قطب شمالی: سلیم احمد (خاکہ) حصہ دوم

0
  • 13
    Shares

 شاہ فیصل کالونی کا سلطانیہ ہوٹل حسب دستور آباد تھا میں لپکتا ہوا اوپری منزل پر پہنچا ہماری منڈلی جمی ہوئی تھی۔ثروت حسین، شوکت عابد، مختار حیات اور افضال سید بڑی محویت سے”میر تقی میر کی شاعری میں لسانی تہذیب “کے موضوع پر احمد جاوید کا مکالمہ سن رہے تھے۔میں خاموشی سے ایک طرف کو ہو کر بیٹھ رہا۔وہ سب اس استغراق سے اس گفتگو میں گم تھے کہ انہوں نے میری آمد کا نوٹس ہی نہ لیا۔وہ تو جب چاند میاں نے چائے کی پیالی میز پہ پٹخی تو سب کی محویت ٹوٹی ثروت مجھے دیکھ کے مسکرائے، شوکت نے آنکھیں چمکائیں اور مکالمہ وہیں سے آغاز ہوگیا۔ یہ گفتگو کے آخری مراحل تھے، جاوید نے گفتگو سمیٹی، مجھے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔” ممتاز کہاں لاپتہ ہو؟ “میں نے مسکرا کر جواب دیا ” سراج کے ساتھ مسکن عزیز گیا تھا'” جاوید نے خوش ہو کر ہنکارہ بھرا۔” تو تمہیں بھی راستہ مل ہی گیا۔” میں دھیرے سے بدبدایا” ہاں لیکن راستہ مل جانے کا مطلب منزل مل جانا نہیں ہے، یار بہت لمبا سفر ہے۔”
جاوید نے مسکرا کر کہا” خوب ایک ملاقات میں ہی زبان کی گرہ کھل گئی۔” سلیم بھائی کے تذکرے پر افضال کے چہرے پر ناگواری کے رنگ تھے،اور سب نے خوشی کا اظہار کیا،مختار حیات نے چپ سادھ لی۔مجھے افٖضال کے ردعمل پر حیرت نہیں ہوئی، وہ اس سے پہلے سلیم بھائی کے انداز نشست تک پر تنقید کرچکے تھے۔اب جاوید افضال سے غزل کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس نے دھیمی آواز اور ٹوٹے الفاظ میں غزل پڑھی۔ یہ پیچیدہ فارسی تراکیب سے مزین غزل تھی لیکن اس کے اشعار میں دم تھا، مجھے یہ دراز قامت وجیہہ جوان پسند تھا، آخر یہ محفل بھی انجام ہوئی اور میں اورجاوید گھر روانہ ہوگئے،جاوید ان دنوں ہمارے گھر مقیم تھے۔
علم کے جویا کو بھنک بھی پڑ جائےکہ کہیں علم بٹتا ہے تو پھر وہ کیسے باز رہ سکتا ہے۔ اب میں بھی سراج کی تاک میں رہنے لگا تھااور اسی کے ساتھ دوستوں سے سلیم احمد کے بارے میں کرید کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔معلوم ہوا سلیم بھائی کے کئی اہم مضامیں ملک کے معتبر جریدوں میں شائع ہوکر شہرت پاچکے ہیں، وہ شاعری میں طاق ہونے کے باوجود بہت کم مشاعروں میں شرکت کرتے ہیں ریڈیو پر ان کے لکھے ڈراموں کی دھوم ہے۔ ملک میں ٹیلی وژن اپنی نشریات آغاز کر چکا تھا اور اسی کے ساتھ ہمارے ممدوح کی مصروفیات بھی دو چند ہو چکی تھیں۔ اب سلیم بھائی روبہ زوال ریڈیو اور ٹی وی کے لیے بھی ڈرامے وغیرہ لکھ رہے تھے، ریڈیو کی رونقیں تیزی سےاجڑ رہی تھیں، بولتی تصویر کو محض آواز پر غالب توآنا ہی تھا۔اب مسکن عزیز کا پھیرا اتوار کو ہی ہوا کرتا۔
سلیم بھائی کی کتاب “چراغ نیم شب” تازہ تازہ شائع ہوئی تھی اور اس کی گونج ملک بھر میں تھی۔اسی دوران ایک اتوار کو میں اور سراج مسکن عزیز پہنچےتو بیٹھک بھری ہوئی تھی۔سلیم بھائی خاصی ترنگ میں تھے،انہوں نے چہک کر سراج سے سوال کیا۔” کیوں مولانا کتاب دیکھی؟” سراج جواب میں کچھ نہ بولا اپنے خالی تھیلے سے جسے میں زنبیل کہا کرتا تھا کچھ کاغذ نکالے۔ سلیم بھائی نےبستر کی اجلی چادر پر سنبھل کر بیٹھتے ہوئے سگریٹ سلگائی، گول تکیہ پہلو میں دبایا اور آنکھیں موند لیں، یہ مضمون آغاز کرنے کا اشارہ تھا۔ کمرے میں سراج کی آواز اپنا جادو جگا رہی تھئ۔ وہ سلیم احمد کی شاعری اور شخصیت اور تنقید اور کسری انسان اور ان کی ذات میں جاری جنگ و جدل اورمحمد حسن عسکری اور رضا آراستہ اورجیمزجوائس اور ہومر‘ ایلیٹ اور ایزرا پاؤنڈ اور ان کی کتابوں کے حوالے سے اٹھنے والے تنازعات اور انسان اور آدمی اور طویل نطم “مشرق” جو اسے جیمز جوائس کے نیم منظوم ناول کے قبیل کی چیز محسوس بے تکان بول رہا ہے۔ اور آخر میں مجدد الف ثانی جو اس کی سب سے سچی محبت ہے۔تعجب ہوتا ہےکہ سراج منیر نے اس ایک مضمون میں ان کی اس ایک مضمون میں سلیم احمد جیسے پرت دار انسان کےمزاج‘،میلانات‘ اندازفکر ا شخصیت کے بہت بڑے حصے کو حصےکوکس طور کمال مہارت سے سمیٹ لیا ہے۔سلیم بھائی چہکے” میاں آپ ایسے صاحب رائے کو اتنے حوالوںکی کیا ضرورت؟ یہ تو اپنی بات کی وضاحت کے لیے دیے جاتے ہیں۔” سراج چمکا۔´سلیم بھائی حوالے اپنی بات کی ؤضاحت کے لیے بھی تو بیان مین میں آتے ہیں۔
سلیم بھائی نے گویا چھیڑ کی۔” ہاں صاحب ہم نیم خواندہ لوگوں پر اس سے آپ کی علمیت کا رعب بھی تو پڑتا ہے۔؟ کمرہ قہقہوں سے کونج اٹھا جس میں سب سے اونچی آواز سراج کے قہقہے کی تھی۔۔
ایسی ہی ایک محفل میں ایک روز کراچی میں شاعری کا مستقبل زیر بحث تھا۔ سلیم بھائی نے سب کا کہا سنا پھر لب وا کیےتو ایک عجیب بات کہی فرمایا۔” کراچی، سمندر کا پڑوسی ہے،اس میں بڑی شاعری کے امکانات موجود ہیں۔” میں اس جملے کی پوری تفہیم سے تو قاصر رہا لیکن یہ ظاہر تھا کہ وہ اس شہر میں شاعری کے مستقبل سے بہت پُر امید ہیں۔افسوس اب تک ان کا یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ سلیم بھائی کو معروف شاعر شہزاد احمد نے ایک بار لاہور سے لکھا،سلیم صاحب آپ اپنے کھرے سکے کو نہیں چلنے دیتے ہم یہاں اپنے کھوٹے سکے تک چلا دیتے ہیں۔ یہ بات ان کے لیے کسی نشتر سے کم نہ تھی وہ کئی روز تک آزردہ رہے اور زیادہ شد و مد سے نئی لکھنے والوں کی ہمت افشائی پر کمر بستہ ہوگئے۔ یہ اور بات کہ عبید اللہ علیم کی کتاب ” چاند چہرہ ستارا آنکھیں” پر ان کے مضموں نے شاعر کو تخلیقی سطح پر ہلاک کر دیا۔ اس میں سلیم بھائی کا کوئی دوش نہیں تھا، انہوں نے اپنے تئیں تو نہایت ایمان داری اور سچائی سے اپنی رائے سپرد قلم کی تھی، یہ علیم کی اپنی ناسمجھی تھی کہ اس نے ان کی اس تحریر کو حرف آخر جانا اور اڑا اڑا پھرا۔وہ یہ بات بھول گیا تھا کہ شاعری مسلسل ارتکاز اور مطالعے کی طالب ہوتی ہے۔
وقت اپنی معین رفتار سے رواں دواں تھا اس دوران سلیم بھائی کی چار کتابیں یاض، اکائی، چراغ نیم شب اور کلیات مارکیٹ ہوچکی تھیں جب کہ ان کی طویل نظم مشرق پر ہنوز کام جاری تھا،ان کے انگنت مضامین اور ریڈیو ٹی وی کے لیے لکھے ڈرامے اس کے علاوہ کن یہ شہر سنگتھے۔ یہ تمام کام نہایت اہم اور لائق تحسین تھا لیکن یہ شہر سنگ دل چرکے لگانے سے کب باز آتا ہے۔ ایک حساس اور تخلیقی انسان اس رویے پر شی زو فرینیا ایسے موزی عارضہ میں مبتلا نہ ہو جائے تو کہاں جائے؟ مجھے یاد آیا کہ اس سے قبل تازہ کار شاعر ثروت حسین بھی اسی قبیل کی بیماری کا شکار ہوا تھا ہم سنتے کہ سلیم احمد توازن کھو بیٹھے ہیں اور رات رات بھر ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کر کلام پاک کی تلاوت کیا کرتے ہیں لیکن سلیم بھائی ایک بہادر آدمی تھے وہ جلد ہی اس بھنور سے نکل آئے۔ اس دوران بہت کچھ تبدیل ہو چکا تھا۔احمد جاوید شگفتہ سے شادی رچا کر ایک دھکتے جہنم میں چھلانگ لگا چکے تھے، سراج منیرکراچی کو خیرآباد کہہ کر لاہور جا بسے تھے اور میں جس نے تمام عمر دنیا کو جوتے کی نوک پہ رکھا تھا وہ اب مجھے کم زور دیکھ کر مجھ پر چڑھ دوڑی تھی۔ مجھے وہ پرانا زمانہ یاد آتا تو میں تعجب سےسوچتا جس شہر میں حسن عسکری، مجتبی حسین، عزیز حامد مدنی، کرار حسین اورمشفق خواجہ ایسے مشاہیر اقامت رکھتے تھے اس میں میرے ممدوح نے کس کمال سے اپنے لیے الگ سے ایک راہ نکالی اور خود کو منوا کر دم لیا۔ وہ اب بھی ادب کے منظر نامے پر اسی آب و تاب سے نمایاں تھے۔
ریڈیو اجڑ چکا تھا اب وہاں کیا دھرا تھا کہ کوئی جاتا۔ میں نے سنا کہ سلیم احمد نے عسکری صاحب کو ترک کر دیا ہے۔ یہ اطلار میرے لیے کسی دھچکے سے کم نہ تھی، میں واقف تھا کہ سلیم بھائی کی تخلیقی شخصیت میں عسکری نے کتنا اہم کردار ادا کیا۔ میں کبھی بھی اس واقعے کا منتقی جواز تلاش نہ کر سکا۔ جن دنوں احمد جاوید انچولی کے قریب سکونت رکھتے تھے۔تو سلیم بھائی اکثر شام ڈھلے جاوید کے دروازے پر چلے آتے اور جاوید کے ہم راہ قریبی چائے خانے میں جا بیٹھتے، ان دونوں کی گفتگو کا محور وحدت الوجود، ابن عربی اور مجدد الف ثانی ہوتا۔ شگفتہ سلیم بھائی کی آمد پر بد مزہ ہوا کرتی۔ اس کا کہنا تھا وہ جاوید کو کسی ایسے ہینگر کی طرح استعمال کرتے جس پر اپنے نظریات بار کیے جاسکیں۔۔

آخر وقت نے گھیر گھار کر ایک چہاردیواری کا پابند بنا دیا اور ایک عورت مجھ پر نگراں مقرر کر دی گئی۔اب لازم تھا کہ میں روزگار کی راہ دیکھوں سُو ملازم ہوکر اندروں سندہ چلا گیا اورکئی برس تک دنیا سے کٹا رہا تاہم شوکت سے میرا خطوط کےزریعے رابطہ تھا ان کے حوالے سے مجھے آخری اطلاع یہ ملی کہ وہ اچھے بھلے معمول کی سرگرمیوں میں مشغول تھے کہ ایک رات ایسے سوئے کہ پھر کبھی نہ جاگے۔اب میرے پاس ان کے حوالے سے لکھنے کوکچھ نہیں رہا۔ بس چند آنسو ہیں جو ان کی نذر کرتا ہوں۔ ان کی زندگی کا ایک باب ختم ہو گیا لیکن۔۔۔ میر نے کیا خوب کہا ہے:
موت واماندگی کا وقفہ ہے
یعنی آگے چلیں گے دم لے کر

پہلے حصہ کا لنک

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: