پشتون قوم پرستی سے واپسی —- نجیب آغا

0

غالباً 1995-96 کی بات ہے جب میری عمر آٹھ نو برس تھی۔ میرے دادا سید ارشد آغا (سگے دادا کے چھوٹے بھائی) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے اہم راہنما کے طور پر جانے جاتے تھے۔ ان کی وجہ سے محمود خان اچکزئی کا ہمارے گھر کلی کربلا میں کافی آناجانا ہوتا تھا۔مجھے آج بھی یاد ہے جب کبھی ہمارے گھر جلسہ ہوتا تو جلسے سے پہلے اچکزئی صاحب کے گارڈ ان کے آنے سے پہلے آتے اور دیواروں اور چھتوں پر چڑھ کر پوزیشنیں سنبھالتے۔ محترمہ بینظیر بھٹو وزیراعظم تھی اور ہم بچے ان جلسوں میں محترمہ کے خلاف بنائے گئے نعرے چِلا چِلا کر لگاتے۔ جھنڈے لہرانا اور پارٹی کے حق میں نعرے لگانا ہمارا کام ہوتا تھا۔ بچپن سے اس پارٹی کے ساتھ جذباتی لگاؤ کو محبت میں بدلنے میں زیادہ دیر نہیں لگی اور شعور کی منزل پر پہنچنے کے بعد بھی اس پارٹی کا دفاع اپنا فرض سمجھتا تھا۔ اگرچہ سکول اور کالج میں طلباء تنظیمیں نہیں تھیں پھر بھی سیاست کی طرف مائل ہونے کی سب سے بڑی وجہ اس پارٹی کے ساتھ تعلق تھا یوں کہئیے کہ پشتون نیشلزم سے عشق کی ابتدا اوائل عمری میں ہی ہوگیا تھا۔

کراچی میں 2006 سے 2011 تک رہائش کے دوران جب وہاں کے حالات انتہائی کشیدہ تھے اُس وقت بھی اے این پی کے جلسوں اور ریلیوں میں شرکت کرنا معمول بن گیا تھا اگرچہ میں نے باقاعدہ طور پر نہ کبھی اے این پی کی رکنیت لی اور نہ ہی پشتونخوامیپ کی لیکن چونکہ دونوں پارٹیاں پشتون نیشلزم کے نظرئیے پر قائم تھی اس لئے میرے لئے دونوں برابر تھی۔ اے این پی کیلئے دل میں نرم گوشہ اس لئے بھی تھا کہ میرے والد کراچی یونیورسٹی میں پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن کی بنیاد رکھنے والوں میں سے تھے جنہوں نے بعد میں افراسیاب خٹک سے اختلافات کے باعث استعفیٰ دے دیا تھا۔

ٹرننگ پوائنٹ اس وقت آیا جب میں افغانستان گیا حالانکہ قوم پرست پارٹیوں میں رہنے سے پاکستان کی بجائے افغانستان ہی میرا ملک تھا اور 2010 میں پہلی دفعہ وہاں جاتے ہوئے اتنا excited تھا کہ پاسپورٹ پر پاکستان سے جاتے ہوئے exit تو کرلیا تھا لیکن افغانستان میں داخل ہونے کے بعد اس لئے انٹری نہیں کی کہ وہ تو ہے ہی اپنا ملک۔ لیکن پچھلے آٹھ سال سے وہاں رہنے، لوگوں سے تبادلہ خیال کرنے، قوم پرستوں کا ماضی، افغانستان اور پاک افغان تعلقات کی تاریخ کا مسلسل مطالعہ کرنے کے بعد جب حالات اور واقعات کو ماضی کی کسوٹی پر پرکھنے کی صلاحیت پیدا ہوئی تو آہستہ آہستہ بحیثیت پشتون پاکستان میں قوم پرستی کی سیاست کو پشتونوں کیلئے زہرِ قاتل سمجھنے لگا۔ اگرچہ میں نے پوری کوشش کی کہ قوم پرست پارٹی کے پلیٹ فارم سے پشتونوں کے حقوق کیلئے اپنی بساط کے مطابق آواز بلند کرتا رہوں لیکن 2013 کے الیکشن میں جب دادا سید لیاقت آغا بطور ایم پی اے منتخب ہوئے تو نظریاتی قوم پرست سیاسی کارکنوں سے تبادلہ خیال کا موقع ملا۔ اُن کے اصل عزائم اور مقاصد کا پتہ چلا کہ وہ آج بھی پشتونستان کے نام پر ایک الگ ریاست اور پھر اسکو افغانستان میں ضم کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں اور اس مقصد تک پہنچنے کیلئے وہ مکمل سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔ اس کیلئے بےسروپا پروپیگنڈا ان کا واحد ہتھیار ہے جس میں اداروں کی کمزوریوں اور نااہلیوں کو ریاست کی ناکامی کہنا، سیکیورٹی اداروں خصوصاً فوج کو ہر وقت ہدفِ تنقید بنانا، افغانستان میں پچھلے چالیس سالہ تباہی کا واحد ذمہ دار صرف پاکستان کو قرار دینا، افغانستان کے ساتھ پاکستان کے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ بارڈر ڈیورنڈ لائن کو نہ ماننا، تحریک پاکستان، بانیانِ پاکستان اور دو قومی نظرئیے کا مذاق اُڑانا، 14 اگست کو بلیک ڈے منانا اور 19 اگست کو افغانستان کے یومِ آزادی پر اُن کے سفارتخانے جاکر بھنگڑے ڈالنا، شدید لسانی اور علاقائی تعصب پر مبنی رویہ رکھنا شامل ہیں۔ اس کا واحد مقصد اس ملک کو کمزور کرکے اپنے گھناؤنے عزائم کی تکمیل ہے۔ اگر پشتونوں میں سے کوئی ان کی سوچ اور طریقہ کار سے متفق نہ ہو تو فوراً سے پہلے پشتون قومیت سے نکال دینے اور ایجنٹ ہونے کا طعنہ بلکل ایسا ہی دیتے ہیں جیسے کوئی دیہاتی ٹائپ ملا بات بات پر کفر کا فتویٰ لگا دیتا ہے۔

میں اس ملک میں ریفارم، پارلیمانی سیاست اور ایجی ٹیشن کو ہی حقوق حاصل کرنے کے ذرائع سمجھتا ہوں کیونکہ پاکستان میں بسنے والی تمام قومیتیں revolution اور باؤنڈریز چینج کرنے کی کسی بھی ایڈونچر کی متحمل نہیں ہوسکتیں ایک ایٹمی ملک ایسے کسی بھی کوشش کی سرکوبی کیلئے آخری حد تک جاسکتا ہے اور جانا چاہئیے بھی۔

لہٰذا میرے لئے ایسے نظرئیے پر قائم رہنا جس میں میرے ملک اور خصوصاً پشتون قوم کیلئے تباہی کے سوا کچھ نہ ہو بہت مشکل ہے اور پاکستان کے اندر رہتے ہوئے سیاسی جدوجہد کے راستے اپنے حقوق کیلئے لڑنے کا سب سے بہترین پلیٹ فارم پاکستان پیپلز پارٹی کی صورت میں نظر آیا جس کا میں 28 فروری 2018 سے باقاعدہ ممبر ہوں۔ اس پارٹی میں شمولیت خالص میرا ذاتی اور نظریاتی فیصلہ ہے اور ﷲ تعالی سے دعا ہے کہ استقامت اور ثابت قدمی سے پارٹی کے ساتھ رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔

(Visited 197 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: