اولاد اور والدین ——– شہزاد وریا

0

مجھ کو چھاؤں میں رکھا اور خود جلتا رہا دھوپ میں
میں نے دیکھا اِک فرشتہ باپ کے روپ میں

سوشل میڈیا وقت کی بہت بڑی ضرورت بن چکا ہے۔ ہم اپنے دن کا ایک خاص حصہ اس کے ساتھ گزارتے ہیں یہ بہت سے پہلوووّں سے ہمارا معاون ہوتا ہے۔ لیکن کبھی کبھی اس پر ایسی چیزیں دیکھنے کو ملتی ہیں جو آپ کو لکھنے پر مجبور کر دیتی ہیں میں نے آج ایک ویڈیو دیکھی جس میں ایک بوڑھا شخص ہاتھ جوڑ کے کھڑا ہے میں نے ویڈیو چلائی تو پتہ چلا کے یہ بوڑھا ہی نہیں ایک باپ بھی ہے جو ہا تھ باندھا رہا ہے اور التجاء یہ کر رہا ہے کہ میرے پاکستانی بہن بھاِئیوں اپنی اولاد پر اتنے پیسے خرچ مت کرو ان کے لیے اتنی پریشانیاں مت برداشت کرو۔ ۔

یہ سن کر میں سوچ میں پڑ گیا کہ کیسا باپ جو ایسی بات کر رہا ہے میں سمجھا کوئی مزاحیہ ویڈیو کلپ ہو گا لیکن میرا تجسس غالب آگیا اور میں ویڈیو کا اگلا حصہ بھی سننے لگ گیا تو وہ باپ کہہ رہا تھا کہ

’’ان پے پیسے خرچ ناکرو کیونکہ کل یہ آپ کو خراب کریں گے جیسے آج میں خراب ہو رہا ہوں۔
میرا نا م غلا م حسین ہے میرے والد کا نام اللہ وسایا ہے میں تحصیل و ضلع ملتان کا رہائشی ہوں میرے بیٹے کا نام اللہ دتہ ہے جو لیاقت پور میں حاضر سروس سول جج ہے میری جائیداد جو تیرہ کنال تائیس مرلے جو اس نے بیچ دیاہے سارے پیسے اپنی اوپر خرچ کر لیے ہیں میں مزدوری کر کے اس کو پڑھایا اور وہ سول جج بن گیا تو اس کی ماں اس کو ملنے گئی تو اس نے لوگوں سے کہا کہ یہ ہماری نوکرانی ہے جب اس نے یہ سنا تو دل برداشتہ ہو کر زہر کھا لیا۔ میری عمر اسی سال ہے میری آنکھوں کی بینائی بھی بہت کم ہو گئی ہے اور میں شوگر کا مریض بھی ہوں پھر اس کے جملوں میں مایوسی تیرنے لگتی ہے کہ کیا فائدہ ایسی اولاد کا اور وہ باپ نے جو جملہ کہا اس نے مجھے سوچنے پر مجبور کردیا کہ “جو شخص اپنے گھر میں انصاف نہیں کر سکتا وہ عدالت میں کیا انصاف کرتا ہو گا”؟ اور وہ پھر شروع والی بات دہراتا ہے۔ میرے پاکستانی بہن بھاِئیوں اپنی اولاد پر اتنے پیسے خرچ مت کرو ان کے لیے اتنی پریشانیاں مت برداشت کرو۔ ۔ ۔

میں نے اس لرزتی کا نپتی آواز والے باپ کو ہاتھ باندھے گزارشات کرتے ہوئے کو دیکھا تو سوچ میں پڑ گیا کہ باپ کتنی محنت کرتا ہے والد ایک محافظ ہے والد ایک ذمہ دار انسان ہے جو اپنی خون پسینے کی محنت سے گھر چلاتا ہے جو ساری زندگی خاندان کی نگرانی کرتا ہے۔ والدین اپنے بچوں کی پرورش کے لئے اپنی ساری عمر گنوا دیتے ہے۔ والدین کا یہ ہی خواب ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچے کو اعلیٰ میعار زندگی فراہم کریں۔ والدین دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہیں۔  لیکن سوال یہ ہے کہ کیا والدین بچوں کو تعلیم کے زیور سے اس لیے آراستہ کرتے ہیں کہ بچے ان کو اپنا نوکر سمجھ کے گھر سے نکال دیں ؟کیا والدین صبح سے لے کر شام تک ان کے لیے اس لیے محنت کرتے ہیں کہ بچے بڑھاپے میں ان کا سہارا بننے کی بجائے ان کو بے سہارا کر دیں؟کیا والدین اولاد کو اس لیے ساری دنیا کی خوشیاں لا کر دیتے ہیں کہ آخری عمر میں وہی بچے ان کے چہرے پر سوائے غموں کے کچھ اور نا دے پائیں؟کیا والدین ان کو اس لیے پال پوس کر بڑ ا کرتے ہیں کہ وہی کل کو ان کی نطروں میں چھوٹے ہو جائیں؟کیا انہوں نے ہمیں اس لیے زندگی دی کہ کل وہ ہماری وجہ سے ہی زہر پینے پر مجبور ہو جائیں؟ کیا انہوں نے ہمیں اس لیے آج سر ڈھانپنے کو گھر دیا کہ ہم ان کو بے گھر کر دیں؟کیا ماں نے ہمیں

پڑھانے کے لیے اس لیےزیور بیچا تھا کہ ہم پڑھ لکھ کر ان کے گلے میں غموں کا طوق ڈال دیں؟

یاد رکھیں ہم ساری زندگی اپنے والدین کی خدمت کرکے ان احسانات کا بدلہ دینا چاہے تب بھی وہ والدین کا حق ادا نہیں کرسکتے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں جہاں اﷲ نے اپنی عبادت کا حکم دیا تو والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کی تاکید بھی فرمائی ہے۔ ارشاد ربانی ہے:

’’اور آپ کے رب نے حکم دیا کہ اس کی ہی عبادت کرو اور والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ‘‘(سورۃ بنی اسرائیل)…
ان آیات میں اولاد کو چند ہدایات دی گئی ہیں۔ (1) والدین کے ساتھ احسان (2) بڑھاپے میں ان کی خدمت (3) والدین کے ساتھ اونچی آواز میں نہ بولنا، اف تک کہنے کو منع فرمایا (4) نرم و شیریں گفت گو کا حکم دیا (5) ان کے سامنے عاجزی سے رہنا (6) ان کے حق میں اﷲ تعالیٰ سے رحمت کی دعا کرتے رہنا۔

رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: ” پروردگار کی رضا والد کی رضا میں ہے اور پروردگار کی ناراضی والد کی ناراضی میں ہے۔
غرض کے ہر مقام پر اس بات کا درس دیا گیا کہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آو۔

ایک اولڈایج ہوم کے داخلی دروازہ پر لکھا تھا، ”Please put your foot carefully upon the dry leaves fallen here, Once, in the hot summer, you ran under them looking for shade.“ترجمہ: ”براہ کرم یہاں پڑے خشک پتوں پر احتیاط سے قدم دھریے- کبھی شدید گرمی میں آپ سائے کی تلاش میں اسی (درخت) کی جانب دوڑے تھے.“

اسی بات کو زیادہ بلاغت سے شاعر نے کہا،
اے ضیاء! ماں باپ کےسائے کی ناقدری نہ کر
دھوپ کاٹے گی بہت جب یہ شجرکٹ جائےگا

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہمیں صحیح معنوں میں والدین کی خدمت کی توفیق نصیب فرمائے اور ان کا سایہ تادیر ہمارے سروں پر قائم و دائم رکھے اور جن کے والدین اس دنیا سے چلے گئے ان کی اولاد کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے اللہ تعالیٰ ہم سب کو والدین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

یہ سوچ کے ماں باپ کی خدمت میں لگا ہوں
اس پیڑ کا سایہ مرے بچوں کو ملے گا
منور رانا

(Visited 98 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: