بُدھا پیشٹ کی میٹرو: بھاگتے لمحوں میں ٹھہری ہوئی لڑکی —- فرح دیبا اکرم

0

بُدھاپیشٹ میں میٹرو ٹرین ایم ٹو کا چوتھا سٹاپ بلاہا لوزا تیر ہے، (اس علاقے کی ایک سائیڈ بہتر ہے اور دوسری سائیڈ ان لوگوں سے بھری رہتی ہے جنکا کوئی گھر نہیں یا وہ روما ہے اور شراب پی کے وہاں پڑے رہتے ہیں اور یہاں صفائی کا بھی کوئی خاص خیال نہیں رکھا جاتا) ٹرین رکتی ہے لوگ تیزی سے اُتر کر ایکسیلیٹر پر چڑھ کر زیر زمین سے سطح زمین کی طرف جانے لگتے ہیں، ہر کوئی وقت کے ساتھ دوڑ رہا ہے اور ایک ایک سیکنڈ کے لئے لڑ رہا ہے یہ ایک عام رویہ ہے جو مغربی ممالک میں پایا جاتا ہے۔

یعنی جو ملک جتنا ذیادہ ترقی یافتہ ہو گا اس کے باشندے اتنی ذیادہ رفتار سے دن کی طرف بڑھ رہے ہوں گے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ یہاں گرمیوں میں ایک گھنٹہ پیچھے اور سردیوں میں ایک گھنٹہ وقت آگے کر دیا جاتا ہے تاکہ ذیادہ سے ذیادہ سورج کی روشنی سے فائدہ اُٹھا کر توانائی کو بچا جا سکے۔ اکثر لوگ آپکو میٹرو میں ناشتہ کرتے نظر آئیں گے۔ یہاں ایک بات بڑی دلچسپ ہے، ان لوگوں کا کھانا بہت ہینڈی ہوتا ہے یعنی یہ گھر سے یا راستے میں آنیوالی بیکری سے کچھ لے کر کافی کے ساتھ سفر میں ناشتے سے فارغ ہو جاتے ہیں۔ بیکری یورپی لوگوں کی زندگی میں بنیادی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہ نہ صرف ناشتے بلکہ دن کی باقی میلز کے لئے بھی کارآمد ہے۔ یہاں سفر کے دوران آپکو یہ اندازہ نہیں ہو پاتا کہ کون کس کلاس سے تعلق رکھتا ہے کیونکہ کلاس کو نمایاں کرنے والے انڈیکیٹر اس طرح سے بہت واضح نہیں ہوتے تو آپ اس طبقاتی تقسیم کی کشمکش میں بھی نہیں اُلجھتے۔ یہ لوگ جسمانی ایکٹیوازم کی وجہ سے کافی چُست اور توانا رہتے ہیں جیسا کہ گرمیوں میں ان ممالک میں آپکو لوگ اپنی جنس سے بلاامتیاز سائکلنگ کرتے نظر آیئں گے کیونکہ سائکلز کے لئے الگ راستے بنائے گئے ہوتے ہیں جو سڑک کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ مہذب ملک وہ ہوتا ہے جو اپنے پیدل چلنے والوں کا خیال رکھتا ہے اور آپ کو تمام جگہوں پر پیدل چلنے والوں کے فُٹپاتھ اور اُن کے کراس کرانے کے لئے زیبرا کراسنگ نظر آئے گی۔ مہذب ہونا کسی ایک یا دو چیزوں کا حاصل کرنا نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک پورا طرز عمل ہے جو آپ کے ہر ہر عمل میں دکھائی دیتا ہے۔

آپ کو پیچھے لے کر جاتی ہوں۔۔۔ میں بھی ٹرین سے اُتر کر اوپر پہنچی تو سامنے ایک نوجوان لڑکی ایک بوڑھے سے آدمی کو سیلون کی کرسی پر بٹھا کر اسکی شیو کر رہی تھی۔ آج سے پہلے تو میں نے ایسا اس سٹاپ پہ نہی دیکھا تھا اور نہ ہی یہاں کے قانون کے مطابق کوئی ایسے ہی سٹپ پہ اپنا کھوکھا نہیں لگا سکتا خیر میں تھوڑا قریب جا کر اسے دیکھنے لگی۔ اس لڑکی نے سائیڈ ٹیبل کے اوپر اپنے سارے آلات رکھے ہوئے تھے اور چند اور بوڑھے لوگ بھی بیٹھے تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جنھیں میں نے اس سٹیشن پر بے گھر (ہوم لیس) کے طور پر دیکھا ہوا تھا۔ مجھے بہت اچھا لگ رہا تھا اس لڑکی کو اتنی محبت سے یہ کرتے دیکھ کر اور حیران بھی ہو رہی تھی کہ یہ کون ہے اور کیوں کر رہی ہے، کچھ دیر وہاں رکنے کے بعد میں نے اس لڑکی سے پوچھا کہ تم یہ کس لئے کر رہی ہو؟ اس نے جواب دیا میں ایک سیلون پہ کام کرتی ہوں ایسٹر آرہا ہے اور میرا دل چاہا میں ان لوگوں کے لئے کچھ کروں جو اس خوشی کے موقع پر اپنے لئے کچھ نہیں کر سکتے لیکن میرے پاس کچھ خاص پیسے نہیں تھے۔ تو میں نے سوچا اگر پیسے نہیں ہیں تو کیا ہوا میرے پاس سکل تو ہے اس لئے میں اپنا سامان لے کر یہاں آ گئی۔ یہاں جتنے ہوملیس لوگ ہیں میں ان کی شیو کروں گی، ان کے بال تراشوں گی اور اس طرح ان کو اپنے ہُنر سے ایسٹر کے لئے پیارا بناؤں گی۔۔۔

میں نے یہ سُنا تو اس کے لئے دل سے ڈھیروں دعائیں نکلین اور میں اس کے چہرے کا اطمینان اپنی آنکھوں میں بھر کے آگے چل پڑی۔۔۔
دنیا میں سب کے پاس دوسروں کو دینے کے لئے کچھ نہ کچھ ضرور ہوتا ہے (پیسہ ان بہت سارے راستوں میں سے صرف ایک طریقہ ہے) اگر ہم انسانیت کی خدمت کے لئے مُخلص ہوں۔۔۔

 

(Visited 213 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: