کیچ مکران کی عظیم شاہراہ ء پارینہ —- سلمان رشید، ترجمہ: عتیق بزدار

0

(“The great highway of history” by Salman Rashid)

روایت ہے کہ “سیمی رامیس” نامی ملکہ نے نویں صدی قبل مسیح میں ہندوستان پر حملہ کیا۔ اس عظیم معرکے کے بعد اُس نے واپسی کے لیے مکران کا راستہ چُنا۔ جہاں کے بے آب و گیاہ خرابوں میں، ماسوائے بیس سورماؤں کے، اُس کی تمام تر سپاہ جان سے گئ۔ تین سو سال بعد، فارس کے عکامانی بادشاہ، عظیم سائیرس نے یہی داستان دہرائی۔ وہ مقدر کا مزید ہیٹا تھا کہ اُس کی سپاہِ عظیم میں سے فقط سات سورما جان بچا کر لوٹ سکے۔

325 قبل مسیح میں سکندرِ اعظم نے ہندوستان سے واپسی کے لیے راستے کا تعین کرتے ہوئے انہی دو بادشاہانِ رفتہ کی ہلاکت خیز مہمات کو مدِ نظر رکھا۔ سکندر نے ان معروف پیشروان سے کچھ بہتر کرنے کا سوچا۔ اور اس نے بھی مکران کے زمینی رستے سے فارس جانے کی ٹھان لی۔ گو، اُس نے اپنے بیس ہزار جوان اور کثیر مال و زر، اجاڑ چٹیل میدانوں کی حدت اور ایک سیلابِ ناگہانی کا مقابلہ کرتے ہوئے گنوایا۔ مگر آخر کار اُس کے لشکر کے بڑے حصے نے منزل کو جا لیا۔

لاعلم لوگ، چند خیالی قصوں کی بنا پر یہ سمجھتے ہیں کہ سکندر نے واپسی کے لیے سمندر کا راستہ اختیار کیا۔ علاقے کے جغرافیائی حقائق سے واقفیت رکھنے والا کوئی بھی شخص یہ اندازہ کر سکتا ہے کہ یہ راستہ ایک بڑے لشکر کے لیے ہرگز سازگار نہیں۔ تاریخی مآخذ کے سنجیدہ مطالعے سے پتہ ملتا ہے کہ وہ لسبیلہ سے نکلا تو “جھاؤ” درے سے ہوتا ہوا “آواران” پہنچا۔ جہاں سے اُس نے “تربت” کی راہ لی جو آج کل ایک بار پھر اپنی قدیمی نام “کیچ” سے جانا جاتا ہے۔

یقینناً، اُس کے دونوں پیشروؤں نے بھی یہی راستہ چُنا ہوگا۔ غیر مستند، مقامی تاریخ دان بھلے اس سے متفق نہ ہوں، یہ بالکل وہی راستہ ہے جہاں سے سکندر کے ہزارہا سال بعد محمد بن قاسم اپنا لشکر لے کر سندہ آیا۔

نویں صدی اور اُس کے مابعد کے تاریخ دانوں کے مطالعے سے پتہ ملتا ہے کہ “کیچ”، وادی سندھ اور میسوپوٹیمیا کے مابین شاہراہ پر واقع ایک اہم تجارتی مرکز اور کاروان سرائے تھا۔ جدید ماہرینِ آثارِ قدیمہ ہمیں آٹھ صدی پہلے کے احوال بتاتے ہیں کہ اُن دنوں بھی اِن دونوں تہذیب و تمدن کے مراکز کے بیچ گہرے تجارتی روابط تھے۔ اپنی سیر و سیاحت سے بھرپور زندگی، مَیں نے ایسی ہی شاہراؤں، مسافر خانوں، ریلوے سٹیشنوں اور ریسٹ ہاؤسز کی کھوج میں گزاری ہے جو مدتوں سے متروک ہو چکے ہوں۔

ہمارے وقتوں میں تو کراچی اور گوادر کے بیچ آمد و رفت لسبیلہ، آواران، کیچ اور پسنی کے راستے ہوتی تھی۔ یہ ایک انتہائی کٹھن اور اعصاب شکن سفر ہوا کرتا تھا۔ دو دن کے اس تھکا دینے والے سفر کے بعد مسافر سوائے آرام کے کسی کام کے قابل نہ رہتا تھا۔ لسبیلہ اور کیچ کے درمیان کا یہ رستہ، گئے دنوں کی یادگار ایک کاروانی شاہراہ تھی۔ اس راستے میں کئی کاروان سرائے اور طعام خانے بھی تھے۔ اگلے وقتوں کے جوکھم سے بھرپور اسفار کی طرح یہ سفر بھی مہم جوئی سے معمور ایک پُرجوش تجربہ تھا۔

دورانِ سفر میں اس راستے پر عموماً طعام خانوں کے پرانی وضع کے مالکان سے بھی مڈبھیڑ بھی ہو جایا کرتی تھی۔ جو اکثر بلوچوں اور غیر بلوچوں کے عظمتِ رفتہ کے فرضی قصے بڑے شوق سے سنایا کرتے تھے۔ کبھی اُن ناراض دیوتاؤں کا تذکرہ سننے کو ملتا جنہوں نے پہاڑوں کو آگ لگا کر سیاہ رُو کر ڈالا۔ تو کبھی چکی کے کشادہ باٹ کی کہانی سنائی جاتی جس میں سے صرف وہی لوگ باآسانی گذر سکتے تھے جو “تخمِ حلال” تھے چاہے وہ کتنے ہی فربہ اندام ہوں۔ بلاشبہ، یہ ایک ایسی شاہراہ تھی جس پر سفرنامہ نگار مکمل سفرنامے رقم کر سکتے تھے۔

پھر یوں ہوا کہ، تیز رفتار “مکران کوسٹل ہائی وے” کی تعمیر نے کراچی اور گوادر کا فاصلہ فقط آٹھ گھنٹوں میں سمیٹ ڈالا۔ آٹھ ہزار سال سے زائد عرصے میں پہلی بار، آواران سے گزرنے والی یہ عظیم گزرگاہ قصہ پارینہ ہو گئی۔ چند مقامی بسوں کے علاوہ، لمبے فاصلے والی تمام بسوں اور لاریوں نے اس رستے کو ترک کر دیا ہے۔ طعام خانے اب ٹائر پنکچر کی دوکانوں میں تبدیل ہوئے جن کا کاروبار کچھ خاص نہیں۔ دوسرے دوکاندار جن کا کاروبار کبھی خوب چمکتا تھا اب دوسری جگہوں پر منتقل ہو چکے اور پٹرول پمپس بھی اب ویران پڑے ہیں۔

اپنی سیر و سیاحت سے بھرپور زندگی، مَیں نے ایسی ہی شاہراؤں، مسافر خانوں، ریلوے سٹیشنوں اور ریسٹ ہاؤسز کی کھوج میں گزاری ہے جو مدتوں سے متروک ہو چکے ہوں۔ لیکن پہلی بار میں نے ایک مصروف شاہراہ کو اپنی آنکھوں کے سامنے متروک ہوتے دیکھا۔ یہ ایک پُر ملال تجربہ تھا۔ یہ ایسا ہی تھا جیسے اختتام کے انتظار میں کسی فلم کو سلو موشن میں دیکھا جائے۔

ایک بار ہم نے اس زندہ و جاوید شاہراہ پر ماضی کے ایک اہم سنگِ میل کی تلاش میں سفر کیا۔ مجھے ایک پرانے نقشے سے “ملار” بستی کے نزدیک اس سنگِ میل کا کھوج ملا۔ میں جانتا تھا کہ یہ اس طرز کے اُن درجنوں مقامات میں سے ایک ہے جو لسبیلہ اور کیچ کے مابین شرقی غربی راستے پر جابجا بکھرے ہوئے ہیں۔

ارد گرد کے پتھریلے میدان سے کم و بیش دس میٹر اونچے اس چھوٹے سے ٹیلے کی ڈھلانیں ہزاروں نقشیں پتھروں سے اٹی پڑی تھیں۔ یہ وہ سنگ و خشت تھے جن سے زمانہ ء قدیم میں گھر تعمیر کیے گئے تھے یا برتنوں کی باقیات وہ ٹھیکریاں تھیں جو ان گھروں کے باشندے استعمال کرتے تھے۔ چوٹی پر کچھ گڑھے نظر آئے جو کچھ خزانے کے کھوجیوں نے قیمتی پتھروں کی تلاش میں کھود ڈالے تھے۔ اس بلندی سے ہم ارد گرد کی اُس آبادی کا بہ آسانی اندازہ لگا سکتے تھے جو ایک زمانے میں اس ٹیلے کے اردگرد قائم رہی ہو گی۔

ٹیلے کی بیرونی سطح پر بہت زیادہ نوادرات تو نہیں مل سکے۔ ہاں مگر ایک رنگین برتن کا چھوٹا سا ٹکڑا، ایک مرتبان کا دہانہ، اور ایک ہنڈیا کا پیندہ ضرور مِلا۔ بعد ازاں، ان ظروف کی شناخت، پینتیس سو سال قبل مسیح، قبل از تہذیبِ ہڑپہ کے آثار کے طور پر ہوئی۔ ان چند نوادرات کے فیض “ملار” کو وہ اہمیت ملی جس کا یہ مستحق ہے۔ ملار اور اس طرح کے کئی اور مقاماتِ آثار قدیمہ کو ہنوز کچھ خاص پذیرائی نہیں مل پائی۔ یہ مقامات خزانے کے کھوجیوں کے نشانے پر بھی ہیں۔ ایک نہ ایک دن یہ جگہ ماہرین آثارِ قدیمہ کے تیشے تلے ضرور آئے گی۔ اور تب ان کھنڈروں سے ان گنت کہانیوں کے سوتے پھوٹیں گے۔

 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: