پاکستان میں فنِ قوالی کی روایت —– یاسر اقبال

0

ویسے تو فن موسیقی کی تمام اصناف اپنی اپنی جگہ خاص اہمیت کی حامل ہیں، ہر صنف کو اپنے دور میں خوب پذیرائی ملی۔ اصناف ِ موسیقی کا جائزہ لیا جائے پتا چلتا ہے کہ ان کی تقسیم دو درجوں میں کی گئی ہے، کلاسیکی موسیقی کی اصناف اور نیم کلاسیکی موسیقی کی اصناف۔ کلاسیکی موسیقی میں پربندھ، تروٹ، دھرپد، خیال، ترانہ وغیرہ جیسی اصناف شامل رہیں جبکہ ٹھمری، غزل، قوالی وغیرہ کو نیم کلاسیکی موسیقی میں شمار کیا جاتا رہا ہے۔ ایک طرف یہ غنائی اصناف موسیقی کے تقاضے پورے کررہی تھیں تو دوسری طرف برصغیرکی کے تہذیب و تمدن کو بھی پروان چڑھا رہی تھیں۔ ان تمام اصناف کے غنائی لب و لہجے میں مشرق کا تمدن اپنی جملہ رعنائیوں کے ساتھ محسوس ہوتا ہے۔ برصغیر کی موسیقی میں جہاں تک فن قوالی کا تعلق ہے تو اس کی ابتدا حضرت امیر خسرو کے زمانے میں ہوئی۔ امیر خسروخود ہی اس فن کے موجد تصور کیے جاتے ہیں۔ سلاسلِ صوفیہ میں سلسلہ چشت نے اس صنف کو سماع کی شکل میں خوب پروان چڑھایا۔ سلسلہ چشت میں موسیقی چونکہ ایک خاص روحانی نقطہ نظر کی حامل رہی ہے اور خاص شرائط کے ساتھ صوفیانہ مجالس میں اسے جگہ دی جاتی رہی۔ ان شرائط کو امام غزالی نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف کیمائے سعادت میں اور داتا علی ہجویری نے کشف المحجوب میں بڑی تفصیل سے بیان کیاہے۔ بہرحال اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ ایک الگ بحث بنتی ہے۔ پیش نظر مضمون میں قوالی کا فن اور خاص طور پہ قیام ِ پاکستان کے بعد قوالی کا فن جو نئے تجربات سے دوچار ہوا ہے، اس کا ایک جائزہ لیا جائے گا۔

قوالی کو پیش نظر رکھتے ہوئے موسیقی کے بارے میں علامہ اقبال نے فرمایا تھا موسیقی ہندوستان میں آکر قوالی کے ہاتھ پرمشرف بااسلام ہوئی ہے۔ قوالی ایک غنائی ترکیب (آہنگ) کا نام ہے اور کسی بھی کلام کو اس غنائی ترکیب میں ڈھالا جاسکتا ہے۔ قوالی کا آہنگ بنیادی طور پر تال کے آہنگ پر ترتیب دیا جاتا ہے جبکہ اس کی گائیکی کا تاثر کلام کی بدولت پیدا کیا جاتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ قوالی کی گائیکی میں اساتذہ کے کلام کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ تال اور کلام کی معنویت سے سامع پر ایک وجدانی کیفیت طاری رہتی ہے۔ تال اور کلام کے ساتھ ساتھ اس کی گائیکی کو لفظی تکرار، صحت لفظی، گرہ بازی، تان اور مرکی جیسی خوبصورتیوں سے آراستہ کیا جاتاہے۔ عموماً قوالی کی گائیکی میں کہروہ کی تال کو ولمپت لے (درمیانی لے) میں برتا جاتا ہے کیوں کہ ایک طرف یہ تال درمیانی لے میں وجد و کیف کا خوبصورت تاثر دیتی ہے تو دوسری طرف گانے والاشاعرانہ تکرار کا عمل بھی بڑے رچائو کے ساتھ پیش کرتا رہتا ہے۔ قوالی کی گائیکی ایک ایسی گائیکی ہے جس میں قوال اور سامع کے درمیان کلام کے ذریعے ایک مضبوط رشتہ قائم ہو جاتاہے۔ قوال سامع کے تخیل کو اپنی گائیکی میں شامل کرلیتا ہے جبکہ سامع اپنے تصور میں کلام کی معنویت تشکیل دیتا رہتا ہے اس طرح یہ سارا عمل وجدانی و نفسیاتی سطح پر تشکیل پاتا رہتا ہے۔ قوالی کے فن میں کلام اور اس کی تفہیم اساسی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قوالی کے گائیک اور سامع دونوں کو شعر فہمی کا پورا ادراک ہونا چاہیے، شعری فہمی کے بغیرنہ تو قوال اپنے سامعین میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل کرسکتا ہے اور نہ ہی سامع کلام سے حظ اُٹھا سکتا ہے۔

قوالی کی گائیکی چونکہ طوالت پر مشتمل ہوتی ہے اس میں کلام کو بلند آہنگ کے ساتھ گایا جاتا ہے اس لیے اس کی گائیکی فردِ واحد کی بجائے ایک کورس کی شکل میں تشکیل دی جاتی ہے۔ اس لحاظ سے اسے اجتماعی گانا یا ٹولی کا گانا بھی کہتے ہیں۔ برصغیر میں ٹولی کی شکل میں گانے کی روایت بہت قدیم ہے کئی مذہبی مناجات ا ور بھجن ٹولی کی شکل میں گائے جاتے تھے۔ ٹولی کی شکل میں گانے کی اس روایت کو امیر خسرو نے قوالی میں قائم رکھا البتہ ایڑھی ترچھی تالیوں کوشامل کرکے اس کے حسن میں اور بھی اضافہ کردیا۔ عہد ِخسروی میں دو قوالوں کے نام سامنے آتے ہیں جن میں قوال میر صامت، قوال تتار، صمد اور نیاز (یہ دونوں امیر خسرو کے شاگرد تھے) شامل ہیں۔ ان میں میر صامت سلسلہ چشت سے بیعت تھے اور بعض تذکروں میں ان کا نام حضرت نظام الدین ؒ کے خلفا میں بھی نظر آتا ہے۔ عہد خسروی کے بعد قوالی کا فن ان قوالوں کی نسل کے ذریعے پروان چڑھا۔ خانقاہوں میں باقاعدہ تصوف کی شرائط کے ساتھ سماع کی شکل میں قوالی کی ایک خوبصورت روایت قائم رہی ہے۔ مسلم حکومت کے زوال کا دور شروع ہواتو ہر طرف طوائف الملوکی بڑھنے لگی۔ سیاسی و سماجی انتشار کے نتیجے میں تہذیبی اقدار بھی دم توڑنے لگیں اور موسیقی کی طہارت اور پاکیزگی بھی ختم ہونے لگی اور ایک ایسے دور کا آغاز ہوا جس میں موسیقی جیسے گہرے اور سنجیدہ فن کو عیش و عشرت اور رقص و سرود کی محفلوں میں رواج ملنے لگا۔ اس زوال زدہ معاشرے میں قوالی کا فن بھی صوفیانہ حلقوں میں اپنی قدیمی روایات کو قائم نہ رکھ سکا۔ الغرض زندگی کا ہرشعبہ سطحیت اور کھوکھلے پن کا شکار ہوتا گیا۔ تاہم کچھ قوال گھرانے ایسے تھے جو اپنے تئیں قوالی کی روایت کو قائم رکھے ہوئے تھے۔ اگر قیام ِ پاکستان سے پہلے کے قوالوں کا جائزہ لیا جائے توقوال محمدعلی فریدی صاحب اور ان کا خاندان فن قوالی میں ممتاز حیثیت رکھتا تھا۔ اس خاندان کے بزرگ قوالوں میں میاں بخش قوال عرف محمدی اپنے دور کے بڑے قوال تھے ان کے بعد امام دین، میاں کریم بخش جیسے بڑے نام پیدا ہوئے۔ ان ناموں کے علاوہ استاد فتح علی خان قوال اور استا د مبارک علی خان قوال کے والد میاں مولاداد (استاد نصرت فتح علی خان کے دادا) بھی فن قوالی پر کامل عبور رکھتے تھے۔ آپ کا گھرانہ چونکہ کلاسیکی موسیقی میں ایک مقام رکھتا تھا اس لیے آپ کی قوالی میں ایک پختہ گائیک کی حیثیت سے کلاسیکی موسیقی کے جملہ قواعد کی پابندی نظر آتی تھی۔

قیام ِ پاکستان کے بعد توفن قوالی میں بہت سے نام نظر آتے ہیں لیکن اس مقالے میں ان ناموں کو شامل کیا جارہا ہے جنھیں قوالی کا صحیح نمائندہ قرار دیا سکتا ہے۔ پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد استاد مبارک علی خان اور استاد فتح علی خان جو ایک قوال گھرانے سے تعلق رکھتے تھے ان کا خاندان لائل پور میں آکر آباد ہوگیا۔ اپنے بزرگوں کے نقش قدم کو قائم رکھتے ہوئے استاد مبارک علی اور استاد فتح علی خاں قوالی کے فن کی آبیاری کرتے رہے اور اس فن کے لیے اپنی نئی نسل تیار کرتے رہے۔ قوالی میں اس گھرانے کی انفرادیت ان کا خاص اسلوب ہے۔ آج بھی قوالی میں گرہ بازی، صحتِ لفظی اور تان پلٹے میں یہ گھرانہ بے مثال سمجھا جاتا ہے۔ اس خاندن کا ایک ایسا چشم چراغ جس نے قوالی کو مشرق سے نکال کر مغرب میں پہنچا دیا، جن کے نام کے بغیر قیام پاکستان کے بعد قوالی کی تاریخ نامکمل رہ جاتی ہے۔ استاد نصرت فتح علی خان۔ ۔ ۔ استاد نصرت فتح علی خان ہی اپنے ابائو اجداد کے فن کے صحیح امین قرار پائے۔ قوالی اور استاد نصرت فتح علی خان ایک دوسرے میں ایسے شیرشکر ہوئے کہ نہ تو قوالی کو نصرت خاں صاحب سے جدا کیا جاسکتا ہے اور نہ نصرت خاں صاحب کو قوالی سے۔ نصرت خاں صاحب کا کمال یہ ہے فن قوالی کو روایتی آہنگ سے نکال کر قوالی کے کینڈے کو جدید بنیادوں پر آراستہ کیا۔ قوالی میں بلند آہنگ، سُرکو اس کی جمالیات کے ساتھ ادا کرنا، تان مرکی، پلٹا، زمزمہ، مینڈھ سروں کا استعمال اور آکار سروں کی آمیزش سے قوالی کو ایک نیا روپ بخشا۔ قوالی کی گائیکی میں مشرقی مزامیر کے ساتھ مغربی مزامیر کا اضافہ کرکے ایک نئے انداز کو متعارف کرایا۔ آپ کا یہ انداز اہل مغرب کو بھی وجد میں لے آیا۔ اس طرح کے انداز کی حامل قوالی دم مست قلندر مست مست ملاحظہ کریں۔ نصرت فتح علی خان چونکہ بنیادی طور پر طبلہ نواز تھے۔ والدین نے ابتدا میں طبلہ نواز کی حیثیت سے آپ کی تربیت کا اہتمام کیا ہوا تھا۔ والد اور چچا کی وفات کے بعد جب خاندان میں کوئی قوالی گانے والا نہ رہا تو آپ نے طبلہ چھوڑ کر ایک گائک کی حیثیت سے طبع آزمائی شروع کردی، شبانہ روز محنت و ریاضت سے بہت جلد آپ فن قوالی کا ایک درخشاں ستارہ بن کر ابھرنے لگے۔ آپ کی قوالی میں راگ داری اور لے کاری کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ سرگم کی ادائیگی کو تال میں اس طرح ضم کرتے ہیں کے سامع پر وجد و کیف کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ نصرت خاں صاحب نے اپنے بعد قوالی کی وراثت اپنے بھتیجے استاد راحت فتح علی خان کو منتقل کردی۔ راحت آج بھی قوالی کے فن کو اس کی جملہ روایات کے ساتھ زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

قیام ِپاکستان کے بعدفن قوالی کا دوسرا بڑا مرکزکراچی میں قائم ہوا جہاں صابری برادران اور ان کا خاندان قوالی کی نمود میں مصروف عمل رہا۔ یہاں استاد غلام فرید صابری اور استاد مقبول حسین صابری قوالی کے فن کے دوبڑے معتبر نام نظر آتے ہیں۔ صابری برادران کی قوالی کا کمال یہ تھا ان کا انداز اورنعتیہ کلام سامعین کو معرفت کی بلند سطح پر لے جاتا تھا۔ تاجدار ِ حرم جیسی نعت کو قوالی کے آہنگ میں پیش کر کے سامعین کو محبت ِ نبیﷺ سے سرشار کر دیا۔ اس قوالی کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔ پی ٹی وی کے ذریعے اس قوالی کو کئی بار نشر کیا جاتا رہا ہے خاص کر ماہ ِرمضان میں سحری کے وقت جب بھی ٹی وی لگایا جاتا تاجدار ِحرم اپنے مخصوص آہنگ کے ساتھ سننے کو ملتی۔ صابری برادران کو رخصت ہوئے کئی سال ہو گئے ہیں مگر آج بھی رمضان کا مہینہ آتا ہے تو سحری کے وقت تاجدارِ حرم سننے کو بڑا من کرتا ہے۔ صابری برادران کی گائیکی کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ قوالی کی کامیابی کا انحصار مزامیر ِ موسیقی (آلات ِ موسیقی) پر کرنے کی بجائے کلام کی معنویت پر کرتے تھے۔ ان کا گایا ہوا ہر کلام اپنے اندر معنویت کا ایک گہرا تاثر رکھتا ہے۔ قوالی میں راگداری کو کم اہمیت دیتے تھے سارا زور کلام کی ادائیگی اور معنویت پر ہوتا تھا۔ صابری برادران کے بعد ان کے خانوادے سے امجد صابری کا نام ابھرا لیکن ابھی وہ قوالی کا سفر طے کرہی رہے تھے کہ بے رحم سماج کے ہاتھوں لقمہ اجل بن گئے۔

ہائے قوالی لحد میں سو گئی ہے ماتم کرو

صابری برادران کے کے ہم عصر قوالوں میں بڑا نام عزیز میاں قوال کا تھا۔ ان کی قوالی کا انداز سب سے جدا تھا۔ موسیقی کے رموز سے اتنے آشنا نہیں تھے جبکہ فلسفۂ تصوف اور معرفت کی کیفیات کا گہرا شعور رکھتے تھے۔ آپ اپنے ہمنوائوں کے ساتھ قوالی گاتے تھے لیکن قوالی کے تمام کلام کی ادائیگی خود کرتے تھے۔ ہمنوا صرف کلام کا مطلع یا مصرع ِ ثانی دہرانے میں ساتھ دیتے تھے۔ عزیز میاں قوال کا اندازِ قوالی کھُلے انتروں کے ساتھ تیز لے پر مشتمل تھا۔ مزامیر میں صرف ہارمونیم اور ڈھولک کی سنگت رہتی۔ کھلے انتروں کے ساتھ قوالی گانے کے انداز کو قوالی کے فن میں آپ نے متعارف کرایا اس سے پہلے ایسا انداز کسی قوال کے ہاں نظر نہیں آتا تھا۔ کھلے انتروں سے مراد کلام کے اشعار کو تال کے بغیر ادا کرنا مگر جب مطلع کی طرف دوبارہ واپسی ہوتو تال کاشروع ہوجانا ہے۔ اس طرح کا انداز اان کی گائی ہوئی قوالیاں شرابی میں شرابی/نبی نبی یا نبی اور تیری صورت نگاہوں میں پھرتی رہے وغیرہ میں نظر آتا ہے۔

اس وقت پاکستان میں قوالی کے فن میں صوفیانہ فکر کا نمائندہ نام استاد فرید ایاز قوال کا ہے۔ ایاز فرید قوال کراچی کے ایک قوال گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ خاطر خواہ حافظہ کے ساتھ ساتھ اردو اور فارسی کلام کا بھی گہرا وقوف رکھتے ہیں اور قوالی میں منفرد اسلوب کے حامل ہیں۔ خسروی اختراعات میں قول، قلبانہ اور ترانہ کی گائیکی کا بھی گہرا شعور رکھتے ہیں۔ شعرفہمی کا عالم یہ ہے کہ دوران ِ قوالی مشکل سے مشکل اشعار کی تشریح بڑے خوبصورت انداز سے کردیتے ہیں۔ سراج اونگ آبادی کی غزل :خبرِ تحیر ِ عشق سن نہ جنوں رہا نہ پری رہی، ان کے اسلوب کی نمائندہ غزل ہے۔

قوالی ہمیشہ سے اصناف موسیقی میں ہردلعزیز صنف رہی ہے۔ مشرقی موسیقی کے قوالی آہنگ سے اہل مغرب بہت متاثر ہوئے ہیں۔ آج کل یورپ کے کچھ فنکار قوالی گانے اور سیکھنے کی طرف راغب ہورہے ہیں۔ جن کے ویڈیو لنک یوٹیوب پر آسانی سے مل جاتے ہیں۔

ازل سے تا بہ ابد جوئے نغمہ جاری ہے
تجھے شعورِ ترنم نہیں تو کچھ بھی نہیں

جاری ہے۔۔۔۔۔۔

یہ بھی پڑھیں: تصوف اور صوفیا: ایک تاثر — شاہد اعوان
(Visited 255 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: