔ عید کی صبح ہمیں عام دنوں کی صبحوں سے بالکل الگ لگتی تھی۔ سارے میں جیسے خوش بو سی اٹھ رہی ہوتی۔ ایک دوسرے سے پہلے نہانے کے لیے کچھے پہن کر ہینڈ پمپ والی کوٹھڑی میں گھس جاتے۔ ابا نلکا گیڑتے اور ہم مل مل کر نہاتے کپڑے بدلتے، اماں پکڑ پکڑ کر سب کو عطر لگاتیں اور ہم دادا جان، ابا اور چچائوں کے ساتھ عید گاہ کی سمت نکل کھڑے ہوتے۔ اظہار الحق کو تو آپ جانتے ہی ہیں، جی وہی معروف شاعر، ان کے ابا عالم دین تھے اور شاعر بھی، قاضی ظہورالحق وہ ہمارے ہاں عید کا خطبہ دینے فتح جنگ سے آیا کرتے۔ وہ خطبہ دیتے اورمقامی بڑی مسجد کے امام صاحب نماز پڑھاتے۔ گویا دو الگ الگ مسالک والے یہاں بھی ایک ہو جایا کرتے تھے۔ نماز کے بعد قبرستان جانا اور گزر چکے پیاروں کے لیے دعا ہمارا معمول تھا۔ ابا اپنے بھائیوں میں چوں کہ سب سے بڑے تھے لہذا سب ہمارے ہاں اکٹھا ہوتے، دادا، دادی بھی ادھر ہی ہوتے۔ عید گاہ سے واپسی پرعید ملتے آنے کا منظر بھی دیکھنے کے لائق ہوتا۔ تین بار پہلو بدل بدل کرگلے ملنا، بچوں کو ان کی پیشانیوں پر بے ریا چومنا اور محبت بھری دعائوں کی پھوار برسا دینا ایسا معمول تھا کہ اس کا لطف ہی اب لگتا ہے ہم سے چھن گیا ہے۔ اب بھی خوشیاں آتی ہیں مگر اتنی پھس پھسی کہ لگتا ہے جیسے ان کے جسم سے روح نکل گئی ہو۔

نماز عید کے بعد ہم پلٹتے، دادی، اماں، چچیوں اور باجی کے قدم چھو کر انھیں عید مبارک کہتے، ان کے بوسے اپنے گالوں اورپیشانیوں پر ثبت ہوتے سمے انھیں محسوس بھی کرتے۔ دسترخوان پورے برآمدے میں دور تک بچھا ہوتا۔ نیچے دری، اوپر سفید چادر اور اس کے اوپر پھول دار لمبی پٹی سا دسترخوان، جو اماں نے جولاہوں سے اس مقصد کے لیے بہ طورخاص بنوایا تھا۔ مکھڈی حلوہ اس دسترخوان کی خاص ڈش تھی۔ چاندرات کو اماں اس کے لیے سوجی بھگو دیتیں اور پھر پچھلے پہر اباخود یہ حلوہ پکایا کرتے۔ سنہری ہو جانے اور اپنی مہک سے سارے گھر کو بھر دینے والا یہ حلوہ اماں کو پکانا بھی آتا تھا، ابا کے مرنے کے بعد اماں ہی پکاتی رہیں، مگر اس کے بعد جب بھی ہمارے ہاتھ اسے کھانے کے لیے بڑھتے ہماری آنکھیں ابا کو یاد کرکے بھگ جایا کرتی تھیں۔

عیدی میں دادا چار آنے دیا کرتے، تھوڑی بہت ابا اور چچائوں سے بھی مل جاتی مگر ہمارے لیے یہی بہت ہوتی تھی۔ شہر سے باہر ایک نالہ پڑتا تھا، جو سال بھر ریت کا کھلیان رہتا مگر بارشوں کے موسم میں پانی سے بھر جاتا تھا۔ یہ نالہ ایک دوسرے مگر سال بھر بہے چلے جانے والے نالے، سیل میں جا گرتا تھا۔ ہم سیل کو دریائے سیل کہتے اور صرف بارشوں میں بہنے والے نالے کو ہروالہ۔ اسی ہروالے میں عید کے دو میلے لگاکرتے، اوپر کی سمت مردانہ اورنیچے ذرا فاصلے پر زنانہ۔ میلہ کیا تھا، جلیبیاں، نگدیاں، مکھانے پکوڑے اور رنگ رنگ کی سنگتریاں اور بچوں کے سستے کھلونے بیچنے والے عارضی دکانیں سجا نے کے لیے وہاں ایک جگہ جمع ہو جاتے تھے، جھولے نصب ہوتے، چیچ مکوڑے لگائے جاتے۔ بعد میں بیلوں کی دوڑ بھی اس میلے کا حصہ ہو گئی۔ سادگی تھی مگر اس سادگی سے زندگی کا خالص چہچہا برآمد ہوا کرتا تھا۔ مگر اب یوں لگتا ہے کہ عیدیں خوشیوں، خوش بوئوں اور محبتوں سے اس طرح خالی ہو گئی ہیں کہ سینہ خالی کنستر کی طرح بجنے لگتا ہے۔

ایسا کب سے ہو رہا ہے؟۔ میں اس کی کھوج میں پلٹ کر پیچھے دیکھتا ہوں اور مجھے ایک دھندلا سا واقعہ یاد آجاتا ہے۔ ہوا یوں تھا کہ ہم کچھ بڑے ہو گئے تھے۔ ہمیں عیدی بھی زیادہ ملنے لگی تھی۔ ادھر عید پر لگنے والے میلے میں بھی دکانیں بہت زیادہ ہو گئی تھیں۔ نئے نئے اور جی لبھانے والی اشیا سے بھری ہوئی دکانیں۔ اس سال کہ جس کا یہ بھولا ہوا وقعہ مجھے یاد آرہا ہے، میں میلے سے لوٹتے ہوئے اس طرح کی مسرت اپنے بدن میں محسوس نہ کر رہا تھا، جس طرح ہمیشہ کرتا آیا۔ یوں نہیں ہے کہ میں خوش نہ تھا، میں خوش تھا کہ میں نے اپنی مرضی کا ایک خوب صورت بٹوا خریدا تھا، مگر ایک عجب طرح کا افسوس دل قطرہ قطرہ دل کے اندر گر رہا تھا کہ میں جھولے پر بیٹھ سکا تھا نہ چیچ مکوڑا جھولا تھا، جلیبیاں، مکھانے بتاشے، ریوڑیاں، کھلونے کچھ بھی نہیں۔ صرف ایک خوب صورت بٹوا۔ جسے دیکھتے ہی میرا ہاتھ اس کی طرف لپکا تھا۔ اسے چھوتے ہی نرم چمڑے کا گداز مجھے خواب میں چھوئے جانے والے ستاروں کی طرح لگا تھا، میلے سے واپسی پر اور آنے والے دنوں میں کہ جب جب میں اسے دیکھتا مجھے لگتا میرے اندر قطرہ قطرہ گرنے والا دکھ جھیل بن چکا ہے۔

بٹوا نیا تھا خوب صورت، نرم اور گداز بالکل ایسا جیسا کہ آسائشوں کے بل بوتے پر اجلی نظر آنے والی یہ زندگی۔ لش پش کرتا بٹوا میری جیب میں رہا، میں اسے چھوتا رہا مگر اسے کھول کر دیکھتا تو اس کاخالی پن میرا منہ چڑا رہا ہوتا۔ میں نے ساری عیدی اس بٹوے پر لٹا دی تھی، مگر بدلے میں اتنی بھی خوشی نہ پا سکا جتنی کہ عیدگاہ جاتے ہوئے ’’چاچی، چاچی‘‘ کہنے پر گالیاں دینے والی بڑھیا کے ہاتھ پر اپنی جیب سے دھیلا نکال کر رکھتے ہوئے پایا کرتا تھا۔ اور اب لگتا ہے زندگی بھی اس بٹوے جیسی ہوگئی ہے، جو ہماری سارے پونجی کھا جاتی ہے اور دھیلے میں آجانے والی خوشی بھی ہمیں عطا نہیں کرپاتی۔

(Visited 330 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: