عصمت چغتائی. روایت شکنی سے روایت سازی تک —- محمد تیمور

0

اس سے پہلے میں نے عصمت چغتائی کا ایک آدھ افسانہ کےعلاوہ کچھ نہیں پڑھا تھا کچھ نصاب میں شامل نہ ہونے اور نصاب کے بوجھ کی وجہ سے عصمت چغتائی کے متلعق معلومات میرے علم میں نہیں تھیں. میڈم ڈاکٹر فرزانہ کوکب کی کتاب روایت سازی سے روایت شکنی تک میرے ہاتھ لگی، اس کے مطالعہ سے میں نے بہت کچھ سیکھا۔ میڈم نے عصمت چغتائی کے حالات زندگی خاندان اور تقریبا نصف صدی میں عصمت چغتائی نے جتنا ادب تخلیق کیا اس کو ایک کتاب میں یکجا کیا ہے۔ عصمت چغتائی کے بارے میں ایسی مستند کتاب اس سے پہلے میری نظر سے نہیں گزری۔ کتاب کو فکشن ہاؤس لاہور نے شاہع کیا اور 416 صفحات پر مشتمل ہے۔ پیش لفظ ڈاکٹر قاضی عابد صاحب نے لکھا ہے۔ باغی روحیں مضطرب اور بے چین ہوتی ہیں ایک دوسرے کی تلاش میں بسا اوقات زماں و مکان کو بھی خاطر میں نہیں لاتی اور ایک دوسرے کو تلاش کر کہ ہی دم لیتی ہیں. یہی صورتحال عصمت چغتائی اور ڈاکٹر فرزانہ کوکب کی ہے۔ کتاب کا تعارف قاضی جاوید صاحب نے کیا ہے۔ کتاب پر معروف مورخ ڈاکٹر مبارک علی کی راے کتاب کی اہمیت کو مذید بڑھا دیتی ہے۔ حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا میں میڈم فرزانہ کوکب نے عصمت چغتائی کے فن کے ساتھ شعبہ اردو کے مہربانوں کا ذکر کیا ہے۔

باب اول میں عصمت چغتائی کے حالات زندگی اور خاندان اور شخصیت کا ذکر ہے۔ عصمت چغتائی کا قلمی نام عصمت چغتائی ہے لیکن ان کا خاندانی نام عصمت خانم چغتائی ہے، انھوں نے خود ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ میرا پورا نام عصمت چغتائی ہے اور گھر پر منی کہا جاتا ہے۔ عصمت چغتائی کی پیدائش 21 جولائی 1915 کو بمقام بدایوں یوپی میں ہوئی جبکہ کچھ ناقدین ان کی پیدائش 21اگست بتاتے ہیں۔ عصمت چغتائی کے خود ایک انٹرویو میں اپنی پیدائش کچھ اس طرح بیان کی ہی. میں بدایوں میں 21 جولائی 1915 کو پیدا ہوئی۔ میری امان پڑوس کی سہیلی کی شادی میں جانے کیلیے بیٹھی دوپٹے پر ٹھپہ لگا رہی تھی مہترانی جھاڑو دے رہی تھی کہ میں بغیر اطلاع کے ایک دم پیدا ہو گئی۔ یوں تو اور بچوں کی پیدائش پر میم ایا کرتی تھی مگر مجھے مہترانی نے سنھبالا اور اسی نے نال کاٹا اس لیے بڑے بہن بھائی بھنگن کی لونڈیا کہ کر چڑایا کرتے تھے۔ عصمت چغتائی کے دادا کا نام کریم بیگ چغتائی تھا ان کا سلسلہ نسب چنگیز خان سے ملتا تھا۔ چنگیز خان کے دو بیٹے ہلاکو خان اور چغتائی خان تھے۔ ہلاکو خان تلوار کا دھنی تھا لیکن چغتائی خان علم وادب کا دلدادہ تھا یہی وجہ ہے کہ چغتائیوں میں علمی وادبی رحجان بدستور چلا آرہا ہے عصمت چغتائی اپنی آپ بیتی کاغذی ہے پیرہن میں لکھتی ہیں. ہمیں کسی حالت میں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہم چنگیز خان کی اولاد ہیں اور چغتائی خان ان کا بیٹا تھا اور مرزا یہاں دو نقطے بڑی اہمیت رکھتے ہیں خالی مرزا سے بات نہیں بنتی یہ لفظ میر زادہ تھا جو میرے جد امجد نے کشتوں پر پشتے لگا کر اور خون کی ندیاں بہا کر حاصل کیا تھا. عصمت چغتائی کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی اور تیرہ سال کی عمر میں قرآن مجید ختم کر دیا تھا عصمت چغتائی کا خاندان اگرچہ روشن خیال تھا لیکن صرف مردوں کی تعلیم کی حد تک ہی تھا عورتوں کی تعلیم کے متعلق ان کے وہی فرسودہ اور بودسیدہ نظریات تھے۔ عصمت چغتائی کی والدہ لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف تھیں۔ عصمت چغتائی خود لکھتی ہیں:

میری اماں مجھے پڑھانا چاہتی تھیِ پانچ برس کی عمر میں مولوی صاحب سے پہلا قاعدہ پڑھا اماں سپارہ پڑھانا چاہتی تھی اور میں سکول جانا چاہتی تھی اور امان مجھے کوستی تھی۔

تعلیم کے معاملے میں عصمت چغتائی کے بڑے بھائی عظیم بیگ چغتائی اس کی بہت مدد کیا کرتے تھے ڈاکٹر خالد اشرف سے ایک ملاقات میں انھیں بتایا کہ ،،میرے گرو میرے بھائی عظیم بیگ چغتائی تھے انھوں نے اپنی اولاد سے زیادہ میری تعلیم وتربیت پر توجہ دی اور میرے خیالات کو روشنی بخشی عصمت چغتائی کی ساری زندگی ہنگاموں میں گزری 24 اکتوے 1991 کو ان کی وفات کے بعد ایک اور ہنگامہ کھڑا ہو گیا کہ عصمت چغتائی کی وصیت کے مطابق ان کی میت کو قبر میں اتارنے کے بجائے جلا دیا گیا سرفراز سید اپنے مضمون میں لکھتے ہیں عصمت چغتائی کے بارے میں معلومات اکھٹی کر رہا تھا مگر اس دوران ایک اور ہنگامہ ہو گیا کچھ اخبارات نے شور مچایا کہ عصمت چغتائی کی لائش کیوں جلاہی گئی معلوم ہوا عصمت نے خود وصیت کی تھی اس پر مذید ہنگامہ کھڑا ہو گیا کہ ایسی وصیت کیوں کی تھی.

ڈاکٹر فرزانہ کوکب لکھتی ہیں. عصمت چغتائی کے مزاج میں ضد کے ساتھ بغاوت منہ زوری اور زبان درازی کی عادت بھی پچپن ہی سے تھی۔ اس کی ایک وجہ تو ان کا وہی احساس محرومی تھا۔ ان کے نزدیک ان کے جیتے جاگتے وجود کو غیر اہم قرار دے کر ان کی ہستی کی توہین کی گئی تھی اور وہ اس توہین کا بدلہ ہر شخص سے زبان درازی اور بد تمیزی سے لیا کرتی تھی۔ دوسرے باب میں میڈم فرزانہ کوکب نے عصمت چغتائی کی افسانہ نگاری کا جائزہ پیش کیا ہے عصمت چغتائی نے جس زمانے میں لکھنا شروع کیا اس دور میں عام طور پر شریف گھرانوں کے متعلق لڑکیوں کے افسانے یا شاعری لکھنا بجائے خود آوارگی کے مترادف تھا۔ عصمت چغتائی بھی اس بات کا اعتراف کرتی ہیں کہ ان کے لکھنے کے خلاف پہلی آواز ان کے گھر اور خاندان کی بوڑھیوں کی طرف سے آئی تھی۔ عصمت نے ایسے دور میں لکھنا شروع کیا جب خواتین افسانہ نگار معاشرے کے مسائل کو مرد کی آنکھ سے دیکھ کر لکھتی تھیِ جبکہ عصمت نےبان تمام مسائل کو عورت کی عینک سے دیکھا اور ان کے احساسات کو سچائی کے ساتھ بلند کیا۔

تیسرے باب میں ڈاکٹر فرزانہ کوکب نے عصمت چغتائی کی ناول نگاری پر تجزیہ پیش کیا ہے۔ عصمت چغتائی نے کل چھ ناول لکھے ان کی ناول نگاری میں شمولیت 1940 میں اپنے ناول ’’ضدی‘‘ کی اشاعت کے ساتھ ہوئی اور ناول نگاری میں اپنا سفر جاری رکھا۔ عصمت چغتائی کے ناولوں میں مخلوط قسم کے رحجانات ملتے ہیں۔ انہیں انور پاشا تین حصوں میں تقسیم کرتے ہیں: فرسودہ اور رجعت پرست سماجی اور مذہبی اقدار و نظام سے بغاوت کا رحجان، اقتصادی اصلاح اور اشتراکیت کا رحجان، نفسیاتی اور جنسی حقائق کی عکاسی کا رحجان۔

باب چہارم میں میڈم عصمت چغتائی کے ناولٹ خاکہ نگاری ڈرامے رپورتاژ آپ بیتی پر اپنا تجزیہ پیش کرتی ہیں۔ عصمت چغتائی کا ناولٹ در حقیقت سماج کے خود ساختہ عزت و ذلت کے دہرے معیار کھوکھلی قدروں شریف اور معزز کہلانے والے طبقوں بالخصوص نواب خاندانوں پر ایک طمانچہ ہے.

باب پنجم میں عصمت چغتائی کے مقام و مرتبہ کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ میڈم لکھتی ہیں اردو ادب کی روایت میں عصمت چغتائی جتنی بلند مرتبہ ہے اتنی متنازعہ بھی ہے معاشرے کی کھوکھلی روایات اور دوغلے چہروں کو بے نقاب کرنے میں عصمت چغتائی نے قلم کی تلوار سے بھر پور وار کیے ہیں۔ معاشرے کی بے رحمی سفاکی بے حسی دوغلے معیارات کمزور طبقوں بالخصوص عورت کے استحصال اور سماج کے نام نہاد شرفا پر ایسے تیر چلائے ہیں کہ معاشرہ بری طرح بلبلا اٹھا عصمت چغتائی اپنے دلکش اسلوب اور زبان وبیان کے اعتبار سےبھی اردو افسانے کو نئی جہات سے روشناس کروایا ناول نگاری کے فن میں بھی اپنی صلاحتیوں کو منوایا عصمت چغتائی ایک صاحب طرز اور عہد ساز ادیبہ تھی ان کے بعد انے والے خواہ مرد ہوں یا خواتین ہر دور نے ان کی جرات اور بے باکی کی پیروی کی ہے جب تک اردو افسانہ دنیا میں زندہ رہے گا۔ عصمت چغتائی کی بطور ادیبہ اہمیت اور ناموری ایک زندہ حقیقت کے طور پر موجود رہے گی.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: