یہ چاند ہے باغیانہ —— لالہ صحرائی

0

حضرت قدوۃ السالکین جس شان بے نیازی سے پیدا ہوئے تھے وہ آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہے لیکن اس بات کی تفصیلات معلوم نہیں اسلئے کہ راوی کو میٹرنٹی روم کے اندر جانے کی اجازت نہیں ملی تھی۔

البتہ تزکرہ نگار یہ ضرور بتاتا ہے کہ راوی کے مطابق حضرت بھی اسی دن پیدا ہونا چاہتے تھے جس دن عید کے چاند نے نکلنا تھا لیکن بڑے قبلہ صاحب کے درباری زائچہ سازوں نے ایک ہی دن میں دو چاندوں کا ظہور مسلمانوں کیلئے نحوست کی علامت اور باہمی مناظروں کا باعث قرار دیدیا تھا اسلئے حضرت قبلہ کلاں نے فیصلہ کیا کہ مسلمانوں کے وسیع تر مفاد اور امن کے پیش نظر ایک ہی چاند نکلے گا اور وہ کل ان کی حویلی سے اس دنیا میں چھوڑا جائے گا۔

بڑے قبلہ کا فیصلہ سن کے عوام جوق در جوق حویلی کے باہر جمع ہونے لگی، ان سب کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ ہم انتیس روزے پورے کر چکے ہیں اسلئے کل عید کا چاند نکلنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ورنہ خاندانی شانِ بے نیازی اختیار کرکے آپ کی طرف کا چاند لیٹ ہو گیا تو عید کا چاند مزید لیٹ ہو کے تعلیمات کے خلاف اکتیس بتیس پینتیس یا چالیس روزے رکھوانے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

اس موقع پر حضرت قبلہ کلاں نے جو ارشاد فرمایا وہ بھی آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہے مگر اس بات کا بھی راوی نہیں مل رہا اسلئے وسائل دستیاب ہونے کے باوجود یہ بات بھی کہیں لکھی نہیں جا سکتی کہ آسمانِ دنیا کا چاند نہ نکلنے سے تمہاری صرف ایک ماہ کی محنت خراب ہوگی جبکہ ہمارے آسمانِ ولایت کا چاند نہ نکلنے سے ہماری نو ماہ کی محنت خراب ہونے کا خدشہ ہے لہذا پہلا حق ہمارے چاند کا ہی بنتا ہے، تمہارا چاند جب بھی ممکن ہوا اس کے بعد ہی آئے گا۔

اس موقع پر مسلمانوں کی تو سِٹی ہی گم ہونے لگی تھی بلکہ عوام میں سخت مایوسی پھیلنے والی تھی کہ ایک انگریز جو حضرت قبلہ کلاں کا سخت عقیدتمند تھا اور اکثر و بیشتر قیمتی نذرانے لیکر ان کی خدمت میں حاضر ہی رہتا تھا اس نے ڈرتے ڈرتے عرض کی کہ مسلمانوں کا مطالبہ بھی جائز ہے اور آپ کی زوجہ محترمہ پر بھی پریشر بہت ہے اسلئے اجازت دیں تو عاصی اپنی فرنگیانہ سوچ کی بنیاد پر ایک درمیانہ سا حل بھی نکال کے دے سکتا ہے۔

چنانچہ اس انگریز کی شاطرانہ تجویز سن کے یہ طے پایا گیا کہ باطنی ضرورت کے پیش نظر اولیت قبلہ کلاں کے چاند کو ہی ملے گی اور ظاہری ضرورت کے پیش نظر مسلمانوں کا چاند بھی ضرور نکلے گا، اور یہ دونوں چاند کل ہی طلوع ہوں گے مگر یکے بعد دیگرے۔

یوں انگریز کی درخواست پر حضرت قبلہ کلاں نے مراقبہ کرکے قدوۃ السالکین سے منصوبے پر عمل کرنے کا وعدہ لیا اور اس وعدے کے مطابق مرشد پاک اگلی صبح سورج نکلنے سے زرا سا پہلے اس عالم آب و گِل میں تشریف لے آئے پھر اسی شام ہلالِ عید نے بھی حسب پروگرام غروب آفتاب کے بعد ہلکا سا جنم لے لیا اس کے بعد یہ دونوں دن بدن جوان ہوتے گئے، فرق صرف یہ پڑا کہ چاند کو حضرت کی زندگی میں نوسوساٹھ بار نیا جنم لینا پڑا لیکن حضرت قدوۃ السالکین کی عظمت دیکھئے کہ ایک ہی جنم سے یکمشت مبلغ۔اسی۔سال گزار گئے، یہ ہوتی ہے بزرگی جو آج کل کے لوگوں میں کم ہی پائی جاتی ہے کیونکہ آج کل کے لوگ اتنے ضعیف ہو کے کم ہی جاتے ہیں۔

خیر، حضرت قبلہ کلاں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اس سرزمین پر غاصب انگریزوں سے سخت نفرت فرماتے تھے اسلئے انہیں ایمان کی دولت سے سرفراز فرمانا پسند نہیں کرتے تھے تاکہ وہ تاریکیوں میں ہی دفن رہ جائیں لیکن اس انگریز کی فراست سے چونکہ دو چاندوں کے درمیان ایک خوفناک تصادم ہونے سے رک گیا تھا اسلئے آپ نے از راہِ کرم اس انگریز کو دائرۂ ایمان میں داخل کرکے میرے مرشد حضرت نومولود قبلہ کی غلامی میں دیدیا تھا۔

راوی کہتا ہے کہ انگریزوں کو مسلمان کرنے کی روایت یہیں سے شروع ہوئی تھی، اس سے قبل بزرگوں کا فوکس صرف برِصغیر کو مسلمان کرنے پر ہی موقوف تھا، یہ بات بھی آبِ زر سے لکھی جا سکتی تھی لیکن عین موقع پر ایک اور راوی نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ایک نیا لُچ تل کے پہلے راوی کی بات کا سارا مزا کرکرا کر دیا کہ انگریز غاصب نہیں تھے بلکہ انہوں نے جب یہ محسوس کر لیا کہ مسلمان برِکبیر پر بالکل بھی توجہ نہیں دے رہے تو وہ مسلمانوں سے فائیدہ اٹھانے کیلئے خود ہی یہاں چلے آئے، ایسٹ انڈیا کمپنی کے اقدامات اصل میں برِکبیر کی طرف توجہ دلانے کیلئے تھے مگر مسلمان اتنے پڑھے لکھے نہیں تھے اسلئے ان کا اصل مدعا سمجھ نہیں پا رہے تھے، اس پر بعض علمی حلقوں کا کہنا ہے کہ دوسرے راوی کی بات کافی حد تک مشکوک ہے اسلئے آبِ زر سے لکھنے کے قابل محسوس نہیں ہو رہی۔

جیسا کہ آپ نے یہاں تک کی سٹوری پڑھ کے یہ معلوم کیا ہے کہ میرے مرشد حضرت قدوۃ السالکین علی الصبح طلوع آفتاب سے زرا سا پہلے پیدا ہوئے تھے اس کے ساتھ یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ اعلیحضرت کسی عام گھرانے میں نہیں پیدا ہوئے بلکہ آپ بھائی۔پھیرُو کے صدر مقام پوچا۔پھیرُو میں واقع حضرت قبلہ کلاں کی حویلیٔ اقدس میں پیدا ہوئے تھے۔

یہ جاگیر حضرت قبلہ کلاں کو انگریزوں نے ان کے روحانی جاہ و جلال سے ڈرتے ہوئے بطور نذرانہ پیش کی تھی کیونکہ حضرت قبلہ مسلمانوں کے مفاد پر سمجھوتہ کرنے کیلئے کسی قیمت پر بھی قائل نہیں ہوتے تھے، یہ سمجھوتہ آپ نے جاگیرداری حیثیت ملنے کے بعد بھی کبھی نہیں کیا بلکہ مفاد عامہ کیلئے لوگوں کو کالے کُوکڑ اور کالے بکرے کے عوض جو جو سنگین نوعیت کے تعویذات لکھ کے دیا کرتے تھے وہ عاجزانہ سا مفاد عامہ کا شغل زمیندارہ حیثیت سے زندگی بسر کرتے ہوئے بھی حسب سابق ہی چلاتے رہے تھے۔

بعض اوقات راوی نے اچھے موڈ میں کچھ اندر کی باتیں بھی بیان کی ہیں کہ چھوٹے حضرت بچپن سے ہی اپنی والدہ کا دودھ نہیں پیتے تھے بلکہ وہ بھوک یا پیاس کے عالم میں ہمیشہ چھوٹی خالہ کی طرف ہی بھاگتے تھے کیونکہ چھوٹی خالہ ہمیشہ سمارٹ ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ بیبی جی کے بعد بڑے قبلہ نے چھوٹی خالہ سے ہی شادی رچائی تھی مگر مرشد کے دودھ پینے پر مکمل پابندی عائد کردی تھی، اس پابندی کے بعد وہ گائے بھی نہ رہی جس کا دودھ چھوٹی خالہ انہیں پلایا کرتی تھی چنانچہ حضرت یہ صدمات برداشت نہ کرسکے اور اپنے مختلف غوام، غم کی جمع، بھلانے کیلئے چھوٹی عمر سے ہی ساوی کا گھوٹا پینا شروع کر بیٹھے تھے۔

بعد ازاں مرشد نے بڑے ہوکر جب راہ فقر اختیار کی تو یہ جاگیر جوئے میں ہار کے منڈی یزمان والے مریدوں کے ہاں چلے گئے اور باقی کی زندگی وہیں گھوٹا گھاٹی میں گزار دی۔

مرشد کے جوانی وارے کی یادیں تازہ کرتے ہوئے راوی لکھتا ہے کہ اس سے قبل چاند عموماً عصر کے بعد اور مغرب سے زرا پہلے نظر آجایا کرتا تھا لیکن جب سے حضرت پیدا ہوئے ہیں چاند نے کبھی بھولے سے بھی غروب آفتاب سے پہلے جنم لینے کی جرآت نہیں کی۔

بعض تذکرہ نگار اس خوف کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ پہلے زمانے میں چاند بہت حسین و جمیل اور صاف شفاف ہوا کرتا تھا لیکن اب جو اس کے منہ پر دھبوں کے نشانات نظر آتے ہیں وہ اس وجہ سے پیدا ہوئے کہ مرشد نے ایک بار اسے چماٹ مار دی تھی، بس وہ دن اور آج کا دن ہے کہ یہ برصغیر میں مرشد کی ذریت سے انتہائی یرکا ہوا ہے بلکہ آزاد خیالوں کی طرح سے باغی ہوا ہوا ہے۔

اس قصے کے پیچھے امر واقعہ یہ تھا کہ ایکبار عید کا مطلوبہ خرچہ نہ ملنے کی بنا پر ان کی زوجۂ اقدس سخت ناراض ہوئی بیٹھی تھیں اور مرشد کریم ان کے پاؤں پڑ کے منانے کی انتھک کوشش فرما رہے تھے کہ چندا ماموں روئیت برائے عید کیلئے آسمان دنیا پر چڑھنے کی اجازت مانگنے بلا اجازت حجرۂ قدویہ سالکیہ میں جا گھسا تو مرشد پاک کو ازدواجی غیرت سے یکایک جلال آگیا اور ہلال عید کے منہ پر ایک زناٹے دار چماٹا رسید فرما دیا۔

اس اقدام سے حضرت کے جلال کے علاؤہ ان کی بے نیازی بھی ظاہر ہوتی ہے کہ وہ چاہیں تو ایک سائل کے پاؤں پڑ جائیں اور چاہیں تو دوسرے سائل کو چماٹا دے ماریں، کہتے ہیں کہ حضرت جس بے نیازی سے پیدا ہوئے تھے وہ کمال مہربانی سے اپنے چاہنے والوں کیلئے انہوں نے مرتے دم تک قائم رکھی ہوئی تھی تاکہ لوگ دیکھ سکیں اور خدا توفیق دے تو عبرت بھی حاصل کرسکیں لیکن راوی اب اس بات کی کنفرمیشن نہیں کرسکتا کہ یہ وہی بے نیازی تھی یا کوئی اور تھی کیونکہ ان مرشدانہ بے نیازیوں کے باعث اس غریب کے اپنے ساتھ بھی کافی عجیب و غریب صورتحال پیش آئی تھی۔

ہوا یوں کہ حضرت کی پیدائش پر شوق زیارت سے مجبور ہوکے راوی خود کو سمیٹ کے ایک بالٹی میں سما کے زچہ خانہ کے اندر تک تو پہنچ گیا تھا مگر دائی نے زیارت کرانے کی بجائے حضرت کا پیندا دھلا کے اسے باہر چھڑک دیا تھا، پھر اس نے خود کو جمع کرکے حضرت قبلہ کلاں کی بارگاہ میں گزارش کی کہ اسے حضرت کو نہلانے کی بھرپور اجازت دی جائے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس بدقسمت کو حویلی سے بھی باہر نکال دیا گیا، سنا ہے کہ اس در بدری کے بعد راوی غریب سالہا سال تک لاہور سے کوٹ ادو تک اپنی غیر طبعی عمر مکمل ہونے تک مسلسل بہتا رہا ہے۔

اب مزید پتا چلا ہے کہ بھارتی پنڈتوں کی آشیرباد سے اسے کچھ سکون حاصل ہوا ہے ورنہ مسلسل بہتے رہنا تو اس غریب کا مقدر ہی بن گیا تھا اور یہ بھی سنا ہے کہ بعض عقیدتمندوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ حضرت کی اس نشانی کو بہتا رکھنے کیلئے اسے محکمہ اوقاف کے سپرد کر دیا جائے تاکہ وہ اسے دوبارہ سے بہانے کیلئے خاطر خواہ اقدامات کرسکے، یا اس کے اوپر گنبد تعمیر کرکے ساتھ میں ہر دو کلومیٹر پر یادگاری گلے نصب کردے تاکہ اور کچھ نہیں تو اس مونیومنٹ سے حتی المقدور کچھ ریوینیو ہی اکٹھا ہو جایا کرے۔

ہم نے آپ کو یہ نہیں بتانا تھا کہ ایک سے زائد چاندوں کا نکلنا مسلمانوں کیلئے بدشگونی، نحوست، مناظروں اور منافرت کا باعث بنتا ہے، نہ یہ بتانا تھا کہ کسی طرح راوی کو پھر سے بہایا جائے گا کہ نہیں، نہ اس بات سے غرض ہے کہ جب چاند کمیٹیاں موجود ہیں تو وہ چاند کی اس بدمعاشی کو کنٹرول کیوں نہیں کر پاتیں کہ جب ایک جگہ نظر نہیں آنا تو آنکھ بچا کے دوسری جگہ کیوں نظر آجاتا ہے۔

ہم نے آپ کو صرف یہ بتانا تھا کہ ہمارے مرشد نے اسے یونی۔پولر اجازت نامے پر رکھا ہوا تھا لیکن مرشد کے بعد یہ میری شکل میری مرضی کہہ کے بالکل ہی باغی ہو گیا ہے، اس باغیانہ روش کا واحد علاج یونی پولر ڈیسیژن میں ہے، بائی پولر، ٹرائی پولر یا جتنے پولر فیصلہ کرنے نکلیں گے یہ اپنی باغیانہ روش سے ان سب کے درمیان پھوٹ ہی ڈلوائے گا۔

آج کتنے چاند نکلیں گے یا کتنے دن تک چاند نکلتے رہیں گے کچھ پتا نہیں، لیکن ایک بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ حضرت قبلہ کلاں کی طرح ہر بندہ جو دوسرے کا چاند پسند نہیں کرتا اور اپنے چاند کے پریشر میں آیا ہوتا ہے وہ باہمی رضامندی سے ایک دن مقرر کرکے دس دس منٹ کے وقفے سے اپنا اپنا چاند نکال کے اپنا اپنا اعلان کر دیں تو بھی ہماری عید ہو جائے گی۔

ہم ہر اس چاند کو بخوشی ویلکم کرنے کو تیار ہیں جو کوئی بھی نکال وکال کے لے آئے خواہ وہ روحانی ہو، یونانی ہو یا سائنسی مگر اس شو کیلئے کم از کم ایک ہی شام مخصوص کرلیں تو جنابوں کی بڑی بڑی عنایت ہوگی۔

(Visited 116 times, 1 visits today)

About Author

لالہ صحرائی: ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ "افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت"۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: