پنجاب کے عوام سے ایک شکوہ — ظہیر طریر

0

لڑکپن میں جب ـــفارم بـ کی ضرورت پڑی جو کہ آپکی شناخت کی ایک اہم دستاویز ہے، تب نادرا والوں سے واسطہ پڑا ۔یونین کونسل میں اندراج نہ ہونے کے سبب خوب پریشان ہونا پڑا،کچہری سے اشٹام پیپر پر بیان حلفی لکھوا کریونین کونسل میں اندراج والا معاملہ تو طے ہوگیا اورفارم ب کے حصول کیلیے درخواست فارم جمع کروا دیا، لیکن جب مقررہ تاریخ کو فارم ب لینے گیا تو معلوم ہوا کہ سکول سرٹیفکیٹ پرمیرے والد صاحب کا نام مراد خان جبکہ والد صاحب کے شناختی کارڈ پر ملک مراد خان لکھا ہوا ہے جسکے سبب محکمہ نادرا نے اعتراض لگا کر بھیج دیا ہے کہ اس عدم مطابقت کے باعث آپکو فارم ب نہیں مل سکتا، پہلے اسے ٹھیک کرایں۔ چونکہ چھوٹے بہن بھائیوں کے سکول اور برتھ سرٹیفکیٹ پر بھی ایسا ہی لکھا ہوا تھا ،جس طرح کہ میرے سکول کے ریکارڈ میں تھا اسلیے پہلے والد صاحب کے شناختی کارڈ پر نام تبدیل کروانا پڑا جو ایک الگ لمبی داستان ہے۔اس سب کے بعد کہیں جاکر میرا فارم ب بنا ۔ یہ پریشانی صرف مجھے لاحق نہیں ہوئی بلکہ میرے چھوٹے سے شہر نما گائوں کے سینکڑوں لوگ اسکا شکار ہوئے، جدید کمپیوٹرائزڈ نظام کے آنے سے کم پڑھے لکھے اور نچلے طبقے کے لوگوں کو سب سے زیادہ دشواری پیش آرہی ہے۔ کسی کے بچوں کی تاریخ پیدائش کا اندراج نہیں تھا تو کسی بیچارے کا نکاح نامہ تک سرکاری ریکارڈ میں موجود نہ تھا، میں نے کتنے ہی لوگوں کو ان معاملات کی وجہ سے پریشانی کا شکار دیکھاہے ، ایک عورت نے پہلے شوہر سے علیحدگی کے بعد دوسری شادی کی مگر شناختی کارڈ پر پہلے شوہر کا ہی نام درج رہا کئی سال بعد جب انکی بیٹی کو سکول میں داخل کروایا گیا اور کوائف میں والدین کے شناختی کارڈ جمع کروائے گئے تو سکول کے کسی کلرک کی نشاندہی پر انہوں نے نادرا آفس سے رجوع کیا نادرا والوں نے نکاح نامہ مانگا تو معلوم ہوا کہ کہ یونین کونسل میں انکا نکاح ہی رجسٹر نہیں اسکے بعد اس سب کچھ کے لیے انہیں جتنی تکلیف اٹھانا پڑی وہ خدا ہی جانتا ہے ۔
یہ اور ایسے درجنوں واقعات کا میں عینی شاہد ہوں، ایسے لوگ جن کا رات کا چولہا دن میں کمائے گئے چند روپوں سے جلتا تھا انکو بھی ہفتہ ہفتہ بھر معمولی نوعیت کے کام کروانے کے لیے نادرا آفس یونین کونسل کچہریوں اور ہسپتال کے بلاضرورت چکر لگاتے دیکھاگیا ہے، اور حیرت کی بات یہ ہے کہ کسی نے نکاح نامہ یونین کونسل میں جمع نہ کرانے پر نکاح خواں کو کوسا تو کسی نے بچوں کا اندراج نہ کرنے پر یونین کونسل کے چپراسی کو برا بھلا کہا، کچھ ایسے بھی تھے جو اس کو اپنی سستی یا لاپرواہی مانتے تھے، لیکن اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا کہ ہمیں اپنے باپ دادا کی سرزمین جس پر ہم ہزاروں برس سے آباد ہیں اپنی جائز شناخت اور بچوں کے کوائف کے لیے کبھی ایک در پر اور کبھی دوسرے پر کیوں دھکے کھانے پڑتے ہیں۔
یہ تو صرف شناختی کارڈ اور نکاح نامے کے اندراج کی کہانی ہے باقی ہر شعبہ میں بھی ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے عام آدمی کو لیکن مجھے پنجاب کے لوگوں سے ہمیشہ یہ شکوہ رہے گا کہ یہ اپنے اوپر ہونے والے ریاستی جبر کا الزام کسی اور صوبے پر نہیں لگاتے اور نہ ہی انکے دانشور ایسے واقعات کو الفاظ کے موتیوں سے آراستہ کرکے مزید پرسوز بناتے ہیں نا ہی محرومیوں کا سبب کسی مخصوص علاقہ کو ٹھہراتے ہیں بلکہ ان احساس کمتری کا شکار لوگوں کو ہر بات میں اپنی ہی کوئی کوتاہی نظر آجاتی ہے، کل ایک دانشور کی تحریر پڑھی جس میں انہوں نے اپنی قوم کو شناختی کارڈز کے حصول میں درپیش مسائل کا نقشہ کھینچا تو یہ واقعات یاد آگئے اسلیے لکھ دیے ورنہ میں کوی مستقل لکھاری نہ ہوں۔

zaheertarair@gmail.com

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: