کتاب کیسے پڑھنی چاہیے؟ —— قاسم یعقوب

0

یہ بظاہر بہت سادہ سا سوال ہے کہ ہم ایک کتاب کو کیسے پڑھیں؟ کتاب کی قرات کیسے کی جائے کہ اس سے بہتر نتائج اخذ کر سکیں، کیا کتاب پڑھنے کے بھی کوئی اصول ہو سکتے ہیں؟ یہ بالکل نیا موضوع ہے۔ اُردو میں بہت کم کم اس موضوع پر لکھا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کتاب پڑھنا ایک ایسی سرگرمی ہے جو ہر ایک کے ہاں مختلف انداز سے واقع ہوتی ہے لہٰذا اس کے کوئی اصول مرتب نہیں کیے جا سکتے۔ ریڈنگ کا عمل دروں بیں (Introversion) عمل ہے، ایک قاری خود فیصلہ کرتا ہے کہ اسے کیسے کتاب پڑھنی ہے، کوئی باہر سے اُسے کیسے بتا سکتا ہے کہ وہ ایسے کتاب پڑھے!اسی موضوع پر بحث کے لیے ۲۱ اپریل ۲۰۱۹ کو نیشنل بُک فائونڈیشن، اسلام آباد کے زیر اہتمام ’قومی کتاب میلہ‘ میں ایک سیشن رکھا گیا۔ اس موضوع پر گفتگو کروانے سے پہلے میرے ذہن میں یہ سوال مسلسل گردش کرتا رہا ہے کہ کیا کتاب پڑھنے کے بھی کوئی اصول مرتب کیے جا سکتے ہیں؟ اس سے پہلے میں عاصم بخشی کا ایک کالم ’’مطالعہ کیسے کیا جائے‘‘ جو نومبر ۲۰۱۷میں شائع ہوا تھا ، کا مطالعہ کر چکا تھا۔ یہی کالم اس بحث کا موجب بنا۔ اس سیشن کی صدارت بھی عاصم بخشی کر رہے تھے جب کہ مہمان خصوصی زیف سید تھے۔ دیگر سپیکرز میں ڈاکٹر یوسف خشک، ڈاکٹرشیراز دستی، فرخ ندیم، شاہد اعوان، فرنود عالم، حسن نقوی، شامل تھے۔

کیا کتاب پڑھنے کے کوئی معروضی اصول بنائے جا سکتے ہیں یا یہ ایک قاری کاموضوعی مسئلہ ہے؟
کیا ہم کتاب پڑھنے سے پہلے کچھ اصول ذہن میں رکھ کے کتاب پڑھیں یا جیسے چاہیں کتاب کو پڑھے۔
میرے خیال میں کچھ اصول ضرور بنائے جا سکتے ہیں جن کی روشنی میں کتاب پڑھنے کا عمل زیادہ بہتر ہو سکتا ہے یا مختلف نتائج سامنے لا سکتا ہے۔ ہم اکثر ایسی کتابوں کی قرات سے گزرتے ہیں جن کو پڑھنا ایک مشکل عمل بن جاتا ہے۔ ہم موضوع ، مصنف اور کتاب کی اہمیت سے واقف بھی ہوتے ہیں مگر اس کے باوجود کتاب پڑھتے ہوئے ہمیں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بلکہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ نہایت اہم موضوع پر نہایت اہم مصنف کی کتاب پڑھتے پڑھتے ایسا مرحلہ بھی آ جاتا ہے کہ کتاب ایک لفظ بھی آگے پڑھنے کی اجازت نہیں دیتی۔ اکثر ایسا بھی ہوتا کہ ایک ہی کتاب کو آپ کئی دفعہ کوشش کے باوجود نہ پڑھ سکیں ، وہ جب ری پرنٹ ہوتی ہے تو پڑھنے کو دل کرتا ہے اور کتاب خوانی میں آسانی ہو جاتی ہے۔ گویا کتاب کی صوری شکل بھی کتاب خوانی میں مدد دیتی یا ترغیب (Motivation) دیتی ہے۔ کتابوں کا باقاعدہ مطالعہ کرنے والوں کے گھر میں ایسی ضرور کتابیں پڑی ہوئی ہوتی ہیں جو نہایت شوق سے خریدی گئی ہوتی ہیں مگر ایک لمبے عرصے تک اُن کی قرات کا موقع ہاتھ نہیں آپاتا۔ وہ کیا چیز ہے جو ہمیں کتاب پڑھنے کی طرف مائل کر سکے۔ کتاب کی بہترین قرات (Reading) کیا ہو سکتی ہے؟ کیا اسے محض موضوعی مسئلہ قرار دے کے اس پر بات نہ کی جائے؟

یہ اور اس طرح کے بہت سے سوالوں کے ساتھ ہم نے سیشن کا آغاز کیا۔ سب سے پہلا سوال حسن نقوی صاحب سے تھا کہ کیا کتاب پڑھنے کے کوئی اصول بنائیں جا سکتے ہیں؟ نقوی صاحب نے کہا کہ بالکل بنائے جا سکتے ہیں۔ کتاب لکھنے والا جس فریکیونسی سے کتاب لکھتا ہے اسی تناسب سے کتاب پڑھنے والوں کو اپنی فریکیونسی رکھنی چاہیے۔ قاری کو پتا ہونا چاہیے کہ کتاب کی نظریاتی اساس کیا ہے اس کا بیانیہ کیا ہے۔ اسی طرح اسے کتاب کے تخلیقی اسلوب کا بھی علم ہونا چاہیے، محض کتاب خوانی (ورق گردانی) کبھی بھی کتاب کا اچھا مطالعہ نہیں ہو سکتا۔ نقوی صاحب نے فرانسس بیکن کے اس قول کو بھی دہرایا کہ کچھ کتابیں ہوتی ہے جن کو صرف چکھا جائے، کچھ نگلنے کے لیے ہوتی ہیں جب کہ کچھ کتابیں چبانے اور پھر ہضم کرنے کے لیے ہوتی ہیں۔ قاری کو پہلے سے علم ہونا چاہیے کہ وہ کتاب کو کس مقصد کے تحت پڑھ رہا ہے۔ کیا محض چکھنا ہے یا نگلنا ہے؟ یا ہضم بھی کرنا ہے۔ اس اصول سے قاری کی قرات پر بہت اثر پڑے گا۔

فرخ ندیم نے بتایا کہ کتاب کے مصنف کو ذہن میں رکھ کے کتاب پڑھی جا سکتی ہے مگر ادب کے معاملے میں ایسا نہیں ہونا چاہیے کیوں کہ ادب خودمختار اکائی ہے اسے ادبی ثقافتی جمالیات اور اصولوں کے مطابق پڑھا جائے تو زیادہ بہتر نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔ دوسری صورت میں جب کتاب کا موضوع سائنسی، نظریاتی، سماجی یا تاریخی ہو تو اس کے مصنف کو ذہن میں رکھ کے کتاب پڑھی جائے۔ مثلاً اگر تاریخ کی کتاب پڑھی جا رہی ہے تو کتاب (تحریر) لکھنے والے کے موقف کو ذہن میں رکھیں گے تو مطالعہ قرات متاثر بھی ہو گا اور متاثر ہونا ضروری بھی ہے۔ ایسی قرات جس میں مصنف سے آگاہی نہ ہو محض قرات ہی ہو سکتی ہے مطالعہ نہیں۔

صلاح الدین درویش سے پوچھا گیا کہ کیا کتاب کا مواد بھول کیوں جاتا ہے۔ اگر قرات اچھی بھی کی ہو تو کچھ عرصے بعد کتاب کامواد بھول جاتا ہے۔ میں نے اس سلسلے میں راجہ گدھ کی مثال دی جو میں نے کئی سال پہلے پڑھا تھا مگر اس کے کردار اور کہانی کا پلاٹ مکمل میرے ذہن سے محو ہوچکا ہے۔ درویش صاحب نے کہا کہ یقینا یہ ایک اہم مسئلہ ہے کہ قرات کرتے ہوئے ہمیں کتاب کے مواد کو یاد بھی رکھنا چاہیے ورنہ کتاب کی قرات سے کوئی بہتر نتائج مرتب نہیں ہو سکتے۔

فرنود عالم نے کہا کہ یہ سوال گو کہ مناسب نہیں کہ کتاب کیسی پڑھنی چاہیے یہ تو ایسے ہی ہے کہ جیسے کسی سے پوچھا جائے کہ محبت کیسے کرنی چاہیے۔ انھوں نے عاصم بخشی کے مشہور مضمون ’’مطالعہ کیسے کیا جائے‘‘ کا حوالہ دیا کہ اس موضوع پر شاید بخشی صاحب نے ہی جم کے لکھا ہے۔ فرنود عالم نے کہا کہ کتاب پڑھنے سے پہلے ریویو لکھے جاتے ہیں تاکہ کتاب کی قرات میں ممد و معاون ہوں، قاری کچھ انتخاب کر سکے کہ کتاب کیسے اور کیوں پڑھنی ہے؟ مگرمیں کسی ریویو کے زیرِ اثر کتاب نہیں پڑھتا، عموماً کتاب پڑھنے کے بعد میں اس پر لکھے ریویو پڑھتا ہوں، یہ جاننے کے لیے کہ اس کتاب کو کسی اور نے کس طرح دیکھا یا پڑھا ہے، اس کے اہم نکات مجھ سے رہ تو نہیں گئے؟ وغیرہ۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ریویو کی روشنی میں، میں دوبارہ کتاب کو پڑھتا ہوں۔ فرنود نے بتایا کہ بعض اوقات میں ریویو کو اس لیے بھی پڑھتا ہوں جب میں کوئی کتاب پڑھ رہا ہوتا ہوں اور وہ کتاب مجھ سے نہ پڑھی جا رہی ہو۔ وہ ریویو مجھے سمجھا دیتا ہے یا میرے شوق کو مہمیز لگا دیتا ہے کہ کتاب آگے بھی پڑھو یا اس میں فلاں فلاں نکات موجود ہیں۔ فلسفے کی کتاب کو پڑھنے سے پہلے مصنف کی آٹو بایو گرافی ضرور پڑھنی چاہیے اس کے نتیجے میں مصنف کے نقطۂ نظر کو سمجھنے میں بہت آسانی ہوتی ہے۔ آٹوبایوگرافی میں مصنف اپنے خیالات کو کھل کر بیان کرتا ہے کہ کس طرح کی زندگی اس نے گزاری ہے، اس کے نقطۂ نظر پر کیا تنقید ہو چکی ہے وغیرہ۔ فرنود نے کہا کہ بعض دفعہ میں کتاب کو بیچ سے یا بہت آخر سے بھی پڑھنا شروع کر دیتا ہوں کہ دیکھو کہ اس کتاب میں کیا موجود ہے، ایسی بہت سی کتابیں میں نے بیچ یا آخر سے پڑھنے کے بعد شروع سے پڑھیں تو ان کی قرات میں فرق محسوس کیا۔

ڈاکٹر یوسف خشک نے بتایا کہ کتاب کو یاد رکھنا واقعی ضروری امر ہے، خاص کر جب ناول یا تاریخ کی کتاب پڑھی جا رہی ہو یا ایسی کتاب جس میں ڈیٹا یا کچھ حقائق موجود ہوں۔ اگر آپ تین سو صفحے پڑھنے جا رہے ہیں اور ناول کے کرداروں اور ان کی لوکیل کے ساتھ مناسبت کو بھول جائیں گے تو آگے جا کر قرات کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ اسی طرح ڈیٹا یا حقائق کو بھی ذہن میں رکھیں بلکہ اگر بھولنے کااحتمال ہو توساتھ ساتھ لکھتے جائیں۔ ڈاکٹر یوسف خشک سے جب پوچھا گیا کہ کتاب کا مواد کیوں بھول جاتا ہے تو انھوں نے جواب دیا کہ کتاب کو یاد رکھنا مسلسل عمل ہے۔ اگر آپ کسی بھی چیز کو دہرائیں گے نہیں تو وہ ذہن سے محو ہو جائے گی۔ اس کا ایک طریقہ ہے کہ اُس کتاب کے متعلق دیگر مواد بھی اگر آپ کے زیرِ مطالعہ ہے تو کتاب کا موضوع اور مواد (Content) یاد رہے گا۔ جیسے مارکس پر کوئی ناول پڑھا ہے تو مارکس کی بایوگرافی کے متعلق دیگر تحریریں نظر سے گزرتی رہیں تو اس ناول کا مواد تازہ رہے گا۔ ورنہ اس کا کوئی حل نہیں کہ قرات میں کوئی ڈیٹا ، حقائق یا کردار ہمیشہ یاد رہیں۔

معروف پبلشر، بلاگر اور ایڈیٹر شاہد اعوان سے سوال کیا گیا کہ قرات کے جدید ذرائع جیسے موبائل سکرین، کمپویٹر سکرین یا پی ڈی ایف فارمیٹ کتاب نے کیا قرات کو متاثر کیا؟ اور کیا قرات کرتے ہوئے ہارڈ کتاب اور ڈیجیٹل کتاب میں ترجیح دی جانی چاہیے؟ انھوں نے بتایا کہ دونوں کے ہاں کچھ مسائل بھی ہیں اور کچھ فوائد بھی۔ کتاب کی قرات زیادہ ہوئی ہے مگر اس کے شخصیت پر گہرے اثرات کم ہوئے ہیں، البتہ ہارڈ کتاب کا معاملہ الگ ہے۔ ہارڈ شکل میں کتاب گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں آج بھی ای بکس یا ڈیجیٹل ریڈنگ بہت حد تک تحقیقی یا حوالہ جاتی مطالعہ کے لئے مخصوص ہے اور کتاب پڑھنے کا عمل کاغذی کتاب سے ہی مخصوص ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سوشل میڈیا کی مقبولیت اور خاص طور پہ اردو رسم الخط کی دستیابی کے بعد سے کتب بینی کو بھی ایک درجہ میں فروغ حاصل ہوا ہے اور لوگ کسی کتاب کے بارے میں سوشل میڈیا پہ پڑھ کے اسے تلاش کرکے حاصل کرنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ سوشل میڈیا کی وجہ سے کتاب کی تشہیر بھی آسان ہوئی جس نے کتب فروشی اور کتب بینی پہ مثبت اثر ڈالا ہے۔

ڈاکٹر شیراز دستی نے ریڈنگ سپیڈ پر بہت اہم گفتگو کی۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے ہاں قرات کی تیزی پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ کتاب کو اگر ایک یونٹ میں نہیں پڑھا جائے گا تو کتاب کا مواد ذہن سے محو ہو جائے گا اور قرات کرنے والے کو کچھ حاصل نہیں ہوگا بلکہ وہ غلط نتائج بھی اخذ کر سکتا ہے۔ اس لیے ریڈنگ سپیڈ کو بڑھایا جائے۔ اس سلسلے میں بچوں کو خاص تربیت دی جانی چاہیے۔ ویسٹ میں طالب علموں کو کہا جاتا ہے کہ وہ مقررہ وقت کے اندر اندر کتاب پڑھ کے اس کے نتائج لکھ کر لائیں۔ کتاب پر سوال کیے جاتے ہیں۔ یوں بچہ کتاب کی قرات میں تیزی بھی لاتا ہے اور ساتھ اُس کو ہضم (Digest)کرنے کی کوشش بھی کرتا رہتا ہے۔

زیف سید نے Mirror Neuron کے حوالے سے عملِ مطالعہ کا تجزیہ پیش کیا۔ زیف نے سامعین کو بتایا کہ کتاب کا پڑھنا محض پڑھنے کا عمل نہیں ہے بلکہ اس سے نیورولوجیکل تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ قرات کے دوران مختلف ناولوں کے کردار ہماری زندگیوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اگر کوئی سیب کاٹ رہا ہے، دوسرا اسے کاٹتے ہوئے دیکھ رہا ہے اور تیسرا اس سارے عمل کو کتاب پڑھتے ہوئے اپنے دماغ میں دیکھ رہا ہے تو تینوں کی اثرات ایک جیسے ہوں گے۔ یعنی یہ عمل کرنا اور اسے پڑھنا ایک جیسے اثرات رکھے گا۔ قرات کے دوران کتابوں کا بہت گہرا اثر ہوتا ہے۔ مرر نیوران (Mirror Neuron) ہماری ریڈنگ کو مرر کر رہے ہوتے ہیں۔ ہم واقعات کو پڑھ بھی رہے ہیں، ساتھ دیکھ اور کر بھی رہے ہوتے ہیں۔ انھوں نے ایک مثال دی کہ ناول ’وار اینڈ پیس‘ میں نتاشا کا جب آفئیر شروع ہوتا ہے تو مجھے اتنا شدید دھچکا لگا کہ میں کئی دن تک ہیجانی کیفیت میں مبتلا رہا، حالاں کہ میں جانتا تھا کہ یہ ناول ہے اور کوئی ڈیڑھ سو سال پرانا ہے۔ ریڈنگ سے وائلنس(violence) میں فرق آتا ہے۔ اس سلسلے میں خاص کر فکشن نے کافی متاثر کیا ہے۔ فکشن بتاتا ہے کہ دوسرے لوگ کیسے زندگی گزارتے ہیں اور میری زندگی میں کیا فرق ہے۔ قرات سے مجھے علم ہوتا ہے کہ دوسرے لوگ کیسے ہیں، ان کا رہن سہن کیسا ہے، ان کی جذباتی اور ذہنی ساخت کیا ہے۔ کتاب بتاتی ہے کہ سب لوگ ایک جیسے ہوتے ہیں۔ چینیوا اچیبے نے افریقہ کی کہانی لکھی ہے مگر ایسے لگتا ہے کہ وہ ہماری کہانیاں ہیں۔ قرات سے آپ انسانوں کے قریب آ جاتے ہیں۔ آپ یہ جانتے ہیں کہ آپ کے درمیان جتنی بھی دیواریں ہیں وہ سماج نے قائم کر رکھی ہیں۔

عاصم بخشی اس مذاکرے کی صدارت کر رہے تھے۔ وہ اس موضوع پر پہلے بھی لکھ چکے ہیں، ان کا مضمون اس مذاکرے میں بھی زیرِ بحث رہا جس میں انھوں نے کچھ کتابوں کا تذکرہ کیا تھا:

’’کیرل کئی دلچسپ راہوں کے مسافر تھے لیکن چونکہ ان کی مرکزی راہ منطق و ریاضی تھی، لہٰذا ان کے یہ اصول واضح طور ایک مصنوعی سے منطقی و ریاضیاتی اٹل پن کا شکا ر ہیں۔ ان کے اس نہایت مختصر سے مضمون کا نام ہی ’’ہم کیسے سیکھیں‘‘ (How to Learn) ہے جو یقینا مطالعے کی ایک مخصوص معنوں میں تحدید ہے۔ موضوعات کی بہت وسعت کے ساتھ کچھ ایسی ہی تحدید آپ کو کئی ایسی دلچسپ کتابوں مثلاً سی ایس لوئس کی ’’ہم کلاسیکی ادب کیسے پڑھیں‘‘ (How to Read Classics) اور ٹیری ایگلٹن کی ’’ہم ادب کیسے پڑھیں‘‘ (How to Read Literature) میں بھی ملے گی جو مخصوص نیم تنقیدی اورنیم درسی نکتہ? نگاہ سے لکھی گئی ہیں۔ عنوان ہی سے موضوع کی تحدید یہ واضح کرتی ہے کہ یہ سوال (یعنی مطالعہ کیسے کریں؟) اپنی عمومیت میں کتنا پیچیدہ ہے۔ میرے علم کی حد تک مطالعہ برائے مطالعہ کے موضوع پر مکمل احاطہ کرتی واحد کتاب مورٹیمر ایڈلر کی ’’کتاب کیسے پڑھیں‘‘ (How to Read a Book) ہے۔ ‘‘

بخشی صاحب نے کہا کہ کتاب کو کیسے پڑھا جائے یہ بڑا میکینکل سوال ہے۔ کتاب کو لطف لینے کے لیے پڑھا جائے یا فنِ مطالعہ کے لیے۔ ہماری بحث کا موضوع اُس ریڈر کا ہے جو کتاب کو کسی مقصد (نصب العین)کے تحت پڑھتا ہے یا لطف لینے کے لیے۔ ایسا ریڈر جو دو ، تین سو کتاب پڑھ لے تو یقینا اس کی شخصیت میں ایک threshold آئے گا جس سے اُس کے دماغ میں ایک جینیالوجی تبدیلی بھی واقع ہو تی ہے۔ لہٰذا ایس ریڈر جو بالکل پہلی دفعہ کتاب پڑھ رہا اور جس نے مسرت اور حصولِ مقصد کے لیے تین چار سو کتاب پڑھ رکھی ہے، دونوں کی ریڈنگ میں بہت زیادہ فرق موجود ہوتا ہے۔ دونوں کے نتائجِ قرات میں بھی فرق آئے گا۔ یوں کتابیں (آپ کے اندر) ایک دوسرے کو شریک کرتی رہتی ہیں۔ کتاب پڑھنے والے کے اندر سیکھنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ کتاب محض ریڈنگ نہیں کرواتی بلکہ آپ کو تبدیل بھی کرتی ہے، آپ کے نظریات پر اثر انداز ہوتی ہے جو آپ نے پہلے سے طے کیے ہوتے ہیں یا سماج سے سیکھے ہوتے ہیں۔ تشکیک کی عادت پڑ جاتی ہے۔ ریڈر کے اندر مختلف آئیڈیاز ٹکرا نے لگتے ہیں۔ اس کو پڑھنے دیا جانا چاہیے تاکہ وہ خود کچھ نیا بنا سکے۔ خرید کے پڑھنا، خوبصورت کتاب کو پڑھنا وغیرہ بہت چھوٹی باتیں ہیں، اسے فلسفیانہ طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ میرے دو بچے ہیں دونوں میں ریڈنگ سپیڈ میں فرق ہے۔ جو زیادہ تیز پڑھ سکتا ہے اس نے اس عادت کو بچپن سے جاری رکھا جس کی وجہ سے وہ ریڈنگ میں زیادہ بہتر ہے۔

آخر پر میں نے سوال و جواب کا سلسلہ شروع کیا تو اتنے زیادہ سوال آنے لگے کہ ان کے جواب دینا مشکل ہو گیا۔ کچھ اہم سوال بھی پوچھے گئے ان ناموں میں حنا ہارون، بینا گوئندی، نیلم احمد بشیر، صفدر رشید اور علی شہباز تھے۔

یہ بھی پڑھیئے: کتاب خواں ہے مگر صاحب کتاب نہیں —- محمد اظہار الحق

 

(Visited 1,130 times, 6 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: