کیا دنیا مردان جفاکش کے لئے تنگ ہے؟ —–  محمد عنصر عثمانی

0

کسی دانش ور نے کہا تھا: “انسان اگرغریب پیدا ہوتا ہے تواس میں اس کاقصور نہیں اگرغریب مرتا ہے تو اس میں اس کا ضرور قصور ہے”۔ بے نشان رہنا بھی غریبی سے کم نہیں۔ فطری طور سے انسان میں لامحدود، نا قابل تسخیر نعمتیں ودیعت ہوئی ہیں۔ اس لیے انسان سب سے پہلے اپنے اندر سے پوشیدہ جوہر کو پرکھتا ہے۔ پھر کوئی جوہری کی طرح صلاحیتوں کومحنت، عزم مصمم اور مستقل مزاجی کی آگ میں پکا کر کندن بناتا ہے تب جا کر دنیا کے سامنے پیش ہوتا ہے۔ جب دنیا اسے دیکھتی ہے تو اس پر لوگ رشک کرتے ہیں اس کی مثالیں دیتے ہیں۔ انسان کواللہ تبارک وتعالیٰ نے عقل جیسی عظیم نعمت سے نوازا ہے۔ اسی عقل کی بناپر انسان ناممکن کوممکن بنا لیتا ہے۔ دنیا میں ایسے لوگوں کی داستانیں موجود ہیں۔ کتابیں بھری پڑی ہیں اور ورق خاک آلود ہو چکے ہیں۔ ان لوگوں کے کہانیوں کے نشانات باقی ہیں کہ جب انہوں نے عقل سے سوچ وفکر کرکے افق کوچھوا تو پھر یہی انسان چاند تک پہنچ گیا۔ یہی انسان مادی دنیا میں شاہکار ایجادات کرتا چلا گیا اور ان ایجادات سے عقلیں دنگ رہ گئیں۔

کبھی انسان “رومن بادشاہ ” کی صورت 2000ء سال قبل کی ’’کیل‘‘ دریافت کرتا ہے۔ کبھی جرمنی کا ’’یوہان گاٹنبرگ‘‘1440ء میں ’’ٹائپ رائٹر‘‘ بنا کر خطاطی کو نیا رخ دیتا ہے۔ ’’اندرونی احتراق محرکیہ‘‘ کی کھوج میں کئی دہائیاں صرف ہوئیں لیکن انسان نے اس کوشش کو ترک نہیں کیا۔ بلآخر 1808ء میں ’’اندرونی احتراقی محرکیہ‘‘ کے چھپے آثار پرسے بھی انسان نے پردہ اٹھا لیا۔ اس سے بھی آگے انسان کی سوچ وفکر کے دریچے کھلے تو 1876ء میں ’’انٹوینومیوچی‘‘ نے ’’ ٹیلی فون‘‘ ایجاد کیا اور دنیا کے طویل فاصلوں کو سکینڈز میں بند کردیا۔ دن کام کاج محنت ومشقت کے لیے ہوتا ہے لیکن جب جستجو اور ناممکن کوممکن کرنے کا جذبہ جنوں کی حد تک سرچھڑ کر بولے تو ’’ٹامس ایڈیسن‘‘ پیدا ہوتا ہے۔ جس نے 1928ء میں ’’بلب‘‘ ایجاد کرکے رات کی تاریکی کودن کی روشنی جیسا بنا دیا۔ 1928ء میں ہی اسکاٹ لینڈ کے ’’الیگ نیڈز فلیمنگ‘‘ نے ’’ پنسلین‘‘ بنا کر ہزاروں انسانوں کی جان بچائی۔ آج کی دنیا جس تیزی کے ساتھ ترقی کرکے عروج پر پہنچی ہے اور سالوں کے کام سمٹ کر چند لمحوں میں آگئے ہیں ان کے محرکات وہی انسانی ترقی کچھ نیا کرنے کا جنون ہے۔ 1969ء میں ’’آربانٹ‘‘ نامی فوجی پروجیکٹ سے وجود پذیر ہونے والے ’’انٹرنیٹ‘‘ کے طوفان نے انسانوں کو ہی چکرا دیا ہے۔

تاریخ کے اوراق پر ہمیں دسیوں ایسے کردار چمکتے نظر آتے ہیں، جو دانے سے گوہر، قطرے سے دریا اور رائی سے پہاڑ بنے۔ اسی طرح کے روشن نام کہ جن کوان کی مسلسل محنت ومشقت نے نیلگوں آسمان کی بلندیوں تک لے گئی۔ یہ اپنے عمل پیہم، عقابی پرواز سے زمین کی بے نام ونشان وادیوں سے نکل کر فلک کی وسعتوں تک جا پہنچے۔ تاریخ کے یہ روشن نام جنہوں نے اپنی محرومیوں کا رونا نہیں رویا۔ اپنے مقام اپنے مرتبے سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے اور آگے ہی بڑھتے چلے گئے۔ انہوں نے خود کوروبہ زوال نہیں کیا۔ بلکہ اپنے اٹل ارادوں، پکی دھن اور مضبوط قوت ارادی کے سے رستے میں حائل تمام رکاوٹوں کوپاؤں کی ٹھوکر سے دور کیااور خندہ پیشانی سے منزل ِمقصود کو پا لیا۔ دنیا ان کو ’’مسلم سائنس دانوں‘‘ کے نام سے جانتی ہے۔ بارویں صدی میں یورپ کو ’’الجبرا‘‘ کے نیے حساب وکتاب کے سسٹم سے روشناس کرانے والا’’محمد بن موسیٰ الخوارزمی‘‘ مسلم سائنس دان ہیں۔ تصویری صنعت کے موجد ’’ابن الہیثم‘‘ بھی مسلمان ہیں۔ جن کی کامیابی کا مغرب و مشرق معترف ہے۔ ابن الہیثم نے آنکھ کے حصوں کی تشریح کے لیے ڈایا گرام بنائی۔ ایٹنا، کٹاریکٹ، کورنیا، جس سے آج تک دنیا انسانیت کوفائدہ پہنچ رہا ہے۔ ’’کافی‘‘کی ابتدا پہلی مرتبہ 1645ء میں ہو، یا 943ء میں ’’ڈپلوما‘‘ کافارمولا۔ 1185ء میں بننے والی ’’گھڑی‘‘ ہو، یا ہوا بازی، جہاز سازی، طب، ہسپتال ہر جگہ مسلمان سائنس دانوں کی جستجو اور ان کی محققانہ، مفکرانہ سوچ نے انسانی زندگی میں ایک انقلاب بپا کردیا۔

نبی آخرالزمان رحمۃ للعالمین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے: ’’اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے بعض ایسے بندے ہیں اگر وہ کسی ناممکن کوممکن بنانے کی قسم کھا لیں توگردش زمانہ پلٹ جایے سورج کی دھڑکن رک جایے مگر ان کی قسم پوری ہوکررہے گی‘‘۔ اب سوچنے کا امریہ ہے کہ انسانوں میں امیر ہو یا غریب، مسلم ہو یاغیر مسلم، مغربی ہو یا مشرقی سب یکساں ہیں۔ صلاحیتوں کو پیمانہ ایک اور مثبت منفی پہلو بھی ایک جیسے ہیں۔ سائنس وٹیکنالوجی تک دسترس بھی ہرفریق کو ہے۔ اس کے باوجود محرومی وناکامی کا اژدھا صرف عالم اسلام کی طرف منہ کھولے کیوں کھڑا ہے؟ جب کہ دین حنیف جیسا روشن مذہب مسلمانوں کے پاس ہے۔ کیوں مسلمان خالی ہاتھ بے نام ونشان پھر رہے ہیں؟ یہودونصاریٰ نامور ہوتے جارہے ہیں۔ تسخیرِ دنیا کا میزان بھی ان کا بھرا ہوا ہے اور مسلمانوں کا پلڑا خالی اور جھکا ہوا ہے۔ مسلمانوں کو اپنی تاریخ کی طرف لوٹنا ہوگا۔ یہ دنیا ایسے لوگوں کے لیے تنگ نہیں جنہوں نے اپنی سحر انگیز شخصیت سے دنیا کو حیران کر دیا تھا۔ آج بھی یہ دنیا وہی ہے۔ اس لیے جس نے اس کو بند گلی سمجھا ا س کے لیے کوئی جائے حیات نہیں ہے۔

(Visited 45 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: