طلاق، لو میرج اور والدین کی تربیت (۲) —– ڈاکٹر مبین اختر

0

اس مضمون کا پہلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے


واپس اپنے موضوع کی طرف آتے ہوئے ایک اہم سوال کیا:
’’کیا غیر محسوس نفسیاتی بیماریاں بھی طلاق کا سبب بنتی ہیں؟‘‘
ڈاکٹر سید مبین اختر نے جواب میں کہا: ’’ ہمارے ہاں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ خاندانوں میں شادیاں ہوتی ہیں۔ کوئی بھائی کا بیٹا ہے، کوئی بہن کی بیٹی ہے۔ اب ایسی صورت میں لڑکی اور لڑکے دونوں کے بارے میں مکمل معلومات ہوتی ہیں۔ چونکہ ایسے لڑکے اور لڑکیوں کا بچپن سامنے گزرتا ہے۔ ان کی عادات کا پتا ہوتا ہے۔ کوئی نفسیاتی عارضہ ہو یا کوئی اور مسئلہ ہو، معلوم ہوتا ہے۔ گھروں اور خاندانوں میں باتیں ہوتی ہیں۔ کوئی نفسیاتی مسئلہ ہو، وہ چھپا نہیں رہتا۔ البتہ جہاں ایک دوسرے کے بارے میں زیادہ معلومات نہ ہوں۔ یعنی خاندان سے باہر کے لوگ ہوں، وہاں بعض اوقات ایسے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ اور یہ مسائل مرد اور عورت دونوں میں ہوتے ہیں۔ اب بد قسمتی یہ ہے کہ دونوں طرف سے چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ نہیں کرتے کہ اس کا علاج کروائیں یا اس دوسرے فریق کے سامنے اس کا اظہار کریں، بلکہ اسے معیوب سمجھا جاتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ شادی کے بعد خود بخود ٹھیک ہو جائے گا یا ہو جائے گی۔ حالانکہ یہ بالکل غلط نظریہ ہے۔ شادی کے بعد ایسی بیماریاں مزید بڑھ جاتی ہیں۔‘‘

ڈاکٹر سید مبین اختر نے ایک نکتے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا:
’’ایک مسئلہ یہ ہے کہ شادیوں کو اتنا مشکل بنا دیا گیا ہے کہ ساری زندگی کے مقروض بن جاتے ہیں۔ مثلا: تقریب بڑی ہونی چاہیے۔ بینڈ باجے ہوں۔ کسی بڑے لان میں ہو۔ کئی ڈشیں ہوں۔ بڑی تعداد میں لوگ مدعو ہوں۔ اگر یہ سب کچھ نہیں کریں گے، ناک کٹ جائے گی۔ اس لیے پھر قرض بھی لیتے ہیں اور لوگوں کے سامنے ہاتھ بھی پھیلاتے ہیں۔ ہمارے خاندان میں ایک صاحب تھے۔ انہوں نے اپنی شادی بڑی دھوم دھام سے کی۔ ان کی بیگم بھی ہماری رشتہ دار تھیں۔ ایک بار ملاقات ہوئی۔ میں نے کہا آپ لوگوں نے شادی بڑی دھوم دھام سے کی۔ ہمارے عزیز کی بیگم نے کہا: ’’اب بھگتنا بھی تو پڑ رہا ہے۔‘‘ پتا چلا انہوں نے شادی کے لیے بطورِ قرض بڑی رقم لی تھی۔ اب ظاہر سی بات ہے ایسے قرض کو اُتارنے کے لیے ہاتھ تنگ رکھنا پڑتا ہے۔ جن لوگوں کے پاس گنجائش نہیں ہوتی، وہ سوچتے رہتے ہیں۔ شوہر بیوی کو الزام دیتا ہے، بیوی شوہر پر ملبہ ڈالتی ہے۔ اس طرح ذہنی پریشانیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔‘‘

’’بطورِ ماہر نفسیات آپ ’’لو میرج‘‘ کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں؟‘‘
ڈاکٹر مبین اختر نے ٹیکنیکل انداز میں جواب دیا:
’’ہمارے ہاں اس قسم کی شادیاں اکثر ناکام ہوتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت ’’جنسی آسودگی‘‘ کے علاوہ ہر چیز ذہن سے محو ہوتی ہے۔ مثلاً: جب کوئی لڑکا کسی لڑکی کے ساتھ ’’محبت‘‘ کرتا ہے، اس کا مقصد صرف سطحی ہوتا ہے۔ وہ اس وقت نہ لڑکی کے اخلاق کو دیکھتا ہے نہ کردار کے بارے میں اسے فکر ہوتی ہے۔ اس کے خاندان کو دیکھتا ہے نہ ہی اپنے اور اس کے اسٹیٹس پر نظر ہوتی ہے۔ وہ اس وقت ایک خاص مقصد کے حصول کی خاطر لگا ہوتا ہے۔ اب ظاہر سی بات ہے زندگی کا مقصد صرف جنسی آسودگی تو نہیں ہوتا۔ زندگی گزارنے کے لیے بہت سی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے جب ’’لو میرج‘‘ کے نتیجے میں شادی ہوتی ہے، جنسی آسودگی تو کچھ دنوں تک مل جاتی ہے، مگر اس کے بعد جب باقی پہلوئوں پر نظر پڑتی ہے، مکمل اندھیرا ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں لڑکا یا لڑکی اپنے والدین اور رشتہ داروں کی طرف دیکھتے ہیں، وہاں سے کوئی خاص حمایت حاصل نہیں ہوتی، کیونکہ وہ پہلے ہی ان کی مخالفت مول لے چکے ہوتے ہیں۔ اب ہوتا یہ ہے کہ لڑکا لڑکی کو الزام دیتا ہے اور لڑکی لڑکے کو قصوروار ٹھہراتی ہے۔ لہٰذا تنازعات شروع ہو جاتے ہیں اور اس کا نتیجہ بالآخر ناکامی کی صورت میں ہی نکلتا ہے۔ میرے خیال میں اس کا بہترین راستہ وہی ہے جو ہمیں ہمارا دین اور ہماری شریعت دکھاتی ہے۔ یعنی والدین بھی حدود میں رہیں اور اولاد بھی اپنے جامے سے نہ نکلے۔‘‘

ایک تاثر کی جانب توجہ دلائی:
’’کیا جنسی کمزوریاں بھی طلاق کا سبب بنتی ہیں؟‘‘
ڈاکٹر سید مبین اختر نے بتایا:
’’ہمارے ہاں اس وجہ سے بہت کم طلاقتیں ہوتی ہیں۔ بلکہ نہ ہونے کے برابر ہیں۔ مردوں میں جنسی خواہش بہت زیادہ ہوتی ہے لیکن خواتین اس سلسلے میں اپنے اوپر کنٹرول رکھ سکتی ہیں۔ مجھے ایسی خواتین کے بارے میں معلوم ہے کہ جن کے شوہروں میں جنسی کمزوری ہوتی ہے یا وہ مکمل بیمار ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ اپنے شوہر کے ساتھ زندگی گزار دیتی ہیں۔ ایسی بھی ہیں جن کوئی کئی کئی سال بیت جاتے ہیں اور کسی کو شوہر کی کمزوری کا علم نہیں ہوتا۔ لہٰذا مشرق میں ایسے کیس نہ ہونے کے برابر ہیں کہ جنسی کمزوری کی وجہ سے طلاق ہوئی ہو۔ یہ طلاق کا بہانہ ضرور بن سکتا ہے، مگر صرف اس وجہ سے طلاق واقع ہونے کی شرح بہت کم ہے۔‘‘ (واضح رہے کہ یہ رائے چند برس پرانی ہے، تیزی سے بدلتے وقت کے ساتھ اس حوالہ سے دستیاب معلومات اور ڈیٹا کی روشنی میں صورتحال میں کسی حد تک یا بہت حد تک تبدیلی ممکن ہے۔ ایڈیٹر)

ایک عمومی سوال تھا:
’’کیا خواتین کا بانجھ پن یا اولاد کا نہ ہونا بھی طلاق کا سبب بن جاتا ہے؟‘‘
جواب تھا:
’’ایسی صورت میں طلاق کم ہوتی ہے۔ کیونکہ جن مردوں کو اولاد کی خواہش ہوتی ہے، پہلے وہ کچھ برس انتظار کرتے ہیں۔ اگر ان کی آرزو پوری نہ ہو، تب وہ دوسری شادی کر لیتے ہیں۔ ایسی صورت میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ پہلی بیوی ہی اپنی مرضی سے دوسری شادی کرا دے۔ یہ الگ بات ہے کہ بعد میں پتا چلتا ہے اصل مسئلہ مرد میں ہے، عورت میں نہیں۔ اس لیے بعض اوقات مرد بھی زیادتی کرتے ہیں، وہ اپنا علاج نہیں کراتے اور بیویوں کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں۔‘‘

آخری سوال تھا:
’’شادی کی عمر میں تاخیر سے کس قسم کے مسائل جنم لیتے ہیں؟‘‘
ڈاکٹر سید مبین اختر نے کہا:
’’میرا خیال ہے کم عمر میں ہونے والی شادیاں زیادہ کامیاب ثابت ہوتی ہیں۔ لڑکیوں کی عمر زیادہ ہوتی ہے تو مسائل زیادہ جنم لیتے ہیں۔ ان کے اندر کمپرومائز کی قوت کمزور ہو جاتی ہے، کیونکہ وہ پروفیشنل لائف میں آ جاتی ہیں۔ ان کی ساخت کچھ اس طرح بن جاتی ہے کہ اپنے آپ کو ماحول کے مطابق ڈھالنے میں ناکام رہتی ہیں۔ اسی طرح جب نوجوان لڑکوں کی شادی وقت پر نہیں ہوتی، وہ غلط راستے تلاش کرتے ہیں۔ آپ اگر کسی کو حلال کھانا نہیں دیں گے تو وہ حرام ہی کھائے گا۔ ہمارے ہاں ہوتا یہ ہے کہ جناب! پہلے ایم بی بی ایس ہو جائے۔ ڈاکٹر بن جائے۔ ملازمت پر لگ جائے۔ کچھ کما لے۔ اپنا مکان ہو جائے۔ اس کے بعد شادی کریں گے۔ آپ خود سوچیں عمر کہاں تک پہنچ گئی ہو گی؟ اب ایک نوجوان جوانی کے زمانے میں کیا کرے گا؟ 18 سے 20 سال کے نوجوان پر کیا گزرتی ہے، اس کا اندازہ وہی کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے وہ بعض اوقات اپنی جنسی خواہش پوری کرنے کے لیے آخری حدوں کو پار کر دیتا ہے۔‘‘

’’میرے پاس ایک نوجوان لایا گیا۔ اس کی عمر 23 سال تھی۔ بی کام سال دوم کا طالب علم تھا۔ اس کی والدہ نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل اسے محلے کی کوئی لڑکی پسند آئی۔ والدہ نے منع کیا۔ چند ماہ بعد پھر خواہش کا اظہار کیا، تب بھی منع کر دیا گیا۔ وہ اس بات سے بہت افسردہ ہوا۔ اس نے نشہ شروع کر دیا۔ چرس پینے لگ گیا۔ آوارہ لڑکوں کے ساتھ دوستی کرنے لگا۔ نفسیاتی مسائل کا شکار ہو گیا۔ بہکی بہکی باتیں کرنے لگا۔ کبھی کہتا مجھے فلاں گاڑی لا کر دو کبھی کہتا فلاں لڑکی سے شادی کرا دو۔ ایک مرتبہ بڑی بہت کی دیورانی کے پیچھے پڑ گیا کہ وہ اپنے شوہر سے طلاق لے، میں اس کے ساتھ شادی کرنا چاہتا ہوں۔ پھر اپنا سر دیوار پر مارنے لگ جاتا۔ چنانچہ ضروری ہے کہ بروقت شادی ہو۔ والدین کو ان کیفیات کا اندازہ نہیں ہوتا۔ خواتین کا معاملہ ذرا مختلف ہے۔ ان میں اتنی شدت نہیں ہوتی، لیکن نوجوانوں کا معاملہ کافی مختلف ہے۔ اس لیے اسلام کا جو اصول ہے کہ معاشرے کو بگاڑ سے بچانا ہے تو شادیوں کو آسان کر دو اور جلدی کروائو۔ چاہے عورت ہو یا مرد۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے ہم لوگ اپنے بچوں کو کپڑے اچھے پہناتے ہیں۔ کھانے پینے پر بہت خرچ کرتے ہیں، لیکن ان کی جنسی ضرورت حلال طریقے سے پوری کرنے کے لیے کوشش نہیں کرتے۔ جب زندگی کا طویل عرصہ بیت جائے، تب انہیں دُلہا اور دُلہن بنا دیتے ہیں اور اس وقت ان کی جوانی کو گہن لگ چکا ہوتا ہے۔‘‘

(Visited 194 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: