میکیاولیت‎ ——- سمیع کلیا

0

بطور طالبعلم سیاسیات تاریخ کی کتابوں میں ہمیں ایک ایسا نام ملا ہے جس ے پڑھ کر ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے ملک کے بیشتر سیاستدان ایک اطالوی مفکر کے فلسفے پر کاربند ہیں۔ وہ نام ہے’ نکولو میکاولی‘۔ ’میکا ولی‘ ایک اطالوی سیاستدان اور مفکر تھا۔ وہ اٹلی کے شہر فلورنس میں پیدا ہوا کلرک کے عہدے سے کام کا آغاز کرنے والا یہ شخص سفارتکار کے عہدے تک بھی براجمان رہا۔ بطور ایک مفکر میکاولی نے شہرہ آفاق کتاب ’دی پرنس‘ لکھی۔ اس کتاب میں میکاولی نے اخلاقیات کو سیاست سے الگ کر دیا۔ اس کے نزدیک صرف مفاد کو ہی عزیز رکھا جائے۔ اپنی کتاب میں وہ یہاں تک کہتا ہے کہ حکمرانوں اور سیاستدانوں کو چاہئیے کہ حصول اقتدار کے لئے ہر قسم کا ناجائز حربہ استعمال کیا جائے مکاری سے کام لیا جائے اور بے ایمانی کو اپنا اصول بنایا جائے۔ میکاولی حکمرانوں کو نصیحت کرتا ہے کہ ضرورت کے تحت مختلف حیلوں بہانوں سے وعدہ خلافی بھی کرنی چاہیے۔ اب اگر ہم اپنے حکمرانوں پر نظر دوڑائیں تو ہمیں یہی محسوس ہوتا ہے کہ ان سیاستدانوں خصوصا ’’لوٹوں‘‘ نے لازمی کہیں سے بھی میکاولی کے فلسفے کو سیکھا ہے۔

چار سو سال سے بھی زیادہ مدت گزر گئی ہے جب سے ’’میکیاولیت‘‘ کو دنیا ابلیسیت، دغابازی، بدقماشی، بے دردی اور بدالحواری کا مترادف سمجھ رہی ہے، اس اصطلاح کا بانی نکولو میکیاولی تھا، جو عام طور پر سازشی، حیلہ باز، ریاکار، بداخلاق اور ایمان و شرافت سے عاری سیاستدان کی تمثیل سمجھا جاتا ہے، جس کا مسلک یہ ہو کہ حصول مقصد کے لیے ہر طریقے سے کام لے لینا جائز ہے، خواہ وہ کتنا ہی قابل اعتراض ہو۔ میکیاولی کی بدنامی ایک ہی کتاب کا نتیجہ ہے، یعنی ’’بادشاہ‘‘ جو 1513 میں لکھی گئی۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ ہر دور کے ڈکیٹیٹر اور استبداد پرست ’’بادشاہ‘‘ سے مفید مشورے اخذ کرتے رہے ہیں، اسے شوق سے پڑھنے والوں کی فہرست خاصی طویل ہے۔

شہنشاہ چارلس پنجم اور کیتھرائن دی میڈیچی اس کتاب کو بہت پسند کرتے تھے، ہنری سوم اور ہنری چہارم قتل ہوئے تو اس کتاب کے نسخے ان کے پاس تھے، فریڈرک اعظم نے پروشیا کے لیے پالیسی وضع کر تے وقت ’’بادشاہ‘‘ سے مدد لی تھی۔ ہٹلر نے خود لکھا ہے کہ ’’بادشاہ‘‘ میرے بستر پر رہتی تھی۔ مسولینی نے بیان کیا ہے کہ میں میکیاولی کی ’’بادشاہ‘‘ کو مدبروں کا بہترین رہنما سمجھتا ہوں۔ ’’بادشاہ‘‘ کے تمام اصول آج بھی زندہ ہیں اور ہمارے سیاست دان ان ہی اصولوں کو اپنائے ہوئے ہیں۔ میکیاولی لکھتا ہے کہ ’’کوئی حکمران ایسا نہیں گزرا جس نے بدعہدی پر پردہ ڈالنے کے لیے خوشنما دلیلیں پیدا نہ کی ہوں، انسان ہمیشہ سے سادہ لوح رہے ہیں، وہ فوری ضروریات میں اس طرح محصور رہتے ہیں کہ ادھر ادھر دیکھ ہی نہیں سکتے اور اگر کوئی شخص انھیں فریب دینا چاہے تو ایسے سادہ لوگ یقیناً مل جائیں گے جو فریب کھانے پر آمادہ ہوں‘‘۔

میکاولی کو یونانی زبان سے بھی تھوڑی بہت واقفیت تھی۔ اپنے زمانے کے کلاسیکی ادب سے بھی اسے خاصا لگاؤ تھا۔ اس کے بچپن اور جوانی کے دور میں میڈیچی (Medici) خاندان اپنے انتہائی عروج پر تھے۔ لیکن لورنزو کی موت کے بعد میڈیچیوں کا زوال ہو گیا اور فلورنس میں جمہوریت قائم ہو گئی۔ فلورنس کے اس جمہوری انقلاب سے میکاولی کی عملی و سیاسی زندگی کا آغاز ہوا۔ 1598ء میں وہ نئی حکومت میں مجلس دہ سری کا سیکریٹری مقرر ہوا اور چودہ برس تک اس اہم عہدہ پر فائز رہا۔ اس مجلس یا شعبہ حکومت کے فرائض و اختیارات میں امور داخلہ و جنگ اور فوجی نظم و نسق شامل تھے۔ وہ فلورنس کے حکمران خاندان ساڈرینی کا دوست تھا۔ خاندان جمہوری حکومت کے قیام کا خواہاں اور انتہاپسندی کا مخالف تھا۔ اس برسراقتدار خاندان سے اپنی دوستی اور قریبی تعلقات کے باعث میکاولی متعدد بار غیر ملکی مذاکرات کے لیے فلورنس کا سفیر چنا گیا۔ اس طرح میکاولی کا تعلق نہ صرف ملکی امور اور سیاست سے بلکہ خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی سیاست سے بھی تھا۔ اپنے فرائض منصبی کو بجا لانے کے سلسلے میں اس کے لیے فطری اور لازمی تھا کہ وہ دوسری اطالوی اور غیر اطالوی ریاستوں کی سیاست سے کماحقہ واقفیت رکھے تاکہ فلورنس کی آزادی اوراس کے مفاد پر کسی طرف سے کوئی آنچ نہ آنے پائے۔

اس طویل عرصہ میں اسے متعدد بار مختلف ملکوں کا سفر بھی کرنا پڑا۔ مثلاً 1500ء میں میکاولی کو فرانس کے لوئی دوازدہم کے حضور میں جانے کا موقع ملا۔ 1502 میں سیزر بورجیا کی خدمت میں پہنچا، 1503ء میں اس نے پوپ پائیس سوم کے انتقال اور نئے پوپ کے انتخاب کے موقع پر روم کا سفر کیا، 1506ء میں اسے پوپ جولیس دوم سے ملنے کا شرف حاصل ہوا۔ اس طرح اس نے فلورنس اور دوسرے ممالک کی سیاسی زندگی کا غائر مطالعہ کیا اور سولہویں صدی میں یورپ کی حکومتیں جن مسائل، مشکلات، خانہ جنگیوں، بغاوتوں، سیاسی شورشوں اور بدامنیوں وغیرہ سے دوچار تھیں اور عملی سیاست میں جن قدروں یا اصولوں پر اس صدی کے حکمران عمل پیرا تھے ان سب کا اسے ذاتی علم اور عملی تجربہ ہوا اور اس کے فکرونظر پر گہرا اثر پڑا۔

دریں اثنا میڈیچی فلورنس میں دوبارہ برسراقتدار آنے کے لیے سازش کر رہے تھے۔ بالاآخر وہ 1512ء میں ساڈرینی خاندان کے تحت حکومت کو پلٹ کر اشرافی طرز کی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو کر رہے۔ اس انقلاب کے بعد میکاولی کا خیال تھا کہ وہ اپنے سرکاری عہدے پر بدستور برقرار رہے گا کیونکہ وہ خود کو ایک مستقل شہری ملازم (سول سرونٹ) تصور کرتا تھا۔ لیکن میڈیچیوں کو ساڈرینی خاندان والوں سے گہرے تعلقات کا بخوبی علم تھا چنانچہ اقتدار سنبھالنے کے تھوڑے عرصہ بعد ہی انہوں نے اس کی وفاداری اور غیر جانبداری کو مشکوک سمجھتے ہوئے اسے اس کے عہدے سے برطرف کر دیا۔ پھر اس کے اوپر ایک سیاسی سازش میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا اور کچھ دن اسے قید و بند کی سختیاں بھی جھیلنی پڑیں۔

آخرکار وہ بری کر دیا گیا۔ 1513ء میں میڈیچیوں کے اقتدار کو اس وقت چار چاند لگ گئے جب ایک میڈیچی یعنی لیو دہم، جولیس دوم کا جانشین ہوا۔ 1513ء سے 1526ء تک میکاولی نے گوشہ نشینی کی زندگی بسر کی اور اس کا فلورنس کی حکومت و سیاست سے کوئی تعلق نہ رہا۔ وہ اپنے حال زار سے بہت کبیدہ خاطر تھا۔ اس نے محسوس کیا کہ اسے دنیا میں بہت کچھ کرنا ہے لہٰذا اسے سابق حکمرانوں کے ساتھ دوستی کا خمیازہ نہیں بھگتنا چاہیے۔ اسے اپنی سیاسی جلاوطنی سے اس قدر کوفت تھی کہ اس نے اپنے سیاسی عہدہ کی بحالی کے لیے ان تھک کوشش شروع کر دی اور چاپلوسی اور خوشامد کے ذریعہ میڈیچیوں کو اپنی لیاقت اور انتظامی صلاحیت کا قائل کرنے میں لگا رہا۔ رعایا کی خوشنودی کب حاصل کرنی چاہیے۔جلاوطنی کے دوران اس کے غوروفکر کا نتیجہ ’’حکمران‘‘ (دی پرنس) اور ’’مقالات‘‘ کی شکل میں نکلا۔ ان تصانیف میں اس نے یہ دکھانے کی کوشش کی کہ مختلف حکومتوں کو مختلف سماجی اور اخلاقی حالات کے تحت کس طرح کام کرنا چاہیے۔ دریں اثنا میکاولی کی میڈیچیوں کو رام کرنے کی کوشش کچھ بارآور ہوئی۔ کیونکہ انہوں نے خوش ہو کر اسے “فلورنس کی تاریخ” لکھنے کے کام پر مامور کر دیا۔ اس تصنیف میں میکاولی کو خود اپنے شہر کی سیاست کے تجزیہ میں اپنے ذاتی نظریات کے اطلاق کا موقع ملا۔ اس تاریخ کا لب لباب یہ ہے کہ سیاست میں چرچ اور پوپ کی مداخلت کے سبب اطالیہ کی وحدت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔

کارڈنل گیولیوڈی میڈیچی نے پراٹیکا کی ’’مجلس ہشت سری‘‘ سے یہ سفارش کی کہ فرانسسکن پادریوں کے اجتماع عام میں سرکاری نمائندہ کے طور پر میکاولی کو بھیجا جائے۔ چونکہ میکاولی پادریوں کا سخت مخالف تھا لہٰذا اولاً اس نے اس مشن کا مذاق اڑایا لیکن پھر اس توقع میں اسے قبول کر لیا کہ شاید یہ مشن اس کے لیے سیاسی عہدے کی بحالی کا پیش خیمہ بن جائے۔1526ء کے موسم بہار تک میڈیچی اس کے کاموں سے اس قدر مطمئن ہو چکے تھے کہ انہوں نے بالآخر اسے ’’شہر کی فصیلوں کے نگہبانوں‘‘ کے سیکریٹری کا اہم منصب عطا کیا۔ بعد ازاں روم کے ہونے والے سقوط کا فلورنس پر اثر ہوا۔ نئی حکومت نے اسے عہدے سے برطرف کر دیا۔ وہ 22 جون 1527ء کو اس دنیا سے چل بسا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: