افغان کون تھا ——— ہارون وزیر

0

پشتونوں /افغانوں کی تاریخ کے حوالے سے بہت سے متضاد دعوے کئے جا چکے ہیں۔ آرین سے لے کر بنی اسرائیل اور البانیہ سے لے کر ورجینیا اور ابنی پخت تک کے سارے قلابے ملا دئے گئے ہیں۔ ابنی پخت اس وقت کے موآب کے ساکنان تھے۔ موآب کا ذکر انجیل مقدس میں تفصیل سے موجود ہے۔ تمہید کو طویل کئے بغیر ہم افغان مورخین کے دعووں کو مختصر الفاظ میں یہاں بیان کئے دیتے ہیں تاکہ اس پر بحث کرنے میں آسانی ہو۔

افغان
افغان سلسلہ انساب کی کتابوں میں لکھا ہے کہ یرمیاہ بن ملک طالوت کا افغانہ نام کا ایک بیٹا تھا۔ یرمیاہ اور ملک طالوت چونکہ یکے بعد دیگرے وفات پا گئے اس لئے افغانہ کی پرورش حضرت داؤد علیہ السلام نے کی۔ بعد میں وہی افغانہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی فوج میں کمانڈر بنا۔ مذکور بالا افراد حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام (اسرائیل) کی نسل سے تھے اس لیے انہیں بنی اسرائیل کہا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ حضرت یعقوب کے بارہ بیٹے تھے جن سے بارہ قبیلے وجود میں آئے۔ چار سو سال بعد جب شملنصر یا پھر بخت نصر نے بنی اسرائیل کے بارہ میں سے دس قبیلوں کو شکست دی تو ان دس قبیلوں کو بخت نصر نے جلا وطن کر دیا۔ جو وہاں سے بھاگ کر مختلف علاقوں میں جا بسے۔ ان میں سے زیادہ تر عرب سر زمین پر آباد ہوئے۔ یہ بھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ان میں سے کچھ موجودہ افغانستان کے پہاڑوں آکر بس گئے۔ یہ بات اس لیے مفروضے پر مبنی ہے کیونکہ آبائی علاقے سے نکالے جانے کے بعد تاریخ اس حوالے سے عاجز ہے کہ یہ فی الواقع کہاں چلے گئے۔ کیونکہ باقی بچ جانے والے دو قبیلوں کا ان دس قبیلوں سے بعد میں نہ کبھی کسی قسم کا کوئی تعلق رہا اور نہ ہی ان کا آپس میں خط و کتابت کا کہیں ذکر موجود ہے اس لئے آج بھی ان دس قبیلوں کو گم شدہ قبائل کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

اسی سلسلے کا دوسرا مشہور ترین واقعہ قیس عبدالرشید کا ہے۔ (یہ اوپر والے واقعے کے تیرہ سو سال بعد کی بات ہے) جب مکہ میں ظہور اسلام ہوا تو کہا جاتا ہے کہ حضور پاک صلعم کے کہنے پر خالد بن ولید نے سرزمین افغانستان میں موجود ان قبائل کے پاس ایک خط بھیجا۔ جس کے نتیجے میں افغانوں کا ایک وفد قیس عبدالرشید کی سربراہی میں مدینے گیا۔ جہاں وہ مشرف بہ اسلام ہوئے۔ حضور صلعم نے قیس کا اسلامی نام عبدالرشید رکھا۔ اور کسی جنگ میں ان کی بہادری کو دیکھتے ہوئے انہیں بتان کا لقب دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ بتان عربی میں کشتی کے پیندے میں استعمال ہونے والی سخت لکڑی کو کہا جاتا ہے۔

ہم پشتونوں کے نقش پا کو نئے سرے سے ڈھونڈنے کی بجائے اسی کا ہی ملاحظہ (پوسٹ مارٹم) کرتے ہیں۔

اعتراضات
افغانستان میں بنی اسرائیل کے گمشدہ قبائل کی ایک بڑی تعداد کے آباد ہونے کے تقریباً تیرہ سو سال بعد قیس عبدالرشید نے مدینہ کا سفر کیا۔ یہاں پر سوال یہ بنتا ہے کہ تیرہ سو سال کے اس طویل عرصے کے بیچ میں بنی اسرائیلیو نے صرف بکریاں ہی چرائی ہیں یا انہوں نے اپنی کوئی ریاست بھی تشکیل دی تھی۔ اگر ریاست تشکیل دی تھی تو اس ریاست کا نام کیا تھا اور اس حصے کی سیاست پر انہوں نے کتنا اثر ڈالا تھا؟ کیا تاریخ میں اس کا کوئی ادنیٰ سا ذکر بھی موجود ہے؟

دوسری اور اہم بات۔ بنی اسرائیل یہودیت کے پیروکار تھے۔ عرب سر زمین کی طرف آنے والے یہودیوں نے اپنا دین نہیں بدلا تھا۔ اسی طرح ظاہر ہے Once a jew always a jew کے مصداق افغان سرزمین پر آکر بسنے والے یہودیوں نے بھی اپنا دین نہیں بدلا ہوگا۔ تو کیا افغان/پشتون تاریخ کو یہودیوں سے ملانے والوں کے پاس ایسے شواہد ہیں کہ پشتون یا افغان مسلمان ہونے سے پہلے یہودی تھے۔ اسلام سے پہلے پشتون یا افغان دین کے بارے میں کسی نے کچھ لکھا ہے۔ اگر اس حوالے سے کوئی مستند کتابی یا متواتر بات کا ذکر تاریخ میں کہیں موجود تھا تو آج تک کسی نے اس کا ذکر کیوں نہیں کیا۔

بالفرض وہ بنی اسرائیل کے یہودی تھے تو فطری طور پر پشتونوں یا افعانوں کو مسلمانوں کے پاس جانے کی بجائے مدینہ کے یہودیوں کے پاس جانا چاہیے تھا۔ یہ بات تو سرے سے پشتون ولی کے ہی خلاف ہے اور خلاف عقل بھی ہے کہ اپنوں کی مدد کرنے کی بجائے پشتون ان کے دشمنوں کا بیک مضبوط کریں۔ پشتون فطرت یا پشتون ولی کو سمجھنے والا اس بات کو ہضم کر ہی نہیں سکتا۔ یہ بہت بڑا تضاد ہے۔
کیونکہ شاعر کہتا ہے کہ
پختو یو ژبہ دا، د ژبہ بہ فرنگ ھم زدہ کڑی
پختون ولی چے پکے نہ وی، آ پختون نہ منم

اس کے علاوہ حضور پاک صلعم کا قیس کو خط بھیجنے، ان کا وفد کے ہمراہ آنے اور پھر کسی جنگ میں بہادری کے بے مثال جوہر دکھانے کا اسلامی تاریخ کے کسی مستند کتاب میں کوئی ذکر ہے؟

نعمت اللہ نے “مخزن افغانی” میں قیس کے تین بیٹوں کا ذکر کیا ہے سربن، بیٹن اور غرغشت جبکہ کرلان کو قیس کا پوتا تو بتایا ہے لیکن کرلان کے والد کا نام نہیں بتا سکا ہے۔ یہی لکھا کہ کرلان کی کفالت اور پرورش سربن نے کی۔ باقی تمام پشتون شجرہ نویسوں نے کرلان کی کفالت اور پرورش کے ذمرے میں غرغشت کا نام لکھا ہے۔ پرورش جس نے بھی کی لیکن اس بات پر سب متفق ہیں کہ کرلان قیس کی نسل اور وراثت میں حصہ دار تھا۔ ایک ایلفنسٹون (سکاٹش مورخ) ہی واحد شخص ہے جنہوں نے قیس کے چار بیٹے لکھے ہیں۔ سربن، بیٹن۔ غرغشت اور کرلان۔

اب یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر قیس بنی اسرائیل کے افغانہ قبیلے کا ایک فرد تھا اس قبیلے کا جو تیرہ سو سال سے افغان سرزمین پر رہ رہا تھا۔ ظاہر ہے تیرہ سو سال میں ان کی تعداد اگر لاکھوں میں نہیں ہوگی تو بھی یہ بات تو پکی ہے کہ انکی یہ آبادی بیسیوں ہزار نفوس تک تو پہنچی ہی ہوگی۔

اب یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ہی نسل کے ہزاروں افراد میں سے صرف ایک آدمی قیس کی نسل آگے چلی ہو۔ اچھا مزے کی بات یہ ہے کہ قیس کی نسل کے نام بھی معلوم ہیں۔ شجرہ بھی موجود ہے۔ یہ اپنی نسلی اور قبائلی شناخت کے ساتھ پوری دنیا کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ہیں۔ جبکہ باقی ہزاروں افغانہ بنی اسرائیلیو کے کسی ایک فرد کا کچھ اتہ پتہ نہیں ہے۔ ہے نا بڑی عجیب بات۔

کیا تیرہ سو سال سے موجود افغانہ نسل کے ان ہزاروں بنی اسرائیلیو میں سے صرف ایک قیس ہی بچا تھا۔ باقی ہزاروں افغانہ بنی اسرائیلیو کی نسلیں کدھر گئیں۔ یہ بھی تو ممکن نہیں کہ باقی سب مر کھپ گئے ہوں۔ آج تک کسی مورخ یا شجرہ نویس نے اس بات کی طرف توجہ نہیں دی۔ یہ تضاد افغانہ بنی اسرائیلیوں کے شجرہ نسب پر سوال بن کر کھڑا ہے۔ جب تک اس سوال کا جواب نہیں دیا جاتا قیس عبدالرشيد سے آگے بڑھا ہی نہیں جا سکتا۔ یا تو آپ کو قیس کے ساتھ رہنے والے ان ہزاروں افغانہ بنی اسرائیلیوں کا شجرہ نسب بھی بالکل ایسے ہی بتانا ہوگا جیسے قیس کا بتا رکھا ہے یا پھر آپ کو بنی اسرائیلیوں والے دعوے سے دستبردار ہونا ہوگا۔ اور اس بات کا اقرار کرنا ہوگا کہ بنی اسرائیلیوں والی بات ایک من گھڑت اور فرضی کہانی تھی۔ یعنی کہ ایویں گلاں ای بنیا نیں۔

حقیقت یہ ہے کہ
بنی اسرائیل کے گمشدہ قبائل کا ایک بڑی تعداد میں افغانستان آنا اور پھر قیس عبدالرشید کا مدینے جا کر مشرف بہ اسلام ہو کر کسی جنگ میں داد شجاعت دینے تک کی تاریخ کے اس سلسلے کا ایک بھی واقعہ صحت کے ساتھ درج نہیں۔ نہ ہی تواتر و ربط کے کسی قسم کے آثار نظر آتے ہیں۔ پشتونوں کا یہ سلسلہ انساب مفروضوں اور قیاسات پر مبنی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ تاریخ نویسی ایک بہت ہی نازک امر ہے۔ تاریخ دان کا کسی طرف جھکاؤ اور ذاتی پسند نا پسند پوری تاریخ کا چہرہ مسخ کرکے رکھ دیتی ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ پشتونوں نے قلم کی بجائے ہمیشہ تلوار سے محبت کی ہے۔ آج بھی اگر دیکھا جائے تو پشتونوں نے جرگہ جیسی Rich Tradition کو بھی قرطاس پر نہیں اتارا۔ بس یہ تمام علم سینہ بہ سینہ چلا آ رہا ہے۔ یہی مثال ان کی اپنی تاریخ کا بھی ہے۔ پشتون تاریخ کبھی بھی عوامی سطح پر نہیں لکھی گئی۔ جتنی بھی تاریخ لکھی گئی ہے وہ درباروں کے کاتبین نے لکھی ہے۔ افغان تاریخ کی پہلی جامع کتاب “مخزن افغانی” جہانگیر کے دربار میں لکھی گئی تھی۔ جس پر یہ خدشہ یقیناً جائز ہے کہ اس میں بہت سے تاریخی حوالے دربار کی طبیعت کے تابع ہوں گے۔

پشتون کیلئے دنیا میں سب سے زیادہ مستعمل لفظ پٹھان ہے۔ جیسا کہ ہندوستان، عرب، یورپ، امریکہ حتیٰ کہ پاکستان کے بھی باقی تینوں صوبوں میں اسے اسی پٹھان نام سے پکارا جاتا ہے۔ آٹے میں نمک برابر لوگ اسے افغان بھی کہتے ہیں۔ لیکن یہ کبھی بھی پشتون کے اصل نام نہیں ہیں۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک چھوٹے قد کا جاوید نامی شخص اپنے شہر سے دور کسی دوسرے شہر مزدوری کے سلسلے میں جاتا ہے وہاں اپنے چھوٹے قد کی وجہ سے وہ جاوید کی بجائے چھوٹا یا چھوٹے کی عرفیت سے مشہور ہو جاتا ہے۔ اسی عرفیت سے بار بار بلائے جانے پر وہ رسپانڈ تو کرے گا بالآخر تسلیم بھی کر لے گا کہ میر ایک نام چھوٹا بھی ہے کیونکہ بہت سارے لوگ مجھے اس نام سے پکارتے ہیں لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اس کا اصل نام چھوٹا ہے۔ اس کا اصل نام جاوید ہی رہے گا جو اس کے ماں باپ نے رکھا تھا۔

بالکل یہی حادثہ پشتون کے ساتھ بھی ہوا ہے۔ کہ اس کا اصل تو پشتون ہی ہے لیکن لوگ ایک لمبے عرصے سے پٹھان یا افغان کہہ کر بلاتے ہیں۔ اس لئے پشتون، پٹھان یا افغان پر بھی سر ہلا لیتا ہے۔ یہ نام اب پشتون کی مجبوری بن گئے ہیں ورنہ پشتون کبھی بھی نہیں چاہتا کہ کوئی اسے پٹھان یا افغان کہہ کر پکارے۔ وہ خود کو پشتون کہلوانا ہی پسند کرتے ہیں۔ اسی نام کو ہی باعثِ عز و شرف گردانتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پشتو زبان کی شاعری پشتون یا پختون کے الفاظ سے بھری پڑی ہے۔ ذیل کے کچھ اشعار کیلئے محمد ارشد خان صاحب کی تحریر سے استفادہ کیا ہے۔

خوشال بابا کے اشعار
ع- د شیر شاه او د بهلول خبرې اورم
خلک واۍ چې په هند به پښتانه وو بادشاهان!
(شیر شاہ سوری اور بہلول لودھی کا ذکر سنتا ہوں–لوگ کہتے ہیں کہ ہند پر پشتون بادشاہ ہوتے تھے)
زه خوشحال توره به لاس کفن په غاړه به راپاسم
که خبر شوم چه پختون د چا غلام شو
(میں خوشال تلوار سونت کفن اوڑھے کر اٹھ جاؤنگا–اگر مجھے خبر ہوئی کہ پختون کسی کا غلام ہوا ہے-

جس احمد شاہ ابدالی پر افغانی چیسٹ تھمپنگ کرتے ہیں ذرا انکی بھی سنیں۔ وہ اپنے آبائی وطن کو پختونخوا کہتے ہیں اور شیر شاہ سوری اور حمید لودھی جیسے “پشتون” مشاہیر پر فخر کرتا ہے کسی “افغانی” پر نہیں:

ده دیلي تخت هیرومه چې رایاد کړم
ځما ده ښکلي پښتونخوا ده غره سرونه
ده حمید او ده فرید دور به بیا شي
چې په توره پښتانه کړي ګوزارونہ

پشتون کی بات ہو رہی ہو اور اس میں پشتون ولی کا ذکر نہ ہو، یہ ہو ہی نہیں سکتا۔ پشتون تاریخ پشتون ولی کے بغیر ادھوری ہے۔ افغان چاہے لاکھ کتابیں لکھ کر لفظ افغان کو مقدم ثابت کر بھی دے لیکن پھر بھی وہ ہمیشہ پشتون ولی اور زبان کے لئے لفظ پشتو کا محتاج رہے گا۔ جبکہ پشتون ایسی کسی بھی مجبوری سے مبرا ہے۔

ایک اور پتے کی بات بتاؤں؟
افغانستان نے ہمارے قوم پرستوں کو لوئی پشتونستان کا ایک مسحور کن خواب دکھا رکھا ہے۔ جس کے پیچھے بھاگتے بھاگتے بہت سوں کی ہڈیاں بھی مٹی ہوچکی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر افغان ہی اصلی اور نسلی نام ہے تو لوئی پشتونستان کی بجائے انہوں نے لوئی افغانستان کا دام کیوں نہیں پھینکا۔

وہ اس لئے کہ پشتون، پشتون تھا، پشتون ہے، پشتون رہے گا اور اسے صرف پشتون کے نام پر ہی گھیرا جا سکتا ہے۔ لفظ افغان اور پٹھان وہ اپنے لئے پسند نہیں کرتے اس لئے انسانی نفسیات کو مد نظر رکھتے ہوئے افغانیوں نے نیچے والے پشتونوں کو ہمیشہ پشتونستان کا دانہ ڈالا ہے کہ یہی ایک دانہ ہے جسے پشتون چگ سکتے ہیں افغان کا دانہ تو چگنے سے رہے۔

اگرچہ یہ بحث لا ینحل ہے۔ آج تک اس پر اتفاق نہیں ہو سکا اور نہ شاید کبھی ہو سکے۔ لیکن اس کا ایک فائدہ یہ ضرور نکلے گا کہ علم دوست حضرات جب اس اس پر بحث کریں گے تو بہت کچھ نیا سیکھنے کو ملے گا۔

میں ذاتی طور پر باچا خان کی پارلیمنٹ میں کی گئی تقریر سے کلی متفق ہوں کہ
ہند والے ہمیں پٹھان کہتے ہیں اور فارس والے ہمیں افغان کہتے ہیں لیکن یاد رکھنا ہم پٹھان یا افغان نہیں ہیں بلکہ ہمارا اصلی نام پختون ہے۔

واللہ اعلم

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: