تاریخ کا سبق اور Huawei پر پابندیاں‎ —- راحیل افضل

0

پہلی آٹوکار 1879 میں بنی۔ لیکن 1908 تک گاڑی صرف امیروں اور نوابوں کی دسترس میں تھی۔ گاڑیاں آرڈر پر تیار ہوتیں اور انتہائی مہنگے داموں بکتیں۔ ہر کار دوسری سے مختلف ہوتی کیونکہ گاڑی بنانے کا کوئی مخصوص طریقہ کر رائج نہیں تھا۔

ہنری فورڈ کا مگر خواب یہ تھا کہ کار ہر بندے کی دسترس میں ہونی چاہیے اور اس کو بنانے کا عمل اتنا خودکار ہو کہ کم وقت میں بڑے پیمانے پر کاریں بنائی جا سکیں تاکہ قیمت کم سے کم ہو۔

اس خواب کے حصول کے لیے لیکن فورڈ کو ایک کٹھن اور صبر آزما مسافت طے کرنا پڑی فورڈ نے مسابقی اداروں سے قانونی جنگیں لڑیں اور سرمایہ کاروں کے روایتی ہتھکنڈوں سے بھی نبردآزما ہوا۔

اور آخرکار فورڈ ماڈل T وجود میں آئی۔ اس ماڈل کی قیمت 1000 ڈالر سے کم کر کے 360 ڈالر رہ گئی۔ فورڈ نے پہلی بار گاڑی بنانے کے پورے عمل کو آٹومیٹ کیا اور اسمبلی لائین کا آئیڈیا دیا اس طرح ایک کار بننے میں لگنے والا وقت کم ہو کر تقریباً سوا گھنٹہ رہ گیا۔

ایک اندازے کے مطابق اُس وقت پوری دنیا میں صرف دو لاکھ کے قریب گاڑیاں تھیں لیکن صرف فورڈ کمپنی نے ماڈل T کی ڈیرھ کروڑ گاڑیاں بیچیں۔ اس چیز نے ہنری فورڈ کو انسانی تاریخ کی بااثر ترین صعنتی شخصیات کی صفت میں لا کھڑا کیا۔

فورڈ کمپنی کی گاڑیوں میں ایک مسلئہ یہ تھا کہ سب کا رنگ بلیک اور ڈیزائن ایک سا تھا۔ Maslow’s Theory کہتی ہے کہ جب انسان کی بنیادی ضروریات پوری ہو جاتی ہیں تو وہ نفسیاتی خواہشات کے پیچھے لگ پڑتا ہے۔ اب لوگوں کا مطالبہ تھا کہ گاڑیوں کے اندر جدت لائی جائے یا کم سے کم رنگ ہی مختلف کر دیئے جاہیں۔ یہاں ڈیمانڈ اور سپلائی کا ایک اور خلا پیدا ہوا۔

جاپان دوسری جنگِ عظیم کا ایک تباہ حال ملک تھا۔ ایٹم سے متاثرہ، بھاری جنگی تاوان، بڑی شکست اور سب سے بڑھ کر پست حوصلہ عوام۔ جاپانیوں نے آٹو موبائل انڈسٹری میں مہارت حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔

جاپان نے ایک زبردست حکمت عملی اپنائی۔ انھوں نے گاڑیوں کی صعنت میں جدت لانے کا فیصلہ کیا۔ اور نہ صرف یہ کہ کم قیمت گاڑیاں بنائیں بلکہ خوبصورت ڈیزائنز، انواع اقسام کے رنگ، سائز میں چھوٹی اور سب سے بڑھ کر فیول کے حوالے سے باکفایت گاڑیاں بنانا شروع کیں۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا جاپانی گاڑیوں کی مارکیٹ بن گئی۔ امریکہ جو گاڑیوں بنانے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک تھا اسے عوام کے دباؤ پر جاپانی گاڑیوں کی امپورٹ کھولنی پڑی اور دیکھتے ہی دیکھتے جاپانی کمپنیوں کی گاڑیاں امریکی عوام کی پسند بن گئیں اور 80 کی دہائی میں جاپان گاڑیاں بنا ے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک بن گیا۔

16 مئی 2019 کو امریکہ نے چینی کمپنی Huawei پر نہ صرف امریکہ میں کاروبار کرنے پر پابندی لگا دی بلکہ امریکی ٹیکنالوجی اداروں کو بھی Huawei کو کسی بھی قسم کی سپورٹ دینے سے روک دیا۔ Huawei نے 5G پر سب پہلے ریسرچ کرنے بعد اسے قابلِ عمل بنایا ہے جو ایک بہت بڑی کامیابی ہے اور اس بریک تھرو کی وجہ سے Huawei اپنی تمام مسابقتی کمپنیوں سے آگے نکل گیا شاید یہی اس کا سب سے بڑا قصور تھا۔ اگر Huawei ان کاروباری پابندیوں کو مثبت انداز میں لے گا، ریسرچ اور ڈویلپمنٹ پر اسی طرح توجہ دے کر اپنے میعار اور سروسز کو بہتر سے بہتر بنائے گا تو کوئی وجہ نہیں کہ آٹو موبائل انڈسٹری کی طرح امریکہ کو یہ پابندیاں بھی آخرکار ہٹانی پڑ جائیں۔

معلوم انسانی تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ عروج اس کا جو علم اور تحقیق پر توجہ دے خواہ وہ کوئی ادارہ ہو یا ملک۔

(Visited 102 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: