تھیئری theory کا خوف —– الیاس بابر اعوان

1

ہماری ادبی تربیت چونکہ حلقہ اربابِ ذوق کے روایتی پلیٹ فارم پر ہوئی لہٰذا ہم پر ایک خاص قسم کا تاثراتی جبر حاوی ہے۔ آپ حلقہ اربابِ ذوق کے جلسوں میں جائیں اور تسلسل سے یہ کارِ خیر سرانجام دیں تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ کچھ نشستوں کی مشقت کے بعد آپ اس قابل ہوجائیں گے کہ حلقہ میں کی جانی والی تنقید بآسانی کرسکیں گے۔ حلقہ ہماری سماجی حیات کا بھی عکاس ہے جہاں مستعمل خرافات تو مذہبی جذبے کی طرح سینے سے لگا لی جاتی ہیں تاہم بظاہر نئی نظر آنے والی کسی بھی فکر ی رو کو خوش آمدید نہیں کہا جاتا مبادا کہ وہ ہماری فکری اساس کو نقصان نہ پہنچا دے۔ اور اگر کوئی ایسا فکری رویہ جس کا تعلق مغرب سے ہو تو پھر تو آپ کی خیر نہیں۔ اِدھر آپ نے کسی ـ’’ادب پارے‘‘ کا تجزیہ کسی بھی ’’مغرب زدہ تناظر‘‘ میں کیا اِدھر آپ کو حلقے کی جمیعت نے آپ کو اُٹھا کر حاشیے پر دھکیل دیا۔

جیسا کہ میں عرض کرچکا ہوں کہ ہماری ’بالخصوص‘ میری تربیت حلقے کی ہے اور میں بجا طور پر خود کو متاثرین ِ حلقہ (مثبت انداز میں) شمار کرتا ہوں تو اول اول ہمارا کوئی پڑھا لکھا شاعر ادیب جب حلقے میں ایسی گفتگو کرتا جو ہمیں سمجھ نہ آتی تو ہم اپنی کم علمی چھپانے کی خاطر اُس پر چڑھ دوڑتے کہ میاں! آج آپ نے جو جامعہ میں جو کچھ پڑھا یا پڑھایا اُس کو یہاں آکر مت دُہرائیے، ہم مشرق سے تعلق رکھتے ہیں ہماری غزل، نظم، افسانہ، ناول، آپ بیتی، کالم وغیرہ مغرب زدہ بیانیوں کے متحمل نہیں ہوسکتے ہیں اور نہ ہی انہیں زیب دیتا ہے کہ انہیں ان مکروہ تناظرات کی روشنی میں پرکھا جائے۔ [ہم کم علموں کو یہ معلوم ہی نہ ہوتا تھا کہ مذکورہ بالا اصناف میں سے ایک بھی مقامی نہیں کچھ فارسی روایت اور کچھ مغربی روایت سے ہمارے ہاں در آئی ہیں ]۔ بہ ہر حال ہم اپنی آواز اور ولولے سے بے چارے ـ ناقد کو خاموش کروا دیتے۔ ہمیں چونکہ ایسے جملوں کی عادت تھی کہ ’’اس غزل میں مسائل ہیں، اشعار میں نیا ذائقہ ہے تاہم ایک آنچ کی کمی سے یہ غزل کامیاب غزل بنتے بنتے رہ گئی باوجدیکہ میں شاعر کے ہاں امکانات موجود ہیں‘‘، یا ’’اس نظم میں شاعر نے باطن کا سفر کیا ہے جس سے وہ ایک نئی روشنی کے ہم سفر ہوئی جو ہمیں ہر ہر مصرع پر خوش آمدید کہتی ہے، روایت کی دہلیز پہ کھڑا یہ شاعر کمال خوب صورتی ہے زمانوں کے بھید کھولتا ہے کہ ہم دانتوں میں انگلی دبائے کھڑے رہتے ہیں اور نظم ہمیں خود میں اترتی ہوئی محسوس ہوتی ہے، ہم شاعر کا کھلے بازوئوں استقبال کرتے ہیں ــ‘‘، وغیرہ وغیرہ۔ اب ایسے میں کوئی صاحب یا صاحبہ آکر اُس کا ساختیاتی، پسِ ساختیاتی، ردِ تشکیلی، نفسیاتی، تانیثی، ہر دو صنفی ہم جنس پرستانہ، مارکسی، نو تاریخٰ، ثقافتی مادیتی، مابعد نو آبادیاتی، مابعد جدیدی، اسلوبیاتی، بیانیاتی، ماحولیاتی، نیو کلونیل مطالعہ کرنا شروع کردے تو اسے بدتہذیبی شمار نہ کیا جائے اور کیا کیا جائے؟

ہفتے کے تھکے ہارے مشاعرہ باز شعر ا، چھوٹے بڑے چینلوں پر ادبی، نیم ادبی اور عدم سیاسی و سیاسی گفتگو کرتے عمر رسیدہ اور جہاں دیدہ ادیب، تیزی سے ترقی کے سفر کا خواب دیکھنے والے نیم ادب یافتہ صحافی، کالجوں اور جامعات میں اپنے ہم جماعتوں اور نوجوان اساتذہ کواپنے بے وزن اشعار سے متاثر کرنے والے لڑکے لڑکیا ں، غموں میں لتھڑے ہوئے پروفیسرصاحبان جن کی طالب علمان سمیت کوئی بھی نہیں سنتا، شوقیہ سامع، اور محبوبائوں کو ملنے کے لیے آنے والے نوجوانان ِ ملت اب اگر حلقے میں آکر ایسی بھاری بھرکم اصطلاحات کو سنیں گے تو کیا فائدہ حلقہ اربابِ ذوق میں آنے کا۔

آج ہی ایک دوست سے بات ہو رہی تھی جو کسی جامعہ سے پنجابی میں پی ایچ ڈی کررہے ہیں اور چاہ رہے ہیں کہ پنجابی نظموں کا مابعد نو آبادیاتی مطالعہ کریں۔ [انگریزی ادب میں اگر کوئی ان دنوں مابعد نو آبادیاتی مطالعہ کی خواہش کرے تو لوگ اُس پر ہنستے ہیں کہ بھئی اب پیچھے رہ ہی کیا گیا ہے ما بعد نو آبادیاتی مطالعہ میں] لیکن اردو اور پنجابی میں آپ کو شاذ ہی ایسے مو ضاعات ملیں گے۔ وہ بتا رہے تھے کہ انہیں اس موضوع کر چننے میں بہت سے محاذوں پر مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا کہ بھئی نہیں ہوگا تم سے کوئی اور موضوع چن لو وغیرہ وغیرہ۔ ظاہر ہے اساتذہ کرام بھی تو حلقہ اربابِ ذوق میں جاتے ہی ہوں گے جہاں تھیئری کا استقبال کھلے منہ اور بند آنکھوں سے کیا جاتا ہے۔

میں اکثر سوچتا ہوں [یعنی میں اب بھی سوچ سکتا ہوں کہ مجھ پر حلقہ اپنا اثر چھوڑنے میں ناکام رہا] کہ تھیئری کا لوگوں پر اتنا خوف کیوں ہے؟ کیا تھیئری واقعی کوئی ایسی ’’چیز‘‘ ہے جس کے معیارات واقعتا مغرب زدہ ہیں؟ یا یوں کہیے کہ ہمارے ہاں کے کسی ادب پارے کا تجزیہ اگر کسی معاصر تناظر میں کیا جائے تو کیا وہ لایعنی ہوگا، فضول ہوگا، مغرب زدہ ہوگا، لادرست ہوگا؟ یہ سب وہ سوالات ہیں جو یقینا مجھ سمیت بہت سے دوستوں کے اذہان میں آتے ہوں گے۔ دوستوں کا کہنا یہ بھی ہے کہ تھیئری کی بات کرنے والوں کا اپنی تنقیدی روایات سے کوئی لینا دینا ہے نہ سمجھ۔ وہ یہ بھی قیاس کرتے ہیں کہ تھیئری کی بات کرنے والوں کو خود بھی تھیئری کی سمجھ نہیں وہ بس مغرب کے کچھ بڑے بڑے نقادوں کے نام لے کر حلقے کی ’’عوام‘‘ کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں لہٰذا ایسے مذموم عناصر کی ادبی سطح پر سرکوبی کی جانی چاہیے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا ہم تھیئری کے بغیر کچھ نیا کہنے، سمجھنے، اور لکھنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔

جامعات میں شعبہ اردو کے زیرِ اہتمام ایم فل یا پی ایچ ڈی کی سطح کے تنقیدی مقالہ جات کے موضوعات بھی خاصے کی چیز ہوتے ہیں۔ کیا وہ واقعتا تحقیق ہوتی ہے یا کوئی کام مرتب کیا گیا ہوتا ہے۔ [البتہ چند ایک برس اُس طرف کچھ مقالہ جات ایسے بھی نظر سے گزرے ہیں جن کے موضوعات جدید تناظرات کی روشنی میں لیے گئے اور اس ضمن میں بہت اچھی تحقیق بھی متن ہوئی ہے]۔ مجموعی طور پر بھرتی کا کام زیادہ ہے۔

ایک بات ہم سب کو سمجھنی چاہیے کہ تھیئری محض تناظر ہے ایک عینک ہے جس سے آپ متن کا مطالعہ کرتے ہیں اردو اور انگریزی تحقیقی روایات دو مختلف مراکز کی طرف سفر کا نام ہیں۔ انگریزی تحقیقی روایت کلی اجمالی، جمالیاتی یا لسانی مطالعہ جات کے حق میں نہیں۔ جامعات کی سطح میں ایک مرکز طے کرکے اس کی طرف سفر کیا جایا ہے۔ آپ ایک متن پر دیگر تناظرات کا اطلاق کرکے بھی مطالعہ کرسکتے ہیں طریق ہائے کار بدل کربھی مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ دوسری طرف اردو مرکز طے نہیں کرتی بغیر کسی سائنسی طریقِ کار کے متن میں سے تفہیمی اشارہ سازی کرکے انہیں متن کردیا جاتا ہے اور ان کی بہ یک وقت مختلف التناظراتی شرح کو متن کرکے ایک مقالہ تیار کرلیا جاتا ہے جو کہ غیر سائنسی اور غیر علمی ہے۔ جب تک اردو ادب خاص کر جامعاتی اور اکادمی کی سطح پر تھیئری کا استقبال نہیں کرے گا ہم خود کو ایک جوہڑ کے کنارے کھڑا پائیں گے۔ اگر ہم مغرب کی اصناف کو اختیار سکتے ہیں اور انہیں اپنے رنگ میں رنگ سکتے ہیں تو تھیئری کو کیوں نہیں؟ یہ بھی ممکن ہے کہ جب تھیئری اور ہماری اپنی ادبی تہذیبی تنقیدی اساس کا موازنہ کا جائے تو معاصر مغربی تھیئری یا تناظرات اس کے سامنے ہیچ دکھائی دیں، اس مقصد کے لیے جامعات میں تھیئری کا بطورِ ایک مضمون شامل ہونا اور اس کا کھلے دل سے استقبال کرنا ضروری امر ہوگیا ہے۔

مابعد نو آبادیات جیسا کلیشے زدہ تناظر بھی آپ کو گائتری سپوک، ہومی کے بھابھہ جیسے نظریہ ساز دے جاتا ہے اور ہمارے ہاں اساتذہ سارہ سلیری کو نظریہ ساز مانتے ہیں۔ باقی سب اللہ ہی اللہ ہے۔ میں تو یہ رائے دوں گا کہ حلقہ اربابِ ذوق کو بھی اب اپنا چلن بدلنا چاہیے کہ تخلیق کار کی تخلیق کا ایک ہفتہ قبل اعلان کردیا جائے اور یہ طے کرلیا جائے کہ اگلے جلسے میں اس پر کس خاص تناظر میں بحث ہوگی اور گفتگو صرف اس تناظر کی روشنی میں ہو۔ اگر ہم اپنا چلن نہیں بدلیں گے اور تھیئری کے خوف میں مبتلا رہیں گے تو تھیئری ہم پر حاوی ہوجائے گی یہی نفسیات کا اصول ہے۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. عزیز ابن الحسن on

    خوب
    اس باب میں ہمارا موقف آپ کی کتاب پر گفتگو کرتے ہوئے ہوئے بیان ہوچکا۔ کسی دن وہ گفتگو شیئر کرتا ہوں ہوں۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: