یورپ کے دل میں —— فرح دیبا اکرم

0

پچھلے سال بُدھاپیشٹ آنے سے پہلے اُستادِ محترم سے ملاقات ہوئی تو اُنہوں نے کہا ہنگری کا دارالحکومت یہ شہر یورپ کا دل ہے کیونکہ یہاں دوسرے یورپی مملک کی نسبت تاریخ ذیادہ محفوظ ہے۔ اس شہر میں پہنچنے کے بعد وقتاً فوقتاً شہر دیکھنے کے لئے نکلتی تو اُن کی بات یاد آتی رہتی۔

یہاں تقریباً اسّی فیصد عمارتیں یورپی روایتی طرزِ تعمیر پر بنی ہوئی ہیں. گلیوں میں موزیک (چھوٹے چھوٹے پتھر) کندہ ہیں۔ مجھے اس بات پہ نامعلوم سی خوشی ہوتی کہ نہ صرف پرانی عمارتوں کی دیکھ بھال کا خیال رکھا ہوا ہے بلکہ نئی عمارتیں بھی اسی طرز پہ تعمیر کی جاتی ہیں تاکہ آرکیٹیکچر میں یکسانیت اور ہم آہنگی برقرار رہے۔ یہاں اور مشرقی یورپ کے دوسرے ممالک میں عام طور پر عمارتوں کے میناروں کا رنگ سبز ہوتا ہے. آپ دیکھیں گے نہ صرف ڈیزائن بلکہ رنگ بھی ایسا ہے جس سے آپ ایک ہی گہری نظر کے عوض پوری طرح ماضی میں پہنچ کر خود کو ان دیوقامت عمارتوں سے محظوظ کرتے ہیں۔ گھر ہوں یا کمرشل عمارتیں، ایسے مہذب انداز میں کھڑی ہیں کہ کوئی دو انچ آگے یا دو انچ پیچھے نہیں، ایسے کہ پیمانہ رکھ کر کھڑی کی گئی ہوں اس لئے ان کے آگے فٹ پاتھ اور سڑک پہ کسی کی حق تلفی نہیں ہوئی۔ یہ سیانے لوگ تھے انہوں نے اپنا آرکیٹیکچر اپنے موسم کو سامنے رکھ کر بنایا، مثال کے طور پر ان کی چھتیں اکثر و بیشتر تکونی شکل کی ہیں۔ سردیوں میں ان کے اوپر لگی چمنیوں سے سنٹرلی ہیٹنگ سسٹم کا دھواں جب نکلتا ہے تو آپ ایک خوش کُن رومینٹیسزم میں مبتلا ہو جاتے ہیں، خاص طور پہ جب ساتھ ہلکی ہلکی برف بھی گِر رہی ہو۔ کیونکہ یہاں موسمِ گرما میں گرمی کی تلخی بہت کم اور سردیوں میں سفید موتیوں کی روانی زیادہ ہوتی ہے اس کے پیش نظر ایسی چھتوں پہ برف ٹھہرنے کی بجائے نیچے گِرتی رہتی ہے جس طرح ہالی ووڈ کا فلمی منظر ہو۔ دوسری بات یہاں سردی اور گرمی سے نمٹنے کا نظام سنٹرل ہوتا ہے، باقی سرد ملکوں کی طرح ایسی چھتوں پہ اس کے لئے چمنیوں کی تعمیر اور فنکشنلیٹی بہت موزوں رہتی ہے اس کی مثال ہم اپنے شمالی علاقہ جات میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔ تمام گھروں میں بیسمنٹ تقریباً لازمی ہوتی ہے جس کا مقصد پارکنگ، سٹور روم، اور موسم کے مزاج میں شدت آ جائے تو اس سے لطف اندوز ہونے کے لئے بہترین جگہ ہوتی ہے۔

گورے جانوروں سے بڑا پیار کرتے ہیں اور زیادہ ریڈیکل ہو جائیں تو انہیں انسانوں سے زیادہ جانوروں کی فکر لاحق ہوتی ہے. لیکن جانوروں سے ہی نہیں انہیں پودوں اور پرندوں سے بھی کافی لگاؤ ہے۔ آپ اگر ان کی رہائشی عمارتوں کو دیکھیں تو ہر فلیٹ کی بالکونی میں آپ کو گملوں میں لگے اتنے پودے ضرور نظر آئیں گے جتنی اس میں گنجائش ہے. اسی طرح گھروں اور دفاتر میں بھی پودے جابجا ملیں گے، جوں ہی بہار آتی ہے نہ صرف سڑک کنارے، پارکوں میں اور پبلک جگہوں پہ درخت سر سبز ہو جاتے ہیں بلکہ لوگ نرسریوں کا رُخ ایسے کرتے ہیں جیسے لان کے سوٹ پر سیل لگی ہو۔ یہاں اپارٹمنٹس کلچر زیادہ ہے اور ہر اپارٹمنٹ میں بالکونی ضرور ہوتی ہے، جس کی کئی وجوہات میں سے ایک یہ ہے کہ لوگ اپنے گھروں کے اندر سگریٹ نوشی نہیں کر سکتے انہیں بلڈنگ کے مشترکہ لان میں جانا ہوتا ہے یا اس بالکونی میں، تو موسم اگر ذیادہ سرد ہے، کمپنی میں بیٹھے ہیں یا سستی طاری ہے تو نیچے نہیں جاتے بلکہ موسم سے لطف اندوز ہوتے ہوئے بالکونی میں پھونک لیتے ہیں۔ یہاں پودوں کو نہ صرف گھر بلکہ کمروں کے اندر بھی رکھا جاتا ہے. انہیں دیکھ کر میں نے بھی تین چار گملے اپنے کمرے میں رکھ لئے ہیں اور یقین مانیں پوری سپیس کا احساس ہی بدل گیا ہے. زیادہ تر گملے پلاسٹک کے ہوتے ہیں جن کو اٹھانا بھی آسان ہوتا ہے اور دیرپا بھی ہوتے ہیں. میں نے کچھ لوگوں کو اہم موقعوں پر گملے سمیت پودا تحفے میں دیتے ہوئے بھی دیکھا ہے. جسے بہت خوشی سے وصول کیا جاتا ہے۔ صرف پھول نہیں پودے بھی تحفے میں پیش کیے جا سکتے ہیں۔ خوبصورت!

لوگوں نے اپنی دلچسپی سے گھر، دفتر اور کمرشل عمارتوں کو ہرا بھرا رکھا ہوا ہے جس سے نہ صرف یہ جگہیں فرحت بخش بلکہ جمالیاتی تسکین کا ذریعہ بھی ہیں، ساتھ ساتھ اتنی تیزی سے بڑھتی ہوئی موسمی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے میں بھی یہ لوگ اپنا انفرادی کردار ادا کر رہے ہیں۔

معلوم نہیں کتنے لوگوں کو علم ہے کہ فطرت سے لگاؤ (اس میں سے باغبانی بھی شامل ہے) جدید انسان کے کئی ذہنی اور وجودی کرائسسز کا حل ہے۔ اس پہ تحقیق ہوچکی ہے اور ہو بھی رہی ہے. کچھ ترقی یافتہ ممالک کے ڈاکٹر اب ڈیپریشن کے مریضوں کو فطرت میں وقت گزارنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

رات واک کرتے ہوئے چھوٹے سے اپارٹمنٹ کی کھڑکی میں پڑے گملے میں پودے پہ اُگے خوبصورت پھول دیکھ کر دل میں خیال آیا، پودوں کا کلاس سے نہیں انسان سے تعلق ہوتا ہے، جو انہیں اُگانا چاہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ بڑی جگہ میں رہتا ہے یا چھوٹی میں۔۔۔ایک کمرہ ہے یا چھوٹا سا دفتر۔

پھولوں کی خوشبو سے نہ صرف خارج بلکہ باطن میں بھی رنگ اور مہک اُتر آتی ہے۔۔۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: