عبید اللّٰہ بیگ : اپنی ذات میں انجمن —- سلمان رشید/ ترجمہ: عتیق بزدار

0

“Who else wants to emulate OB” by Salman Rashid

یہ جو میرے پاؤں میں ایک چکر سا ہے تو اس کا منبع تشویق یہی ذات شریف ہیں جن سے میری رہ و رسم آشنائی، اگر مجھے تسامح نہیں ہورہا، سن ساٹھ سے شروع ہوئی تھی۔ یہ باکمال اور یکتائے روزگار شخصیت مرحوم عبید اللّٰہ بیگ تھے۔ اس پایہ کی شخصیت شاید ہی دیکھنے کو نصیب ہو۔

گو، میں وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ انہوں نے اپنے ٹی وی ڈاکیومنٹری سلسلے کا آغاز کب کیا۔ غالباً یہ 1969 کی بات ہے۔ تب ہمیں فقط پی ٹی وی ہی میسر تھا مگر اُن دنوں اُس کا معیار قابلِ رشک ہوا کرتا تھا۔ ہر طرف “او-بی” کا شہرہ تھا (چند ہی سالوں میں وہ اپنے دوستوں اور پرستاروں میں OB کے نام نامی سے جانے جانے لگے)۔ چو گوشیہ سے چہرے پہ بھاری فریم کا چشمہ سجائے، سرمئی سفاری سوٹ میں ملبوس “او-بی” وجاہت کا پیکر نظر آتے تھے۔ (سرمئی شاید اس لیے کے اُن دنوں ٹیلی ویثرن بلیک اینڈ وائیٹ ہوا کرتا تھا)۔

او بی عموماً ایسے حیرتناک مقامات کی سیر کرواتے نظر آتے جن پر آرتھر کونن ڈوئل کے کسی ناول کے منظر کا گماں ہوتا۔ ہاتھوں میں مائیکرو فون تھامے، کیمرے کی طرف دیکھتے ہوئے ہمیں ایسے مقامات اور چیزوں کا بتاتے جن کے وجود کی ہمیں چنداں خبر نہ تھی۔ بلوچستان کے ویرانوں سے لیکر، سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخواہ (تب کا شمال مغربی سرحدی صوبہ)، انہوں نے کم علم ہم وطنوں کو اپنا ملک دکھایا۔ ہر قسط ایک الف لیلوی سفر معلوم ہوتی تھی۔

چالیس سال ایک طویل دورانیہ ہے۔ جس کا بیشتر حصہ میری یاد سے محو ہو چکا۔ مگر چشمِ تصور آج بھی اوبی کو رنی کوٹ قلعہ، ہنگلاج مندر، اور لاہوت لامکاں میں دیکھ سکتی ہے۔ صوفے کے کنارے پر بیٹھ کر میں اُنہیں مشتاق نگاہوں سے دیکھتا اور گوشِ دل سے سنا کرتا۔ جی چاہتا کہ اس کنارے سے گِروں اور اور اُس جہانِ دیگر میں پہنچ جاؤں جو ہم اوبی کے سنگ دیکھتے تھے۔

جن دنوں اوبی پی ٹی وی پر پروڈیوسر تھے تو اُن کے من میں ہمیں وہ پاکستان دکھانے کی سمائی جس سے ہم ہنوز بے خبر تھے۔ یاد رہے کہ وہ ایک عام ڈاکیومنٹری میکر ہرگز نہ تھے۔ وہ بے پایاں علمیت کے حامل آدمی تھے۔ اُن کا مطالعہ بہت وسیع تھا اور پاکستان کی ثقافت، تاریخ اور جنگلی حیات پر گہری نظر رکھتے تھے۔ کئی اور موضوعات پر بھی انہیں درک حاصل تھا جو میں اب بھول چکا ہوں۔ اس میں کوئی کلام نہیں کہ اوبی اپنے ملک کے بارے سب سے زیادہ جان کاری رکھنے والے پاکستانی تھے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہ لیا جائے کہ ان کی علمیت فقط پاکستان تک محدود تھی۔

جب انہوں نے “سیلانی” سیریز بنائی تو یہ فقط جانفزا نظاروں کی عکاسی نہ تھی۔ بلکہ تاریخ، جغرافیہ، ارضیات، نسل نگاری اور کئی اور علوم کا اہم سبق ہوا کرتی تھی۔ اور اُن کے جیسی شستہ اردو شاید ہی کہیں سننے کو ملے۔ انگریزی کی آمیزش سے یکسر پاک اردو، ان کی زبان دانی کا پتہ دیتی تھی۔

مجھے حیرت ہوتی ہے کہ عام لوگ کاریگری اور مہارت کی جستجو کیوں نہیں کرتے۔ اوبی کے بعد آنے والے آج کل کے برائے نام ڈاکیومنٹری میکرز میں اوسط درجے کی صلاحیت بھی عنقا ہے۔ وہ ہمیں جانفزا مناظر، لہلہاتے حسیں پھول، بہتے پانیوں کے کلوز اپ اور فضائے نیلگوں میں اڑتے پرندے تو دکھاتے ہیں۔ مگر اُن میں سے کسی کو بھی اوبی کے تتبع کی تمنا نہیں۔

ہاں مگر میں نے اوبی کی پیروی ضرور کی۔ فوج سے فراغت کے بعد کراچی میں رہنے لگا۔ اس دوران میں سندھ کے بیابانوں کا سفر کرنے کا اتفاق ہوا تو مجھے ادراک ہوا کہ اوبی ایسے ہی مقامات کی سیربینی کے شائق تھے۔ فروری 1980 میں پہلی بار رنی کوٹ قلعہ جانا ہوا تو مجھے اِک التباس شناسائی (deja vu ) کا احساس ہوا۔ یوں گماں گزرا کہ میں یہاں اوبی کے ساتھ پہلے بھی آ چکا ہوں۔

اوبی میرے لیے “خضرِ راہ” بن گئے۔ میں نے پاکستان بھر کے بیابانوں اور اجاڑ میدانوں میں ان کے نقشِ قدم کا تعاقب کیا۔ میں نے پڑھنا شروع کیا تاکہ اوبی کے ترکہء علمیت سے کچھ فیض مجھے بھی مل جائے۔ مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی باک نہیں کہ پانچ چھ سال میں، میں ایک ناآموز ریٹائرڈ کیپٹن کی بجائے ایک ایسا شخص بن چکا تھا جو اپنے ملک کے بارے کچھ نہ کچھ معلومات رکھتا تھا۔

میں IUCN (World Conservation Union) کے لیے لکھتا رہا ہوں۔ کراچی کے ایک دورے پر، میری عزیز دوست اور برسوں میری ایڈیٹر رہنے والی، مرحومہ سنیعہ حسین، دل جن کے لیے آج بھی محزوں ہے، نے بتایا کہ اوبی اُن کی طرف آئے ہوئے ہیں۔ دیدہء بیقرار لیے میں اُن کے کمرے کی طرف چل پڑا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ برسوں سے میرے دوست چلے آرہے ہیں۔

میں نے سوچا بھی نہ تھا کہ وہ اسقدر بُردبار اور سیدھے سادھے آدمی ہیں۔ دیر گئے تک باتیں چلتی رہیں۔ وہ ایک ایسے شخص تھے جنہیں بات کرنے کا قرینہ آتا تھا۔ راہ چلتے کوئی روڑہ بھی اٹھایا تو اُس پر دنیا کی دلچسپ ترین کہانی کہہ ڈالی۔ اُن کی معیت میں کوئی بھی کام کرتے ہوئے ذرہ بھی اکتاہٹ نہ ہوتی۔

1998 میں جب مَیں نے پہلی بار پی ٹی وی کے لیے اپنی سیریز “نگری نگری گھوم مسافر” بنائی تو میں نے سراسر اُن کی پیروی کی۔ میں نے انگریزی سے پاک اردو بولی (گو مرا لہجہ کسی قدر واجبی سا ہی تھا)۔ اور سامعین کو جو بھی جگہ دکھائی اُس سے وابستہ دلچسپ قصے کہانیاں ضرور سنائیں۔ سیریز منظرِ عام پر آنے کے بعد جب ہم ملے تو اوبی اور “بڑے بھیا” سے شاباش ملی۔ اب یہ بے بدل آدمی اور یکتائے روزگار شخصیت، قریش پور تھے جنہیں اوبی، “بڑے بھیا” کہتے تھے۔

اوبی انتہائی کھلے دل کے آدمی تھے۔ ہمیشہ حوصلہ افزائی کیا کرتے تھے۔ اُن کے فنی ورثہ کو قابلِ تقلید نمونے کے طور پر لیا جانا چاہئیے۔ گو انہوں نے کبھی ایسی خواہش ظاہر نہیں کی اور نہ ہی یہ اُن کے شایانِ مرتبت تھا۔ اوسط استعداد کے لوگوں پر پنپتے ہمارے معاشرے میں کسی نے بھی سیاحت اور تاریخ پر لازوال ڈاکیومنٹریز بنانے والے اس یکتائے روزگار شخص سے مستفیض ہونے کی کوشش نہیں کی۔ بے شک ہم سراسر خسارے میں رہنے والے لوگ ہیں۔

معاملہ یوں ہے کہ کسی کا بھی قابلِ تحسین کام سامنے آتا، اوبی کو دلی مسرت ہوتی۔ میرا ایک دوست اپنی بیکار سی ڈاکیومنٹریز میں ایک لفظ اردو کا بولتا ہے، درمیان میں انگریزی لفاظی کے بھونڈے پیوند لگاتے ہے۔ پھر واپس اردو بولنے لگتا ہیں۔ میں نے ایک بار اُس کے بارے کچھ نازیبا الفاظ کہے۔ اوبی کچھ بولے تو نہیں مگر اُن کی ناگواری کے تأثرات صاف نظر آئے۔ اس قدر ارفع کردار کا آدمی کم ظرفی کی توثیق بھلا کیونکر کر سکتا تھا۔

22 جون 2012 کو کراچی سے عادل ملک نے کال کی اور اُس عظیم شخص کے سانحہء ارتحال کی خبر دی۔ مجھے بہت گہرا صدمہ ہوا۔ میری اوبی سے آخری بار قریب ایک سال پہلے بات ہوئی تھی۔ اُن کے وصال سے چند ماہ قبل میں نے اُنہیں کال کرنے کی بارہا کوشش کی۔ مگر رابطہ نہ ہو پایا۔ بعد میں پتہ چلا کہ اُن کا فون نمبر ہی تبدیل ہو چکا تھا۔ اب جبکہ وہ ہمارے ساتھ نہیں رہے تو مجھے پتہ چلا کہ کینسر کے موذی مرض نے اُنہیں ہم سے چھین لیا۔

آج کل کے بہ زعم خود ڈاکیومنٹری میکرز نے پاکستانی ڈاکیومنڑی فلم میکنگ کے سب سے باکمال آدمی کے فنی ورثے سے کبھی اعتناء نہیں کیا۔ شاید اُن کا زعمِ فاسد اُنہیں کبھی بھی اس میراث سے فیض یاب نہ ہونے دے۔ اور اس طرح کا زعم کسی بھی مفید عمل کے امکانات مٹا دیتا ہے، خصوصاً سیکھنے کا عمل۔ اور یوں ایسے لوگ کبھی ترقی نہیں کر پاتے۔

میں نے اپنے ہموطنوں میں سے آج تک کسی شخص کو سب سے زیادہ موردِ تحسین سمجھا ہے تو وہ اوبی ہیں۔ وہ میرے حقیقی ہیرو ہیں۔ اور میں نے ہمیشہ بلا جھجک اُن کی تقلید کی ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: