تمیز دار بہو کی بد تمیزی۔ کچھ اور سوالات —– خرم شہزاد

0

گزشتہ ایک مضمون میں فتح محمد ملک صاحب کے مضمون ’تمیز دار بہو کی بد تمیزی‘ پر کچھ معروضی سوالات جو ذہن میں آئے، احباب کے سامنے پیش کئے تھے۔ اس بار کوشش ہو گی کہ اصغری کے کردار کے حوالے سے ملک صاحب نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے ان پر کچھ بات ہو جائے۔ پڑھنے والوں سے گزارش ہے کہ اس مضمون پر بات کرنے سے بیشتر ملک صاحب کے خیالات اور ہمارے گزشتہ مضمون کا لازمی مطالعہ کر لیں تاکہ آپ کو بات سمجھنے اور اپنی بات کہنے میں آسانی رہے۔

ننھی اصغری بے چاری پہلے ہی جملے میں کئی طرح کے الزامات کی زد میں آجاتی ہے۔ بقول ملک صاحب ’الغرض ننھی اصغری نہ صرف اکبری کے برعکس بہو بیٹیو ں کا طور رکھتی تھی یعنی چھوٹی قوم والوں سے بالکل نہ ملتی تھی بلکہ گرگ باراں دیدہ قسم کی کٹنیوں سے بھی زیادہ عقلمند تھی‘۔ یہ ایک جملہ پڑھتے ہی آپ کے ذہن میں ننھی اصغری کی کیا تصویر بنتی ہے، اس کی ہمیں خبر نہیں لیکن اتنا ضرور ہے کہ تنقید نگار کا لکھا ہوا اگر تنقید کے بجائے فرد جرم لگنے لگے تو ذرا حیرت ہوتی ہے۔ چلیں مان لیا کہ ننھی اصغری چھوٹی قوم والوں سے بالکل نہیں ملتی تھی لیکن ہمارے اپنے موجودہ معاشرے کی عمومی پرورش میں کہاں ایسا ہوتا ہے کہ ماں باپ اپنے بچوں کو کسی چھوٹی قوم یا غریب کے بچوں سے کھیلنے کی بھی اجازت دے دیں۔ اب تو حالات اس حد تک بگڑ چکے ہیں کہ بچوں کو باقاعدہ بتایا اور سیکھایا جاتا ہے کہ فلاں کے بچوں سے نہیں کھیلنا اور فلاں کے بچوں سے دوستی نہیں کرنی۔ اگر ایسا نہیں ہے تو مجھے بھی ڈیفنس اور گلبرگ کے رہنے والوں کے بچوں کو گلی میں آئے ریڑھی والے کے بچوں سے کھیلتا دیکھنے کی حسرت ہے جسے کوئی پورا کر دے لیکن بچوں کے ساتھ کھیلنا تو دور کی بات ہے، ہماری پوش سوسائٹیو ں میں تو غریب کا داخلہ ہی بند ہوتا ہے، کجا کہ بچوں کے ساتھ کھیلنے کی بات ہو۔ جن زمانے کی ناول میں بات ہو رہی ہے، اس زمانے میں بھی شرفا کے ہاں بچوں کی تربیت اور کھیل کود کو لے کر بڑی لے دی رہتی تھی اور بچوں پر خاص نظر ہوتی تھی کہ کب کہاں کس کے ساتھ ہیں اور کس کے ساتھ نہیں۔ کھیل کود سے پرے ننھی سی بچی کی سمجھداری کو گرگ باراں دیدہ قسم کی کٹنیوں سے بھی عقل مند کہنا ہمیں تو بالکل نہیں بھایا۔ ہمارے گھر کے ننھے بچے دس ماہ میں ایک اچھا کام کر لیں تو سال بھر ہر آئے گئے کے آگے اس کی نہ صرف تعریف کرتے نہیں تھکتے بلکہ اس میں سے ایسے ایسے اضافے کرتے ہیں کہ بچہ بھلے سال بھر کا ہو، لگتا ہے آئن سٹائین کے ساتھ کام کرتا رہا ہے۔ ایسے میں ننھی اصغری کے بارے ایسے جملے کم از کم تنقید تو نہیں لگتے۔

آگے اصغری کی شادی کے بعد کی زندگی کا ذکر کرتے ہوئے دوبارہ سے ایک اور فرد جرم عائد کر دی جاتی ہے کہ اصغری نے اپنے سسرال کی خراب مالی حالت کو سدھارنے میں اپنا کردار کیونکر ادا کیا؟ ماما عظمت سے نبٹنا بھی ملک صاحب کو ایک آنکھ نہیں بھایا، لیکن سوال یہ ہے کہ ہمارے گھر کی بہو بیٹی اگر اپنی آنکھ سے دیکھ رہی ہے کہ گھر کی مالی حالت دن بدن خراب ہو رہی ہے تو کیا صرف اس لیے آنکھیں بند کر رکھے کہ اگر میں نے سدھار کی کوشش کی تو میرا کردار مولویانہ اور مردانہ ہو جائے گا؟ یا پھر وہ اس وجہ سے آنکھیں بند رکھے کہ جن کا گھر ہے وہ جانیں مجھے کیا ضرورت پڑی ہے کہ میں یہاں سدھار لاتی پھروں؟ یقینا گھر گھرہستی کی کم ترین سمجھداری بھی یہی تقاضہ کرتی ہے کہ اگر نوکر گھر کو اجاڑنے میں لگے ہوئے ہیں اور کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہو رہی تو ایسے نوکروں کو سب کے سامنے لایا جائے۔ سوال تو یہ ہے کہ کیا ہم اپنے گھروں میں یہی اصول نافذ کرنے کے حق میں ہوں گے کہ ہماری بہو بیٹیاں نوکروں کے ہاتھوں فضول اخراجات اور گھپلوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے آپ کو ایک اچھی بہو یا بیٹی ثابت کریں۔

شوہر بے روز گار ہے تو اصغری نے انہیں مشورہ دیا کہ انگریز سرکار کا زمانہ ہے، انگریزی نوکری تلاش کرو اور جو لوگ نوکری پیشہ ہیں ان سے ملاقات پیدا کرو، ان سے محبت بڑھاو۔ ان کے ذریعے تم کو نوکری کی خبر لگتی رہے گی اور انہیں کے ذریعہ تم کسی حاکم تک پہنچ جاو گے۔ اصغری کی یہ سوچ اور جملے بھی ملک صاحب کو برے لگے اسی لیے ان کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے اصغری کی اس سوچ کو پست نوعیت کی افادہ پرستی اور برائے نام اخلاق کہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہمارے ہاں کی بہو بیٹیاں اپنے شوہروں کو ایسے مشورے ہرگز نہ دیا کریں۔ یقینا میں ملک صاحب کی بات سے متفق ہونے کی کوشش کروں گا لیکن مجھے وہ جملے سمجھ نہیں آ رہے جو اعلیٰ تربیت کے غماز ہوں۔ کیا ہر زمانے میں یہی چلن نہیں ہوتا کہ سرکار کی نوکری کے لیے کوشش کی جائے اور جو لوگ نوکری پیشہ ہوتے ہیں اپنے شعبے کے مطابق ایسے لوگوں سے میل ملاقات رکھی جاتی ہے تاکہ نئی نوکری کا پتہ لگتا رہے۔ ہم اس سوچ کو اصغری کی مادہ پرستی سمجھتے ہیں تو کیا پھر اسے کہنا چاہیے تھا کہ انگریز کا زمانہ ہے تم ایسا کرو کہ مغلوں کی وراثت کا علم اٹھاو اور انگریز سرکار کی چھاونیوں پر چڑھائی کر دو۔ نوکری پیشہ لوگوں سے ملنے جلنے کی کوئی ضرورت نہیں، گھر پڑے سوتے رہو اور دلانوں میں اینٹھتے رہو۔ تمہاری فراغت کی خبر حاکم وقت کو ہونی چاہیے کہ آخر یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ اسے ساری رعایا کی خبر ہو اور چونکہ وہ عوام کا خادم ہوتا ہے اس لیے اس پر لازم ہے کہ وہ تمہارے پاس چل کر آئے اور تمہیں نوکری پیش کرئے۔ بے روز گار شوہر کو سرکاری نوکری کا کہنا اور نوکری پیشہ لوگوں سے میل ملاقات بڑھانا کب اور کیسے انگریز دوستی کی برکات، خوشامد اور رشوت ستانی کے نت نئے ڈھنگ ہو گئے، ہم تو سمجھنے سے قاصر ہیں البتہ ملک صاحب خود ہی اس پر کوئی روشنی ڈالیں تو شائد ہم کم علموں کو بھی پتہ چلے کہ بات کہاں سے کہاں کیسے لے جائی جاسکتی ہے۔

محلے اور علاقے میں اصغری کی شہرت ہوئی اور ان کا گھرانہ اس کے نام سے پہچانا جانے لگا تو یہ سب بھی ملک صاحب کو ایک آنکھ نہیں بھایا۔ اصغری نے بچوں کو سپارہ پڑھانا شروع کیا تو اس میں بھی انہیں اپنے تعلقات وسیع کرنے کی سازش نظر آئی۔ الغرض اصغری کی زندگی کا کوئی بھی کام اور کوئی بھی بات ایسی نہ تھی جو ملک صاحب کے معیار پر پوری اترتی، اسی لیے انہوں نے نقادوں کو دعوت دی کہ مذکورہ ناول کے پرخچے اڑائیں جائیں تاکہ اردو ناول نگاری کسی طور آگے بڑھ سکے۔ مجھ ایسا طالب علم جو اسکول کالج کے نام پر سینما دیکھنے جاتا رہا ہو، فتح محمد ملک صاحب کو ادب اور تنقید پر کوئی رائے دینے کی جرات بھی نہیں کر سکتا لیکن پھر بھی کچھ سوالات ایسے ہیں جن کے جواب شائد مستقبل میں تنقید کے میدان کو مزید وسعت دینے کا باعث ہوں۔

مراۃ العروس اگر ہمارے معاشرے میں اخلاقی گراوٹ کے اسباب پیدا کرتا ہے تو امراو جان ادا کے بارے ان کا خیال ہے۔ بہت بعد میں ایک ناول صبیحہ خانم کی داستان’ چھلاوہ‘ کے نام سے بھی لکھا گیا تھا، کیا ملک صاحب معاشرے کی اخلاقی تعمیر کے لیے ایسے ناولوں سے استفادہ کی سفارش کریں گے؟

اصلاحی ناولوں کا مقصد ہی کسی ایک کردار کے ذریعے معاشرے کی ایسی تصویر پیش کرنا ہوتا ہے جس کی ہم خواہش کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ انہی خطوط پر استوار ہو۔ ایسے ناولوں کو دوسرے ناولوں کے ساتھ ایک ہی پیمانے سے بھلا کیسے پرکھاجا سکتا ہے۔ اگر اصلاحی ناولوں کے اچھے کرداروںکو ہی تنقید کا نشانہ بنایا جائے گا تو کیا اس کا مطلب یہ ہو گا کہ مولوی کا کردار اب نماز روزے سے آزاد کر دیا جائے یا اندھے کی کہانی میں اندھیرے نہ ہوں بلکہ وہ اندھا ہو کر بھی ایک رنگین دنیا کا باسی ہو یا پھراب صرف آٹا گوندھتے ہلتی کیوں ہے جیسے سوالات کرنا ہماری قلمکاری کی معراج ہو گی؟

اصغری کا ہر کام اگر اتنا ہی برا ہے تو ناول میں اکبری کا کردار اس کے بالکل الٹ موجود ہے۔ ملک صاحب اصغری کی تمیزداری سے اتنے ہی تنگ تھے تو اکبری کی تعریف میں رطب اللسان ہو جاتے، وہاں بھی قلم استغفار پڑھ کر پیچھے ہٹ گیا۔ کیا اکبری کی بد تمیزیاں بھی اب قابل قبول نہیں تو پھر ناول میں کون سا ایسا کردار ہے جو قابل قبول ہو گا؟

سوال تو یہ ہے کہ اصغری کا کردار کیا ہمارے گھروں میں بچوں کو دی جانے والی پرورش کے مطابق نہیں؟ کیا ہم اپنے بچوں کو ایسا ہی ایک اچھا اور مثالی انسان بنانے کا نہیں سوچتے اور اس کے لیے کوشش نہیں کرتے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو کیا ہم اپنے بچوں میں اکبری جیسی خصوصیات دیکھنے کے متقاضی ہیں؟ کیا ہم چاہتے ہیں کہ تمیزداری کے فریب سے پرے اکبری کا سیدھا سادہ کردار ہمارے بچوں کا مستقبل ہو؟ سوال تو یہ بھی ہے کہ اگر ہمیں اصغری جیسا مفاد پرست، ملفوف اور پست اخلاق نہیں چاہئے ہوتا ہے تو اپنے بچوں کے رشتوں کے لیے ماں باپ مارے مارے کیوں پھرتے ہیں اور ہونے والی بہو میں وہ کیا ڈھونڈتے ہیں جو اصغری کے کردار میں نہیں ہے؟

معذرت اور بہت معذرت کہ اگر ہمارا کسی سے ذہنی، مذہبی، نظریاتی یا کسی بھی طرح کا اختلاف ہو تو اس کے بارے میں ہم کبھی بھی ایماندار نہیں ہو سکتے، ہماری رائے کہیں نہ کہیں ہماری نفسانی خواہشات کی عکاس ہو جاتی ہے۔ ایسے میں بڑے لوگوں کا یہی طور طریقہ رہا ہے کہ اس موضوع پر بات کرنے سے اجتناب کرتے ہیں۔ فتح محمد ملک صاحب کے مضمون میں مولوی کے خلاف غصہ اور جذبات بڑے صاف دیکھائی دیتے ہیں اور اسی وجہ سے ناول کی آڑ میں وہ پہلے فاضل مصنف کی خوب کردار کشی کرتے ہیں اور پھر ناول پر ایسے انداز میں رائے دیتے ہیں جو فن تنقید کی کسی بھی تعریف پر پوری نہیں اترتی۔ ہم نے گزشتہ مضمون میں بھی یہی عرض کیا تھا کہ اگر یہ ناول اتنا ہی بیکار ہے تو اسے نظر انداز کر کے اردو ادب کا لکھاری اور نقاد گزر جائے۔ ہم نے پہلے بھی سینکڑوں لکھاریوں کو نظر انداز کیا ہے، ان کی حوصلہ شکنی کی ہے، ایک اور سہی لیکن ذاتی خواہشات کی بنا کر کسی شخص کو اس کے مولوی ہونے کی بنا کر مسترد کرتے ہوئے ایسے انداز کا مضمون لکھنا بجائے خود اردو ادب اور فن تنقید پر سوالیہ نشان اٹھاتا ہے۔ مولوی ہمارے ہی معاشرے کا ایک حصہ ہے اور ہم اس کے بغیر اپنے معاشرے کی نہ تو تشکیل کر سکتے ہیں اور نہ اسے مکمل خیال کر سکتے ہیں۔ ایسے میں سوال تو یہ ہے کہ انگریز کی آمد کے بعد سے کیا اردو ادب میں کوئی ایسا ناول موجود ہے جس میں مولوی کے کردار کو شروع سے آخر تک مثالی دکھایا ہو؟ کیا یہ ہماری اخلاقی گراوٹ، خیالات کے سوکھے پن اور فن دشمنی کا غماز نہیں ہے؟ خیالات اور سوچ کی قحط سالی کی مثال اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گی کہ جب اور کچھ لکھنے کو نہ ملا تو ہم نے تمیز، تہذیب اور اعلیٰ اخلاق میں ہی کیڑے نکالنے شروع کر دئیے، سوچئے کہ آج ایسی تنقید لکھی جا رہی ہے تو آنے والے کل میں اردو ادب کیسا لکھا جائے گا؟

(Visited 106 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: