محرومی : سیاسی حقوق کی یا آئینی حقوق کی؟ —- نعمان علی خان

0

ہر گذرتے دن کے ساتھ بظاہرملک کے مسائل میں پیچیدگی اور تناو بڑھتے ہی جارہے ہیں لیکن غور سے دیکھا جائے تو زیادہ تر پیچیدگیاں ہماری مقتدرہ کی اپنی پیدا کی ہوئی بھی ہیں۔ جبکہ تمام مسائل کا حل انتہائی سادہ اور براہ راست اپروچ میں پنہاں ہے۔

ابھی “بلوچ حقوق” کا قضیہ تھما نہیں تھا کہ ایک دوسرا لسانی حقوق کا غلغلہ، یعنی “پشتونوں کے حقوق” کا معاملہ بڑھ رہا ہے۔ لسانی قیادتوں کی جانب سے “حقوق” کی اِس چھینا جھپٹی میں سب سے زیادہ متاثر ریاست اور اس کے کروڑوں محبِ وطن مگربے بس، مظلوم اوربے آواز شہری ہیں جن کے بنیادی آئینی حقوق جنہیں پورا کرنے کی ضمانت ریاستِ پاکستان نے لی ہوئی ہے، وہ سندھیوں اور مہاجروں کے حقوق، بلوچوں اور پشتونوں کے حقوق، خواتین اور بچوں کے حقوق اورکوٹہ سسٹم جیسے نعروں کی فروعات اور نان ایشوز میں دبا دئیے گئے ہیں۔

جعلی لسانی قیادتوں سے ملک کے عوام کی توجہ اور ہمدردیاں ہٹانے کا صرف ایک طریقہ ہے اور وہ یہ کہ ریاست اور نظام کو چلانے والے صرف پاکستان اور اس کی یک جہتی کے نعرے نہ لگائیں بلکہ وطن اور اس کے عوام سے محبت کا عملی ثبوت بھی دیں۔ کچھ نہیں تو ملک کی بگڑتی ہوئی معیشت سے اپنے ظاہری طرزِ زندگی کا عدم تفاوت دور کریں۔ اپنی تنخواہوں اور جائز مراعات کے اندر رہ کر زندگیاں بسر کریں، قومی خزانے پر عیاشیاں بند کریں، ملک سے باہر جو دولت ہے وہ واپس لائیں تاکہ بجٹ کا خسارہ ختم ہو۔ سیدھے سیدھے، آئین کی شقوں 29 سی اور 38 بی سی ڈی کے مطابق عوام کے اصل حقوق [روزگار، رزق، ھیلتھ کئیر، سیکیورٹی اور سوشل سیکیورٹی] کی عملی معطلی ختم کریں۔ اوردنیا کی باقی مہذب اور ذمے دار ایلیٹ کی طرح اس ملک کا نظام چلانا شروع کریں۔

اگر آپ واقعی پاکستان کو مزید کمزور ہونے سے بچانا چاہتے ہیں اور اسے قوت کے ساتھ ترقی کی شاہراہ پر ڈالنا چاہتے ہیں تو اب بھی وقت ہے، اِس ریاست کے عوام کےآئینی حقوق بحال کرکےعوام کو مضبوط کیجئِے۔ اِن کے پرنسپلز آف پالیسی میں درج آئینی حقوق کی ادائیگی فوراً شروع کیجئیے۔ اگر ایسا نہیں کیا جاتا اور فقط یہی سمجھا جاتا رہا کہ طاقت کے ذریعئیے چھوٹی موٹی چپقلشوں کو کچل دیا جائے گا تو یہ انتہائی غیر دانشمندانہ اپروچ ہوگی۔

اندرونی اور بیرونی قوتیں جنہوں نے ملک کے شہریوں کے آئینی حقوق کی عدم فراہمی کو لسانی اور علاقائی عوام کے حقوق کی جنگ میں تبدیل کرنا شروع کردیا ہے، وہ اس جنگ کو بہت جلد خود آئین اور ریاست کے خلاف جنگ میں تبدیل کرنے پر تلی نظر آتی ہیں۔ ایسے میں اس ملک کا سیاسی نظام چلانے والوں کواگر بحیثیت ایلیٹ یہاں اپنی نسلوں کا مستقبل محفوظ رکھنا ہے توانہیں خود ہی عوام کے حق میں فوری طور پرانقلابی پالیسی فیصلے کرنا ہونگے۔ آئین کے پرنسپلز آف پالیسی کے حصے پر عوام کے حق میں فوری طور پر عملدرآمد شروع کرنا ہوگا اور تمام صوبائی حکومتوں کو بھی مجبور کرنا ہوگا کہ وہ صوبوں کے عوام کے آئینی حقوق بحال کریں۔ صدرِ پاکستان اور صوبائی گورنرزپر فرض ہے کہ آئین کے آرٹیکل 29 سی کے مطابق ہر سال پارلیمنٹ میں پرنسپلز آف پالیسی پر کس قدر عمل ہوا اس بابت رپورٹ پیش کروائیں، جائزہ لیں، بحث کروائیں، کمیٹیاں بنوائیں، کے پی آئیز مقرر کروائیں اور وہ سب کچھ کریں جو عوام کے اندر بنیادی ضروریات سے محرومی کے نتیجے میں جنم لینے والی بے سمتی کو ختم کرسکے۔ یہی بے سمتی ہے کہ جسے لسانی قیادتیں اپنے نعروں کی سمت میں موڑ لیتی ہیں اور اِس بے سمتی کو ختم کیا جانا یوں بھی ضروری ہے کہ یہی عوام کو ریاست سے مایوس کررہی ہے۔ اس بے سمتی کو دور کرنے میں ہی اب پاکستان کی مضبوطی، بقا اور ترقی کی ضمانت ہے۔

موجودہ صورتحال میں کہ جب پشتونوں اور بلوچوں کے حقوق کے نعرے لگانے والے لیڈرز اپنے اپنے صوبوں کے عوام کو بتا رہے ہیں کہ ان کی غربت اور معاشی تباہ حالی کے ذمے دار”پنجاب”، “ریاستِ پاکستان” اور فوج ہے اور وہ ملک کی رولنگ ایلیٹ کو اس ذمہ داری میں شامل نہیں کر رہے کیونکہ ان لیڈرز میں سے بہت سے اسی ایلیٹ کے ساتھ سیاسی کھیل کا حصہ ہیں۔ ایسے میں کتنی حیرت کی بات ہے کہ پورے ملک کا کوئی محبِ وطن دانشور اور سیاسی قیادت ان صوبوں کے عوام کو یہ نہیں بتا رہے کہ صرف تمہارے صوبے ہی کے نہیں بلکہ پورے پاکستان کے شہریوں کے تمام حقوق پورے کرنے کی ریاستِ پاکستان اپنے آئین میں ضمانت لیتی ہے۔ تمہارے ہی نہیں بلکہ پورے ملک کے شہریوں کے آئینی حقوق، پنجاب اور ریاست نے نہیں بلکہ اِس ملک کی ایلیٹ نے دبائے ہوئے ہیں۔ اور ایلیٹ میں تمام صوبوں کی نمائندگی ہے۔ لہٰذہ آوٰ سب مل کر اس ایلیٹ کو آئین پر عملدرآمد پر مجبور کرتے ہیں۔ افسوس کہ کچھ “محب وطن” سیاسی قیادت اور دانشوروں کا بظاہرخیال یہی ہے کہ جب “لسانی” آوازوں کو کچلا جاسکتا ہے توپورے ملک کے شہریوں کو آئینی حقوق دینے کی کیا ضرورت ہے۔

جبکہ لسانی و صوبائی حقوق کے نعرے پر ھنگامہ آرائی کا سیدھا سادہ جواب پورے ملک کے شہریوں کے آئینی فلاحی حقوق کی فوری بحالی اور اِس کا نعرہ ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: