بائیس کروڑ آبادی کے بیرونِ ملک اثاثے؟ —– نعمان علی خان

0

کل خانصاحب نے پوری قوم کے نام پیغام میں فرمایا ہے کہ ملک کی آبادی میں سے صرف ایک فیصد لوگ “ٹیکس” دیتے ہیں اور انہوں نے “قوم” سے اپیل کی کہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے فایدہ اٹھائیں اور بیرونِ ملک اپنے اثاثے ملک میں واجبی ٹیکس کی ادائیگی کرکے واپس لے آئیں۔

آجکل حکومت کے ساتھ جوایم کیو ایم کے نمائندے شامل ہیں ان میں سے کچھ ایک زمانے میں کہا کرتے تھے کہ ملک کی صرف دو فیصد آبادی، باقی اٹھانوے فیصد آبادی کی لوٹ مار کررہی ہے- چنانچہ اگر ایم کیو ایم سے بطور اتحادی پی ٹی آئی کا اس بات پر بھی اتفاق ہوگیا ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ چونکہ صورتحال میں کوئی خاص تبدیلی پیدا نہیں ہوئی ہے اس لئیے خان صاحب کے مطابق ملک کی آبادی کا صرف ایک فیصد حصہ اگرٹیکس دے رہا ہے تو باقی جو طبقہ لوٹ مار کرکے بیرونِ ملک پیسہ لے گیا ہے وہ بھی یقیناً آبادی کا ایک فیصد ہی ہوگا۔ کیونکہ ایم کیو ایم کے نمائندوں کی سابقہ تقاریر [جن کی کبھی کسی موقر ادارے نے تردید نہیں کی] کے مطابق تو آبادی کا صرف دو فیصد حصہ لوٹ مار میں مصروف رہا ہے۔

سو، ہمیں بین طور پر جو کچھ دکھائی دے رہا ہے اس میں تویہ دو فیصد جوملک پر قابض ہیں، انہوں نے عوام کے حقوق ادا کرنے کے اپنے آئینی فرائض کو ہر مد میں کسی نہ کسی دکھاوے کی واردات کے نیچے چھپایا ہوا ہے۔ اِن میں سے کچھ “نیک دِل”، رمضان میں غریبوں کیلئیے اجتماعی افطاری کا بندوبست کردیتے ہیں اور باقی سارا سال اِن اٹھانوے فیصد کی روزی روٹی، کپڑا مکان علاج کو بھلائے رکھتے ہیں۔ اور یوں آرٹیکل 38 کی کھلی خلاف ورزی میں، عوام کا خون نچوڑتے رہتے ہیں۔ اِن میں سے کچھ “نیک کردار”، ڈھائی فیصد ذکٰوۃ دے کر سارا سال بیس فیصد ٹیکس سے قومی خزانے کو محروم رکھتے ہیں۔ ان میں سے کچھ، جو حکومت میں آتے ہیں تو ھیلتھ کارڈز کے اجرا کے ڈرامے کرکے آرٹیکل 38 ڈی کے مطابق پوری آبادی کی مکمل صحت کی سہولت کی ذمے داری سے جان چھڑانے کیلئیے، چند ہزار خاندانوں اور چند لاکھ روپے کی سہولت کے دائرے میں اپنی ذمے داری ادا کرنے کا ڈھکوسلہ کرتے ہیں۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعہ چند سو روپے فی خاندان اور چند لاکھ افراد کورلا رلا کر رقم دے کر، اپنے سوشل سیکیورٹی کی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوجاتے ہیں۔ کبھی میٹرو بسیں چلاتے ہیں، کبھی پیلی ٹیکسیاں بانٹتے ہیں، کبھی لیپ ٹاپس کی تقسیم کے ڈرامے کرتے ہیں اور آپ کی حکومت نے تو حد ہی کردی۔ پاکستان کے اسلامی فلاحی آئین کی ساری اسلامی فلاحی شقوں کوغیر اہم ثابت کرنے کیلئیے آپ سمیت آپ کا کوئی بھی وزیر اس ملک کے فلاحی آئین کی شقوں کا حوالہ نہیں دیتا بلکہ ہر بات، وعدے کی شکل میں مستقبل کے حوالے سے کرتے ہیں۔ پاکستان کے اسلامی آئین کو غیر مذکور کرکے آپ ریاستِ مدینہ بنانے کا وعدہ کررہے ہیں جبکہ اگر آپ اس ملک کے اسلامی آئین کے احکامت پر فوراً عمل شروع کردیں تو یہ ملک فوری طور پر اسلامی فلاحی ریاست بن جائے گا جس کی تطبیق حضرت عمر رض نے ریاستِ مدینہ میں کی تھی۔ آپ کہتے ہیں لوگوں کو روزگار، روٹی کپڑا مکان اور ھیلتھ کئیر اس ریاستِ مدینہ میں ملے گا جو آپ مستقبل میں تشکیل دیں گے، اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین آرٹیکل 38 ڈی میں آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ فوری طور پر یہ سب کچھ عوام کو مہیا کریں اور آرٹیکل 29 سی میں صدرِ مملکت کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس بابت عوام کے نمائندوں کے سامنے اس بات کی رپورٹ پیش کریں کہ آپ کی حکومت نے کس حد تک عوام کے یہ حقوق ادا کئیے اور آپ نے مستقبل کی ریاست مدینہ کے بہانے عوام کے فوری حقوق ادا کرنے کے فرض سے کوئی آنا کانی تو نہیں کی؟

جب گزشتہ شب “قوم کے نام پیغام” کی اصل مخاطب محض دو فیصد آبادی ہے کہ جِس سے انتہائی رِقت کے ساتھ وزیر اعظم نے بیرونِ ملک سے اثاثے واپس لانے کی اپیل کی، تو یہ اپیل ٹی وی چینلز پر پوری قوم سے کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ آخر وزیرِ اعظم صاحب نے باقی اٹھانوے فیصد، لٹی پٹی، تباہ حال، بے یارومددگار “قوم” کو مخاطب کیوں کیا؟ ان پر “بیرونِ ملک اثاثے” رکھنے کے غیر سنجیدہ شک کا اظہار کرکے ان بیچاروں کے زخموں پر نمک پاشی کیوں کی؟ یہ کیسا سرکاری مذاق ہے کہ لوٹ مار اور ملک کا بیڑا غرق آپ کے اپنے طبقے کے چند لاکھ افراد کریں اور آپ ان کی کم ظرفیوں اور جرائم کے حوالے سے ملک کے عوام کو گِلٹی کرنے لگیں مگر مجرموں پر ہاتھ نہ ڈالیں۔ بلکہ ان سے آپ لجلجا کرملک اور قوم کی مدد کرنے کی درخواست کریں؟

آپ کے ایک خزانے کے ماہر نے چند ہفتے پہلے ہی ٹی وی پر دعویٰ کیا تھا کہ حکومت کے پاس ان چند ہزار لوگوں کے ناموں کی لِسٹیں موجود ہیں جن کے بیرونِ ملک، بے نامی اکاوٰنٹس ہیں۔ تو حضورِوالا آپ کیا ان لِسٹوں کا اچار ڈال رہے ہیں؟ یا وہ لِسٹیں صرف سیاسی جوڑ توڑ کیلئِے رکھی ہوئی ہیں؟ کیوں نہیں سامنے لاتے وہ نام؟ کیوں نہیں بتاتے کہ پاکستانیوں کی کل کتنی لٹی ہوئی دولت بیرونِ ملک موجود ہے؟ کیوں نہیں بتاتے کہ اس دولت میں سے کتنی رقم، کتنی مدت میں آپ واپس نکلوا ئیں گے؟ جنابِ اعلیٰ اتنے دھوم دھڑکے سے ٹی وی چینلز پر قوم کو مخاطب کرنے کی بجائے آپ ان سب غداروں کو بغیر کسی رعایت کے پکڑیں، مقدمے چلائیں اور بیرون ملک چھپائی گئی دولت واپس لاکرریاست کے اکاوٰنٹ میں جمع کروائیں۔ آپ کو اِسی کام کیلئِے تو “قوم” نے منتخب کیا ہے۔ آپ کے پاس کوئی بڑا آدرش، کوئی بڑا آئیڈیلزم نہ ہو، نہ سہی لیکن کوئی گول سیٹنگ؟ کوئی ٹارگِٹس؟ کوئی کے پی آئیز؟ کیا یہ بھی نہیں؟

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: