فرائیڈ اور اقبال کے نقطۂ نظر میں شخصیت پر خودی کے اثرات —- شہباز بیابانی

0

زیگمنڈ فرائیڈ (1856-1939 ) آسٹریا کا نیورالوجسٹ تھا۔ اس نے انسانی نفسیات پر کافی کام کیا۔ اس نے انسانی شخصیت سے متعلق نظریہ “سائیکو انلائٹک تھیوری” پیش کیا۔ فرائیڈ نے اس نظریہ میں ایگو اور سپر ایگو کا انسانی شخصیت پر اثرات اور ان کی اہمیت پر روشنی ڈالی ہے۔ فرائڈ کے نظریات کے نتیجے میں ادب کی نفسیاتی تنقید کی باقاعدہ دبستان بھی وجود میں آئی ہے۔

علامہ اقبال کی شاعری اور فلسفے کا بنیادی ستون بھی خودی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ان دونوں نے خودی کو کس زاویہ نگاہ سے دیکھا ہے۔

زیگمنڈ فرائیڈ:
فرائیڈ کے نزدیک انسانی شخصیت ایک سے زیادہ اجزاء کا مرکب ہے۔ اس کے مشہور سائیکو انلائٹک نظریہ کے مطابق انسانی شخطیت تین اجزاء، اڈ، ایگو اور سپر ایگو سے بنتی ہے۔
ان میں سے ہر جزء نہ صرف شخصیت میں اپنا حصہ ڈالتا ہے بلکہ یہ تینوں اجزاء باہمی عمل پذیر ہوکر ایک دوسرے پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ ان میں سے ہر جزء زندگی کے مختلف وقفوں سے ظاہر ہوتا ہے۔
فرائیڈ کے نزدیک آپ کی شخصیت کے قابل اعتبار اور بہت ابتدائی صورتیں آپ پر دباؤ ڈالتی ہیں کہ آپ اپنی بنیادی خواہشات پر عمل کریں۔ آپ کی شخصیت کے دوسرے حصے ان ترغیبات و خواہشات کا سد باب کرکے اور زور لگا کر ان کو حقائق کے مطالبات کے مطابق ڈالنے کا کام کرتے ہیں۔
اب ہم شخصیت کے ان کلیدی حصوں پر نظر ڈالتے ہیں کہ یہ انفرادی اور باہمی طور پر کیسے عمل کرتے ہیں۔

The Id اِڈ
اڈ شخصیت کا وہ جزء ہے جو انسان کی پیدائش سے اس میں موجود ہوتا ہے۔ شخصیت کی یہ صورت سراسر لاشعوری ہوتی ہے۔ اور جبلی و ابتدائی رویوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ فرائیڈ کے مطابق اڈ تمام نفسیاتی توانائیوں کا ماخذ ہے۔ یہ شخصیت کی ابتدائی اجزاء کو بناتا ہے۔
اڈ خوشی کے اصولوں کے مطابق کام کرتا ہے۔ جو تمام خواہشات، چاہتوں اور ضروریات کے فی الفور مسرت کے لئے زرو لگاتا ہے۔ اگر ان ضروریات کو فورا پورا کرکے تسکین حاصل نہ کیا جائے تو اس کا نتیجہ واضح تشویش یا بے چینی ہوگا۔ مثلا بھوک یا پیاس کا بڑھ جانا کھانے یا پینے کی فوری جدوجہد کو مہیا کرے گا۔
اڈ ابتدائی زندگی میں شیر خوار بچوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے اشد ضروری ہے۔ اگر بچہ بھوکا یا بے آرام ہے تو وہ اڈ کے مطالبات کے پورے ہونے تک روتا رہے گا۔ کیونکہ نوخیز بچے مکمل طور پر اڈ کی حکمرانی کے تابع ہوتے ہیں۔ آپ کسی بچے کو مطمئن نہیں کر سکتے کہ وہ اپنا خوراک دوپہر کے وقت کھائے (اس سے پہلے نہ کھائے)۔ اس کے بر خلاف اڈ کو فوری اطمینان چاہئے اور چونکہ شخصیت کے دوسرے اجزاء ابھی تک موجود نہیں تو بچہ ان ضروریات کے پورا ہونے تک روتا رہے گا۔
تاہم ان ضروریات کا فوری طور پر پورا کرنا ہمیشہ نہ حقیقت کے مطابق ہوتا ہے اور نہ ممکن۔ اگر ہم خوشی کے اصول کو مکمل ضابطہ بناتے تو پھر ہم اپنی دلی آرزو کو پورا کرنے کے لیے دوسرے کے ہاتھ سے چیزیں چھیننے سے بھی دریغ نہ کرتے۔ اس قسم کا رویہ انتشار پیدا کرنے والا اور معاشرتی طور پر نا قابل قبول ہوتا۔ فرائیڈ کے مطابق اڈ کوشش کرتا ہے کہ ابتدائی عمل کے ذریعے اس بے چینی کو حل کرے جس کو خوشی کے اصولوں نے پیدا کی ہے۔
اگر چہ لوگ ممکنہ طور پر اڈ کو قابو میں رکھنا سیکھ جاتے ہیں، شخصیت کا یہ حصہ بچگانہ اور ابتدائی قوت تمام زندگی میں یکساں رہتا ہے۔
اگر چہ بچگانہ اور ابتدائی قوت کا یہ حصہ ساری زندگی یکساں رہتا ہے، یہ ایگو اور سپر ایگو کی ترقی ہی ہے جو کہ لوگوں سے اڈ کی بنیادی جبلتوں کو قابو کرواتی اور ان طریقوں پر عمل کرواتی ہے جو کہ حقیقت کے موافق ہوں اور معاشرتی طور پر مقبول ہوں۔

The Ego خودی
ایگو شخصیت کا وہ جزء ہے جو کہ در حقیقت لین دین کرنے کا ذمہ دار ہوتی ہے۔ فرائیڈ کے نزدیک ایگو، اڈ سے ترقی پاتی ہے اور اطمینان دلاتی ہے کہ اڈ کی لہریں (تحریکات) ایک ایسے طریقے سے ظاہر کی جائے جو کہ حقیقی دنیا میں قابل قبول ہوں۔
ایگو، شعور، تحت الشعور اور لا شعور سب میں کام کرتی ہے۔ ایگو حقیقت کے اصول پر عمل کرتی ہے جو کہ اڈ کی خواہشات کو حقیقی اور معاشرتی طور پر موزون طریقوں سے مطمئن کرنے کے لئے زور لگاتی ہے۔ اصولِ حقیقت کسی عمل کو کرنے سے پہلے اس عمل کی قیمتوں اور فوائد کا اندازہ لگاتے ہیں کہ ان خواہشات و ترغیبات پر عمل کرے یا عمل کرنے سے پہلے دستبر دار ہوجا ئے۔
بہت سی حالتوں میں اڈ کی تحریکات کو ملتوی شدہ تسکین کے ذریعے مطمئن کیا جا سکتا ہے۔ ایگو ممکنہ طور پر صرف مناسب وقت اور جگہ میں رویے کی اجازت دے گا۔
فرائیڈ اڈ کو گھوڑے اور ایگو کو گھڑ سوار سے تشبیہ دیتا ہے۔ گھوڑا طاقت اور حرکت دیتا ہے جبکہ سوار سمت اور رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ سوار کے بغیر گھوڑا جہاں جاتا ہے اپنی حیوانی مسرت کے ساتھ جائے گا۔ اور جس کام سے خوش ہوگا وہی کرے گا۔ اس کے برعکس سوار گھوڑے کو جس سمت لے جانا چاہے وہاں لے جانے کے لئے احکامات دے گا۔
ایگو ثانوی عمل کے ذریعے بے ترتیب تحریکوں کے پیدا کردہ بے چینی کو بھی ختم کردیتی ہے۔ جس میں ایگو اڈ کے ابتدائی عمل کے ذریعے تخلیق کردہ دماغی تصویر سے مطابقت رکھنے والی اس شے کو پانے کی کوشش کرتی ہے، جو حقیقی دنیا میں ہوتی ہے۔ مثلا یہ تصور کرو کہ آپ کام کرتے ہوئے ایک لمبی میٹنگ میں پھنس گئے ہیں، جیسے میٹنگ بڑھتی گئی آپ نے اپنے آپ کو بہت زیادہ بھوکا ہوتے ہوئے پایا۔ حالانکہ اڈ آپ کو اپنی نشست سے چلانگ لگانے اور کھانے کے کمرے میں ہلکا کھانا کھانے کے لیے ترغیب دیتا ہے۔ ایگو خاموش بیٹھنے اور میٹنگ کے ختم ہونے تک انتظار کرنے کی طرف آپ کی رہنمائی کرتی ہے۔
اڈ کی ابتدائی ترغیبات پر عمل کرنے کے بجائے آپ میٹنگ کو چیز برگر کے کھانے کے تصور میں گزارو۔ جب آخر کار میٹنگ ختم ہو جائے تو آپ اس شے کو تلاش کر سکتے ہیں جس کا آپ نے تصور کیا تھا اور آپ اڈ کے مطالبات کو حقیقی اور مناسب طریقہ سے مطمئن کر سکتے ہیں۔

فوقانی خودی The Super Ego
شخصیت کی ترقی کا آخری جزء فوقانی خودی یا سپرایگو ہے۔ سپر ایگو شخصیت کی وہ صورت ہے جو کہ ہمارے اپنائے گئے تمام اخلاقی معیاروں اور خیالات کو پکڑتی ہے جن کو ہم والدین اور معاشرے سے حاصل کرتے ہیں – ہمارے صحیح اور غلط احساسات – سپرایگو فیصلہ کرنے کے رہنمائی اصول مہیا کرتی ہے۔

فرائد کے مطابق سپر ایگو پانچ سال کی عمر میں ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ سپر ایگو کے دو حصے ہیں۔
1۔ آئڈئل ایگو (متصورہ خودی) اچھے رویوں کے ضابطوں اور معیارات پر مشتمل ہوتی ہے۔ ان میں وہ رویے شامل ہیں جن کو والدین اور دوسرے ذمہ دار شخصیات پسند کرتے ہیں۔ ان ضابطوں پر چلنا فخر کی سوچ، خوبی اور شائستگی کی طرف لے جاتا ہے۔
2۔ ضمیر چیزوں کے ان معلومات پر مشتمل ہوتا ہے جن کو والدین اور معاشرہ برا مانتے ہیں۔ یہ رویّے اکثر ممنوع ہوتے ہیں اور برے انجام، سزا یا جرم اور ندامت کے احساسات تک پہنچاتے ہیں۔
سپر ایگو ہمارے رویّوں کو مکمل اور مناسب بنانے کا عمل کرتی ہے۔ یہ اڈ کے تمام نا قابل قبول ترغیبات کو دبانے کی کوشش کرتی ہے۔ اور سپر ایگو کوشش کرتی ہے کہ ایگو کو اصول حقیقت کے برعکس تصوراتی معیارات پر عمل کرنے پر مجبور کرائے۔ سپر ایگو، شعور، تحت الشعور اور لا شعور میں موجود ہوتی ہے۔

اڈ، ایگو اور سپر ایگو کا باہمی تعامل:
اڈ، ایگو اور سپرایگو ایک دوسرے سے اس طرح مکمل الگ اور جدا اجزاء نہیں ہیں کہ ان کی سرحدیں متعین ہوں۔
شخصیت کی یہ صورتیں حرکی ہیں اور یہ ہمیشہ ایک ہی شخص میں ایک دوسرے پر عمل کرتے ہیں۔ تاکہ ایک فرد کی مکمل شخصیت اور رويّے پر اثر ڈالے۔
اتنی زیادہ متقابل قوتوں کے ساتھ، یہ آسان ہے کہ دیکھا جائے کہ کیسے اڈ، ایگو اور سپر ایگو کے درمیان تصادم واقع ہو جاتا ہے۔
فرائد آپس میں لڑنے والی قوتوں کی کشمکش میں خودی کی قابلیت کا حوالہ دینے کے لیے لفظ ایگو سٹرینتھ یعنی قوت خودی استعمال کرتا ہے۔
ایک اچھی قوت خودی رکھنے والا شخص اس قابل ہوتا ہے کہ مؤثر طور پر اس دباؤ کا انتظام کرے۔ جبکہ بہت زیادہ یا بہت کم قوت خودی رکھنے والے افراد اپنی بات پر بہت زیادہ اڑنے والے یا منتشر ہو جاتے ہیں۔

اگر نا مناسبت ہو تو کیا پیش آئے گا؟

فرائد کے مطابق ایک صحت مند شخصیت کی کلید اڈ، ایگو اور سپرایگو میں تناسب کا ہونا ہے۔
اگر ایگو اس قابل ہو کہ حقائق کے مطالبات اڈ اور سپرایگو کے درمیان مناسب طور پر اعتدال پیدا کرے تو ایک صحت مند اور خوب موافق شخصیت ظاہر ہوگی۔ فرائڈ کا عقیدہ ہے کہ ان اجزاء میں نامناسبت ایک نا موافق شخصیت کو بنائے گی۔ مثلا ایک فرد بہت زیادہ غالب اڈ کے ساتھ اکسایا ہوا، بے قابو حتی کہ مجرم ہو سکتا ہے۔ یہ فرد اپنے بنیادی ترغیبات پر بغیر اس فکر کے کہ کیا یہ رویہ مناسب، قابل قبول یا جائز ہے، عمل کرتا ہے۔
دوسری طرف بہت زیادہ مسلط سپر ایگو ایک ایسی شخصیت کو فروغ دے گی جو متشدد معلم الاخلاق اور ممکنہ طور پر عدل پر مبنی ہوگی۔ ایسا شخص کسی چیز یا کسی انسان کو برا یا غیر اخلاقی سمجھنے اور قبول کرنے کا اہل نہیں ہوگا۔
بہت زیادہ مسلط خودی بھی مسائل پیدا کرے گی۔ اس قسم کی خودی والا فرد حقیقت، اصول اور موزونیت کا اتنا پابند ہوگا کہ وہ کسی قسم کی ذاتی یا غیر متوقع رویہ کو اپنانے کا قابل نہیں ہوگا۔ ایسا فرد بہت جامد سخت گیر اور تبدیلی کو قبول نہ کرنے کا اہل تصور کیا جائے گا۔ اور اس میں غلط سے صحیح کے اندرونی احساس کی کمی ہوگی۔
فرائڈ کا نظریہ یہ تصور پیش کرتا ہے کہ شخصیت کس طرح بنتی ہے اور کس طرح اس کی مختلف اجزاء عمل کرتے ہیں۔ فرائڈ کے خیال میں ایک صحت مند شخصیت اڈ، ایگو اور سپر ایگو کے ایک دوسرے پر متوازی حرکی عمل سے بنتی ہے۔
جب کہ ایگو کو جفا کشی کرنا پڑتی ہے۔ یہ اکیلا عمل نہیں کرسکتی۔ تشویش بنیادی ضروریات، اخلاقی اقدار اور حقیقی دنیا کے درمیان مطالبات کے درمیان خودی کی مدد کرنے میں ثالثی کا کردار بھی ادا کرتی ہے۔ جب آپ مختلف قسم کی تشویش کا تجربہ کرتے ہیں تو دفاعی میکانی نظام لات مارے گا اور ایگو کا دفاع کرنے اور جو تشویش آپ کو ہے، اس کو کم کرنے میں مدد دے گا۔

علامہ محمد اقبال
اقبال شخصیت اور خودی کے باہمی تعلق اور خودی کا شخصیت پر اثر انداز ہونے کے عمل سے اچھی طرح واقف ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ فرائڈ کا نظریہ نفسیاتی ہے اور اقبال کا نظریہ فلسفیانہ اور شعری انداز کا ہے۔ اقبال شخصیت کو جلال و جمال کا مجموعہ سمجھتے ہیں اور یہ جلال و جمال خودی سے ہی حاصل ہو سکتا ہے۔
خودی سے مرد خود آگاہ کا جمال و جلال
کہ یہ کتاب ہے، باقی تمام تفسیریں
فرائڈ نے جس طرح شخصیت کے تین اجزاء بیان کرکے درجہ بندی کی ہے اقبال نے فلسفۂ خودی کی اسی طرح باقاعدہ درجہ بندی نہیں کی البتہ “اسرار خودی” میں خودی کی استحکام، نگہبانی اور تربیت کا بیان تفصیلا ملتا ہے۔ اس کے علاوہ کلیات اقبال (اردو و فارسی) میں جگہ جگہ خودی کے بارے بارے کلام کیا گیا ہے جس کو مندرجہ ذیل طریقے سے پیش کیا جا سکتا ہے۔

اثبات خودی:
فرائڈ کی طرح اقبال بھی فرد کے لۓ ابتدا ہی سے خودی کو ثابت کرتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ فرائڈ اس ابتدائی خودی کو “اڈ” کا نام دیتے ہیں اور اقبال اس کو اثبات خودی۔ دوسری بات یہ کہ “اڈ” خوشی کے اصول پر چلتا ہے یعنی فرائڈ کے نزدیک یہ خواہشات کے پورا کرنے کا نام ہے اور خودی اس کو قابو کرتی ہے۔ اقبال کے نزدیک ضعیف خودی کو مستحکم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ خودی اس کائنات کی ہر چیز میں موجود ہے۔ کسی پتھر کا وزن اس کی خودی ہے۔ درخت کاٹتے ہوئے اس کی مزاحمت اس کی خودی ہے۔ بچے کا اپنی ماں کے پاس کھڑے ہو کر اس پر فخر کرنا اس بچے کی خودی ہے وغیرہ۔ وہ خودی کو اس طرح ثابت کرتے ہیں۔
پیکر ہستی ز آثار خودی است
ہر چی می بینی ز اسرار خودی است

احساس خودی:
اقبال کے نزدیک فرد کو خودی کا احساس ہونا چاہئے۔ احساس خودی کا مطلب یہ ہے کہ انسان یہ سوچے کہ میں موجود ہوں۔ میں اپنی قسمت و اعمال کا ذمہ دار ہوں۔ میرا اپنا ایک مقام ہے۔ میں خلیفۃ اللہ فی الارض ہوں۔ ابتدا میں بچے میں وجدان ہوتا ہے، شعور نہیں ہوتا۔
سخن از بود و نابود جہاں با من چہ میگوئی
من ایں دانم کہ من ہستم ندانم ایں چہ نیرنگ است
فرائڈ اور اقبال دونوں اس کے قائل ہیں کہ خودی حواس خمسہ سے نہیں دیکھی جا سکتی۔ خودی باطنی عمل سے جڑی ہوئی ہوتی ہے۔ اقبال کے نزدیک خودی بصیرت سے دیکھی جا سکتی ہے، بصارت سے نہیں۔ خودی وہ نور ہے جو ہماری تاریک خاک کو منور کر سکتی ہے۔
نقطۂ نوری کہ نامے خودی است
زیر خاک ما شرار زندگی است
اقبال کے نزدیک خودی فرد کو اپنی ہستی کی اہمیت کے احساس یا شعور ہونے کو کہتے ہیں۔ ایک ایسا شعور جو اپنی انا سے واقف ہو اور جو اپنی فطری صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر تمام کائنات کو مسخر کر سکے۔
خودی کے زور سے دنیا پہ چھا جا
مقام رنگ و بو کا راز پا جا
خودی ایک ایسا سمندر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں۔ یعنی اس میں لاتعداد مخفی قوتیں موجود ہیں۔ خودی راز حیات ہے، زندگی کی حقیقت اسی میں پوشیدہ ہے۔ اور اپنی خودی سے آگاہ ہوجانا ہی زندگی کا مقصد ہے۔

تربیتِ خودی:
اقبال ابتدائی خودی کے اثبات اور احساس کے بعد اس کی تربیت اور استحکام پر زور دیتا ہے۔ جس طرح فرائڈ “اڈ” کو قابو میں رکھنے کے لئے ایگو لازمی قرار دیتے ہیں اسی طرح اقبال ابتدائی اور ضعیف خودی کی تربیت اور استحکام کا درس دیتے ہیں۔ جس طرح فرائڈ کے نزدیک سپرایگو شخصیت کی وہ صورت ہے جو کہ ہمارے اپنائے گئے تمام اخلاقی معیاروں اور خیالات کو پکڑتی ہے جن کو ہم والدین، دوسرے ذمہ دارشخصیات اور معاشرے سے حاصل کرتے ہیں۔ اسی طرح اقبال کے نزدیک کمزور خودی کو مستحکم کرنے کے لئے تربیت کی ضرورت ہے اور خودی کی تربیت کے لئے کسی شعیب یعنی مرد قلندر، ہوائے دشت اور خلوت کی ضرورت پیش آتی ہے۔
خودی کی پرورش و تربیت پہ ہے موقوف
کہ مشت خاک میں پیدا ہو آتش ہمہ سوز
یہی ہے سرّ کلیمی ہر اک زمانے میں
ہوائے دشت و شعیب و شبانی شب وروز
فرائڈ، اڈ، ایگو اور سپرایگو میں تناسب و توازن کو لازمی خیال کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک جس شخصیت کی ان تینوں اجزاء میں توازن ہوگا وہ معاشرے کے لئے فائدہ مند ہوگی۔ ان کے نزدیک بہت زیادہ مسلط خودی والی شخصیت مسائل پیدا کرے گی۔ اور ایسی شخصیت تبدیلی کو قبول نہیں کرے گی۔ اس مقام پراقبال خودی کو صالح اور غیر صالح یا مسلم اور غیر مسلم خودی میں تقسیم کرتے ہیں۔ اقبال کہتے ہیں کہ غیر صالح خودی کو کسی مرد قلندر کی نگرانی میں اطاعت الہی اور ضبط نفس سے صالح بنایا جا سکتا ہے۔

تکمیل خودی:
اقبال کے نزدیک جب خودی کی تکمیل ہوجاتی ہے تو انسان مرد قلندر بن جاتا ہے۔ اس میں قہاری و غفاری، قدوسی و جبروت کے عناصر پیدا ہوجاتے ہیں۔ جس کی خودی زندہ اور مکمل ہو تو وہ فقر میں بھی شاہ ہے، اس کے لئے دریا ئے بے کراں پایاب ہے، کہسار پرنیاں و حریر ہیں۔ جبکہ خودی کی موت سے غلامی اور بے نوری حاصل ہوتی ہے۔
خودی ایک زبردست قوت ہے جس کے زور سے رائی پربت بن جاتی ہے۔ خودی راز حیات ہے زندگی کی حقیقت اس میں پوشیدہ ہے۔ اپنی خودی سے آگاہی اور خودی کی تکمیل ہی زندگی کا مقصد ہے۔ خودی کی تقویم اشک سحر گاہی سے ہی ممکن ہے۔

ثمرۂ خودی:
جب اطاعت الہی اور ضبط نفس سے خودی کی تربیت ہوجاتی ہے اور مکمل ہوجاتی ہے تو پھر اس کا ثمرہ نیابت الہی کی شکل میں نکلتا ہے۔ انسان خلیفۃ اللہ فی الارض بن کر آفاقی اور ظل سبحانی بن جاتا ہے۔
خودی کو جب نظر آتی ہے قاہری اپنی
یہی مقام ہے کہتے ہیں جس کو سلطانی
یہی مقام ہے مومن کی قوتوں کا عیار
اسی مقام سے آدم ہے ظل سبحانی
یہ جبر و قہر نہیں ہے، یہ عشق و مستی ہے
کہ جبر و قہر سے ممکن نہیں جہاں بانی
اقبال شخصیت کی تکمیل کے لئے خودی کو بہت ہی ضروری سمجھتے ہیں۔ فرائڈ جس چیز کو یعنی سپرایگو کو مسلط خودی کہتے ہیں اور اسے مسائل پیدا کرنے کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے اقبال کے نزدیک وہ خودی کی قاہری یا تو غیر صالح ہے جو اپنے نخچیروں کے ہا تھوں داغ داغ ہوتی ہے۔ اور یا وہ سلطانی اور خلافت الہیہ ہے جو کہ جبر و قہر نہیں ہے بلکہ عشق و مستی ہے۔

اقبال کے نزدیک شخصیت پر خودی کے اثرات:

ا۔ خودی سے انسان کامل بن جاتا ہے اور وہ جمال و جلال کا مظہر بن جاتا ہے۔
ب۔ خودی سے انسان موحد بن جاتا ہے اور اس طلسم رنگ و بو کو توڑ سکتا ہے۔
ج۔ اپنی خودی میں ڈوبنے والا عشق بتان سے ہاتھ اٹھا تا ہے اور اس طرح اپنے خون کو نقش و نگار دیر میں ضائع نہیں کرتا۔
چ۔ خودی سوال کرنے اور بھیک مانگنے سے ضعیف ہو جاتی ہے۔ اور اسی طرح شخصیت بے وقار ہوجاتی ہے۔
ح۔ خودی عشق کے ذریعے نظام عالم کو مسخر کر سکتی ہے۔
د۔ خودی کے عارفوں کا مقام پادشاہی ہے اور اسی سے اس کی آبرو و زندگی قائم ہے۔
ہ۔ زندگی کا جوہر عشق ہے اور عشق کا جوہر خودی ہے۔
س۔ خودی کا رازدان خدا کا ترجمان ہوتا ہے۔ وہ اپنی آنکھوں پر عیان ہوجاتا ہے وہ راز کن فکان ہوتا ہے۔
ش۔ خودی آسمان میں راہ کرتی ہے وہ مہروماہ کو صید زبون خیال کرکے شکار کرتی ہے۔
ص۔ اگر خودی خودنگر، خودگر اورخودگیر بن جائے تو انسان موت سے بھی نہیں مر سکتا۔ فرائڈ کے ہاں یہ نکتہ نظر نہیں ملتا۔
ض۔ خودی کی تکمیل سے انسان اغیار کے افکار و تخیل کی گدائی سے گلو خلاصی حاصل کرلیتا ہے۔
ط۔ جس سروری اور پادشاہی میں خودی کی موت ہو وہ سروری اور پادشاہی کچھ بھی نہیں، وہ کٹھ پتلی ہے۔
ظ۔ جب تیغ خودی فقر کی سان پر چڑھ جاتی ہے تو ایک سپاہی کی ضرب کئی سپاہ کا کام کرتی ہے۔
ع۔ خودی کے زور سے تمام دنیا پر چھایا جا سکتا اور رنگ و بو کا راز پایا سکتا ہے۔
غ۔ خودی کے ساز میں عمر جاوداں کا سراغ ہے اور اس کے سوز سے امتوں کے چراغ روشن ہیں۔
ف۔ خودی کے ہاتھوں میں سنگ گران ہلکا ہے اور اس کے ضربوں سے پہاڑ ریگ رواں ہے۔
ق۔ جس بندۂ حق بین کی خودی بیدار ہوگئی اس کی شمشیر چمکدار اور تیز بن جاتی ہے اگر چہ بظاہر کند دکھائی دے۔
ک۔ خودی کی موت سے مغرب کا اندرون بے نور ہے اور مشرق جزام میں مبتلا ہے۔ عرب کی روح بے تب و تاب ہے اور پیر حرم مسلمان کا جامۂ احرام کھانے پر مجبور ہے۔
گ۔ جو قوم اپنی خودی سے انصاف نہیں کرتی وہ محکوم و مظلوم ہی رہی گی۔
ل۔ اگر خودی سے بیگانگی پیدا ہو جائے تو اس قوم کا ادب و دین اس کے لئے رسوائی کا سبب بن جائے گا۔
م۔ جس سرزمین والوں کی خودی مر جائے تو اس میں کوئی خدائی کا رازدان پیدا ہونے کی کوئی امید نہیں کرنا چاہئے۔
ن۔ نقالی کرنے، تمثیل (ڈراما) اور سینما دیکھنے سے خودی مر جاتی ہے۔ اور جب خودی نہ رہے تو نہ زندگی کا ساز اور نہ خودی کا سوز باقی رہ جاتا ہے۔ شخصیت مضمحل ہوجاتی ہے۔
و۔ جس شاعری(عجمی لے) سے خودی نرم ہو جاتی ہے وہ قوم کی حق میں اچھی نہیں ہے۔ وہ قوم کی شخصیت کو تباہ و برباد کردیتی ہے۔
ہ۔ مغربی طرز تعلیم کا مقصد مسلمانوں کی خودی کو ملائم کرکے اپنے قبضے میں لے کر جدھر چاہے اسے پھیرنا اور اپنے مقاصد کے مطابق ڈالنا ہے۔
ی۔ خودی تقلید سے ناکارہ ہو جاتی ہے اور ظاہر ہے کہ غیر کی نقالی اور تقلید سے شخصیت بھی ناکارہ ہوجئے گی۔
ے۔ خودی عشق و محبت سے استحکام پاتی ہے اور استحکام خودی سے شخصیت بھی مستحکم ہوجاتی ہے۔

(Visited 153 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: