لاپتہ تو یوں بھی ہو سکتے ہیں —- اورنگ زیب نیازی

0

جن دنوں سوات میں طالبان شورش کا آغاز ہوا میں وہاں شاہین بچوں کو میر و غالب کی غزلیں، فیض کی نظمیں اور منٹو کا افسانہ ’’تماشا ‘‘ پڑھا رہا تھا۔ یہ ایک پرائیویٹ کالج تھا۔ اس کی سرخ عمارت کالام روڈ پر دور سے نظر آتی تھی، اس کے عقب میں ایک بلند پہاڑ تھا جس کی چوٹی سرما کے آغاز میں ہی برف کی چادر اوڑھ لیتی تھی۔ دائیں بائیں کچھ کھیت اور خوبانی کے باغات تھے اور سامنے دریائے سوات بہتا تھا جس کے مدھم سُر رات کے سناٹے میں صاف سنائی دیتے۔ یہاں کے بیشتر اساتذہ مقامی تھے جو شریعت کے پابند، باریش اور اچھے اخلاق کے حامل تھے البتہ اقامتی ادارہ ہونے کی وجہ سے یہاں کراچی اور کوئٹہ تک کے لڑکے زیر تعلیم تھے۔ یہ رنگا رنگی اور ثقافتی تنوع بھی اس ادارے کو منفرد بناتا تھا۔ مجھے اپنی پنجابی رنگت، انگریزی لباس اور کافر حلیے کے باوجود کالج کے اندر یا باہر کبھی کسی مشکل صورت حال کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔ لیکن جب ادھر اُدھر سے طالبان کی خبریں آنا شروع ہوئیں تو مجھے کچھ مخلص دوستوں نے مشورہ دیا کہ بھئی تمھارا دانہ پانی یہاں ختم ہوا چاہتا ہے، بہتر یہی ہے کہ تم واپسی کی راہ لو۔ میں نے بھی زیادہ تردد نہیں کیا اور اپنا بوریا بستر سمیٹ کر واپس آگیا۔ بعد میں طالبان کی کارروائیوں میں شدت آگئی، سوات کے بیشتر علاقوں پر ان کی عمل داری ہو گئی۔ یہ بھی سنا کے میرے کالج پر بھی انھوں نے قبضہ کر لیا اور اپنا ہیڈ کوارٹر بنا لیا۔ ٹی۔ وی پر چار باغ، گلی باغ، خوازہ خیلہ اور مٹہ ذکر سنتا تو میرا دل دہل جاتا۔ یہ علاقے میرے دیکھے بھالے تھے۔ یہاں میرے کئی دوست اور بیسیوں شاگرد رہتے تھے۔ میں حیران تھا کہ خوبصورت اور پر امن سوات میں اتنے سارے دہشت گرد کہاں سے آگئے۔ یہ مقامی تھے یا باہر سے آکر مسلط ہو گئے تھے؟ میں نے وہاں موجود اپنے ایک دوست سے پوچھا تو اس نے حیران کن انکشاف کیا۔ اس نے بتایا کہ یہاں چار طرح کے لوگ سرگرم عمل ہیں:

۱۔ وہ طالبان جو صوفی محمد کے شاگرد ہیں اور ملا عمر کو امیر المومنین تسلیم کرتے ہیں۔ یہ اپنے عقیدے میں راسخ ہیں اور اپنے نظریے کے مطابق بزور طاقت یہاں شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں۔
۲۔ افغانستان کی طرف سے آنے والے دہشت گرد جنھیں بیرونی ایجنسیوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔
۳۔ مقامی غریب، بے روزگار، منشیات کے عادی اور چھوٹی ذاتوں کے افراد جنھیں طالبان نے ماہانہ تنخواہ پر بھرتی کر لیا ہے اور وہ قتل و غارت اور لوٹ مار کی بہتی گنگا میں اپنی محرومیوں کا ازالہ کر رہے ہیں۔
۴ ۔ مقامی قبائل جو طالبان کی آڑ میں اپنی پرانی خاندانی دشمیوں کا حساب چُکتا کر رہے ہیں۔

آخر کار نوبت فوجی آپریشن تک پہنچی۔ ایک طویل اور صبر آزما آپریشن کے بعد تمام علاقے واگزار کرا لیے گئے۔ متعدد دہشت گرد مارے گئے، کچھ پکڑے گئے، کچھ افغانستان کی طرف بھاگ گئے اور کچھ روپوش ہو گئے جو آج تک لا پتہ ہیں۔

اب میں ایک نسبتاََ پرامن اور محفوظ علاقے پنجاب میں ہوں۔ سوات کی خوبصورت یادیں میرے ساتھ رہتی ہیں میں ان دوستوں کا شکر گزار ہوں جنھوںنے مجھے بروقت سوات چھوڑنے کا مشورہ دیا تھا۔ یہ سوچ کر میں کانپ جاتا ہوںکہ اس دوران میں سوات کے لوگوں پر کیا گزری ہو گی؟

میں خود کو ان کی جگہ پر رکھ کر دیکھتا ہوں۔ میں چشمِ تصور سے دیکھتا ہوں کہ میرے آبائی علاقی میانوالی میں دہشت گرد گھس آئے ہیں۔ یہ علاقہ خیبر پختون خواہ اور پنجاب کے سنگم پر واقع ہے۔ اس کے مغرب میں پہاڑی سلسلہ ہے جس کے پار کرک کا علاقہ ہے، جنوب میں لکی اور بنوں کے اضلاع ہیں جن سے آگے میرانشاہ اور وزیرستان کی سرحد شروع ہوتی ہے۔ میں تصور کرتا ہوں کہ یہاں سے دہشت گرد کارروائیوں کی خبریں آنا شروع ہوتی ہیں۔ کبھی لڑکیوں کا کوئی سکول جلا دیا جاتا ہے۔ کبھی دریا یا نہر کا پُل اُڑا دیا جاتا ہے۔ کبھی کسی بازار میں فائرنگ ہوتی ہے اور کبھی کسی مسجد یا امام بارگاہ میں خود کُش دھماکا ہوتا ہے۔ پورے علاقے پر دہشت گرد قبضہ کر لیتے ہیں۔ میں اپنے کم علم اور اپنی کم فہم کے ساتھ یہ تصور بھی نہیں کرسکتا کہ یہ سارے دہشت گرد باہر سے آئے ہونگے (البتہ عالی دماغ دانشور ایسا سوچ سکتے ہیں)۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ مقامی لوگ ان کے ساتھ شامل نہ ہوں اور ان کے سہولت کار نہ ہوں۔ پوری قوم مطالبہ کرتی ہے کہ یہاں فوجی آپریشن کیا جائے، ایسا نہ ہو کہ یہ آگ پورے پنجاب بلکہ پورے پاکستان کو جلا دے۔ ایک اپوزیش لیڈر کہتا ہے نہیں !مقامی لوگ ہمارے بھٹکے ہوئی بھائی ہیں ان کے ساتھ مذاکرات کریں اور جو باہر سے آئے ہیں ان کو ماریں۔ یہ سن کر ٹی۔ وی اینکرز اور دانشوروں کے منہ سے جھاگ بہنے لگتی ہے۔ اس پر طنز کے نشتر برسائے جاتے ہیں اور اسے طالبان خان کا نام دے کر اس کا مذاق اُڑایا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کے ’’گاماں پہلوان‘‘ اور ان کے شاگرد ویب سائٹ پر پچاس مضمون یومیہ کے حساب سے لکھتے ہیں۔ حتیٰ کہ بائیں بازو کی زخم خوردہ سیاسی جماعت بھی فوجی آپریشن کی حمایت کرتی ہے۔ پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد فوجی آپریشن شروع ہوتا ہے۔ گھمسان کا رن پڑتا ہے۔ آگ اور بارود کا کھیل کافی عرصہ جاری رہتا ہے۔ لوگوں کے مکان تباہ ہو جاتے ہیں۔ گھر اور کاروبار برباد ہو جاتے ہیں، تب کہیں جا کر فوج کو فتح نصیب ہوتی ہے۔ دہشت گرد مارے جاتے ہیں، کچھ بھاگ جاتے ہیں اور کچھ پکڑے جاتے ہیں۔ آہستہ آہستہ امن بحال ہونے لگتا ہے۔ تب ایک گروہ اُٹھتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ ہمارے کچھ لوگ لا پتہ ہیں۔ ان کا مطالبہ اس حد تک تو درست ہے کہ انھیں ان کے پیاروں کے حالات سے آگاہ کیا جائے۔ لیکن یہ تسلیم کرنے کو کوئی تیار نہیں کہ ان کے کون کون سے عزیز دہشت گردوں کے ساتھی رہے ہیں؛ ان کے لیے سہولت کار کا کام کرتے رہے ہیں؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ چند ہزار دہشت گرد باہر سے آکر پورے علاقے پر قبضہ کر لیں؟ مقامی افراد کی اعانت کے بغیر یہ ممکن ہی نہیں۔ آپریشن کے بعد جو لوگ مارے گئے، بھاگ گئے یا روپوش ہو گئے ان کی خبر کوئی کہاں سے لائے؟ عین ممکن ہے ان میں سے کچھ گناہ گار نہ ہوں مگر بم اور گولی کا دماغ اور آنکھیں نہیں ہوتیں۔ گولی شناختی کارڈ دیکھ کر نہیں لگتی۔ اس گروہ کے مطالبات بڑھنا شروع ہوتے ہیں۔ یہ دیکھ کر بیرونی طاقتیں اور غیر ملکی این جی اوز کے سپانسرڈ کچھ فسادی دانشور متحرک ہو جاتے ہیں اور بالآخر ان کی تحریک کو ہائی جیک کر لیا جاتا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ وہی اینکرز، سیاست دان اور این جی او فنڈڈ د انشور جنھوں نے یہاں فوجی آپریشن کے لیے دباؤ ڈالا تھا اب دوسری طرف کھڑے ہوکر’’پھپھے کٹنیوں‘‘ کی طرح واویلا کرتے نظر آتے ہیں اور آگ پھیلتی جاتی ہے۔

نوٹ:یہ کہانی آزاد رائے رکھنے والے قارئین کے لیے پیش کی گئی ہے۔ ٹی۔ وی اینکرز اور فیس بکی دانش وروں سے مرعوب قارئین کا وقت ضائع کرنے پر میں ان سے معذرت چاہتا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: محرومی : سیاسی حقوق کی یا آئینی حقوق کی؟ —- نعمان علی خان
(Visited 142 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: