پولیس کے مسائل اور کارکردگی: کچھ گذارشات —– سمیع کلیا

0

کیا آپ ایسی نوکری کرنا چاہیں گے جس میں ہر روز سولہ سے سترہ گھنٹے کام کرنا پڑے، ہفتے میں کسی دن کوئی چھٹی نہ ملے اور کوئی تنخواہ بھی کوئی خاص نہ ہو اور پھر یہ بھی پوچھا جائے کہ تم کام ہی کیا کرتے ہو۔ ہمارے پولیس ملازمین ایک ایسی ہی نوکری کررھے ہیں۔ ماشاللہ تنخواہ میں تو وردی کی دھلائی اور استری کے پیسے بھی مشکل سے پورے ہوتےہیں اور پھر مہمانداری کے خرچے الگ۔ لیکن پیسے کی تنگی سب سے مشکل بات نہیں ہے، سب سے مشکل تو یہ ہے کہ یہ ایک انتہائی خطرناک نوکری ہے اور اس میں آپ کا واسطہ زیادہ تر۔جرائم پیشہ اور برے لوگوں سے پڑتا ہے۔

اگر آپ قانون کی بالادستی قائم کرنا چاہیں تو ہر طرف سے مخالفت ہوتی ہے۔ خطرناک اور مطلوب مجرموں کی رہائی کی سفارشیں ’اچھے‘ لوگ لے کر آتے ہیں جن میں حکومتی اہلکار، سیساتدان اور عسکری افسران بھی شامل ہوتے ہیں۔ سفارش پر زیادہ توجہ نہ دیں تو یہ سفارشات دھمکیاں بن جاتی ہیں اور دھمکیاں صرف ’اعلی اہلکاروں‘ سے نہیں ملتیں بلکہ لاک آپ میں کسی انتہا پسند تنظیم کاوہ دہشت گرد بھی سپاہیوں کو سمجھاتا ہے ’مجھے تو عدالت رہا کر دے گی لیکن یاد رکھو مجھے معلوم ہے تم کہاں رہتے ہو اور تمھارے بیوی بچے کہاں ہوتے ہیں۔ ‘

لیکن اس سب کے باوجود اس پولیس فورس میں بہت جرات مند اور بہادر پولیس والے ہیں۔ اور وہ اپنی نوکری کے ہر دن اور ہر لمحہ جرائم پیشہ لوگوں کا نشانہ بنے ہوتے ہیں۔ پولیس والے تو دنیا کے کسی ملک میں پسند نہیں کیے جاتے۔ کیونکہ ان کا کام ہی پاپولیرٹی والا نہیں ہوتا۔ لیکن ہمیں کم سے کم یہ تو پہچانا چاہیے کہ ان لوگوں کی نوکری کی نوعیت کتنی زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ اگر کوئی کام ٹھیک ہو جائے تو اس کا کبھی ذکر نہیں ہوتا حالانکہ اس میں کتنی ہی محنت کیوں نہ کرنی پڑی ہو۔

جب بھی لوگوں سے گفتگو ہوتی ہے تو ان کا ایک ہی سادہ سا جواب ہوتا ہے کہ آپ کی بات اپنی جگہ صحیح لیکن یہ بھی تو دیکھیں کہ جب کوئی پولیس میں آتا ہے کیا اسے نہیں معلوم کہ اس کی تنخواہ کیا ہوگی؟ بلکل معلوم ہوتا ہے مگر یہ پولیس اور اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ہی ہیں جو آپ کی کم پڑھی لکھی پود کو روزگار کا موقعہ فراہم کرتے ہیں اگر اتنی کم تنخواہ پر لوگ کام کرنا چھوڑ دیں تو یقیناً حکومت کو سوچنا پڑے گا کہ ذمہ دار شخص۔کی کیا ضروریات ہو سکتی ہیں۔

لوگوں میں ایک تاثر یہ بھی ہے کہ پولیس والے بہت برے ہوتے ہیں تو بات یہ ہے کہ کہ ہر شعبے ميں اچھے اور برے آدمی ہوتے ہيں۔ دنيا جہاں برے آدميوں سے بھری پڑی ہے وہيں اچھے انسان بھی موجود ہيں۔ رہا پوليس کا محکمہ تو ظاہری بات ہے يہ محکمہ بنا ہی برائيوں کو ختم کرنے کے لیے مگر نہ جانے کيوں اس کے ذمہ دار ہی برے قرار دے ديے گئے صرف پاکستان ہی نہيں ہندوستان ميں بھی تھانے يا پوليس کے نام سے لوگ کان پکڑتے ہيں- اور ايسا ہوتا بھی ہے کہ اگر کوئی شريف آدمی کسی وجہ سے پوليس کے چکر ميں پھنس جائے تو جان بڑی مشکل سے چھوٹتی ہے۔ مگر اس کا يہ مطلب نہيں کہ ہر پوليس والا برا ہوتا ہے۔ فسادات کے دوران آپ نے برے کم اور اچھے زيادہ ديکھيےہوں گے اور آپ نے کئی ايسے عہديداروں کو بھی ديکھا ہو۔گا جو ہر وقت اور ہر حال میں پريشان حال لوگوں کی مدد کرتے نظر آتے ہيں اگر واقعات گنانے بيٹھوں تو بات طويل ہوجائے گي۔

آج بھی پولیس میں کافی ایماندار اور فرض شناس افسران موجود ہیں گنوانے بيٹھوں تو بات طويل ہوجائے گي، اچھے لوگ اب بھی موجود ہیں۔ ایک تو پولیس والوں کی تنخواہیں کم ہوتی ہیں اور اوپر سے ان کو انسان بھی نہیں سمجھا جاتا، ہمیں بچبن میں ڈرانے کے لئے پولیس کا نام لیا جاتا تھا۔ ووہی خوف ہمارے دلوں میں بیٹھ گیا ہے ضرورت اس امر کی ہے کے ہمیں اپنے بچوں کو بتانا ہو گا کہ پولیس آپ کی محافظ ہے تا کہ ہم ایک روشن اور بہتر مستقبل کی طرف گامزن ہوں۔

پوليس والے بھی اسی معاشرے کا ايک حصہ ہيں جہاں اچھے بھی ہيں اور برے بھی ہيں۔ مگر چونکہ پوليس والوں کی مجموعي کارکردگی کچھ ايسی ہے کہ پورا محکمہ بدنام ہے۔ پوليس والوں کی زندگی يقيناً پرخطر ہوتی ہے وہ بھی انتہائی کم معاوضے پر۔ اور اسی بناء پر وہ قانون کے رکھوالے ہو کر بھی غير قانونی کام کرنے لگتے ہيں۔ اس کا سادہ سا حل یہ ہے کہ اگر تنخواہوں ميں اضافہ کيا جاۓ اور دوسری مناسب مراعات دی جائيں تو وہ ايسا نہ کريں جس کے سبب وہ بدنام ہيں۔ پوليس مقابلے ميں زخمی ہونے والوں کو پچاس ہزار اور مرنے والوں کو ايک لاکھ روپے کے اعلان سے اصلاح ممکن نہيں۔ گو کہ اب صورت حال بہت بہتر ہو گئی ہے مگر ہمیں مزید بہتری کی طرف بڑھنا ہو گا۔ بيچارے پوليس والے حکمرانوں کي حفاظت ہي پر لگے رہتے ہيں اور ان کے حکم پر عوام پر آنسوگيس اور لاٹھي چارج اور کبھي امن و امان برقرار رکھنے کے لۓ گولي بھي چلاتے ہيں انہيں وجوہات کي وجہ سے پوليس اور عوام ميں ايک خليج پائی جاتی ہے، لوگ پوليس سے خوفزدہ ہوتے ہيں کيونکہ دونوں کے درميان فاصلے ہيں ضرورت اس امر کی ہے کہ اس خلا کو پر کیا جاۓ تا کہ لوگ انہيں اپنا محافظ سمجھيں نہ کہ اپنا دشمن۔

ميں سمجھتا ہوں کہ عوام اور پوليس کے بيچ مکالمے کی ضرورت ہے تاکہ پوليس ايک بہتر اميج کے ساتھ سامنے آۓ۔ اور ٰ’پوليس کا ہے فرض مدد آپ کی‘ٰ والی بات صرف ايک نعرہ نہيں بلکہ اس سے ذرا آگے نظر آۓ۔ سب سے اہم ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیس والوں کی تنخواہیں مناسب ہوں، لا اینڈ آرڈر الاؤنس بڑھایا جاۓ اور مناسب سہولیات دی جائیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: