نقاط: کتاب نمبر، قارئین کے لیے تحفہ خاص — نعیم الرحمٰن

0

قاسم یعقوب نے ’نقاط کتاب نمبر‘ کی صورت میں باذوق قارئین کو تحفہ خاص پیش کیا ہے۔ ادبی جرائد کی تاریخ کا منفرد اور بے مثال نمبرجس میں کتاب کے متعلق عام قاری جوبھی سوچ سکتا ہے۔ وہ اس شمارے میں موجود ہے۔ فروغ مطالعہ کے لیے مدیرِ نقاط کی یہ انتہائی شاندار کاوش ہے۔ قاسم یعقوب نقاط کا ایک اوربہت عمدہ ’نظم نمبر‘ بھی پیش کرچکے ہیں۔ اس طرح نقاط کے سولہ شماروں میں دو بہترین اورمنفرد خاص شمارے شائع ہوچکے ہیں۔ فیصل آبادسے ’’الکلام‘‘، ’’آفرینش‘‘، ’’خیال‘‘ اور ’’زرنگار‘‘ جیسے عمدہ ادبی رسائل شائع ہوچکے ہیں۔ علامہ ضیاالحسن کا ’زرنگار‘ غالباً اب بھی جاری ہے۔ لیکن کراچی میں دستیاب نہیں۔ نقاط فیصل آباد سے تسلسل سے شائع ہونے والا واحد ادبی جریدہ ہے۔ چھ سو چونسٹھ صفحات کے مجلد کتاب نمبر کی دوہزار روپے قیمت قدرے زیادہ ہے۔ لیکن اسے انتہائی خوبصورت طباعت نے صوری ومعنوی حسن سے آراستہ کر دیا ہے۔ اور شاندار مواد کی وجہ سے یہ زیادہ قیمت گوارہ کی جاسکتی ہے۔ تاہم اگراس اہم ترین شمارے کو زیادہ قارئین تک پہنچانے کے لیے اگراس کا سستا ایڈیشن بھی شائع کیا جائے توبہت اچھا ہوگا۔ قارئین کے لیے ایک اوراچھی خبریہ ہے کہ ’نقاط‘ اور’دنیازاد‘ کوسٹی بک پوائنٹ کاتعاون حاصل ہوگیاہے۔ اس طرح ’تسطیر‘ بک کارنرجہلم، ’ ’استعارہ‘ الحمد پبلشرزاور’سویرا‘ القا پبلشرزکے تحت شائع ہورہے ہیں۔ جبکہ ’آج‘ اور ’کراچی ریویو‘ سٹی پریس اور ’مکالمہ‘ اکادمی بازیافت جیسے پبلشرزکے زیرِ اہتمام شائع ہوتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ناصرف ان ادبی جرائدکی اشاعت میں تسلسل ہے۔ بلکہ کتابت اورطباعت میں بھی یہ تمام پرچے لاجواب ہیں۔ پبلشرزکی ادبی جرائد کی اشاعت میں شرکت ان پرچوں کی بقاکے لیے بہت خوش آئند ہے۔

’کتابیں اور اکیسواں خواب‘ کے عنوان سے اداریے میں قاسم یعقوب نے بالکل بجاکہاہے کہ ’’کتابوں کی دوستی، ان کاذکراوران کامطالعہ جتنی اہمیت آج رکھتا ہے شاید اس پہلے کبھی نہیں تھا۔ کتاب مررہی ہے۔ کتاب بدل رہی ہے۔ کتاب سے طلسماتی رشتے کمزورپڑرہے ہیں۔ ایسے میں کتابوں کا ذکر کسی اندھیرے میں ٹمٹماتے دیے کی لَو کو اونچاکرنے کے عمل سے کم نہیں۔ کتابوں کی اہمیت کم نہیں ہوئی، کتابوں سے پیار کرنے والے کم ہوگئے ہیں۔ انسان کا کتاب سے رشتہ کمزورنہیں ہوا، کتاب کو پہچاننے والے خال خال رہ گئے ہیں۔ کتاب نے صدیوں سے تحریرکو اپنی گود میں پرورش کی ہے۔ اگر تاریخ کا مطالعہ کیاجائے تومعلوم ہوتاہے کہ کتاب ہی واحد ذریعہ تھی جس نے انسان کے ثقافتی وتہذیبی اقدارکو بڑھانے اورپھیلانے میں اہم کردارادا کیا۔ آج کتاب ختم نہیں ہوئی کتاب سے وابستہ کلچردم توڑ رہاہے جس نے کتاب کے الفاظ سے زیادہ اُس تہذیب کوپروان چڑھایا تھا جس سے انسان وقاراوراحترام و توقیر پاتا رہا۔ آج کے حبس زدہ موسم میں کتابوں کو یاد کرنے کا مطلب ہے اپنی تاریخ میں جھانکنا۔ کتابوں کے ساتھ اپنی رفاقت کو یاد کرنے کاعزم کرنا۔ کتابوں کی معیت میں کچھ دیر رکیے اورمطالعے کو اپنازادِ راہ بنائیے۔ اگرسماج کی تشکیل میں کہیں کوئی امید کی کرن پھوٹنے کاکوئی امکان آج بھی موجود ہے تووہ کتاب کلچر ہے جہاں سے تہذیب کونئی اقدارملیں گی۔ ‘‘

شاہداعوان صاحب نے اپنی علمی ویب سائٹ ’دانش پی کے‘ سے کتاب نمبر کے لیے اہم تحریریں بھجوائی ہیں۔ ان کے تعاون سے یہ شمارہ زیادہ وقیع ہوگیا ہے۔ نئی نسل کیا پڑھتی ہے! اس شمارے میں چند طلبا نے اس کا اظہار کیا ہے۔ جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہماری نئی نسل کیا پڑھ رہی ہے اور کیا پڑھنا چاہتی ہے۔ اس کتاب نمبر میں کچھ خصوصی گوشے بھی شامل ہیں۔ کتاب دوستی، ممنوعہ کتب، کتاب کا سفر، کتاب خانے، کتابیں جو میرے ساتھ رہتی ہیں، پرانی کتابیں اوربازار، کتاب نظمیں، کتاب نامہ، کتابوں سے محبت کرنے والے، کتابوں کی دنیا اورکتاب تبصرے۔ غرض کتابوں کا ایک جہان ہے جواس شمارے میں موجود ہے۔

اداریے کے آخر میں قاسم یعقوب نے لکھاہے کہ ’’اس شمارے کا مقصد کتاب سے وابستہ اُس تہذیب کا احیا کرنا ہے جو ویب سائٹ اور سوشل میڈیا کی وجہ سے رفتہ رفتہ مررہی ہے۔ تخلیقی ادب اورسماجی علوم صرف ریڈنگ نہیں مانگتے بلکہ مطالعہ کی پوری تہذیب مانگتے ہیں جو صرف کتاب سے ممکن ہے۔ ‘‘
قاسم یعقوب نے اداریہ غلام محمد قاصرکے اس خوبصورت اوربرمحل شعر پرختم کیاہے۔

بارود کے بدلے ہاتھوں میں آجائے کتاب تواچھا ہو
اے کاش ہماری آنکھوں کااکیسواں خواب تو اچھا ہو

کتاب نمبرکی پہلی مختصر اور پراثر تحریر محمد سلیم الرحمٰن کی ’کتاب سازی سے کتاب سوزی تک‘ ہے۔ جس کا ایک اقتباس

’’تحریرسے ہرحکومت خوف زدہ رہتی ہے۔ آمرانہ یا نظریاتی حکومتوں کا بس چلے تو کتابوں، رسالوں اور اخباروں پر پابندی لگادیں۔ ایسا کرنے سے عالمی سطح پر امیج بگڑنے کا اندیشہ ہوتاہے۔ اس لیے یہ حکومتیں صرف وہی تحریریں چھپنے دیتی ہیں جو اپنے حق میں ہوں۔ قصیدے تواب لکھے نہیں جاتے نثری قصائد ہی سہی۔ ایک بات روزِ اول سے حکمراں طبقوں کوسمجھ میں آگئی تھی۔ اگرعوام پڑھے لکھے ہوں توان پرحکومت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ پاکستان کے دیہی علاقوں میں تعلیم عام کرنے کی جوحوصلہ شکنی کی جاتی ہے وہ بلاوجہ نہیں۔ حکمرانوں کو پتا ہے کہ لوگ پڑھیں گے توسر پر چڑھیں گے۔ ‘‘

کتاب نمبرکے پہلے باب کاعنوان ’’سنگی کتابیں، کاغذی پیراہن‘‘ کے جس میں اٹھائیس مصنفین کے بتیس مضامین شامل ہیں۔ سلیم الرحمٰن نے’کتاب سازی سے کتاب سوزی تک‘ کے نام سے عمدہ مضمون لکھاہے۔ صاحب کا، علم کی راہ دانستہ اپنے مفاد میں روکی جاتی ہے۔ کتابوں کے بارے میں سب سے اندوہناک سانحہ وہ ہے۔ جس میں ہسپانوی مہم بازوں نے سولہویں صدی میں وسطی امریکا کی ایزٹک اور مایا تہذیبوں کی تمام کتابیں جلادیں اورآنِ واحد میں ان مظلوموں کے تاریخی اور تہذیبی ورثے کو ملیامیٹ کرڈالا۔ حکومتیں ہوں یاعوام، کتابوں کے بارے میں ان کی روش معاندانہ ہوتی ہے۔ کتابوں کے بڑے بڑے ذخیرے پڑے پڑے تباہ ہوجاتے ہیں۔ کہاں تک ماتم کریں؟

ڈاکٹروزیرآغا کے دومضامین ’کتابوں کی معیت میں‘‘ اور ’’کتاب، خوشبوکا ایک لطیف جھونکا‘‘ بھی بہت اہم اور دلچسپ ہیں۔ مدیرنے ان کے مضمون کے بارے میں کیاخوب لکھاہے کہ ’’کتاب زندگی کا اول بھی اور آخر بھی! کتاب ہی وہ صدردروازہ ہے جس سے گزر کرآپ زندگی کے رموزاورمراحل سے آشنا ہوسکتے ہیں اور یہی قطب نماہے جو آپ کوصحیح سمت میں چلنے کے قابل بناتا ہے۔ ‘‘

ڈاکٹروزیرآغانے اپنے گورنمنٹ کالج سرگودھاکے خطاب میں کیاخوب کہاکہ ’’قرآن حکیم نے تحریرکااحساس ان الفاظ میں دلایا’ پڑھئے اپنے رب کے نام سے جس نے تخلیق کیا (کائنات کو) انسان کوتخلیق کیا جمے ہوئے خون سے، پڑھئے کہ آپ کارب صاحب تکریم ہے جس نے قلم کے ذریعے علم عطاکیا، جس نے انسان کووہ علم دیاجس سے وہ بے بہرہ تھا۔ ‘‘

اس میں قابلِ غوربات یہ ہے کہ پڑھنے کے عمل کو بذریعہ قلم آگے بڑھانے کی تلقین کی گئی ہے۔ لفظ سے قلم تک کایہ سفر انقلابی نوعیت کاتھا، جس کامطلب یہ تھاکہ تحریر کی ایک اپنی فعال کائنات ہے یاشاید یہ کہ کائنات بجائے خودایک تحریر ہے، اسی لیے باربار اس بات کی تلقین کی گئی ہے کہ کائنات پرغورکرو۔ اسے سمجھنے کی کوشش کرو۔ کائنات کو کتاب کی صورت میں دیکھنا اتنا بڑا انکشاف تھا جو نہ صرف یہ کہ دیگرادیان نے اسلام سے پہلے پیش نہیں کیاتھابلکہ جس کی توثیق اب بیسویں صدی کی طبیعیات نے بھی کردی ہے۔ ‘‘

عابد میر کے دو خوبصورت مضامین سے بلوچستان کے لوگوں کی کتاب سے محبت اور مشکلات کا ذکردلچسپ ہے۔ لکھتے ہیں۔

’’کہتے ہیں پانی کی قدر پیاسے سے پوچھئے۔ سو اس قاعدے سے کتاب کی قدر کتاب کو ترسے ہوئے بلوچستان سے پوچھئے۔ چٹیل میدانوں اورخشک پہاڑوں والا، چرواہوں اورخانہ بدوشوں کادیس جہاں تحریری علم کی عمرابھی ایک صدی کی نہ ہو، جہاں باضابطہ کتابوں کی اشاعت کوابھی سو سال بھی نہ ہوئے ہوں، وہاں کتاب گویا کسی خزانے سے کم نہیں۔ اورہم اس خزانے کے کیسے متلاشی رہے۔ باوجودہماری تنگ دستی کے، ہمارے خطے میں کتاب دوستی کی چاہ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ بلوچستان پہلا پریس تیس کی دہائی میں عبدالصمد اچکزئی نے لگایاجہاں سے وہ اپنا اخبار’استقلال‘ چھاپتے رہے۔ البتہ کتابوں کی اشاعت وترسیل کو لگایا جانے لگا پہلا پریس بھی اسی دہائی کے اواخر میں پنجاب سے یہاں منتقل ہونے والے زمرد حسین نے لگایا۔ قلات پبلشر کے نام سے پہلے مستونگ اورپھرکوئٹہ منتقل ہونے والا یہ پریس چالیس سے لے کر ساٹھ کی دہائی تک ہمارے خطے کے مقامی لکھاریوں کی کتابوں کی اشاعت و ترسیل کاواحد ذریعہ رہا۔ ساٹھ کی دہائی کے وسط میں عابد بخاری نے گوشہ ادب کے نام سے ایک مطبع لگایا، اس روایت کو منصور بخاری آگے لے کرچلے جو آج بھی بلوچستان میں کتاب دوستی کا نمایاں نام ہے۔ ‘‘

دوسرے مضمون ’’بلوچستان میں کتابوں پرچھاپے، روشنی سے ڈرتے ہو!‘‘ میں عابد میر نے ڈگری کالج تربت کی ہاسٹل پرچھاپہ مارکر طلبا کو گرفتار کرنے کی روداد بیان کی ہے۔ جہاں سے برآمد ہونے والی کتابوں کوریاست مخالف موادکے طورپرپیش کیا گیا۔ وہ بالکل درست لکھتے ہیں۔ ’’بلوچ نوجوانوں کو اور ان کی ماؤں کوبدھائی ہوکہ مدہوش کردینے والی جوانی میں ان کے کمروں سے نہ چرس برآمدہوئی، نہ افیون، نہ تاش کے پتے نکلے نہ شراب کی بولتیں، نہ تصویر بُتاں نہ حسینوں کے خطوط۔ نکلی بھی توکتابیں نکلیں۔ کتابیں جوعلم کا ماخذہیں، جوشعورکی سیڑھی ہیں، جوآگہی کاراستہ ہیں۔ کتابیں جو معاشرے کوانسانوں کے رہنے کے قابل بناتی ہیں۔ کتابیں، جوخیرلاتی ہیں، نیکی سکھاتی ہیں، روشنی پھیلاتی ہیں۔ اورروشنی سے سوائے تاریکی کے بھلا اور کون ڈرتا ہے۔ ‘‘ کتاب میں ڈاکٹر نصیردشتی کاایک کمال جملہ ہے۔ ’’جس ملک کودوکتابوں سے ٹوٹنے کاخطرہ ہو، اسے دنیاکی کوئی طاقت متحد نہیں رکھ سکتی۔ ‘‘

نامور براڈکاسٹر اور منفرد مصنف رضاعلی عابدی نے بی بی سی ’کتب خانہ‘ اور’کتابیں اپنے آباکی‘ میں کتابوں اورکتب خانوں کا تذکرہ کیا ہے۔ انہوں نے درجن سے زیادہ کتابیں لکھی ہیں۔ عابدی صاحب کتابوں کے عاشق کے بارے میں لکھتے ہیں۔ ’’تصورکیجئے۔ ایک شخص کے ذاتی کتب خانے میں پچیس ہزار نادر کتابیں موجود ہیں لیکن ایک کتاب کے آخری دو یا تین صفحات نہیں ہیں۔ یہ دو یاتین صفحات پانے کے لیے وہ دنیابھرکے کتب خانوں کو کھنگال رہا ہے مگرابھی تک ناکام ہے۔ کسی جستجوسے لگاؤ ہو تو ایسا ہو۔ ‘‘عابدی صاحب نے ذاتی کتب خانوں کے مالکان کے بعد حشرکی طرف اشارہ کیا ہے۔ کہتے ہیں کہ میں تو اتنا جانتا ہوں کہ خود میں نے کتابوں کا ذاتی ذخیرہ بہاول پور کی ایک درسگاہ کوپیش کردیا اورخود جا کردیکھ لیا کہ میری کتابیں وہاں آرام سے رکھی ہیں چنانچہ اب میں بھی چین سے ہوں۔

کتاب دوستی کے زیرِعنوان فکاہیہ اورانشائی تحریریں شامل کی گئی ہیں۔ اس حصے میں اے حمید، ڈاکٹرسلیم اختر، کنہیالال کپور، عظیم بیگ چغتائی، اسعد گیلانی، محمدمنور، ارشدمیراورشیماصدیقی کی دلچسپ تحریروں کوجگہ دی گئی ہے۔ ان فکاہیہ مضامین کی دلچسپی کا اندازہ مصنفین کے نام سے ہی کیا جاسکتا ہے۔ شیماصدیقی کے مضمون کاعنوان ہی کیادلچسپ ہے۔ ’’کیاآپ اتنے نکمے ہیں کہ آج تک کوئی کتاب نہیں چرائی!‘‘ مضمون کا آغاز کچھ یوں ہے کہ ’’مشتاق یوسفی کے بقول جس نے آپ کوکتاب دی، اس کی بے وقوفی اورجس نے کتاب واپس کردی وہ سے بھی بڑابے وقوف۔ جہاں کسی صاحب علم کو دیکھیے، ایک ہی رونا روتا ہے کہ صاحب معاشرے کے زوال کی وجہ یہی ہے کہ لوگوں نے کتاب سے ناطہ توڑ لیا ہے، لائبریریاں سنسان پڑی ہیں اور کتابیں اپنے پڑھنے والوں کا نشان ڈھونڈتی ہے۔ لیکن نہیں، یہ توسراسرالزام ہے۔ اگر یقین نہیں آتا تو دو چار اعلیٰ درجے کی کتابیں خریدلیجیے اورچند ہی روزمیں وہ چوری نہ ہوجائیں توکہیے۔ ‘‘

ممنوعہ کتب میں ڈاکٹرارشدمعراج نے ’مشہورِزمانہ ممنوعہ کتب‘ پرقلم اٹھایاہے۔ ستارسید نے ’فحاشی کے الزام میں ضبط شدہ کتاب ’آفت کا ٹکڑا‘ کے خالق سے انٹرویو کیا ہے۔ ’’آفت کا ٹکڑا‘‘ کے خلاف مصنف کی اپیل کا فیصلہ بھی اس حصے میں شامل ہے۔ ممتاز ادیب، دانشور اور سیاستدان محمد حنیف رامے کی ’آفت کا ٹکڑا‘ پر مختصرتحریر میں اس ناول کوایک لذیذ المیہ قرار دیا ہے۔ جبکہ اعجاز حسین بٹالوی کے مطابق ’آفت کاٹکڑا‘ ایک ادبی رپورتاژ کی حیثیت رکھتا ہے۔

کتاب کاسفرخصوصی مطالعہ میں ارشدمحمود ناشاد کا تحریر کردہ ’’مخطوطہ اورمخطونہ نویسی کافن، آغاز و ارتقا‘‘ بہت دلچسپ کامعلوماتی مضمون ہے۔

جبکہ رفعت گل نے ’’کتابوں کی جلدسازی کا فن‘‘ کے بارے میں معلومات فراہم کی ہیں۔

کتابیں اورکتب خانے کے عنوان سے سولہ مضامین میں کتب خانوں کے بارے میں بھرپورمعلومات ملتی ہیں۔ ڈاکٹرانیس ناگی نے’لاہور کے کتب خانے‘ پر لکھا ہے۔ سعود خان روہیلہ نے’رضاخان لائبریری رام پور‘ اورحبیب الرحمٰن چغتائی نے مشہورزمانہ ’خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری‘ کے بارے میں قارئین کے علم میں اضافہ کیاہے۔ پروفیسروقارعظیم کامضمون ’میراکتب خانہ‘ قندمکررکی حیثیت رکھتاہے۔ عبدالجبار شاکر’مسلمانوںکاذوقِ کتب اوران کے کتب خانے ‘ پرقلم اٹھایا ہے۔ الیاس جاوید چوہدری نے ’لیاقت نیشنل لائبریری‘ پر عمدگی سے لکھاہے۔ رضاعلی عابدی جہاں برصغیرکی کتابیں دیکھ کر حیران ہوئے اورعلامہ اقبال کے مشہورمصرعے پرمبنی ’کتابیں اپنے آبا‘ کی لکھی۔ اسی ’انڈیا آفس لائبریری لندن‘ کے بارے میں سلیم الدین قریشی نے معلومات فراہم کی ہیں۔ ڈاکٹرمعین الدین عقیل نے’میراکتب خانہ، نوعیت، انفرادیت اورمستقبل‘ پرشاندارمضمون لکھاہے۔ غرض اس پورے حصے میں دنیا بھر کے کتب خانوں پرشاندار تحریریں یکجا کی گئی ہیں۔

’کتابیں جومیرے ساتھ رہتی ہیں‘کے عنوان سے سولہ ادیب، شاعر اوردانشوروں کے اپنی پسندیدہ کتب کے بارے میں قارئین کوآگاہ کیا ہے۔ اس حصے کی خاص تحریروں میں آصف فرخی کا’پیتل کاشہر‘، مشہورناول، افسانہ اورسفرنامہ نگارسلمیٰ اعوان کا’مطالعہ کتابیں اورمیری سرگزشت‘ بیگم صالحہ عابد حسین کا ’کتابیں میری زندگی‘، قائدملت بہادریارجنگ کا’میں مطالعہ کس طرح کرتاتھا‘ اورمصنف، دانشوراورکالم نگاروجاہت مسعودکا’نثرمیں میری پسندیدہ کتابیں‘ بہت دلچسپ اورقابل مطالعہ ہیں۔ وجاہت مسعود نے تواپنی پسندیدہ پچھہتر کتابوں کی فہرست دیدی ہے۔ جوتمام ذوق مطالعہ کومہمیزدیتی ہیں۔

شاہداعوان صاحب نے اپنے ادارے ایمل پبلشرکی ایک بہترین کتاب ’’میرامطالعہ‘‘ سے پانچ اہم مضامین کا انتخاب کیاہے۔ میرامطالعہ ایک بہت شاندارکتاب ہے۔ اس کے انتخاب نے قند مکررکے طور لطف اندوز کیاہے۔

’پرانی کتابیں اوربازار‘ میں کراچی، لاہور، فیصل آبادکے پرانی کتب کے بازاروں کی دلچسپ تفصیلات دی گئی ہیں۔ راشداشرف صاحب تو ان پرانی کتابوں کے بازاروں پرایک عمدہ کتاب لکھ چکے ہیں۔ ان بازاروں میں کیسی کیسی نایاب کتاب مل جاتی ہے۔ یہاں جانا کتاب کے عاشقوں کے لیے زندگی کامعمول ہے۔

کتاب نظمیں میں افتخارعارف، جون ایلیا، شہرام سرمدی، عزیزحامدمدنی اورقاسم یعقوب کی کتابوں پرنظمیں بھی ایک سے بڑھ کرایک ہیں۔ ایک اہم عنوان ’کتابوں سے محبت کرنے والے‘ کتاب دوست مولاناغلام رسول مہر، کشور ناہید، رؤف کلاسرا اورقاسم یعقوب کے مضامین ہیں۔ ’کتابوں کی دنیا‘میں ادارہ نقاط کتابوں کے بارے میں مضامین کا انتخاب بھی بہت اچھا کیا ہے۔ کتاب تبصرے میں چونتیس کتابوں پر تبصروں کا انتخاب کیا گیا ہے۔

غرض نقاط کا ’’کتاب نمبر‘‘ ایک بہت شاندار نمبر ہے۔ جس میں کتاب سے محبت کرنے والوں کے لیے کم وبیش ہرچیزشامل ہے۔ اس عمدہ اور بھرپورنمبر کی اشاعت کے لیے قاسم یعقوب بھرپورمبارکباد کے مستحق ہیں۔

(Visited 130 times, 2 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: