’’کشمکش‘‘  ایک تاریخی دستاویز ——- غازی سہیل خان

0

خود نوشت، آپ بیتی یک نثری ادبی صنف ہے۔ یہ صنف مصنف کی اپنی سوانح عمری یا پھر آپ بیتی ہوتی ہے، جسے انگریزی میں Autobiography کہتے ہیں۔ خود نوشت کا محور مصنف کی شخصیت ہوتی ہے۔ یہ سوانح ایک ایسا فن ہے جس میں انسان اپنے قلم سے اپنی زندگی کے حالات کو اُجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اپنا نقطۂ نظر اور اپنی پسند و نا پسند کا اظہار کرتا ہے۔ خودنوشت سوانح اور آپ بیتی میں بنیادی فرق یہ ہے کہ آپ بیتی کسی مخصوص واقعہ یا حالات کی نمائندہ ہوتی ہے اور خود نوشت میں پیدائش سے لے کر سوانح قلمبند کرنے کے دور تک کے تفصیلی حالات کا ذکر ہوتا ہے۔ ہندوستان کی آزادی میں حصہ لینے والے بیشتر سیاسی رہنماؤں نے اپنی خودنوشت سوانح حیات تحریر کی اور آزادی کے بعد بھی یہ سلسلہ برابر جاری ہے۔

غازی سہیل خان

راقم درج ذیل جس خود نوشت سونح حیات پربات کرنے جا رہا ہے وہ چودھری غلام عباس مرحوم کی مشہور ومعروف تصنیف’’کشمکش‘‘ ہے۔ مذکورہ کتاب کے آج تک درجنوں ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ مرحوم چودھری غلام عباس4؍ فروری 1904ء کوجموں میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام چوہدری نواب خان تھا۔ ابتدائی تعلیم صوبہ جموں میں ہی حاصل کی۔ 1931ء میں لا کالج لاہور سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ ابتدا میں ینگ مینز مسلم ایسوسی ایشن میں شرکت کی اور بعد ازاں اسی تنظیم کے صدر بھی منتخب ہوئے۔ اس جماعت نے کشمیری مسلمانوں کو بیدار کرنے میں بہت بڑا حصہ لیا۔ چوہدری غلام عباس نے کشمیری مسلمانوں کے حقوق کی بحالی کے لیے زندان میں بھی اوقات گزارے۔ پہلی مرتبہ 31-1930ء میں گرفتار ہوئے، جب وہ ایل ایل بی کا امتحان دے رہے تھے۔ اس وقت انہوں نے کشمیر میں قرآن حکیم کی توہین کے سلسلے میں کشمیری مسلمانوں کے ساتھ مل کر صدائے احتجاج بلند کیا۔ اکتوبر 1932ء میں شیخ عبداللہ کے ساتھ مل کر مسلم کانفرنس کی بنیاد رکھی اور اس کے ابتدائی جنرل سیکرٹری مقرر ہوئے۔ 1942ء میں آپ نے مسلم کانفرنس کے تاریخی سالانہ اجلاس کے موقع پر خطبۂ صدارت میں تحریک پاکستان کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا اور 18 دسمبر 1967ء کو وفات پا گئے، ان کی وصیت تھی کہ انہیں پاکستان میں دفن کیا جائے چنانچہ فیض آباد راولپنڈی میں انہیں ان کی وصیت کے مطابق دفن کیا گیا۔

کشمکش ایک مستندترین تاریخ ہے جس میں چودھری صاحب نے بے باکانہ اور بے لاگ طریقے سے تاریخ کے تلخ حقائق کو پیش کیا۔ مرحوم موصوف نے اس میں1931ء سے لیکر 1950ء تک کے جموں کشمیر کے ڈوگروں کے درد ناک مظالم کو بہترین طریقے سے پیش کیا ہے۔ یہ بیس سال جموں کشمیر کی تاریخ کے کربناک سال تھے، جس کے دوران موصوف نے بے انتہا قربانیاں پیش کیں۔ مرحوم نے اپنا سب کچھ ڈوگروں کے مظالم کے خلاف قربان کر دیا۔ چودھری صاحب مخلص شخصیت کے مالک تھے لیکن موصوف کی سیاست کو کشمیر کے اُس دور کے دغا بازومفاد پرست لیڈروں نے اُن کی مخلصی کو اپنے مفادات کی خاطر قربان کردیا۔ کتاب کے پیش لفظ میں عبدالمجید سالک یوں رقم طراز ہیں :

’’یہ کتاب بلا شبہ چودھری غلام عباس کو خودنوشت سوانح عمری ہے، لیکن حقیقت میں تحریک حُریت کشمیر کی مستند تاریخ ہے اور اس شخص کے قلم سے ہے، جس کی ساری زندگی اسی مقصد کے لئے گزری اور جس نے گزشتہ پچیس سال کی مدت میں اپنے ذاتی مفاد، اپنی ذاتی آسائش اور اپنے متعلقین کی خوشحالی کو بالائے طاق رکھ کر آزادی کیلئے درویشانہ، قلندررانہ جہاد کیا، جیل خانوں کی سختیاں جھیلیں، ناداری کی کڑیاں سہیں، اپنے رفقاء کی غداریوں کے تلخ جام نوش کئے، لیکن اس خود غرض اور مطلب پرست دنیا میں اپنی عدیم المثال دیانت، اپنے بے نظیر ایثار اور اپنے شبانہ روز عمل کے جھنڈے گاڑ دئے۔ ‘‘

چودھری صاحب بچپن سے ہی غلامی سے نفرت رکھتے تھے۔ وہ خود ہی اپنے بچپن کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’بچپن میں تُند اور گستاخ تھا۔ سو حیلوں اور بہانوں سے، ہم عمروں سے جھگڑا اور لڑائی مول لیتا۔ واقف اور ناواقف لڑکوں سے دست بہ گریباں ہوتا۔ ہٹ کا مظبوط ضِد کا پکا، زودرنج، جذباتی اور ذکی ا لحس تھا۔ یہاں تک کہ اپنی بات کی تردید بڑوں کی طرف سے بھی برداشت نہ کر سکتا تھا۔ دوسروں کی لگائی ہوئی آگ میں بلا تامل کود پڑنا میرا معمو ل تھا۔ ‘‘(کشمکش صفحہ نمبر۲۳)

چنانچہ موصوف کی بچپن کی بعد کی زندگی پر اگر نظر ڈالیں تو چودھری مرحوم انتہائی شریف النفس، رحم دل اور مخلص ترین شخصیت نظر آتے ہیں۔ جیسا کہ درج بالا کلمات میں ذکر کر چکا ہوں کہ موصوف کو غلامی سے سخت نفرت تھی بلکہ شعور کی آنکھ کھولنے کے بعد موصوف نے اپنے آپ کو ڈوگروں کی بدترین غلامی میں پایا، یہ ایسا دور تھا جب گائے کا گوشت کھانے پر جیل جانا پڑتا تھا، نماز جمعہ اور خطبے پر پابندی عائد تھی، اذان کو لوڈاسپیکروں پر پڑھنے نہیں دیا جاتا تھا، لوگوں کو بلا لحاظ رنگ و عمر و جنس ہر کسی سے بیگاری لی جاتی تھی۔ قلم و زبان پر پہرے بٹھا دئے گئے تھے، اخبارات وپریس پابندیوں میں جکڑی ہوئے تھے، جو اخبار بھی مسلمانوں پر ہو رہے مظالم کی داستان حال لکھتا اس پر پابندی عائد کی جاتی تھی۔ کاشت کاروں کو اپنے حق سے محروم کر دیا جاتا تھا۔ یہ تو غیروں کی ستم تھے، اپنوں کی ستم ظریفی کا عالم یہ تھا کہ مسلمان جماعت اور مسلک کے نام پر دست گریباں تھے۔ غرض جموں و کشمیر کی عوام مظالم کے گھٹا ٹوپ اندھرے میں ڈوبی ہوئی تھی۔ اسی درد و کرب میں چودھری صاحب نے معطل شُدہ ینگ مینزمسلم لیگ کو دوبارہ بحال کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ اور ’’۱۹۲۲ء میں طالب علمی کے دوران ہی اپنے چند دوستوں کے مشورے کے بعد اس تنظیم کو از سر نو بحال کیا۔ ینگ مینز ایسوسی ایشن کو دوبارہ زندہ کرنے کے بعد موصوف نے جموں میں اتحاد اور بھائی چارے کے ساتھ ساتھ خدمت خلق کے لئے اپنی زندگی کے قیمتی ترین لمحات صرف کئے۔ اس تنظیم کے تحت جموں کے مسلمانوں کو اغیار کی ریشہ دوانیوں سے بھی بار بار آگاہی دی گئی۔ جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے کہ جموں میں خطبۂ عید کی بندش اور توہین ِقرآن مجید کے واقعات کے بعد جموں کے ساتھ ساتھ کشمیر میں بھی احتجاجی مظاہرے ہونے شروع ہو گئے، لوگوں نے اسلام کی خاطر کٹ مرنے کا فیصلہ کر لیا تھا، اسلام کے ساتھ اپنی عقیدت کا اظہار جموںکشمیر کی ہر گلی اور نکڑ سے ہو رہا تھا۔ اسی دوران ایک سیاح کے ساتھ اس کا خانساما ن عبدالقدیربھی سرینگر آیا ہوا تھا۔ وہ سیاسی سوجھ بوجھ کے ساتھ ساتھ صوم و صلوٰۃ کا پابند تھااور اسلام کے ساتھ جنون کی حد تک لگاو رکھتا تھا۔ نماز جمعہ کے بعد مداخلت فی الدین کے حوالے سے سرینگر میں ایک احتجاجی جلسہ میں چند مقررین کے بعد عبدالقدیر نے بھی تقریر کی جس کا انداز بیان انتہائی ہیجان خیز تھاجس کی وجہ سے اسے گرفتار کر لیا گیا اور سرینگر سنٹرل جیل میں محبوس کر دیا گیا، اس کے مقدمات کی سماعت سنٹرل جیل میں ہی ہوا کرتی تھی اور 13جوالائی 1931ء کو ایک بار پھر اس کے مقدمے کی سماعت ہونے جارہی تھی۔ کشمیری فطری طور پر چونکہ انتہائی نرم دل رکھتے ہیں، یہ غیروں کو درد و غم زد ہ نہیں دیکھ سکتے اپنوں کی بات ہی نہیں۔ اسی دوران کشمیر ی عوام کی بڑی تعداد نے سنٹرل جیل کا رُخ کیاتا کہ اپنے محسن مہمان کی سماعت میں حاظر رہیں۔ اس لگائو، ہمدردی اور غیر مشروط محبت کو دیکھ کر ڈوگرہ پولیس کے اہلکار بوکھلا گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے درجنوں نہتے کشمیروں کو بڑی ہی بے دردی کے ساتھ شہادت کے مقام پر فائز کر دیا۔ مورخین لکھتے ہیں کہ ڈوگرہ کی ظالم پولیس نے فائرنگ اُس وقت بند کر دی جب اُن کی بندوقوں سے گولیاں ختم ہو گئیں۔ اسی کربناک داستان کو بیان کرتے ہوئے موصوف مصنف لکھتے ہیں کہ:

’’الحمد اللہ تحریک حُریت کشمیر کی ابتدا شہیدوں کے خون سے ہوئی اور یہ پہلا خون تھا جس نے تحریک حُریت کی داستان کو رنگین بنایا، جس نے حکومت اور شخصی حکمرانی کے دامن کو ہمیشہ کے لئے داغدار کر دیا۔ جامع مسجد کا اندرونی حصہ مردووں، عورتوں، بزرگوں اور بچوں سے کھچا کھچ بھرا ہو تھا۔ آہ و فُغاں گریہ و بقا کا نالہ و شیون کی صدائیں زمین اور آسمان کا سینہ فگار کر رہی تھی۔ بے کس عورتیں اور ستم رسیدہ بزرگ اپنی جھولیاں پھلائے آسمان کی طرف منہ اُٹھائے جشمۂ تصور میں خدا وند حقیقی کے دربار میں داد رسی کے لئے آنسوں بہا رہے تھے اُن کا گریہ و شیون اور آہوں کا مسلسل اور لامتناہی سلسلہ فضا میں بھاگتے ہوئے بادلوں اور آسمان کی بُلندیوں کو چیرتا ہوا عرش معلی تک پہنچ رہا تھا۔ ‘‘(ایضاً)

مرحوم چودھری صاحب کو تحریک کشمیرکوچلانے کے لئے ظلم و جبر اورقید و بندکے اذیت ناک مراحل سے گزرنا پڑا ہے۔ صوبے جموں میں خصوصی طور موصوف نے آپسی بھائی چارے کو بنا ئے رکھنے کی حتی المقدور کوشش کرنے کے ساتھ ساتھ غیروںکی سازشوں کا بھی وقت وقت پر توڑ کیا۔ صوبے جموں میں درجنوں بار فرقہ وارانہ فسادات کو بھڑکانے کی کوششیں کی گئی جس کا سلسلہ برابر آج بھی جاری ہے۔ چودھری مرحوم ایک واقعہ کا ذکر کچھ یوں کرتے ہیں:

’’3نومبر 1931ء کو جموں میں ہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان پولیس کی موجودگی میں شدید تصادم رونما ہوا۔ اس فساد سے پہلے مسلمانوں کے وفود نے ڈسٹرک مجسٹریٹ اور ڈپٹیی انسپکٹر جنرل پولیس کو خطرہ سے آگاہ کر دیا تھا۔ مسلمانوں کے علاوہ ہندوئوں فہمیدہ طبقہ اور وکلا کا وفد بھی ان افسران سے قبل از فساد مل چُکا تھا۔ لیکن حُکام کی نیت میں خود ہی فتور آ چُکا تھا۔ اُنہوں نے آئیں، بائیں اور شائیں کر کے ہر دو اقوام کے وفود کو ٹال دیا۔ فساد ہوا سات مسلمان شہید ہو گئے۔ مجروحین کی بھی بڑی تعداد تھی ‘‘۔ (ایضاً)

مرحوم کو ان سارے دردناک حالات سے چھٹکارے کے ساتھ ساتھ ڈوگروں کے ظلم و جبر سے نجات کے لئے ایک سیاسی تحریک کی ضرورت محسوس ہوئی۔ چونکہ جموں و کشمیر کے مسلمان ڈوگروہ مہاراجوں کے ظلم و جوار کے ساتھ ساتھ غیروں کی عتاب کے نشانہ بننے کی وجہ سے اب سیاسی طور بیدار ہو چُکے تھے اور یہ ضرورت محسوس کر رہے تھے کہ کوئی ایسی سیاسی جماعت وجود میں آئے جو جموں و کشمیر کے مسلمانوں کو ڈوگروں کے اس ظلم سے خلاصی دلا دے۔ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے جموں و کشمیر کے نمائندوں کو جمع کر کے 1932ء میں اپنی ایک سیاسی جماعت کے وجود کے لئے گفت و شنید ہوئی اس اجلاس میں سرینگر سے مرحوم شیخ محمد عبداللہ بھی شریک ہوئے۔ جس میں مسلم کانفرنس کا وجود عمل میں لایا گیا، اور اس کے پہلے صدر شیخ محمد عبداللہ اور چودھری غلام عباس معتمد عمومی مقرر ہوئے۔ مسلم کانفرنس کے وجود کے بعد مرحوم چودھری صاحب نے جموں سے سرینگر، ڈوڈہ، کشتواڑ، راجوری اور پونچھ کے دورے کرنے شروع کئے۔ ان دوروں کے لئے خاص طور پر چودھری صاحب کو اکثر وادی کے اندر وں کے لئے پیسوں کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا جس کی وجہ سے موصوف نے اپنی بیوی کے قیمتی زیورات اور گھر کے دیگر اشیاء کو بھی فروخت کر دیا۔ دوسری جانب حکومت وقت نے بھی چودھری صاحب اور مسلم کانفرنس کے قائدین کو در زنداں کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ قید و بند کی صعوبتوں کے حوالے سے موصوف فرماتے ہیں:

’’میرے نزدیک جیل میں جاناکوئی بڑی قربانی نہیں بلکہ سیاسی اسیروں کو تو یہاں مکمل آرام و اطمنان نصیب ہوتا ہے۔ بشرطیکہ کہ گھروں کے دہندوں کی فکر نہ ہو۔ میں سات بار قید ہوا لیکن گھر کے دہندوںکو ہر بار ناقابل حل ہی چھوڑ آیا۔ ایسے حالات میں بے سرمایہ سیاسی کارکنوں کو اپنی قربانی تو معمول ہوتی ہے اصل قربانی اُن کے متعلقین کی ہوتی۔ اور اگر اس ضمن میں کہوں گا کہ آج تک مجھ سے زیاد ہ قربانی میرے بیوی بچوں نے دی ہے تو یقیناًمبالغہ نہ ہوگا۔ یہی حال میرے رفقاء کار کا تھا‘‘۔ (ایضاً)

اُمت مسلمہ کا عموماً اور کشمیر میں خصوصاً جب کبھی بھی اُمت مسلمہ نے اکھٹا ہونے کی کوشش کی تو ذاتی اختلافات بنا پر غیر ہم پر مسلط ہو گئے اسی سلسلے کی کڑی کے طور پر مسلم کانفرنس جیسے ہی اپنی پوری طاقت سے اُبھر کر عوام کی ہر دل العزیز جماعت کے طور سامنے آنے لگی تو کشمیر میں میر واعظ اور شیخ محمد عبداللہ کے درمیان اختلافات شروع ہو گئے۔ جہاں ان دونوں رہنماوں نے اسی پلیٹ فارم پہ یکجا ہو کر کفر کو للکارنا شروع کیا او ر مسلمانوں کے اتحاد کو بنائے رکھا وہیں دوسری طرف اس تنظیم کے وجود کے اگلے سال ہی ان کے درمیان شدید قسم کا اختلاف شروع ہو گیا۔ ان دونوں رہنماوں کے اختلاف کی وجہ سے مسلمانانِ کشمیرکے کاذ کو شدید نقصان پہنچا جس کا ذکر موصوف نے اس کتاب میں تفصیل کے ساتھ کیا ہے۔ اس کے باوجود مرحوم چودھری صاحب نیت اخلاص کے ساتھ مسلمانان جموں کشمیر کے جذبات و احساسات کی ترجمانی کرتے رہے۔ مرحوم شیخ عبداللہ کی فکر بھی اپنے اصل کی اور راغب ہونے لگی اور تاریخ کے ورق میں ایک ایسا دن بھی رقم ہوا کہ جس دن کسی رہنما نے بڑی بڑی قربانیوں، جیل کی قید و بند کے باوجود نیشلنزم کے نام پر 25 جون1938ء میں مسلم کانفرنس کو نیشنل کا نفرنس میں تبدیل کر دیا۔ نیشنل کانفرنس وجوود میں آنے کے بعد شیخ عبداللہ نے جموں کشمیر کے ساتھ ساتھ راجوری اور پونچھ کے دورے کرنے شروع کر دئے۔ لیکن راجوری اور پونچھ اور جموں کے مسلمانوں کی ہمدردیاں مسلم کانفرنس کے ساتھ ہی وابستہ تھیں۔ مرحوم شیخ عبداللہ کے راجوری دورے کے ایک واقعہ کو موصوف نے کچھ اس طرح سے رقم کیا ہے :

’’راجوری سے میری واپسی کے ایک ماہ بعد شیخ عبداللہ اپنی ہر دلعزیزی کے گھمنڈ میں پھر وہاں گئے۔ مگر جلسہ عام میں اس قدر پیٹے گئے۔ سر سے پاؤں تک لہو لہاں ہو گئے اور پولیس کی معیت میں راتوں رات وہاں سے بھاگ گئے۔ ‘‘ (ایضاً)

موصوف نے قائد اعظم پاکستان محمد علی جناح کے دورۂ کشمیر کو بھی تفصیل کے ساتھ درج کیا، جس میں قائد اعظم ؒماہ مئی 1944ء میں قائد مسلمانان ہند اور صدر آل انڈیامسلم لیگ کی حیثیت سے کشمیر وارد ہوئے، جموں اور سرینگر میں مختلف مقامات پر قائد اعظم ؒکے پروگرامات منعقد ہوئے۔ بانی پاکستان کی آمد کے سلسلے میں نیشنل کانفرنس اور مسلم کانفرنس نے پر جوش استقبال کیا۔

الغرض !زیر تبصرہ کتاب کشمیر کی سیاسی تاریخ میں اپنا ایک اہم مقام رکھتی ہے۔ جس میں تاریخ کے تلخ و شرین گوشوں کو مختلف انداز میں پیش کرنے کے ساتھ ساتھ نیشنل کانفرنس اور مرحوم شیخ محمد عبداللہ کا اسلام سے قوم پرستی کے سفر کو بھی مرحوم چودھری صاحب نے پیش کیا ہے۔ مرحوم شیخ عبداللہ کی قوم پرستی کے حوالے سے موصوف ایک جگہ یوں رقم طراز ہیں کہ

’’تحریک’’ تخلیہ کشمیر‘‘کے سلسلہ میں ایک اور اہم بات قابل ِ ذکر ہے کہ شیخ صاحب نے اس وقت اور اُس کے بعد آج تک دنیا کو اس غلط فہمی میں مبتلا کرنے کی کوشش کی ہے کہ اُن کی تحریک غیر فرقہ وارانہ تھی اور وہ خود روز اول سے پکے قوم پرست تھے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ شیخ محمد عبداللہ صاحب نے اپنی سیاسی زندگی ایک اشد اور کٹرفرقہ پرست کی حیثیت سے شروع کی اور جب اُنہوں نے تحریک کے آخری ادوار میں قوم پرستی کی قبا اوڑھ لی تو محض ہوا کا رُخ دیکھ کر ‘‘ (ایضاً)

اسی جدوجہد اور قربانیوں کی لازوال داستان کے دوران ہی متحدہ ہندوستان دوالگ الگ ٹکروں میں بٹ گیا اور برصغیر میں اسلام کے نام پر ایک آزاد مملکت پاکستان وجود میں آگیا۔ تاہم جموںو کشمیر کی عوام کو شاید اس کی خبر بھی نہیں تھی کہ متحدہ ہندوستان کے دو لخت ہونے کی سزا بھی جموں کے نہتے مسلمانوں کو ہی بھگتنی پڑے گی۔ جس میں جموں کے مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کے نا م پر گاڑیوں اور ٹرکوں میں بھر کر بڑی ہی بے دردی کے ساتھ شہید کر دیا گیا اور خواتین کی عصمت ریزی کے ساتھ ساتھ اُن کے ساتھ جبراً شادیاں رچائی گئیں۔ اسی درد و الم کو مرحوم چودھری غلام عباس نے اپنی اس خود نوشت کے آخرمیں ان الفاظ میں نقل کیا ہے :

’’ریاست میں ہماری آخری قید کے زمانے میں خوشگوار اور ناخوشگوا دونوں قسم کے کئی انقلاب آئے۔ پاکستان بنا، مشرقی پنجاب اور ریاست جموں و کشمیر میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی۔ گو میں نے اس خونی ہولی کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن جیل کی چار دیواری کے اندر بیٹھ کر مارنے والوں کی گولیوں کی آوازیں مرنے والے مظلوموں کی اخری چیخیں، اغوا ہونے والی سینکڑوں معصوم دوشیزائوں کی بے اثر آہیں اورفریادیں ایک مجبور قیدی کی حیثیت میں کلیجہ تھام کر اپنے کانوں سے سُنی۔ ‘‘ (ایضاً)

تاریخ کی اس کتاب ’’کشمکش‘‘ میں جہاں ہر صفحہ عزیمت اور قربانی سے پُر ہے وہیں قاری کے جزبے اور حوصلہ کو ثبات بھی ملتی ہے۔ مرحوم مو صوف نے انتہائی خلوص کا مظاہرہ کر کے ہندوستان کی تقسیم تک جموں کشمیر کے مسلمانوں کی بقا کی جنگ لڑی۔ تاہم مذکورہ کتاب میں مجھے یہ بات محسوس ہوئی کہ چودھری صاحب شیخ صاحب کی پالیسی اور نظریہ کا مقابلہ کرنے میں کسی حد تک چوک گئے، وہ اس لئے کہ شیخ عبداللہ کے مسلم کانفرنس کو نیشنل کانفرنس میں تبدیل کرنے کے بعد مرحوم چودھری صاحب مسلم کانفرنس کو عوامی سپورٹ اور قربانیوں کے باوجوود اپنے مقصد تک نہیں پہنچا سکے۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ چودھری غلام عباسؒ کی قربانیوں اور ان کے جذبے کو فراموش کیا جائے۔ موصوف کی قربانیاں اور انتہائی بے باکی ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ اس کتاب کے درجنوں ایڈیشن شائع ہو چُکے ہیں۔ کشمیر بُک فاونڈیشن نے سال 2017ء میں کشمکش کا ایک ایڈیشن سرینگر سے شائع کیا ہے۔ دیدہ ذیب ٹائٹل اور سرورق میں چنار کے پتوں سے مزین بہت ہی خوبصورت لگ رہا ہے۔ وہیں مطالعہ کے دوران کہیں کہیں املا کی غلطیاں دکھائی دیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کتاب کو مناسب قیمت پر شائع کیا جائے اور اگرکسی سے ہو سکے تو اس کا انگریزی ترجمہ کراکے آئندہ نسل تک تاریخ کو صحیح طور سے پہنچائیں تاکہ ہماری آنے والی نئی نسلیں اپنے حقیقی و مخلص رہنمائوں کے کارناموں کو یاد رکھ کر ان کی جدوجہد کو مشعل راہ بنائیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: