کتابِ اُمید: باب اول — مایوسی۔ ۔ ۔ مغرب کا تلخ سچ (۱)

0

سب خسارے میں ہیں!
‘کس قدر تعجب کی بات ہے! رابطے جتنے آسان ہوگئے، لوگ اُتنی زیادہ نفرت ایک دوسرے سے کرنے لگے، کیوں؟ حیرت ہے کہ ‘خبریں’ ہمیشہ اندیشوں میں مبتلا کردیتی ہیں، کیوں؟ عجیب بات ہے کہ زندگی آسان ہو رہی ہے مگرلوگ مایوس ہورہے ہیں، کیوں؟ ہم بہت ہی انوکھے دورمیں جی رہے ہیں۔ مادی اعتبار سے سب کچھ بہترین ہے۔ ہم سے زیادہ کوئی آزاد نہیں۔ انسانی تاریخ میں ہم سے زیادہ صحت مند اور دولت مند کوئی نہ گزرا۔ مگرافسوس ہے، روئے زمین پرہرجانب تباہی ہے۔ زمین کی گرمی بڑھ رہی ہے۔ حکومتیں ناکام ہورہی ہیں۔ معیشتیں زمین بوس ہورہی ہیں۔ ہرکوئی ٹوئٹرپرناراض نظرآتا ہے۔ تاریخ کے اس لمحے میں، جب ہماری اُس ٹیکنالوجی تک رسائی ہے، وہ تعلیم اورابلاغ میسر ہے جس کا خواب تک ہمارے باپ دادا نہ دیکھ سکتے تھے، ہم میں سے اکثرمایوس ہیں۔ آخریہ ہو کیا رہا ہے؟” (A Book about Hope by Mark Manson کے تعارف سے اقتباس)

مغرب مایوس ہے۔ مایوسی کفر ہے۔ کفرتباہی ہے۔ تباہی واضح ہے۔ واضح احساس ہے۔ یہ امید چاہتا ہے۔ امید کیا ہے؟ کہاں ہے؟ کیسے ہو؟ مغرب میں یہ سوالات رائج لبرل اقدار روند رہے ہیں۔ سوال اٹھانے والوں میں ایک نمایاں نام نیویارک سُپر بلاگر مارک مینسن کا ہے۔ مسٹر مینسن جدید دنیا کے باطن کی گندگی نمایاں کرتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کی افیون کس طرح انسانی نفسیات برباد کررہی ہے، یہ ان کی تحریروں میں حال کی مثالوں سے واضح کیا گیا ہے۔ ادبی اسلوب مدنظر رکھا جائے، تومسٹرمینسن کی انگریزی روزمرہ امریکی بول چال کی زبان ہے، جس کی لغت قدرے ’غیر مہذب‘ نوعیت کی ہے۔ مگر اُن کی فکر، مشاہدہ اور تجزیہ حقیقت کا عکاس ہے، جدید مغربی معاشرے کی نفسیات سمجھنے میں مددگار ہے۔ وہ مغربی معاشرے کی دُکھتی رگ پر اُنگلی رکھتے ہیں، اورمثالوں سے ثابت کرتے ہیں کہ جو کچھ ہورہا ہے وہ محسوس کررہے ہیں اوربیان کررہے ہیں، اورحل ڈھونڈ رہے ہیں۔ اُن کی نئی کتاب، جس کا مناسب متبادل اردو عنوان ’سب خسارے میں ہیں۔۔۔ کتابِ اُمید‘ ہوسکتا ہے، لکھتے ہیں کہ مغربی معاشرے کا سب سے بڑا مسئلہ ’مایوسی‘ ہے۔ لہٰذا ’امید‘ کی ضرورت ہے۔ اس کتاب کے مضامین کا بنیادی وصف مغربی او رمغرب زدہ سماج کی بربادی کا ’فطری احساس‘ ہے، جو ہر مرحلے پر ’دین فطرت‘ کی ضرورت واضح کرتا چلا جاتا ہے۔ جیسا کہ کتاب کے ’عنوان‘ سے ظاہر ہے۔ انگریزی میں یہ عنوان انتہائی مایوسی میں منہ سے نکلنے والی ’گالی‘ کی مانند ہے۔ مگر ’دین فطرت‘ کے تناظر میں یہ دنیاوی زندگی کی وہ تباہی ہے، جو مکمل خسارے کی صورت سامنے آتی ہے۔ اسلامی تناظر میں مغرب اور مغرب زدہ معاشروں کے سماجی مسائل سمجھنے کے لیے یہ کتاب بھرپور معاون ہے۔ اسے جدید ’سماجی علوم‘ کی تحقیق میں بطور مثال استعمال کیا جاسکتا ہے۔ زیر نظرمضمون کا مقصد یہی ہے۔ مسٹر مینسن کا مقدمہ یہ ہے کہ ’خوشی‘ کی تلاش میں مغربی معاشرہ انتہائی ’ناخوشی‘ سے گزر رہا ہے، اس کا بنیادی سبب زندگی میں کسی بھی قسم کی ’امید‘ کا نہ ہونا ہے۔ جدید سماجی مسائل پراس کتاب کی نظر گہری ہے مگر نتائج میں درستگی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، اور حل کی اصلاح ناگزیر نظرآتی ہے۔ یہی اس کے ترجمہ اور تجزیہ کا مقصد ہے۔

کتاب کی تعارفی ای میل میں مسٹرمینسن اپنے احساسات یوں الفاظ کی نذر کرتے ہیں

’’مصنف ہونا عجیب تجربہ ہے کیونکہ اس طرح آپ کی زندگی مسلسل چکر کھاتی ہے۔ آپ ایک سے دوسال تک مکمل تنہائی میں غوروخوض کرتے ہیں۔ ہردن ہرصفحہ پرمشقت سے گزرنا پڑتا ہے۔ کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ آپ تنہائی میں پریشان بیٹھے ہوتے ہیں۔ گزرنے والے وقت کو ’تلاش سچ‘  کی صحیح کوشش ثابت کرتے ہیں۔ میرا قیاس ہے کہ جو میں کہہ رہا ہوں کبھی لایعنی نہیں رہا۔ جیسا کے آپ جانتے ہیں میری نئی ’کتاب امید‘ شائع ہوچکی ہے۔ لوگوں نے اس پر ملے جلے ردعمل کا اظہارکیا ہے۔ یہ ردعمل بڑی حد تک مثبت ہے مگر بھرپور طور پر متحارب بھی ہے۔ یہ تفریحی بھی ہے کیونکہ میں نے ذاتی نوعیت کے رسک لیے ہیں: اپنے خاندان کے بارے میں لکھا ہے، ناکام تعلقات کی کہانیاں سنائی ہیں، اور ذاتی خدشات ظاہر کیے ہیں۔ گو کہ یہ بے چین کرنے والی کیفیت ہے مگر لوگ آخرکار اس کی حوصلہ افزائی کریں گے۔ میں جانتا ہوں اس کتاب کے بہت سے قاری مد مقابل ہوجائیں گے۔ ان ابواب میں کئی مقدس گائیں ذبح کی گئی ہیں۔ کئی مداحوں سے ناراضی مول لی گئی ہے۔ یہ کتاب زندگی کی معنویت اور مقصد پرسوال اٹھاتی ہے، اور کیا یہ سوال نقصان دہ ہیں؟ یہ سوال تاریخ، سیاسیات، اور مذہب کی قلم رو میں دور تک نکل جاتے ہیں۔ یہ مشکل ہے کیونکہ لوگ ان معاملات میں شدید جذباتی ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ یہ کتاب ان ہی جذبات کوموضوع بناتی ہے۔ لوگوں کو اس موضوع پر سوال اٹھانے کی ترغیب دیتی ہے۔‘ ‘

کتاب کے دو حصے ہیں۔ پہلا ’امید‘ ہے۔ اس حصہ میں پانچ ابواب ہیں۔ یہ آغاز میں مغرب کے مسئلہ ’مایوسی‘ کی تشخیص کرتا ہے۔ دوسرا حصہ ہرمعاملہ میں ’تباہی‘ کا جائزہ لیتا ہے۔ اس حصہ کے چار ابواب ہیں۔ یہ ’انسانیت‘ کے فارمولے پربحث کرتا ہے۔ عالمی معاشی صورتحال کے عام احساس کی تشریح کرتا ہے۔ آخری باب ’آخری مذہب‘ کی تجویز یا تعلیم دیتا ہے۔ مسٹر مینسن نے عام فرد کے احساس کو الفاظ دیے ہیں۔ مسئلہ ’مایوسی‘ کا عمومی مشاہدہ پیش کیا ہے۔ بالکل اسی طرح وہ نتائج اور حل کی جانب بڑھ جاتے ہیں، زیادہ سے زیادہ مغربی فلسفے کی تاریخ سے روایتی سا استفادہ کرتے ہیں۔ جوظاہر ہے مغرب میں تحقیق کا عام ’سقم‘ ہے۔ مغرب اور مغرب زدہ دانش وروں میں یہ ’سقم‘ عام ہے۔ تجزیہ میں یہ ’سُقم‘ دور کرنے کی سعی کی جائے گی۔ ترجمہ و تلخیص میں الفاظ کی اصل صورت اورمقدمہ قائم رکھا جائے گا، غیر ضروری تفصیل حذف کی جائے گی۔ حواشی میں تنقید وتجزیے کی توفیق بھرکوشش کی جائے گی۔ اس کتاب کے انتخاب کا بنیادی محرک مغربی ’مایوسی‘ کی تصریح اورمدعا ’امید‘ کی اسلامی صورت واضح کرنا ہے۔

اسلام کی تعلیمات میں ’مایوسی‘ کفر ہے۔ ’کفر‘ ایسی اتھاہ بے معنویت ہے، مسٹرمینسن جسے شدت سے محسوس کرتے ہیں، اس کا اعتراف کرتے ہیں۔ انسانی فطرت کا یہ ’خالی پن‘ مغربی فکر کی پوری تاریخ پرطاری رہا ہے۔ جرمن فلسفی نٹشے کے معروف جملے ہیں کہ ’ ’انسان کے لیے سب سے بہتر یہ ہے کہ پیدا ہی نہ ہو، اور اگر پیدا ہوہی جائے توجلد مرجائے‘‘ ۔ کم وبیش، یہی مایوسانہ کیفیت ’فلسفہ‘ کی پوری کہانی پرچھائی ہے۔ ’کتاب امید‘ اس کیفیت  کا تسلسل ہے۔ اس کیفیت کا خاتمہ اور ’امید‘ انسانی دنیا کی عظیم ضرورت ہے۔ (مترجم)


کتابِ اُمید ۔ ۔ ۔ باب اول: مایوسی

اگرمیں اسٹاربکس (امریکی کافی کمپنی) کاملازم ہوتا، توکافی کے کپ میں لوگوں کے ناموں کے بجائے یہ لکھتا ’’ایک دن تم اور ہر وہ انسان جو تم سے محبت کرتا ہے مرجائے گا۔ وقت کے مختصرسے حصہ میں اپنی بات کہنے اور برتنے والا یہ انسانی گروہ فنا ہوجائے گا، کسی کوکوئی فرق نہ پڑے گا۔ یہ زندگی کی تلخ سچائی ہے۔ اور جو کچھ تم سوچتے ہو اور کرتے ہو، اس سچائی سے گریز کے سوا کچھ نہیں۔ ہم کائنات کی دھول ہیں، ہماری کوئی منزل نہیں۔ ہم اپنی اہمیت متصور کرتے ہیں۔ ہم اپنی غایت تراشتے ہیں۔ ۔ ۔ جب کہ ہم حقیقت میں کچھ نہیں ہیں۔‘‘ کافی کا مزہ لیجیے!

یقینا مجھے اس بات کوچند الفاظ میں سمیٹنا چاہیے (کافی کپ میں جگہ مختصرہوتی ہے)۔ شاید اس میں مجھے کچھ وقت بھی صرف کرنا پڑے۔ اس طرح گاہکوں کا رش شاید چھٹ جائے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ میں ملازمت کا اہل ہی نہیں ہوں۔ مگرسچی بات ہے، تم دل سے کس طرح کسی کو ’تمہارا دن اچھا گزرے!‘ کہہ سکتے ہو؟ جب کہ تم جانتے ہو کہ یہ سب بے کار باتیں ہیں، یہ بے معنی زندگی کی اذیت سے بچنے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں(۲)۔

زمان ومکاں کی لامحدود وسعتوں پر محیط کائنات کی بلا سے، تمہاری والدہ کے مرض کا ٹھیک علاج ہوتا ہے یا نہیں، یا تمہارے بچے کالج میں داخلہ پاتے ہیں یا نہیں، یا پھرتمہارے باس کا رویہ کیسا ہے؟ کیا فرق پڑتا ہے ! صدارتی انتخاب ڈیموکریٹس جیتیں یا رپبلیکنز! کیا فرق پڑتا ہے اگر جنگل آگ میں جل جائیں! سمندروں کا پانی بلند ہوجائے! گلیشئیرپگھل جائیں! ہوا ؤں میں سنسناہٹ آجائے! یا کوئی خلائی مخلوق ہمیں بھاپ بناکر اڑادے!(۳)

ہاں تم پروا کرتے ہو! کیونکہ تھک ہار کر تم خود کو آخرکاراس بات پر آمادہ کرتے ہوکہ اس عالم رنگ وبو کی کوئی روح کوئی معنی ہیں! تم پروا کرتے ہو، کیونکہ تم اپنے اندر کہیں گہرائی میں اس تلخ سچائی سے واقف ہو، کہ وجود کے کوئی معنی نہیں! تم اپنے وجود کی تفہیم سے دانستہ گریز کررہے ہو، اور اپنے وجود کی حقارت تلے کچلے جاتے ہو۔ تم، میری طرح، ہراک کی طرح، اردگرد کی دنیا میں اپنی اہمیت گھڑتے ہو، کیونکہ یہ تمہیں ’امید‘ دلاتی ہے(۴)۔

بات شاید بہت دور تک چلی گئی! ایک کافی اور ہوجائے؟ اس بار میں نے ایک مسکراتا چہرہ بھی اس پر نقش کردیا ہے، ہے نہ پیاری تصویر؟ تم چاہو تو انسٹاگرام کرلو، میں انتظارکرلیتا ہوں۔

اوکے! ہم کہاں تھے؟ اپنے وجود سے لاعلمی پر۔ ۔ ٹھیک! اب تم شاید سوچ رہے ہو گے ’’ویل مسٹر مارک میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ہم یہاں کسی نہ کسی وجہ سے ہیں، کچھ بھی محض اتفاق نہیں، ہم میں سے ہر ایک بہت ہم ہے، اور ہمارے اعمال ایک دوسرے پرہراعتبار سے اثرانداز ہوتے ہیں۔ اگر ہم ایک دوسرے کے کام آسکتے ہیں، تب تو اس بات کی بڑی اہمیت ہے، ٹھیک؟

دیکھو، یہ تمہاری ’اُمید‘ ہے، جواندر سے بول رہی ہے۔ تمہارے دماغ میں یہ کہانی اس لیے گردش کررہی ہے تاکہ تمہاری صبح بامقصد ہوسکے: کیونکہ کچھ نہ کچھ ایسا ہونا چاہیے جس کی زندگی میں اہمیت ہو، ایسا نہ ہوتو جینے کی کوئی امنگ ہی نہ رہے۔ اگرکچھ نہ کچھ کرنے کی کوئی وجہ نہ ہو، تویہ دماغ خرابی میں جا پڑے۔
مچھلی پانی کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ انسانی نفس ’اُمید‘ کے بغیرمردہ ہے۔ یہ ’اُمید‘ ہمارے نظام نفس کی توانائی ہے، یہ نا امید ہوجائے تو ختم ہوجائے۔ ہمارے لیے مستقبل سے ’مایوسی‘ روحانی موت ہے۔ اگر’امید‘ ہی نہ ہو، توپھر زندگی بھی کیوں ہو؟ کوئی کیا کرے؟ کچھ بھی کیوں کرے؟ یہ زندگی چہ معنی دارد!(۵)

اکثرلوگ یہ بات سمجھ نہیں پاتے کہ ’خوشی‘ کی ضد ’غصہ‘ یا ’اداسی‘ نہیں ہے۔ نہیں! ’خوشی‘ کی ضدہے ’مایوسی‘۔ ایک مہیب اندھیرا! اس بات پر یقین رکھناکہ سب بکواس ہے! پھرکوئی انسان کچھ بھی کیوں کرے؟ مایوسی ’سرد مہر ویرانی‘ کی مانند ہے، یہ احساس کہ کہیں جینے کی کوئی وجہ نہیں، کوئی کیوں جیے؟ (۶) پھر کیوں نہ سب کو ماردیا جائے! کسی اسکول میں گُھس کراندھا دھند فائرنگ کردی جائے!ایک خاموش احساس کہ لامحدود کائنات کی وسعتوں میں ہماری کارگزاریوں کی کیا وقعت ہے؟ ہماری ساری کاوشوں کا کیا حاصل ہے، صفر؟ (۷)

مایوسی ہر پریشانی اوردماغی مرض کی جڑ ہے۔ ہاں ! یہ ہرغم ہر بُری لت کی بنیادی وجہ ہے۔ یہ ہرگز مبالغہ آرائی نہیں ہے۔ ہرمصیبت ’مایوسی‘ کے بحران سے ہے۔ یہی ناکام مستقبل کے خوف کی وجہ ہے۔ ذہنی تناؤ اور ’ناامیدی‘ کا حاصل ہے۔ اس بات پر یقین رکھنا ہے کہ مستقبل بے معنی ہے۔

’مایوسی‘ سے کیسے بچا جائے؟ ’امید‘ کی تعمیر کرو! اسے اولین کام بنا لو! زندگی کے معنی سمجھو! اس دنیا میں تمہارا کیا مقام ہے ؟سمجھو! تاکہ ’امید‘ پیدا ہو۔
امید ہی وہ چیز ہے جس کے لیے خوشی خوشی جان بھی دے دینی چاہیے!یہ ’امید‘ اپنے وجود سے َبلند ہونے کا احساس ہے۔ اس کے بغیر ہم کچھ نہیں۔ ہرکوئی چاہتا ہے کہ وہ اس طرح مرے کہ اچھے الفاظ میں یاد کیا جائے۔

ہم ’امید‘ کے ایسے بیانیے بناتے رہتے ہیں، جینے کے سبب گھڑتے رہتے ہیں، اور ہمیں چاہیے کہ اس امید کوبہرصورت زندہ رکھیں!یہ امید ہی ہے جو ہمیں ’تلخ سچائی‘ کے ہاتھوں تباہی سے بچاسکتی ہے۔ یہ ’امید‘ کے بیانیے ہی ہیںجوہماری زندگی کی ضمانت ہیں۔ یہ مستقبل میں ’کچھ‘ بہتر کی امید ہیں۔ یہ زندگی اور بعد از زندگی کی کہانی ہے، جو جہد مسلسل سے عبارت ہے۔

یہ ایک مشکل مرحلہ ہے: زندگی میں کیا کھویا کیا پایا؟ یہ جاننا کیسے ممکن ہو؟ یہی وجہ ہے کہ لوگ بڑی تعداد میں مذہب کی جانب لپکتے ہیں، مذہب عالم الغیب پرایمان لانے کی دعوت دیتا ہے۔ غالبا یہی وجہ ہے کہ مذہبی افراد میں خود کشی اور نفسیاتی امراض کی شرح انتہائی کم ہے۔ یہ ایمان ہی ہے جو مذہبی افراد کو’مایوسی‘ کی ’تلخ سچائی‘ سے محفوظ و مامون رکھتا ہے(۸)۔

مگر’امید‘ کے بیانیوں کو مذہب کی بھی ضرورت نہیں۔ یہ کچھ بھی ہوسکتے ہیں۔ میری یہ کتاب میری چھوٹی سی امید ہے۔ یہ مجھے مقصد اور معنی فراہم کرتی ہے۔ یہ شاید میری زندگی اور دنیا کی بہتری کے لیے کسی کام آسکے۔ کیا میں اس بارے میں ُپر یقین ہوں؟ نہیں! مگرکیا کیا جائے یہی میری امید میری کہانی ہے۔ اور میں اس سے چمٹا ہوا ہوں(۹)۔

یہی مجھے صبح سویرے اٹھنے پرمائل کرتی ہے۔ میری زندگی میں جوش بھر دیتی ہے۔ صرف یہی نہیں کہ یہ بُری بات نہیں، بلکہ صرف یہی ’بات‘ ہے۔

کچھ لوگوں کے لیے، زندگی اولاد کی بہتر سے بہترپ رورش میں ہے۔ کچھ کے لیے یہ ماحول محفوظ بنانے میں ہے۔ دیگر کے لیے یہ دولت کے انبار لگانے میں ہے۔ چاہے ہم محسوس کریں یا نہ کریں، ہم ’امید‘ کے ان بیانیوں کو چنتے ہیں، اوران کے لیے کچھ نہ کچھ جواز گھڑ ہی لیتے ہیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تم ’امید‘ کے لیے دلیل کہاں سے لاتے ہو۔ سب آخرکاراس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ : مستقبل پرکسی نہ کسی طور یقین کرنا ہوگا، کیونکہ زندگی کی اور کوئی صورت نہیں بنتی۔ دن بہ دن، سالہاسال، ہماری زندگی ان ہی بیانیوں پر چل رہی ہے۔ یہ نفسیاتی گاجر کے سرے پرحرکت کرتی چھڑی کی مانند ہے(۱۰)۔

اگریہ سب تمہیں غیر حقیقی nihilistic لگ رہا ہے، توبرائے مہربانی تصیح کرلو! یہ ہرگز nihilism کے حق میں کوئی دلیل نہیں۔ یہnihilism کے خلاف ہے۔ یہ ہمارے وجود کی ’بے معنویت‘ اور جدید دنیا کی ’بے معنویت ‘ سے متصادم ہے۔ وہ ’تلخ سچائی‘ بے معنویت ہی کا نتیجہ ہے، جو یہاں مرکزی موضوع ہے۔ یہیں سے ہم نے دھیر ے دھیرے ’اُمید‘ کا مقدمہ مستحکم کرنا ہے۔ اورصرف امید نہیں، بلکہ باقی رہنے والی ’ُامید‘۔ ایک ایسی امید جو ہمیںایک دوسرے سے پھاڑنے کے بجائے جوڑ دے! ایک طاقتور ’امید‘، جو حقیقت پسند ہو۔ ایک ایسی ’اُمید‘ جو ہمیں اطمینان نفس کی جانب لے جائے۔

یہ آسان نہ ہوگا۔ اکیسویں صدی میں یہ دشواترین کام ہے۔ ’بے معنویت‘ اور خواہش نفس نے جدید دنیا کوشکنجہ میں کس لیا ہے(۱۱)۔

کامیابی محض کامیابی کی خاطر ہے۔ لذت محض لذت کی خاطر ہے۔ یہاں کہیں وسیع ’کیوں؟‘ کی گنجائش نہیں! یہ کسی عظیم سچ سے وابستہ نہیں! یہ ہر شے کو بدنما بنارہا ہے!

ترقی کا معمہ!
ہم بہت ہی انوکھے دورمیں جی رہے ہیں۔ مادی اعتبار سے سب کچھ بہترین ہے۔ ترقی یافتہ مالدار دنیا میں ایک نا معقول سی ’مایوسی‘ وبا کی طرح پھیل رہی ہے۔ یہ ترقی کا عجب معمہ ہے: چیزیں جتنی بہتر ہورہی ہیں لوگ ُاتنی مایوسی میں گھر رہے ہیں(۱۲)۔

حالیہ سالوں میں اسٹون پنکر اور ہانس رولنگ جیسے بہت سے مصنفین یہ مقدمہ مستحکم کررہے ہیں کہ مایوسی کی باتیں بے سبب ہیں۔ سارے معاملات بہترین چل رہے ہیں۔ ان دونوں حضرات نے خوشحالی ثابت کرنے کے لیے اپنی کتابوں میں چارٹس اور گرافکس بھر دیے ہیں۔ دونوں حضرات کی دلیل ہے کہ تاریخ جدید میں ترقی کا سفرمسلسل ہے۔ لوگ پہلے سے زیادہ تعلیم یافتہ ہیں۔ صدیوں بعد حالیہ دہائیوں میں پرتشدد واقعات بہت کم ہوچکے ہیں۔ خواتین کے خلاف جنسی امتیاز اور تشدد تاریخ کی کم ترین شرح پر آگیا ہے۔ ہمیں ہمیشہ سے زیادہ حقوق حاصل ہیں۔ آدھی دنیا کی انٹرنیٹ تک رسائی ہے۔ دنیا بھرمیں انتہائی غربت کی شرح بہت کم ہوچکی ہے۔ جنگیں مختصراورغیرمسلسل ہوچکی ہیں۔ ہمیشہ سے زیادہ دولت ہمارے پاس ہے، ہمیشہ سے بہتر ہماری صحت ہے۔ یہ بالکل ٹھیک کہتے ہیں۔ یہ حقائق جاننا بہت اہم ہے۔ مگر یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے آپ اپنے انکل کی باتیں سن رہے ہوں کہ جب وہ جوان تھے تومعاملات کتنے مشکل ہوا کرتے تھے، مگر آج سب کتنا آسان ہوچکا ہے۔ اس سب کے باجود یہ ضروری نہیں کہ یہ سب سُن کرتمہیں اپنے مسائل کم لگنے لگیں۔ کیونکہ اچھی خبروں کے ساتھ ساتھ کچھ اور اعداد وشمار بھی آج کی ’تلخ سچائی‘ ہیں: امریکا کی اسی سالہ تاریخ میں جوانوں کے دماغی اور اعصابی امراض ریکارڈ انتہا پر ہیں، اور بیس سال کے دوران نوجوانوں میں یہ شرح تشویشناک ہے۔ نہ صرف یہ کے لوگوں کی بڑی تعداد اعصابی تناؤ سے گزررہی ہے بلکہ ایسا کم عمری میں ہورہا ہے۔ ۱۹۸۵ سے مرد و خواتین میں’ اطمینان زندگی‘ کی شرح کم ترین سطح پر آچکی ہے۔ تین دہائیوں میں اعصابی تناؤ کی سطح بہت بڑھ چکی ہے۔ امریکا اور کینیڈا میں منشیات کا حد سے زیادہ استعمال ریکارڈ انتہا پر ہے۔ امریکا میں’فرد کی تنہائی ‘ اور’ معاشرتی تنہائی‘ دونوں بہت بڑھ چکی ہیں۔ تقریبا امریکا کی آدھی آبادی تنہائی کا شکار ہے۔ معاشرے کی ساکھ برباد ہے۔ بہت کم لوگ حکومت، میڈیا، یا کسی اور پر بھروسہ کرتے ہیں۔

اس دوران ماحول بھی تباہ ہوچکا ہے۔ نیوکلئیر ہتھیار محفوظ ہاتھوں میں نہیں۔ دنیا بھر میں مذہبی اور سیکولردونوں طرح کی انتہا پسندی بڑھ رہی ہے۔ سازشی نظریہ ساز، شہری ملیشیا، اور آرمیگاڈون کا جنگی جنون مقبول رویے بن چکے ہیں۔ بنیادی بات یہ ہے کہ ہم تاریخ کے محفوظ ترین مگر مایوس ترین انسان بن چکے ہیں۔ یہی اس ترقی کا معمہ ہے! یہاں یہ بھی چونکادینے والی حقیقت ہے کہ آسائش وآرام سے بھرپور زندگی میں خود کشی کا خدشہ بھی بھرپور ہوچکاہے۔ صرف ’امید‘ ہے جواس خوفناک صورتحال سے ہمیں نکال سکتی ہے(۱۳)۔

اس امید کی تعمیر کے لیے ہمیں تین چیزوں کی ضرورت ہے: زندگی پراختیار کا احساس، اعلٰی اقدار پر یقین، اور اجتماعیت۔ ہمیں اپنی زندگی میں بہتری لانی چاہیے۔ ایسی اعلٰی اقدار کے لیے کام کرنا چاہیے جوجدوجہد پرمائل کرسکیں۔ ایک ایسی اجتماعیت اختیار کرنی چاہیے جواعلٰی اقدار کی پیروی میں آپ کی ہم خیال ہو۔ اجتماعیت کے بغیر ہم تنہائی کا شکار ہوجاتے ہیں، ہماری اقدار بے وقعت ہوجاتی ہیں۔ یہ تینوں چیزیں ہی ’امید‘ کی تشکیل کرتی ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی ایک چیز پوری نہ ہوتوامید ادھوری رہ جائے گی۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ ’امید ‘ کا یہ بحران کیوں ہے؟ ہمیں اس کے نظام کو سمجھنا ہوگا۔ کسی طرح یہ ’امید‘ پیدا ہوتی ہے، اور باقی رہتی ہے(۱۴)۔

اس سلسلہ کا دوسرا مضمون اس لنک پہ دیکھئے

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: فلسفیانہ اداسی اور وجودی لایعنیت ۔ خالد بلغاری

حواشی
۱۔ ’’اپنے رب کی رحمت سے مایوس توگمراہ لوگ ہی ہوا کرتے ہیں‘‘(الحجر، ۵۶)
۲۔ یہ خدا بیزار معاشرہ کی اصل اخلاقی کیفیت ہے مسٹر مینسن دیانت داری سے اس کا اظہار کررہے ہیں۔ کسی بھی احساس ذمے داری سے بے بہرہ، اورصلہ کی اُمید سے عاری بے معنی اخلاقیات یقینا بے کار بات ہے۔
۳۔ ’’اللہ کی تسبیح کررہی ہے ہروہ، چیز جو آسمانوں میں ہے اور ہروہ چیز جو زمین میں ہے۔ اُسی کی بادشاہی ہے اور اُسی کے لیے تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قادرہے۔ وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا، پھر تم میں سے کوئی کافر ہے اور کوئی مومن، اور اللہ وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے جو تم کرتے ہو۔ اُس نے زمین اور آسمانوں کوبرحق پیدا کیا ہے، اور تمہاری صورت بنائی اوربڑی عمدہ بنائی ہے، اور اُسی کی طرف بالآخر تمھیں پلٹنا ہے۔ ‘‘(التغابن، ۳۔ ۱)
۴۔ حالت کفر کی بے معنویت پر اظہار ’مایوسی‘ کو ’تلخ سچائی‘کے طورپر واضح کیا گیا ہے۔
۵۔ ’اُمید‘ یہاں وجود کی معنویت پر ’ایمان‘کے معنوں میں ہے۔
۶۔ ’’ ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے آگ روشن کی اور جب اُس نے سارے ماحول کو روشن کردیا تواللہ نے اُن کا نور بصارت سلب کرلیا اور انھیں اس حال میں چھوڑدیا کہ تاریکیوں میں انھیں کچھ نظر نہیں آتا۔ ‘‘(بقرہ، ۱۷۔ ۱۶)
۷۔ ’’جنھوں نے کفر کیا اُن کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے دشت بے آب میں سراب کہ پیاسا اس کو پانی سمجھے ہوئے تھا، مگر جب وہاں پہنچا تو کچھ نہ پایا۔ ۔ ۔ یا پھر اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک گہرے سمندر میں اندھیرا، کہ اوپر ایک موج چھائی ہوئی ہے، اُس پر ایک اور موج، اور اُس کے اوپر بادل تاریکی پر تاریکی مسلط ہے، آدمی اپنا ہاتھ نکالے تو اسے بھی نہ دیکھ پائے۔ جسے اللہ نور نہ بخشے اُ کے لیے پھر کوئی نور نہیں(نور، ۳۹۔ ۳۸)
۸۔ ’’زمانے کی قسم، انسان درحقیقت خسارے میں ہے، سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائے، اور نیک اعمال کرتے رہے، ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے‘‘(العصر)
۹۔ ’’ان کی مثال یوں سمجھو کہ آسمان سے زور کی بارش ہورہی ہے اور اس کے ساتھ اندھیری گھٹا ٹوپ اور کڑک اور چمک بھی ہے، یہ بجلی کے کڑاکے سن کراپنی جانوں کے خوف سے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں، اور اللہ ان منکرین حق کوہرطرف سے گھیرے میں لیے ہوئے ہے۔ چمک سے ان کی حالت یہ ہورہی ہے کہ گویا بجلی عنقریب ان کی بصارت اچک لے جائے گی۔ جب ذرا کچھ روشنی انہیں محسوس ہوتی ہے تو اس میں کچھ دور چل لیتے ہیں اور جب ان پر اندھیرا چھاجاتا ہے تو کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اللہ چاہتا تو ان کی سماعت اور بصارت بالکل ہی سلب کرلیتا، یقینا اللہ ہرچیز پر قادر ہے۔ ‘‘(بقرہ، ۲۰۔ ۱۹)
۱۰۔ ’’تم لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اور ایک دُوسرے سے بڑھ کر دنیا حاصل کرنے کی دُھن نے غفلت میں ڈال رکھا ہے یہاں تک کہ (اِسی فکر میں) تم لبِ گور تک پہنچ جاتے ہو۔ ہرگز نہیں، عنقریب تم کو معلوم ہو جائے گا۔ پھر (سُن لو کہ) ہرگز نہیں، عنقریب تم کو معلوم ہو جائے گا۔ ہر گز نہیں، اگر تم یقینی علم کی حیثیت سے (اِس روش کے انجام کو) جانتے ہوتے (تو تمہارا یہ طرزِ عمل نہ ہوتا)۔ تم دوزخ دیکھ کر رہو گے، پھر (سُن لو کہ) تم بالکل یقین کے ساتھ اُسے دیکھ لوگے۔ پھر ضرور اُس روز تم سے اِن نعمتوں کے بارے میں جواب طلبی کی جائے گی۔ ‘‘(التکاثر)’’دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور ایک تماشا ہے، حقیقت میں آخرت ہی کا مقام اُن لوگوں کے لیے بہتر ہے جو زیاں کاری سے بچنا چاہتے ہیں، پھرکیا تم لوگ عقل سے کام نہ لوگے؟ ‘‘(الانعام، ۳۲)
۱۱۔ ’’تم نے اُس شخص کے حال پر بھی غور کیاجس نے اپنی خواہش نفس کو خدا بنالیااور اللہ کے علم کے باوجود اُسے گمراہی میں پھینک دیا اور اس کے دل اور کانوں پر مہر لگادی اور اُس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا؟ اللہ کے بعد اب اور کون ہے جو اسے ہدایت دے؟ کیا تم لوگ کوئی سبق نہیں لیتے؟‘‘(الجاثیہ، ۲۳)
۱۲۔ کامیابی کے دنیاوی (مغربی) تصور کی بے وقعتی واضح ہے۔
۱۳۔ امید یعنی ’ایمان‘ ہی مایوسی یعنی ’کفر‘ کی حالت سے نکال سکتا ہے۔
۱۴۔ ضبط نفس، ایمان، اور اجتماعیت کی ضرورت کا فطری احساس بھرپور طورپر سامنے آیا ہے۔ تلاش حق کے لیے مسٹر مینسن کی جستجو واضح ہے۔

ترجمہ و تلخیص ناصر فاروق

(Visited 387 times, 4 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: