سعید اختر ملک کی سوچ کہانیاں —– محمد حمید شاہد

0

یہ میں ہی تھا کہ ہر بار ملنے پرسعید اختر ملک سے، افسانوں کا نیا مجموعہ لے آنے کا مطالبہ کیا کرتا تھا۔ پھر ایک روز یوں ہوا کہ وہ سچ مچ مسودہ تھامے میرے گھر پہنچ گئے۔ میں نے خوشی مسودہ تھاما، الٹ پلٹ کر کتاب کا مجوزہ نام دیکھا، تو دھچکا سا لگا۔ کہا کچھ نہیں مگر کچھ تھا کہ مجھے پوری طرح خوش نہ ہونے دے دہا تھا۔ وہ کیا تھا میں اسے اس سمے شناخت کرنے سے قاصر تھا۔ مسودہ لیا اور رکھ دیا۔ اسی میں کئی مہینے گزر گئے۔ اچانک ایک روز ایک جھپاکا سا ہوا اور ایک سوالیہ نشان میرے سامنے تھا کہ کیا فکشن لکھنے کا عمل محض سوچ دروازے سے گزرنے کا عمل ہے؟ اب تک آپ جان ہی گئے ہوں گے کہ سعید ملک نے اپنے نئے مجموعے کا نام ’’سوچ دروازے‘‘ رکھا تھا اور اگر میرے ہاں کوئی الجھن تھی تو اسی حوالے سے تھی۔ آپ کو یاد ہو گا کہ لگ بھگ تیرہ سال پہلے آنے والے ان کے اولیں مجموعے کا نام ’’سوچ دالان‘‘ تھا۔ گویا سوچ ان کا بنیادی مسئلہ تھا جو انہیں افسانے کی طرف لایا تھا۔ کئی سالوں پر محیط وقت کے اس درمیانی پارچے میں پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا تھا۔ وہ خود بھی بہ ظاہر’’دالان‘‘ سے اُٹھ کر’’دروازے‘‘ تک آگئے تھے؛ دروازہ، جو اکثر اندر کی سمت کھلتا ہے اور باہر کا راستہ دکھاتا ہے، مگر تب بھی ایک ’’سوچ ‘‘ تھی جس کے وہ گرفتار تھے اور اب بھی کوئی ’’سوچ‘‘ ہے جس کی زلف گرہ گیر کے وہ اسیر ہیں۔ ۔ ۔ آخر کیوں؟ میں نے ایسا سوچا تھا۔ نہیں شاید میں نے کچھ سوچا نہیں تھا، ایک مخمصے میں پھنس گیا تھا اور اس مخمصے میں جا پڑنے کا سبب وہ دلچسپ مکالمہ رہا ہوگا جوکبھی سعادت حسن منٹو اور راجندر سنگھ بیدی کے درمیان ہوا تھا۔ لیجئے پہلے وہ مکالمہ سن لیجئے۔ اس کے راوی خود راجندر سنگھ بیدی ہیں۔ اپنے مضمون ’’افسانوی تجربہ اور اظہار کے تخلیقی مسائل‘‘ میں وہ لکھتے ہیں:

’’افسانہ لکھنے کے عمل میں بھولنا اور یاد رکھنا دونوں عمل ایک ساتھ چلتے ہیں۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ بڑی بڑی ڈگریوں والے پی ایچ ڈی اور ڈی لٹ اچھا افسانہ نہیں لکھ سکتے، کیوں کہ انہیں بھول نہ سکنے کی بیماری ہے۔ میں ایک دماغی تساہل کی طرف اشارہ کرتا ہوں جسے منٹو نے میرے نام ایک خط میں لکھا: ’’بیدی !تمہاری مصیبت یہ ہے کہ تم سوچتے بہت زیادہ ہو۔ معلوم ہوتا ہے کہ لکھنے سے پہلے سوچتے ہو، لکھتے ہوئے سوچتے ہو اور لکھنے کے بعد بھی سوچتے ہو۔‘‘ میں سمجھ گیا کہ منٹو کا مطلب ہے: میری کہانیوں میں کہانی کم اور مزدوری زیادہ ہے۔ ۔ ۔ منٹو کی تنقید کی وجہ سے میری حالت اس عورت کی سی تھی جو مقبوض اور تاراج بھی ہونا چاہتی ہے اور پھر اسی کا بدلہ لینا بھی۔ جب میں نے منٹو کے کچھ افسانوں میں لااُبالی پن دیکھا تو انہیں لکھا۔ ۔ ۔ ’’منٹو! تم میں ایک بری بات ہے اور وہ یہ کہ تم لکھنے سے پہلے سوچتے ہو نہ لکھتے وقت سوچتے ہو اورنہ لکھنے کے بعد سوچتے ہو۔ ‘‘

سعید ملک کے دونوں مجموعوں کے نام ذہن میں حاضر رکھیں تو میرا بیدی اور منٹو کے مکالمے کو یاد کرنا اور مخمصے میں پڑنا سمجھ آتا ہوگا۔ اس مخمصے میں پڑنے کا نقصان یہ ہوا کہ میرا دھیان کچھ اور کتابوں اور کاموں کی طرف ہو گیا اور اس میں کئی ماہ گزر گئے۔ تاہم اس کا ایک فائدہ بھی ہوا اور وہ یہ کہ یہ افسانے ذرا دیر سے مگر ایک ساتھ پڑھے اور فوراً اس مخمصے سے نکل گیا۔ پہلا افسانہ پڑھتے ہی یہ آنکنے میں دیر نہ لگی تھی کہ سعید ملک کے ہاں ’’سوچ‘‘محض اور صرف سوچ سوچ کر لکھنے والی نہ تھی۔ یہ تو احساس کے پانیوں سے گندھی وہ فکر تھی، جواس زندگی کی تلاش میں ہے جس کی لپک ہم سے روٹھ گئی ہے۔

اس مجموعے کا پہلا افسانہ (جس پر کتاب کا نام رکھا گیا ہے) پڑھتے ہوئے رسول حمزہ توف کی نظم ’’صبح ہو یا شام‘‘ کی طرف دھیان چلا گیا۔ اس نظم میں اِس دنیا کو ایک سمندر جیسا دِکھا کر کہا گیا ہے کہ ہم اس سمندر میں اُن مچھلیوں کی طرح ہیں جو کسی بھی لمحے جال میں پھنس سکتی ہیں یا کینچوا لگا کا نٹا نگل کرمچھیروں کے ہاتھ لگ سکتی ہیں۔ یہ نظم اور اسے لکھنے والا یوں دھیان میں آئے کہ سعید اختر ملک کی کہانیاں بھی دُنیا کے جال میں پھنس کر بے قرار ہو جانے والی، یازندگی کی الجھنوں کے کانٹے نگل کرتڑپتے رہنے والی مچھلیوں جیسے انسانوں کی کہانیاں ہیں۔ جی، ایسے انسانوں کی کہانیاں، جواگرچہ اپنی کائنات کے مرکز میں ہوتے ہیں مگر کئی فکری الجھاووں کے جال میں الجھا ئے اور طرح طرح کے سوچ کانٹے نگل کر تڑپتے ہوئے زندگی کر رہے ہوتے ہیں۔ ان کہانیوں میں کہیں توسعید اختر ملک نے عین مین صورت حال دکھا کراپنے قاری کے اندر ایک سوچ چنگاری رکھ دی ہے اور کہیں اس صورت حال سے نمٹنے اور صاف ستھری زندگی کی طرف باقاعدہ دروازہ کھول کر سمت نمائی کی ہے۔ لطف یہ ہے ہر دو صورتوں میں انہیں کسی فلسفے کا سبق یاد دلانا پڑا، نہ کسی نظریے کی تبلیغ کی ضرورت محسوس ہوئی کہ ان کے پاس دیہی دانش کے پانیوں سے بھری ہوئی چھاگل ہے اور بزرگوں کی حکمت بھری باتوںکی بینائی سے بھری پوٹلی بھی۔ داغستانی شاعررسول حمزہ توف اپنے قفقازی آوار سے یوں محبت سے جڑا ہوا تھا کہ اس کی مہک اس کے لفظوں میں بھی اتر آتی تھی۔ سعید ملک بھی کہانیاں لکھتے ہوئے اپنے گائوں دربٹہ اور دندہ شاہ بلاول سے نکل نہیں پائے ہیں۔ یوں دیکھیں تو یہ بھی اسی قبیلے کے ادیب ہیں جن کے ہاں اپنے پائوں کی مٹی سونا ہو جایاکرتی ہے۔ انہوں نے اپنی کہانیاں بُنتے ہوئے جس سوچ کو تانے بانے کی صورت برتا ہے وہ زندگی کی تفہیم کا وسیلہ ہو رہی ہے پروفیسر رحمان، عمیر اور سویرا کی کہانی اسی زندگی کی تفہیم کی ایک کوشش ہے؛ جی عورت اور مرد کے وجودوں سے متشکل ہونے والی زندگی، جس میں عورت درد کا ایسا دروازہ ہے جو ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ صاحب !درد کا دروازہ نہ کہیں سراپا درد کہہ لیں۔

افسانہ ’’پہلی موت‘‘ کا مرکزی کردارایک عورت ہے۔ درد کی تجسیم عورت۔ عورت عمر کے کئی سال پھانک کر بنی درد پہلے ہی ہو گئی تھی۔ اپنے پچپن میں، جب ابھی بہ مشکل اس نے چلنا ہی سیکھا تھا۔ تب اس نے گیلی مٹی کو اپنی ننھی منی مٹھیوں میں بھینچ بھینچ کرایک گڑیا بنائی تھی۔ اس گڑیاسے پیار بھری باتیں کی جاسکتی تھیں مگر اسے اس کے بڑے بھائی نے پائوں تلے کچل ڈالا تھا۔ وہ کچھ بڑی ہوئی تواس کی ’’مانوبلی‘‘ گاڑی کے ٹائر تلے کچلی گئی پھر تقدیر اس کی عزیز ترین سہیلی اچک لے گئی۔ شاید ابھی اس کے درد کی مکمل تصویر بننے میں کچھ کمی رہ گئی تھی۔ لاپرواہ قدرت حرکت میں آئی اورایک معصوم‘ لاچار اور بے بس لڑکی کو باپ کی میت کے سامنے لاکھڑا کیا۔ وہ عورت بننے سے پہلے اور مجسم درد ہو کر آسمان کی سمت دیکھ دیکھ کر سوال کر رہی تھی کہ اے خدا ’’ مجھ میں اتنی سکت اور ہمت کہاں کہ تیری ایک ہی بار عطا کی ہوئی زندگی کو بار بار کی موت سے مار سکوں؟‘‘

موت کہاں مرتی ہے، یہ زندگی ہی ہے جسے ہر بار اور بار بار مرنا پڑتا ہے۔ افسانہ’’مردہ زندگی‘‘ میں اسی عقدے کو کھولا گیا ہے۔ جس نے بھی موت کا بھید پانے کے لیے، موت کا تعاقب کیا، قبروں کے پھیرے لگائے اور میت پر کان لگا لگا کرمردوں سے موت کے تجربے کی بابت سننا چاہاموت اس کے زندہ وجود کو ہی قبر میں اتار لے گئی۔ موت آنے سے پہلے موت سے بچ نکلنے کا بس ایک ہی راستہ ہے، وہی جو افسانہ نگار نے ’’اُمید ستارہ‘‘نامی افسانے میں نے سجھا دِیا ہے۔ سارے راستے بند پاکر ہاتھ پائوں چھوڑ دینے کی بہ جائے پورے اخلاص سے محنت اور مشقت اختیار کرنے والاراستہ۔ ۔ ۔ اس راستے کا آغاز کٹھن اور فضاجی متلانے والی ہو تو بھی یہی زندگی کا روشن راستہ ہے کہ باقی سب راستے دلدل بھری قبر میں جاکر ختم ہوتے ہیں۔

افسانہ ’’سرگوشی کا سفر‘‘ اس جوانی کو موضوع بناتا ہے جو دیوانی ہوتی ہے۔ لڑکی آج کی ہو یا نصف صدی پہلے کی دونوں کے لیے سرگوشی کا کیچڑ ایک سی دلدل بناتا اور ایک سی راکھ اڑاتا ہے۔ افسانہ’’نسخہ ‘‘ کا موضوع نظر انداز ہونے والی وہ جواں نسل ہے جس کا علاج توجہ کے سوا کسی اور نسخے میں نہیں ہے۔ یہ افسانہ گویا اُن والدین کے خلاف ایک چارج شیٹ ہے جو اپنی اولاد کو اپنی سماعتیں فراہم نہیں کرپاتے۔ افسانہ’’ احساس محرومی ‘‘کو بھی اسی ذیل میں رکھیے مگر یوں ہے کہ یہاں موضوع بیٹے اور بیٹی کے معاملے میں والدین کے رویوں میں پائی جانے والی تفریق ہو گیا ہے۔ افسانہ ’’جنت کا ٹکٹ‘‘ میں بھی بچے ہیں مگر یتیمی کا بوجھ اٹھائے اُٹھائے تھک جانے والے اور جہنم جیسی زندگی سے فرار حاصل کرکے جنت پالینے کی تاہنگ میں دہشت گردوں کاآلہ کار ہو ہو جانے والے بچے جن کی ننھی منی کمروں سے بارود باندھ دیا جاتاہے۔ کہنے کوافسانہ ’’وقت سٹاپو‘‘ ننھی بچی کی کہانی ہے مگر یہ ان والدین کی کہانی بھی ہے جو وقت تھمنے کی دعائیں مانگتے ہیں۔ مگر وقت کہاں تھمتا ہے۔ اپنی ننھی ننھی سہیلیوں کے ساتھ ’’سٹاپو‘‘ کھیلنے والی گڑیا جونہی ایک پاؤں اٹھا کر اور اُچھل کر اگلے خانے میں ’’دھپ‘‘ کر کے پہنچتی ہے۔ والدین کی بے قراری اور بے بسی پر’’وقت سٹاپو‘‘ قہقہے لگاتا ہے۔ تاہم افسانہ’’خوف کا سفر‘‘ خوف سے شروع ہوتا ہے اور محبت کے مست کر دینے والے منظر پر اپنی معراج کو پہنچتا ہے۔ ’’آوارہ‘‘ اور ’’ تیسری آنکھ‘‘ ایسی دو کہانیاں ہیں جن میں انسانوں اور جانور وں یا پرندوں کے درمیان تعلق اور ربط سے انسانی زندگی کے گنجھل کھولنے کی کوشش کی گئی ہے۔

محبت سعید اختر ملک کے محبوب موضوعات میں سے ایک ہے۔ اس موضوع کو برتتے ہوئے ان کا بیانیہ بھی رومانویت کی پھوار سے بھیگ بھیگ جاتا ہے۔ افسانہ’’اقرار جزیرہ‘‘ میں ایک چاند ہے، جومحبوب کے قدموں میں اتارا جاسکتا ہے اور یہاں ٹپ ٹپ کرتی جھیل آنکھوں میں ایک جزیرہ ابھرآیا ہے جو اور کچھ نہیں فقط اقرار ہی اقرار ہے۔ افسانہ’’خیال پرندہ‘‘ میں درختوں کی شاخیں‘ تیز ہواؤں کے ساتھ سرگوشیاں کرتی ہیں تو پرندوں کی سماعتیں جھولتی ڈالیوں کی زبان سے آنے والے موسموں کے سندیسے سنتی ہیں؛جی محبت کے سندیسے۔ نغمہ گری اور نوحہ گری کے تار چاہے آپس میں گڈ مڈ ہوجائیں، محبت ان پرندوں کی طرح باقی رہتی ہے جو اپنی ہی دنیا میں مست اپنے پر کھجانے میں مصروف رہتے ہیں۔ محبت کی ایک اور کہانی’’سنہری ربن‘‘ میں، خوشبو کو ہتھیلی پہ رکھ کر محبوب کی سمت اچھالا اور سرخ گلابوں کو دل کے سنہری ربن میں باندھ لیا گیا ہے۔ کہانی میں بتایا گیا ہے کہ محبوبہ اگلے برس تک اس سنہری ربن کا انتظارکرے گی۔

صاحب یہ بجا ہے کہ منہ زور محبت یہ نہیں دیکھاکرتی کہ اگلے برس کے آتے آتے وقت کی صراحی سے قطرہ قطرہ کئی حوادث ٹپک سکتے ہیں مگر کہانی تو آ نے والے بھیدوں کو بھانپ سکتی ہے نا، تو یوں ہے کہ افسانہ’’خالی پلیٹ‘‘ میں اس بھید کو پالیا گیا ہے کہ شہر کے خوبصورت ریستوران کے ’’کافی کارنر‘‘ میں بیٹھے ہوئے عدیل اور سیمی کی محبت چلنے والی نہیں ہے۔ یہی سبب ہے کہ عدیل خالی نظروں سے اپنی ’’خالی پلیٹ‘‘ کو دیکھتا ہے اور سامنے بیٹھی چپڑ چپڑ انگلیاں چاٹتی سیمی کی آئی ڈی اورسارے پیغامات کے تھریڈ کو ڈیلیٹ کر دیتا ہے۔ افسانہ ’’مکر سے زندگی‘‘ میں اسی محبت کو دیہی دانش کے وسیلے سے کھولا گیا ہے۔ مرغوں کا جھوٹ موٹ دانہ چگنا‘ زمین کوٹھونگ ٹھونگ کرمرغیوں کو اپنی طرف متوجہ کرنا اور پھر مرغیوں کا جانتے بوجھتے دامِ فریب کی جانب دوڑپڑنا، اور اس سارے نظارے پر بابا فتح دین اور بابا مہر خان کا بھرپور مکالمہ مرد اور عورت کی فطرت کو کھول کر رکھ دیتا ہے۔

’’روٹھی کہانیاں‘‘ کے تحت سعید اختر ملک نے چارننھی منی کہانیاں لکھی ہیں ؛’’روٹھی بارش‘‘، ’’روٹھا ہوا جھاڑو‘‘، ’’روٹھی ماں‘‘ اور ’’روٹھا موٹر سائیکل‘‘۔ اس سلسلے کی پہلی کہانی میں جمہوریت کی ہانڈی میں وعدوں و امیدوں کی کھیر پک رہی ہے جبکہ دُور چولستان صحرا کی ریت پر چادر کو تکیہ بنائے بابا اورنگزیب کی نظریں بار بار آسمان پر اڑتی بادل کی ٹکڑیوں کو تلاش کر رہی ہیں۔ ’’روٹھا ہوا جھاڑو‘‘ میں رائفل سے کھیلتے بچے سے اچانک ٹریگردب جاتا ہے اور ماں بیوگی کی چادر اوڑھ لیتی ہے۔ وہ ماں جس نے لوگوں کے گھروں میں جھاڑو دے کر بیٹے کو پالاپوسا تھا جب بیٹے کے ہاتھ میں اپنے مرحوم شوہر کی بندوق اورکانوں کی لوئوں کو چھوتا غصہ دیکھتی ہے تو اس کے ریشہ زدہ ہاتھوں سے جھاڑو روٹھ جاتا ہے۔ ایسے بدبخت بیٹوں سے مائیں روٹھ ہی جایا کرتی ہیں جو ماں کے دل میں جھانک نہیں سکتے اور ’’روٹھی ماں‘‘ ایسی ہی ماں کی کہانی ہے۔ ’’روٹھی موٹر سائیکل‘‘، اس نوجوان کی کہانی ہے جس سے اس کا نصیبا روٹھ گیا ہوتا ہے۔ مجموعی طور پر منی کہانیوں کے اس پراگے میں زندگی کی کسی نہ کسی ایسی لہر کو گرفت میں لیا گیا ہے، جو چھو کر گزر جاتی ہے اور عقب میں انسان ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے۔

اور اب ان کہانیوں کا تذکرہ جن میں سعید اختر ملک اپنے گائوں اور اپنے لوگوں سے علانیہ وابستہ نظر آتے ہیں۔ جی ان میں سے ایک کہانی میں نالہ گھمبیر بہتا ہے۔ نالہ گھمبیر کو ہمارے افسانہ نگار نے’’ ہائیڈ پارک‘‘ کہا ہے۔ ایک اور افسانے میں لاری اڈا کی ایک دھندلی تصویر کو اجال دیا گیا ہے جبکہ ’’یاد ماضی‘‘ میں ’’روئے میرے دکھ کا ساگر‘‘ کے مصنف خلش ہمدانی کا اجلا خاکہ بہت محبت سے تراشا گیا ہے۔ اسی کہانی میں خلش ہمدانی کے محبت میں بہتے آنسو تاثیر کا عجب معجزہ دکھاتے ہیں۔ ’’چاچا اقبال‘‘ ہو یا ’’خوش رہنا‘‘ اور دوسرے کرادر یہاں سب زندگی کی تفسیرہو جاتے ہیں۔ بچپن اور گائوں میں گزرتی زندگی کی ان کہانیوں میں ہمارے افسانہ نگار کا ماضی اور اس ماضی سے وابستہ یادوں کا ایسا منظر نامہ ابھرتا ہے جس میں زندگی ٹھنڈے میٹھے تازہ چشموں کی صورت ہمیشہ رواں دواں رہتی تھی۔

آخر میں مجھے ایک بار پھر کہنا ہے کہ سعیداختر ملک نے یہ کہانیاں سوچ سوچ کربن بن کر اور بنا بنا کر نہیں لکھیں، زندگی کو محسوس کرکے لکھی ہیں۔ شاید نیت باندھ کر انہیں لکھا بھی نہیں خود بہ خود اُن کے قلم سے سرزد ہو گئی ہیں۔ افسانہ کیسے لکھا جاتا رہا ؟ کیسے لکھا جارہا ہے؟ کیسے لکھا جانا چاہیے؟ یہ اور اس طرح کے سوالات سعید ملک کا مسئلہ نہیں ہیں کہ ان کا مسئلہ تو زندگی کی وہ لپک ہے جو ہم سے روٹھ گئی ہے : خالص اور بے لوث زندگی۔ اور یہی زندگی ان کہانیوں کو لائق توجہ بنا گئی ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: