محبت اور علم، ایک نیوکلئیس کے دو جواہر —- فارینہ الماس

0

برٹرینڈ رسل کا کہنا ہے کہ “اچھی زندگی وہ ہوتی ہے جس کا محرک محبت ہو اور جس کے لئے رہنمائی علم سے حاصل کی جائے” یعنی اچھی اور متوازن زندگی کے لئے علم اور محبت دونوں ہی ناگزیر ہیں۔ ان دونوں کی بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ کائنات کی دو اہم حقیقتیں ہیں۔ جن سے کسی بھی مذہب یا تصوف کے کسی بھی سلسلے نے مفر اختیار نہیں کیا۔ نا تو آج سے ہزاروں سال پہلے ان کی زمانی و مکانی حدود متعین تھیں اور نہ ہی آج کے جدید دور میں ان پر کوئی حد لاگو ہو سکتی ہے۔ دونوں ہی اپنے مدار میں رہتے ہوئے، اپنی اپنی انتہاؤں میں لامتناہی ہیں۔ لیکن یہ ماننا بھی بجا ہے کہ کہیں نہ کہیں ان کے راستے یکتا ہو جاتے ہیں جہاں علم کے تانتے محبت اور پھر عشق یا جنون سے جا ملتے ہیں اور انسانی سرگرمی ذہنی دسترس سے کہیں ذیادہ قلبی قدرت میں چلی جاتی ہے۔ جہاں تحیر و تعجب کے نئے ادراکی تجربے ہونے لگتے ہیں۔

دونوں کی طبیعت میں قدرت نے بے پناہ عاجزی رکھ چھوڑی ہے جبھی تو حقیقی اور مقصدی علم رکھنے والا اور حقیقی اور سچی محبت کرنے والا دونوں ہی کبھی اپنے علم یا اپنی محبت پر غرور نہیں کرتے۔ وہ ان کی انتہاؤں پر بھی انتہا کے متلاشی ہی رہتے ہیں۔ یہ دل کو خواہشات کے اندھے اور بے رخے تلاطم سے پاک کئے رکھتے ہیں۔ اگر دونوں ہی کی طلب میں ذاتی مفاد کی غرض شامل ہو جائے تو ان کا حصول انسان کو بد طینت اور مفتن ہی بنا سکتا ہے ولی، عالم یا لائق مکرمت نہیں۔ بہت سے معاملات حیات ایسے بھی ہیں جن میں علم پر محبت کی سبقت ثابت کی جاسکتی ہے۔ جہاں ہمیں بنا محبت کے علم مفلوج و لایعنی دکھائی دیتا ہے۔ علامہ اقبال صاحب نے اپنے سوز دل کی تشنگی کو بجھانے کے لئے اللہ سے دعا کی تھی کہ ”تونے مجھے عقل دی ہے، تو عشق (جنون) بھی عطا کر تاکہ میں اپنے مقصد حیات میں کامیاب ہو سکوں“ وہ فرمایا کرتے کہ علم کا مقام ذہن ہے یا سوچ و بچار۔ لیکن عشق کا مقام قلب ہے، جو ہمیشہ بیدار رہتا ہے۔ انہیں ”قلب لانیام“ یعنی ”دل زندہ“ کی، قوم کی زندگی میں تاثیر و افادیت سے خوب آشنا ئی و آگاہی تھی۔ ان کا ماننا تھا کہ جب تک علم یعنی عقل، عشق سے روشنی حاصل نہ کرے اس وقت تک اس کی حیثیت ”تماشہء خانہء افکار“ سے زائد نہیں۔ اور ایسا علم انسان اور انسانیت کے کسی فائدے کے قابل نہیں ہو پاتا۔

ذہن خیالات کی وہ بھٹی ہے جو سارا دن تپتی اور بھڑکتی رہتی ہے۔ انسان ان خیالات کی انتہا سے گمراہ بھی ہو سکتا ہے اور پریشان و دل گیر بھی۔ یہاں تک کہ یہ آتش اس کے جسم کو جھلسا دینے کی سکت بھی رکھتی ہے تو ایسے میں اس آتش کو آتش نمرود کی مانند عشق کی بوندیں ہی ٹھنڈا کر سکتی ہیں۔ بقول اکبر الہ آبادی

عقل کو کچھ نہ ملا علم میں حیرت کے سوا
دل کو بھایا نہ کوئی رنگ محبت کے سوا

دنیا میں کئی ایسے صاحب علم گزرے ہیں جن کے دل بھی محبت سے معمور رہے۔ وہ دنیا میں علم اور محبت کی ترسیل کا سبب بنے۔ شاعر کی کائنات کے حسن سے محبت، دلکش قدرتی مناظر، ستاروں، کہکشاؤں، پہاڑوں، درختوں، بارش کے پانی و شبنم کے قطروں کی خوبصورت منظر کشی میں جھلکتی ہے۔ اور ایک حساس لکھاری کے اندر موجود انسانوں کی محبت ان کے زخموں، دکھوں، تکلیفوں اور ان کے مسائل کی حساس و ہمدردانہ عکاسی میں دکھائی دیتی ہے۔ انہیں محبت اور علم کی ترسیل پر حاکم وقت کے ہاتھوں ذلت بھی اٹھانا پڑی اور موت کو بھی گلے لگانا پڑا۔ عمر خیام جب ایک بار سمرقند کے سفر پر رواں دواں تھے تو اس دوراں انہیں ان کی رباعیات کی وجہ سے ملحد فلسفی ہونے کا الزام دے کر سڑکوں پر دست اندازی کی گئی۔ یہاں تک کہ انہیں گھسیٹتے ہوئے قاضی کے دربار میں معتوب ٹھہراکر لا کھڑا کیا گیا۔ کہا گیا کہ ”تم پر الزام ہے کہ تم یہ کہتے سنے گئے ہو کہ میں کبھی کبھی ایسی مسجدوں میں جاتا ہوں جہاں جھپکی لینے کے لئے چھاؤں اچھی ہوتی ہے“۔ عمر خیام کا بیاں تھا کہ

”عبادت گاہ میں صرف وہی آدمی سو سکتا ہے جو اپنے خالق سے راضی خوشی ہو، میں ان میں سے نہیں جن کے لئے دین محض یوم الحساب کا خوف ہے۔ میری عبادت کا کیا ڈھنگ ہے؟ میں ایک گلاب کا بہ نظر غائر مشاہدہ کرتا ہوں۔ میں اختر شماری کرتا ہوں۔ میں کائنات کے حسن پر تعجب کرتا ہوں اور اس پر کہ یہ کس قدر منظم ہے۔ انسان پر جو خالق کی حسین ترین صفت ہے۔ انسان کے دماغ پر جو علم کا پیاسا ہے۔ اس کے دل پر جو محبت کا بھوکا ہے۔ اس کے حواس پر، چاہے یہ بیدار ہو یا آسودہ“

گویا انسان کو تصورفانیت کی تلخی سے بچانے، اس کی سوچ کے ابھوگ کو مٹانے اور فکر کے نئے زاویے عیاں کرنے کے لئے ایک سچے شاعر یا ادیب کو اس کے لئے زندگی اور محبت کے کئی رنگ کشید کرنا ہوتے ہیں۔ لیکن اس سارے عمل میں اسے خود اپنی ذات پرکیسے کیسے کشٹ اٹھانے پڑتے ہیں اس کا اندازہ لگانا بھی محال ہے۔ یہاں تک کہ سقراط جیسے علم و دانش پر مامور لوگ تو اس کی حفاظت کے لئے اپنی جان تک قربان کر دیتے ہیں۔

ایسے بھی کئی گزرے جنہوں نے اپنے علم، فہم اور ادراک کو ایجاد کی راہوں پر ڈالا اور اسے انسانیت کی فلاح اور خدمت کے لئے قابل استعمال بنایا۔ یہ محبت ہی کے جذبات ہیں جو ان میں انکساری، ہمدردی، جاں نثاری اور خدمت خلق کے احساسات جگاتے ہیں۔ تھامس نیوکومن کی بھاپ کے انجن، ایڈیسن کی بجلی کے بلب یا الیگزینڈر کی پنسلین کی دریافت میں ضرور یہی احساسات درپیش رہے ہوں گے۔ لیکن محبت سے خالی علم نے سترہویں صدی کے راجر بیکن یا جرمن برتھولڈ شوارٹر کے ہاتھوں اس بارود کی ایجاد ممکن کی جس کے بل پر یورپی سپاہیوں نے انسانی لوتھڑوں پر حکمرانی کا تخت سجانے کا سامان کیا۔

محبت نے دنیا کے دکھی اور ٹھکرائے ہوئے انسانوں کو مدر ٹریسا، ڈاکٹرروتھ فاؤ جیسے کئی مسیحا عطا کئے۔ کچھ ایسی مثالیں بھی ہیں جن میں محبت، علم پر حاوی دکھائی دیتی ہے۔ ایسی ہی ایک بڑی مثال عظیم انسان عبدالستار ایدھی کی ہے جو علم کی معراج کو تو شاید نہ پاسکے لیکن کم سنی سے ایام کہن سالی تک انسانیت سے محبت کے معجزے خوب دکھا گئے۔ انسانوں کی خیر خواہی کی تمنا ہی انہیں اپنی ذات کے لئے درکار خوشی کا باعث بنی۔ خوشی اور خیر خواہی دو ایسے عناصر ہیں جو اگر یکجا ہو جائیں تو ان کا پھیلاؤ عالمگیر ہو جاتا ہے۔ یہ مذہب، رنگ، نسل یا وطن کے محتاج نہیں رہتے۔ لیکن اگر خوشی کو خیر خواہی سے جدا کر دیا جائے تو یہ اپنے مقصد کے حصول کے راستے میں تخریبی بھی ہو سکتی ہے۔

جنگجو اور سفاک لوگ عموماً محبت اور علم دونوں ہی کو کمزوری کی علامات سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی نام نہاد مردانگی کا ڈنکا بجانے کے لئے ناصرف خودعمر بھر ان سے متنفر رہتے ہیں بلکہ ان میں مبتلا لوگوں کو بھی قابل تعزیر گردانتے ہیں۔ چنگیز خان کی سفاک دانش کی رتھ پر سوار ہوئے منگول موت اور دہشت کی علامت بن گئے۔ ان کی قلبی خوشی خیر خواہی سے جدا رہی اور انسان پل بھر میں کھوپڑیوں کے مینار سے بدل گئے۔ اسی دہشت و بر بریت کا تسلسل ہلاکو خان نے بھی جاری رکھا جس نے بغداد کا رخ کیا اور اسے تباہ و برباد کر دیا وہ حلب پہنچا تو محض حلب میں ہی 50 ہزار مردوں کا قتل عام کیا۔ قتل عام کرنا یا بربادی پھیلانا ان کے لئے جشن تھا یا فتح کا اعلان لیکن انسانی تاریخ میں اسے نفرت کے ایسے اظہار کے طور پر رقم کیا گیا جو اپنی ترکیب میں اتنی گہری ہوتی ہے کہ جس دھرتی کی مٹی میں مل جائے پھر وہاں صدیوں تک کانٹوں بھری نفرت کے ببول ہی اگاتی ہے۔ جس طرح بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجائی گئی۔ وہ خطہ آج بھی ایسی ہی بربادی میں مبتلا ہے۔

اسی طرح اگر دل محبت سے لبریز اور ذہن علم سے خالی ہو تو بھی محبت کے گمراہ ہو جانے کا خدشہ رہتا ہے۔ جیسے اکثر محبوب کی التفات نہ مل پانے پر انسان بدلے کی آگ میں جھلس کر سب کچھ خاکستر کر ڈالنے کے درپے ہو جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایسے واقعات بہت سرعت سے رونما ہوتے ہیں جن میں محبت نہ مل پانے کو ایک عبرتناک بدلے میں بدل دیا جاتا ہے۔ تاریخ تو اس کی بھی گواہ ہے کہ عورت کے حصول کی خاطر بھی جنگیں لڑی گئیں۔ جس کی مثالیں ہیلن آف ٹروئے سے لے کر پدماوتی تک ملتی ہیں۔ دنیا میں لڑی جانے والی سبھی جنگیں جن کی بنیاد نفرت اور طاقت کی اندھی نمائش تھی یا جو زمین کے ٹکڑے کو نوچنے یا وسائل کو ہڑپ کرنے کے لئے لڑی گئیں انہیں لڑنے والے وہ تھے جن کے ذہن علم سے لتھڑے ہوئے اور دل محبت سے خالی تھے۔ آج بھی یہی اصول ہے کہ جنگجوؤں کے دلوں سے انسانی محبت کھرچ کھرچ کر نکال دی جاتی ہے تاکہ وہ جنگ میں دشمن کے جسم اور روح کو بے دردی سے بھنبھوڑ سکیں۔ یہی ان کی اعصابی، نفسیاتی اور جذباتی فتح ہے۔ آج بھی پڑھے لکھے جنگجوؤں کو دہشت اور وحشت کی علامت بنانا قابل فخر گردانا جاتا ہے۔ اس لئے ان کے سینے محبت کی بجائے نفرت سے معمور کئے جاتے ہیں۔

معاشرے میں علم کی کمی جہالت، اور جہالت فساد پیدا کرنے کا باعث بنتی ہے۔ یہ جہالت ایک ایسا ہجوم تیار کرتی ہے جو اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارتے اندھوں سے ذیادہ نہیں۔ اور محبت کی کمی اچھے بھلے معاشرے کے افراد کو بھی خود اپنے آپ میں تنہائی کا ایک جزیرہ بنا ڈالتی ہے۔ محبت سے عاری لوگ حالات کی سولی پہ جھولتے رہ جاتے ہیں۔ سماج ذہنی انتشار کا شکار اور جذباتی طور پر تباہ و برباد ہو جاتا ہے۔ سوچ کے دائرے محدود اور بے سمت رہتے ہیں۔ ہم علم کے ساتھ ساتھ محبت سے بھی خالی معاشرے میں جی رہے ہیں۔ جہاں ہماری بے لگام مادی خواہشات ہمیں تخریب پر آمادہ کر رہی ہیں۔ جہاں جذبوں سے خالی لوگ خود اپنے آپ میں تنہائی کا ایک جزیرہ بنتے جا رہے ہیں۔

ہمیں محبت سے نفرت سکھانے میں ہمارے ان مذہبی عالموں، خطیبوں، ٹھیکیداروں کا بہت ہاتھ ہے جو نفرت میں ہی اپنا کاروبار چلا سکتے ہیں۔ فرقے کی دوسرے فرقے سے نفرت، مسلک کی دوسرے مسلکوں سے نفرت، مذہب کی دوسرے مذاہب اورقوم کی دوسری قوموں سے نفرت۔ ۔ ۔ ۔ یہ نفرت کا گھن چکر ہمیں خود ہماری آگ میں جلاتا چلاجاتا ہے۔ اس نفرت کو ہمارے حکمران بھی پھیلانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ ان کا مفاد بھی اسی سے وابستہ ہے۔ دنیا میں پھیلائے گئے کئی نظریات بھی نفرت ہی کے عکاس ہیں۔ یہاں دنیا ہر سال اپنے جنگی بجٹ پر ہزاروں ڈالر خرچ کر رہی ہے۔ لیکن ہر سال لاکھوں انسان خوراک کی کم یابی سے مر جاتے ہیں۔ کئی ملین بچے سکول تک جانے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ لیکن ہم ہیں کہ مذید جنگیں بھڑکانے اور برپا کرنے پر تیار اور زندگی کے امکانات کو اور بھی معدوم کرنے کے ایجنڈے پر متحرک۔ یہ آگ اگلتے ہتھیار ہماری زمین کو کھا جائیں گے اور نفرت، نا صرف انسانی فطرت بلکہ دنیا میں بکھرے فطرتی عناصر و مناظر کو بھی اپنے قدموں تلے روند کے رکھ دے گی۔ افسوس کہ ہم خود اپنے ہاتھوں اپنی زندگی کو لمحہ لمحہ گنواتے چلے جا رہے ہیں۔

ہمیں اس گم شدہ زندگی کو پھر سے ڈھونڈنا ہو گا۔ اپنے لئے نہیں تو اپنی اگلی نسل انسانی کے لئے۔ اور یہ زندگی علم اور محبت کی روشنی میں ہی ڈھونڈی جا سکتی ہے۔ یہی روشنی ہمارے شخصی، سماجی اور عالمی سطح تک کے مسائل کو حل کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔

(Visited 106 times, 2 visits today)

About Author

فارینہ الماس نے سیاسیات کے مضمون میں تعلیم میں حاصل کی لیکن اپنے تخیل اور مشاہدے کی آبیاری کے لئے اردو ادب کے مطالعہ کو اہمیت دی۔ احساسات کو لفظوں میں پرونے کی طلب میں "جیون مایا ” اور "اندر کی چپ ” کے عنوان سے ناول اور افسانوی مجموعہ لکھا ۔پھر کچھ عرصہ بیت گیا،اپنے اندر کے شور کو چپ کے تالے لگائے ۔اب ایک بار پھر سے خود شناسی کی بازیافت میں لکھنے کے سلسلے کا آغاز کیا ہے ۔سو جب وقت ملےقطرہ قطرہ زندگی کے لاکھ بکھیڑوں کی گنجلک حقیقتوں کا کوئی سرا تلاشنےلگتی ہیں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: