پاکستانی سماج اورعورت گھریلو ذمہ داریاں اور رشتوں کا بار — نجیبہ عارف

0

(۲)

پاکستانی سماج میں عورت کے حقوق و فرائض کی فہرست نئے سرے سے مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ قدیم جنوب ایشیائی تمدن کے زیر اثرعورت کو بلا معاوضہ تمام گھریلو امور کی ذمہ داری سونپ دینا اور اسے  عورت کا مذہبی اور اخلاقی فریضہ قرار دینا؛ خاص طور پر عورت کو سسرالی کنبے کی غلامی اختیار کرنے پر مجبور کرناہمارے معاشرے میں باہمی انسانی رشتوں میں زہر بھر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات کہیں بھی عورت پر یہ لازمی قرار نہیں دیتیں کہ شوہر اور اس کے پورے خاندان کی خدمت کرے ۔ اسلام میں تو عورت کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ چاہے تو اپنے گھر کے، یعنی شوہر کا وہ گھر جس میں وہ خود، اس کا شوہر اور بچے رہتےہوں، تمام امور کی انجام دہی ،یہاں تک کہ بچے کو دودھ پلانے کا  بھی، معاوضہ طلب کر سکتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ  وہ حسن اخلاق اور مہربانی کے جذبے سے مغلوب ہو کر اپنے شوہر کی مالی حیثیت کا خیال رکھتے ہوئے ،برضا اس کے گھریلو امور سرانجام دیتی رہے۔ ایسی صورت میں  یہ اس کا حسنِ عمل شمار ہوگا اور بیوی کی حیثیت سے مستحسن اور افضل عمل قرار پائے گا لیکن اسی عمل میں اگر جبر و اکراہ کا عنصر شامل ہو جائے تو گھریلو زندگی ایک عذاب بن جانے کا اندیشہ ہے۔ بیوی کی مالی کفالت شوہر کی ذمہ داری ہے لیکن یہ کفالت صرف حقوقِ زوجیت کے صلے کے طور پر عورت کو حاصل ہوتی ہے۔ اس مالی کفالت کے بدلے عورت پر صرف یہ ذمہ داری عائد کی گئی ہے کہ وہ اپنے شوہر کے سوا کسی اور کو اپنی خواب گاہ تک رسائی نہ دے۔ مگر ہمارے معاشرے میں بیویانہ فرائض کی مفصل فہرست دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ جیسے عورت نکاح کے دو بول اور مہر کے وعدے کے عوض ہمیشہ کے لیے شوہر کی زرخرید غلام بن  جاتی ہے۔

خدمت ہی نہیں، بلکہ شوہر کے دل میں اپنے لیے جذبۂ محبت کو قائم رکھنا بھی عورت ہی کا فریضہ سمجھا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے شوہر کی پسند کا رنگ پہنے، اس کی پسند کی وضع قطع اختیار کرے، اس کی پسند کے مطابق بول  چال اور اٹھنا بیٹھنا اختیار کرے تاکہ شوہر کا دل اس سے بھر نہ جائے۔ سچ تو یہ ہے کہ انسانوں کے درمیان کوئی بھی رشتہ ہو، اسے دیرپا بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ایک دوسرے کی پسند ناپسند کا  احترام کریں اور اگر ہو سکے تو ایثار سے کام لیتے ہوئے اپنی مرضی کو دوسرے کی مرضی پر قربان کر دیں۔ لیکن یہ عمل دو طرفہ بنیاد پر ہو تو دونوں کے لیے خوش گوار اور مسرت انگیز ہو سکتا ہے۔ اگر صرف ایک فریق کو جبراً اس کا پابند بنایا جائے اور دوسرا فریق اسے اپنا حق سمجھتے ہوئے اس کا تقاضا کرے تو یہ ایک سزا بن جاتا ہے۔ ہم اگر میاں بیوی کے درمیان موافقت اور ہم آہنگی بڑھانا چاہتے ہیں تو دونوں کو ایک دوسرے کی پسند ناپسند کا  احترام کرنے کا پابند ہونا چاہیے۔یا پھر دونوں کے دل میں اتنی وسعت ہوکہ دونوں ایک دوسرے کو بحیثیت آزاد فرد ارتقا پانے کے مواقع فراہم کر سکیں۔ مگر اس دوسری بات کے لیے غالباً ابھی ہمارے سماج کو طویل مدت تک انتظار کرنے پڑے گا۔

سسرالی کنبے سے تعاون، مہر و محبت اور ان کی عزت کرنا ایک خوش گوار دوطرفہ رشتے کو قائم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ جس طرح ہمسایوں کے حقوق ہیں، اسی طرح رشتے داروں کے بھی حقوق ہیں اور ان میں اپنے اور شوہر کے تمام رشتے دار شامل ہیں۔ لیکن  صرف عورت کو اس امر پر مجبور کرناکہ وہ ہر حال میں اپنے سسرال کی اطاعت اور خدمت کو اپنا شعار بنائے، اور مرد کا اپنے سسرالی رشتے داروں سے لا تعلقی پر اترانا،نہ صرف اسلامی تعلیمات بلکہ اخلاق و انسانیت  کے بھی  منافی ہے۔ مشترکہ خاندانی نظام میں بہت سی خوبیاں اور فائدے ہیں لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ یہ نظام دونوں فریقوں کے درمیان باہمی رضامندی اور دونوں کے مفادات کے تحفظ کی بنیاد پر قائم ہو۔ صرف ایک فریق پر اس نظام کو قائم رکھنے کا بوجھ ڈال دینا مناسب نہیں، خواہ وہ بہو ہو یا سسرال۔ مشترکہ خاندانی نظام کے فوائد و برکات حاصل کرنے کے لیے فریقین کو کچھ لو اور کچھ دو کے اصول پر متفق ہونا پڑتا ہے ورنہ یہ معاشرے کے لیے ایک ناسور بن سکتا ہے جس کی ایک انتہائی صورت ان دنوں ہمارے کم و بیش تمام ٹیلی ویژن چینل مسلسل اور بڑے اہتمام سے دکھا رہے ہیں ۔ والدین کی خدمت اولاد کے لیے سعادت کی بات ہے لیکن اس معاملے میں بھی ہمارے ہاں عجیب رویہ ہے۔ یعنی مرد کے ذمے اپنے والدین کی خدمت اور عورت کے ذمے شوہر کے والدین کی خدمت۔یہ طرز عمل اسلام اور انسانیت دونوں کے منافی ہے۔  مثالی رویہ تو یہ ہے کہ مرد اور عورت دونوں مل کر دونوں کے والدین کی دیکھ بھال میں شریک ہوں لیکن اگر ایسا نہ کر سکیں تو پھر عورت کو بھی اپنے والدین کی دیکھ بھال اور خدمت کا ویسا ہی موقع ملنا چاہیے، جیسا مرد کو ملتا ہے۔  البتہ اس کی قبیح ترین صورت یہ ہے کہ دونوں اپنے اپنے والدین سے غافل ہو جائیں۔  

اس سلسلے کی پہلی تحریر کا لنکد

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: