معروف کالم نگاروں کے ورلڈکپ پر دلچسپ تبصرے

0

مصنف: امیر معاویہ

ورلڈکپ کے آغاز کے ساتھ ہی کرکٹ کے پرستار حسبِ روایت دو طبقوں میں بٹ چکے ہیں۔ ایک طبقے کا کہنا ہے کہ موجودہ کارکردگی کے پیشِ نظر ٹیم سے کسی قسم کی امید رکھنا فضول امرہے۔ دوسرے طبقے کا خیال ہے کہ یہی ٹیم کسی بھی وقت بساط کا پانسہ پلٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اپنی اس ناقابلِ یقین صلاحیت کے بل پر یہ کوئی بھی کارنامہ سرانجام دے سکتی ہے۔

اس تناظر میں ہماری چند قابلِ احترام صحافتی شخصیات کی رائے کیا ہوسکتی ہے؟ اس سے متعلقہ چند پیروڈی تبصرے حسبِ ذیل ہیں۔

رؤف کلاسرا
28 مئی کے اس گرم دن میں اسلام آباد کے ٹھنڈے ایوان میں اس وقت میرے سامنے خواجہ آصف رقت آمیز انداز میں قوم کو یاددہانی کرا رہے ہیں کہ اکیس برس قبل تمام تر عالمی دباؤ کے باوجود ایٹمی دھماکے کرنے والا لیڈر پابندِ سلاسل ہے۔ جلد ہی اس کے جواب میں مراد سعید ایک دھواں دار تقریر کے ذریعے بتائیں گے کہ خواجہ آصف کا لیڈر کیوں پابندِ سلاسل ہے۔ جبکہ میں پارلیمنٹ کی گیلری میں بیٹھا سوچ رہاہوں کہ اگر خان صاحب کے دورِ حکومت میں کرکٹ ٹیم افغانستان سے بھی ہار جائے گی تو پھر پیچھے کیا رہ جاتا ہے۔

شکستوں کے اس حالیہ سلسلے پرغور وفکر کرتے مجھے بچپن کی وہ کرکٹ ٹیم یاد آگئی جو کالی آندھی سے ان کے گھر میں بھی بھڑ جاتی تھی۔ ریڈیو پر اس ٹیم کی شاندار کارکردگی پر فی البدیہہ کمنٹری سننا بچپن کے چند تفریحی مشاغل میں سرفہرست تھا۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ جب ورلڈکپ کے میچز امتحانات کے دوران آجانے کی وجہ سے اماں نے ریڈیو سننے پر پابندی لگا دی تھی۔ اماں کو منانے کی ہر کوشش میں ناکامی کے بعد میں نے نعیم بھائی کے سامنے ریڈیو کی بازیابی کا مطالبہ رکھا۔ نعیم بھائی اماں کی پابندی کو حق بجانب سمجھتے تھے مگر انہیں میری ضد کے آگے ہتھیار ڈالنے پڑے۔ اب مسئلہ تھا کہ ریڈیو کو اماں کی گرفت سے کیسے چھڑایا جائے۔ اچانک نعیم بھائی کو کچھ سوجھا اور وہ میرا بازو پکڑا کر تیزی سے اس الماری کی طرف بڑھنے لگے جس میں اماں نے ریڈیو بند کر رکھا تھا۔ گاؤں کی چند خواتین کے ساتھ گفتگو میں مصروف اماں کسی بھی وقت کمرے میں آسکتی تھیں۔ کیا نعیم بھائی اماں کے آنے سے پہلے ریڈیو نکال لینے میں کامیاب ہو پائیں گے، میرے اندر سنسی بڑھتی جا رہی تھی۔ (جاری)

ہارون الرشید
آدمی اپنی افتادِ طبع کا اسیر ہوتا ہے۔ کیا پراگندہ طبع مکی آرتھر اوربے حوصلہ سرفراز احمد اس بے سمت ہجوم کو منزل تک پہنچا پائیں گے؟ موجودہ حالات کچھ اچھی صورت پیش نہیں کرتے۔
چار سال بعد کرکٹ ٹیم کو ایک بار پھر ورلڈکپ جیسے طوفانِ بلا خیز کا سامنا ہے، جسے قومی تاریخ میں صرف ایک بار، جی ہاں، صرف ایک بار سر کیا گیا۔ جس کا سہرا کپتان کو عارفِ عصر کی دی گئی خوشخبری اور سپہ سالار کے مشوروں کو جاتا ہے۔ موجودہ ٹیم کیا ورلڈ کپ کھیلے گی جس کے پرستار سرِ عام عارف کا ٹھٹھہ اڑاتے اور سپہ سالار پر بھپتیاں کستے ہیں۔ ٹیم کا حال پرستاروں سے بھی کمتر ہے۔ جوش سے عاری نوجوان کھلاڑی ہمت بڑھانے کے لیے سینئر کھلاڑیوں کی طرف دیکھتے ہیں اور سینئر کھلاڑی میدان میں کارکردگی دکھانے کی بجائے سواریاں ڈھونے میں مصروف ہیں، الخذر، الحذر۔ ٹیم مینجمنٹ اور کھلاڑی ابھی تک سمت کے تعین میں ناکام ہیں۔
آدمی اپنی افتادِ طبع کا اسیر ہوتا ہے۔ کیا پراگندہ طبع مکی آرتھر اوربے حوصلہ سرفراز احمد اس بے سمت ہجوم کو منزل تک پہنچا پائیں گے؟ موجودہ حالات کچھ اچھی صورت پیش نہیں کرتے۔

خورشید ندیم
یہ ایک کھیل کا سادہ معاملہ نہیں۔ اس کا تعلق قومی نفسیا ت سے ہے۔ یہ عالمی کپ ہے جناب!
ایک عالمی ٹورنامنٹ میں ٹیم کی کارکردگی میدان میں اترنے والے گیارہ کھلاڑیوں تک محدود نہیں ہوتی۔ اس کا تانہ بانہ دیگر ٹیموں کی استعداد کار اور مقامی سیاسی استحکام سے بھی جڑا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے کسی پروفیشنل کوچ پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ اس کا تعلق سیاسی حرکیات سے ہے اور اس کے لیے ایسے صاحبانِ بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے جو کھیل کے تکنیکی پہلوؤں کے ساتھ ڈرائنگ روم کے ماحول پر بھی اثر انداز ہو سکیں۔
سیاسی طور پر نیم خواندہ معاشروں میں نوجوان آسانی سے “پاپولزم” کا ہدف بن جاتے ہیں۔ وہ اس ” پوسٹ ٹروتھ” کا شکار ہوجاتے ہیں کہ حالیہ کارکردگی اور کھلاڑی کا ریکارڈ ہی سلیکشن کا واحد معیار ہو نا چاہیے۔ ان نوجوانوں کو یہ بات سمجھنا چاہیے کہ عابد علی او ر عثمان شنواری کو شعیب ملک اور وہاب ریاض پر ترجیح نہیں دی جاسکتی کیونکہ مؤخر الذکر کھلاڑیوں نے برسوں ٹیم میں رہ کر وہ “عصبیت ” حاصل کر لی ہے جو کارکردگی کی محتاج نہیں ہے۔

ایاز امیر
ورلڈکپ سے قبل تمام ٹیموں کے کپتانوں کے ساتھ میڈیا سیشن کے اختتام پر آئی سی سی کی جانب سے جاری کی گئی تصویر نظر سے گزری۔ آسٹریلیا، انگلینڈ یہاں تک کہ ہمارے ہمسایہ ملک کے کپتان انتہائی طمطراق سے تشریف فرما ہیں۔ اور کیوں نہ ہوں، ان سب ممالک کے کھلاڑیوں کے لیے سامانِ کھیل کی وافر مقدار دستیاب ہے۔ ورلڈکپ کے لیے ان کا بندوبست پورا ہے۔ واقفانِ حال بتاتے ہیں، ان تمام ٹیموں کے ہوٹل فلورز پر پورے پورے میخانے کا بندوبست کیا گیا ہے جہاں وسکی، برانڈی او ر وائن کی بلاتعطل سپلائی کا انتظام ہے۔
ہمارے کھلاڑیوں نے تو ان برانڈز کا نام تک نہ سنا ہوگا۔ سامانِ کھیل کی اس شدید کمی کے ساتھ یہ پریشان حال ٹیم ورلڈ کپ میں ان ٹیموں کا کیسے مقابلہ کرپائے گی؟

حسن نثار
ملک کی معیشت کا جنازہ نکل چکا اور یہ قوم ورلڈکپ کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے۔ او جاہلو، تم نے آج تک کھیل کے میدان میں کیا کارہائے نمایاں سر انجام دیا ہے جو منہ اٹھا ئے ہر ایرا غیرا نتھو خیرا ورلڈکپ جیتنے کی بات کر رہا ہے۔ آج تک تم نے ایک تکے سے جیتے ہوئے ورلڈ کپ کے سوا کرکٹ میں کیا تیر مار لیا ہے جو آسٹریلیا اور بھارت سے مقابلے کی باتیں کرتے ہو۔
وہ ٹیم ورلڈکپ میں کسی کو کیا ہرائے گی جس کے آدھے سے زیادہ کھلاڑی کرکٹ سے زیادہ اشتہارات پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔ اگر یہ لولی لنگڑی ٹیم ورلڈکپ میں کچھ کر دکھانے میں کامیاب ہو بھی گئی تو ایک تبلیغی مولوی کی منٹخب ٹیم کے ذریعے ورلڈکپ جیت کر تم دنیا کو کیا پیغام دینا چاہتے ہو؟ تف ہے تم پر اور تمہاری ٹیم پر۔

جاوید چودھری
آپ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں، ان فارم ٹاپ آرڈر، تجربہ کار مڈل آرڈر اور نوجوانوں کے ساتھ ساتھ سینئر باؤلرز کی موجودگی کے باوجود ہم مسلسل شکستوں کا شکار کیوں ہیں؟ آخر کیا وجہ ہے کہ ہمارے بلے باز شاندا ر آغاز کے باوجود میچ فنش کرنے میں ناکام ہیں جبکہ لو سکورنگ مقابلوں میں بھی مخالف ٹیم کی ناک میں دم کر دینے کی شہرت رکھنے والے ہمارے باؤلرز وکٹیں حاصل کرنے کا فن بھولتے جا رہے ہیں۔
ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے گزشتہ ورلڈکپ میں کوارٹر فائنل تک بھی رسائی حاصل نہ کر پانے والا انگلینڈ اس وقت نمبرون ون ڈے ٹیم بن چکا ہے۔ کمزور باؤلنگ کے لیے مشہور انڈیا اس وقت ایک روزہ مقابلوں کے بہترین باؤلنگ اٹیک سے لیس ہے۔ محض ایک سال قبل بال ٹمپرنگ سکینڈل کا شکار ہونے والا آسٹریلیا دوبارہ ردھم پکڑ چکا ہے اور ان کی ٹیم چھٹے ورلڈکپ ٹائٹل کے حصول کے کے لیے تیار نظر آتی ہے۔ جبکہ دو سال قبل انہی میدانوں میں چمپئنز ٹرافی جیتنے والی ہماری ٹیم ان ٹیموں کے مقابلے میں ترانوالہ محسوس ہوتی ہے۔
یہی سوال میں نے حالیہ دو رہ آسٹریلیا کے دوران دو مرتبہ کینگروز کو ورلڈکپ جتوانے والے کپتان رکی پونٹنگ کے سامنے رکھا تھا۔ جہاندیدہ کھلاڑی نے حسبِ عادت ہتھیلی پر تھوک پھینک کر دونوں ہاتھوں کو مسلااور مبہم مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا ” پاکستانی ٹیم کا مسئلہ تسلسل ہے، جس دن آپکی سلیکشن اور کارکردگی میں تسلسل آگیا لوگ آپ کو سیریس بھی لیں گے اور آپکی ٹیم کے لیے فتوحات کا دروازہ بھی کھل جائے گا۔ ”

اوریا مقبول جان
گزشتہ دو دہائیوں سے دنیا بھر کے نوجوانوں کو اپنی مرضی کے مشاغل میں مصروف رکھنے اور اپنے نظریات کا اسیر بنانے کے لیے عالمی سودی، مالیاتی، سیکولر کارپوریٹ نظام نے میڈیا اور کھیل کا بھرپور استعما ل کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے بڑے بڑے فٹبال کلب بنائے گئے اور سال بھر چلنے والی لیگز کے ذریعہ خطہ عرب کے نوجوانوں کو عملی طور پر مفلوج کر دیا گیا ہے۔ ان عرب نوجوانوں کا رول ماڈل اب فلسطینی مزاحمت کار نہیں رہے بلکہ یہ نوجوان اب زندگی گزارنے کے ڈھنگ کے لیے محمد صلاح کی جانب دیکھتے ہیں۔
جنوبی ایشیائی نوجوان فٹبال کی لت میں ایک حد سے زیادہ مبتلا نہ ہوئے تو ان کو کرکٹ کا چارہ ڈالا گیا۔ اب یہ حالات ہیں کہ اگلے ڈیڑھ ماہ تک جنوبی ایشیاء میں کاروبارِ زندگی ٹھپ رہے گا اور ہر خاص و عام اپنی اپنی ٹیموں کی حمایت کی نام پر اس استعماری کھیل کے گن گائے گاجس کا ورلڈ کپ مئی کے آخر سے جولائی کے وسط تک جاری رہے گا۔ یہ ٹورنامنٹ کوئی بھی جیتے، استعار کی فتح یقینی ہے۔

مجیب الرحمٰن شامی
کرکٹ شاید وہ واحد چیزہے جو پاکستانی قوم کو یکجا کردیتی ہے۔ ہر ورلڈکپ سے قبل ٹیم کی ناقص کارکردگی پر اظہارِ تشویش اور پھر ایک سنسنی خیز فتح کے بعد قوم کی امیدوں کا آسمان کو چھونے لگنا، ہمارے ہاں معمول کی کاروائی بن چکی ہے۔ ایک بار پھر ورلڈکپ سر پر ہے اور سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ اس وقت ملک میں وزارتِ عظمیٰ کی کرسی پر وہ شخص متمکن ہے جو اب تک واحد ورلڈکپ جیتنے والی ٹیم کا کپتان تھا۔ قوم توقع رکھتی ہے کہ ورلڈکپ کے لیے روانگی سے قبل وزیرِ اعظم سے مل کر جانے والی ٹیم ورلڈکپ میں اسی جذبے کا مظاہرہ کرے گی جس کا مظاہرہ بانوے کا ورلڈکپ جیتنے والی ٹیم نے کیا تھا۔ کیا ہی اچھا ہو اگر حکومت اس موقع پر نوازشریف کو رہا کردے تاکہ انگلستان میں موجود ٹیم مکمل یکسوئی کے ساتھ مقابلوں میں حصہ لے سکے۔

عامر خاکوانی
خاکسار کا کرکٹ سے تعلق صحافت سے بھی پرانا ہے۔ بچپن میں کرکٹ کھیلنے کی پے در پے ناکام کوششوں کے بعد میں نے صرف دیکھنے پر توجہ مرکوز کرلی۔ ا س دوران گاہے بگاہے کرکٹ پر تبصروں کا شوق بھی پورا ہوتا رہتا ہے۔ مگر سچ پوچھیے تو گزشتہ چند برسوں سے اب کرکٹ دیکھتے ہوئے وہ یکسوئی نصیب نہیں ہو پاتی جو کبھی میں اپنے لیے لازم و ملزوم سمجھتا تھا۔ اس کی اولین وجہ تو پیشہ وارانہ مصروفیات ہی ہیں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ میں دیانتداری کے ساتھ یہ سمجھتا ہوں کہ ہماری کرکٹ ایک عرصے سے جمود کا شکار ہو چکی ہے۔ ہم برسوں سے ایک جیسے مسائل کا رونا رو رہے جس میں اولڈ فیشنڈ اپروچ، کپتانی کے مسائل اور داخلی سیاست سرفہرست ہیں۔ یہ جمود توڑنے کےلیے ہماری سپورٹس انٹیلیجنشیا کو آگے آنا ہوگا خاص طور پر اسلامسٹ حلقوں پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہماری کرکٹ فتوحات میں دعاؤں کا خصوصی حصہ رہا ہے۔
اس سلسلے میں، میں اپنی چند گزارشات بھی اگلی نشست میں پیش کروں گا۔

عاصم اللہ بخش
ورلڈ کپ کا آغاز ہو چکااور اب یہ بحث پرانی ہوچکی کہ کسے منتخب ہونا چاہیے تھا اور کسے ڈراپ۔ ورلڈکپ سے قبل مسلسل ناکامیوں سے ٹیم کا مورال تو یقیناً ڈاؤن ہو گا۔ مگر یاد رکھیے کہ کھیل کے میدان میں ماضی سے زیادہ اہم یہ ہوتا ہے کہ مقابلے کے روز کون بہتر کھیلا۔
سو پاکستانی ٹیم کے سامنے اس وقت دو راستے ہیں:
پہلا طریقہ تو وہی ہے جو گزشتہ کئی ماہ سے چلا آ رہا ہے یعنی ڈھیلے ڈھالے انداز میں میدان میں اترے، رسمی کاروائی کے طور پر نو میچز پورے کرے اور کان لپیٹ کر گھر واپس آجائے۔
دوسرا راستہ وہ ہے جس پر چل کر خان صاحب کے کارنرڈ ٹائیگرز نے میدان مارا تھا یعنی ابتدائی شکستوں سے دلبرداشتہ ہوئے بغیر میدان میں سو فیصد کاکردگی دکھانے کی کوشش، موسم کےتیور اور دیگر مقابلوں کے نتائج اپنے حق میں رہنے کی دعا۔ یہ راستہ کٹھن ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔

آصف محمود
ٹیم کا جیت نہ پانا ایسی کوئی بات نہیں جس پر مایوس ہوا جائے۔ ہم پہلے بھی کئی بار ایسے ادوار سے گزر چکے ہیں۔
مسئلہ البتہ اور ہے او ر وہ اربابِ اختیار کا لا ابالی پن ہے۔ جب چیف سلیکٹر جانتے تھے کہ انگلینڈ کے خلاف سیریز میں موجودہ باؤلرز بری طرح ناکام ہو سکتے ہیں اور آپ کو وہاب ریاض جیسے چلے ہوئے کارتوس کی دوبارہ ضرورت پڑسکتی ہے تو دو ماہ قبل یہ بیان دینے کی کیا ضرورت تھی کہ وہاب ریاض ہمارے پلان میں شامل نہیں ہے۔ اور اب اسے شامل کرنے کے بعد باجماعت ایک سو چالیس کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار کے فضائل بیان کرنا کیوں اس قدر اہمیت اختیار کرگیا ہے۔
رویہ اہم ہے اور ٹیم مینجمنٹ کے رویے ہی اصل مسئلہ ہیں۔ مکی آرتھر زبردستی فہیم اشرف کو آل راؤنڈر اور یاسر شاہ کو ون ڈے باؤلر بنانے کی کوشش کرتے رہے اور سرفراز سامنے آکر ٹیم کو لیڈ کرنے سے کترار ہے ہیں۔ ان رویوں کے ساتھ ورلڈکپ میں وہی کارکردگی دکھائی جاسکتی ہے جس کا مظاہرہ عثمان بزدار یا اسد عمر کرتے رہے ہیں۔

خالد مسعود
ہراہم واقعے سے قبل چوہدری میرے سر پر سوار ہو جاتا ہے کہ میں اس معاملے میں اپنی رائے دوں۔ چوہدری جب ایک بار یہ مطالبہ داغ دے تو اس سے جان چھڑانا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس با ر چوہدری ورلڈکپ ٹائٹل کے لیے فیورٹ ٹیموں اور اس ورلڈکپ میں پاکستانی ٹیم کے امکانات بارے میری رائے جاننا چاہتا تھا۔ میں نے کئی بار موضوع بدلنے کی کوشش کی مگر چوہدری کے اصرار پر عاجز آکر اسے سمجھایا کہ فیورٹ ٹیمیں تو وہی ہیں گزشتہ چند ماہ سے تسلسل سے فتوحات حاصل کررہی ہیں اور پہلے بھی کئی آئی سی سی ٹورنامنٹس اپنے نام کرچکی ہیں۔ رہی پاکستانی ٹیم کے امکانات کی بات تو اس بار فارمیٹ ایسا ہے کہ نو میچ تو کھیلنے کو ملیں گے، اس کے بعد کیا ہوگا: یہ جولائی کے آغاز تک واضح ہو جائے گا۔ اللہ اللہ خیر صلا۔

(Visited 462 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: