عنایت اللہ التمش: فنِ تحریر کا ایک جائزہ —– عکس مُراد

0

عنایت اللہ التمش نے اردو ناول کو نئی جہتوں سے متعارف کرایا ہے۔ آپ مغربی پنجاب کے گائوں گوجر خان میں یکم نومبر۱۹۲۰؁ء کو پیدا ہوئے اور ۱۶ نومبر ۱۹۹۹؁ء کو اِس نا پائیدار دنیا سے چلے گئے۔

عنایت اللہ التمش راجپوت برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ اپنے قلم کے ذریعے آپ اُردو ادب کے قارئین کو اسلام کی عظیم تاریخ سے متعارف کراتے رہے۔ اسلامی تاریخ کو متعارف کرانے کے اس متبرک و معزز کام میں آپ اپنی کہانیوں کا مواد جمع کرنے کے لیے جگہ جگہ گھومے اور مستند ذرایع سے جانکاری حاصل کرکے اُسے صفحہ قرطاس پر بکھیر دیا۔ آپ صحافت سے بھی منسلک رہے۔ یہ عنایت اللہ التمش کی کرشمہ ساز شخصیت اور ان کی لگن کاہی نتیجہ ہے کہ ۷۰ اور ۸۰ کی دہائیوں میں ’’ماہانہ حکایت ‘‘کو پاکستان کا مقبول ترین پرچہ بنا دیا۔ ماہانہ’ حکایت‘ کے مختلف سلسلوں کے لیے وہ خود متعددقلمی ناموں سے لکھتے تھے مثلاًتاریخی سلسلہ وار ناولوں کے لیے انھوں نے’ عنایت اللہ‘ اور ’وقاص‘ کے نام چنے۔ بعض اوقات’ مہدی جاں‘ یا ’گمنام خاتون‘ کے نام سے بھی چھپتے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آپ کے کئی قارئین آپ کے جیتے جی یہ جان ہی نہیں پائے کہ یہ ایک ہی شخص کے الگ الگ روپ ہیں۔

فن پر عنایت اللہ التمش کو مکمل قدرت حاصل ہے۔ آپ ناول کی تکنیک سے بھی اچھی طرح واقف ہیں۔ آپ کا مطالعہ وسیع اور مشاہدہ گہرا ہے۔ آپ جس ماحول کو پیش کرنا چاہتے ہیں اس کی تفصیلات اس طرح سے پیش کرتے ہیں کہ تصویر آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے۔ آپ حقیقی واقعات کو افسانوی قالب میں ڈھال کر اُسے مزید موثر بناتے ہیں۔ آپ کی ہر تصنیف شروع سے ہی حکمت و دانش کے موتی بکھیرتی ہے اور قاری پر غور و فکر کے نئے درکھولتی ہے۔ آپ کی طویل داستانوں سے قاری کو ہر گز بوریت کا احساس نہیں ہوتا کیونکہ آپ قاری کو تجسس میں مبتلا کرنے کا فن بخوبی جانتے ہیں۔ آپ کی کہانیاں مافوق الفطری عناصر پر مبنی نہیں ہوتی بلکہ یہ کہانیاں حقیقت کے قریب تر ہوتی ہیں۔

عنایت اللہ التمش کا اسلوب سحر انگیز ہے۔ آپ کے ناولوں کے ساتھ قارئین کی ذہنی اور جذباتی وابستگی درحقیقت ان کی فنی مہارت کا ثبوت ہے۔ اسلامی تاریخ کو ادبی پیرایہ عطا کرنے کے حوالے سے آپ پر خوب پروپیگنڈہ کیا گیا۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ آپ اپنے قلم کے ذریعے قارئین تک ادبی پیرایے میںایک صاف و شفاف پیغام پہچانا چاہتے ہیں۔ آپ قارئین کو اپنے اسلاف کے کارناموں سے آگاہ کرانا چاہتے ہیں، انھیں اخلاقیات کا درس دینا چاہتے ہیں اور ایک اصلاحی پیغام دینا چاہتے ہیں جس میں آپ یقینا کامیاب بھی ہو چکے ہیں۔ اِس بات کا ثبوت یہ ہے کہ آج اکیسویں صدی کے اس سائنس اور ماڈرن دور میں بھی قارئین آپ کی تصنیفات ذوق و شوق سے پڑھتے ہیں۔

اگر مجموعی طور پر عنایت اللہ التمش کے کارہائے نمایاں کی بات کی جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ وہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے اُردو ادب کو مغربی کہانیوں کے حصار سے باہر نکال کر حقیقی معاشرے کی حقیقی کہانیوں کی طرف لایا۔ آج قارئین عنایت اللہ التمش کی داستانوں کے سحر میں مبتلا ہو گئے ہیں جن میں ان کی مشہور تصانیف داستان ایمان فروشوں کی، دمشق کے قید خانے میں، ستارہ ٹوٹ گیا، شمشیرِ بے نیام، فردوسِ ابلیس، نیل بہتارہا وغیرہ قابلِ ذکر ہیں:

۱۔ داستان ایمان فروشوں کی:’داستان ایمان فروشوں ‘کی عنایت اللہ التمش کی شہرۂ آفاق تصنیف ہے۔ یہ کتاب سلطان صلاح الدین ایوبی کے دور کے سچے واقعات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کے پانچ حصے ہیں۔ ناول میں سلطان صلاح الدین ایوبی کی طرف سے صلیبی جاسوسوں اور حسن بن صباح کے پیشہ ور قاتلوں کے خلاف لڑی گئی جنگ کی کہانیوں کو مفصل طور پر بیان کیا گیا ہے۔ یہ ایک انتہائی سحر انگیز ناول ہے۔ یہ کہانی ہے تاریخ کے عظیم سپاہیوں کی جنھوں نے اسلام کی عظمت برقرار رکھنے کے لیے بے شمار قربانیاں دیں۔ بلاشبہ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ اس ناول کے مطالعہ سے ایمان تازہ ہو جاتا ہے۔

۲۔ دمشق کے قید خانے میں: یہ اُن مجاہدینِ اسلام کی داستان ِ جہاد ہے جنھوں نے بحریہ روم کے پار جاکر اندلس کے ساحل پر کشتیاں جلا ڈالی تھی تاکہ واپسی کا کوئی ذریعہ نہ رہے۔ یہ اُن سات ہزار مجاہدین اسلام کی داستان ہے جنھوں نے پورے یورپ کے ملکوں کو للکارا تھا جس کی افواج کی تعداد لاکھوں میں تھی۔ یہ قوم کے اُس دلیر فرزند کی کہانی ہے جس کا نام طارق بن زیاد تھا۔ طارق بن زیاد نے تاریخ اسلام میں شجاعت اور سرفروشی کی ایک حیرت انگیز اور ایمان افراز روایت کا اضافہ کر دیا۔

۳۔ ستارہ جو ٹوٹ گیا:اس ناول میں تاریخ اسلام کے کمسن اور ہندوستان کے فاتح محمد بن قاسم کی داستانِ شجاعت قلمبند کی گئی ہے۔ محمد بن قاسم تاریخ اسلام کے ایک ایسے سپہ سالار ہیں جن کے ساتھ تاریخ نویسوں نے بڑی ناانصافی کی ہے۔ کئی فرضی واقعات ان کے ساتھ جوڑ دیے گئے ہیں۔ عنایت اللہ التمش نے تاریخ اسلام کے اس عظیم سپہ سالار کی شخصیت اور معرکوں کو بڑے مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔ ناول کے پیشِ لفظ میں انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ انھوں نے اس ناول کی تخلیق میں محنت بھی کی ہے اور تحقیق بھی۔ اس ناول میں اس عظیم جرنیل کے مستند واقعات و حالات پیش کیے گئے ہیں۔

۴۔ شمشیر بے نیام:
یہ عنایت اللہ التمش کے سحر انگیزقلم سے حضرت خالد بن ولیدؓ کی زندگی پر لکھا گیا ایک شاہکار ناول ہے۔ یہ تاریخ اسلام کے اس عظیم سالار کی داستانِ حیات ہے جس کے جسم پر ایک انچ جگہ بھی ایسی نہیںتھی کہ جہاں زخم یا چوٹ نہ آئی ہو۔ یہ خالد بن ولید ہی ہیں جنھیں غیر مسلم مورخوں اور جنگی مبصروں نے بھی تاریخ کا ایک عظیم جرنیل قرار دیا ہے۔ یہ دو جلدوں پر مشتمل ایک ایمان افروز داستان ہے جس کو پڑھ کر ہمارے سینوں میں ایمان کی قندیل روشن ہو جاتی ہے۔ خالد بن ولیدؓ ایک عظیم مجاہد تھے جنھیں رسول کریمؐ نے اللہ کی تلوار(سیف اللہ) کا خطاب عطا فرمایا تھا۔ وہ اُن سپہ سالاروں میں سے تھے جنھوں نے اسلام کو مدینہ سے دور دور تک پہنچایا۔ اس ایمان افروز داستان میں ہم ان کے فنِ حرب و ضرب اور جنگی فہم و فراست کا بغور مشاہدہ کرتے ہیں۔ یہ کہانی اسلام کی عسکری روح کی صحیح تصویر ہے۔

۵۔ فردوسِ ابلیس : دو حصوں پر مشتمل عنایت اللہ التمش کی یہ تصنیف حسن بن صباح اور ان کی ارضی بہشت کی پر اسرار داستان ہے۔ اس بہشت کی حقیقت کو انھوں نے اس ناول میں نہایت ہی مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔ اس کہانی میں انھوں نے حسن بن صباح اور ان کی ارضی جنت کی حقیقت کو مستند ذرایع اور تاریخ نویسوں کے حوالوں سے پیش کیا ہے۔ عنایت اللہ التمش نے اس ناول میں حسن بن صباح کے تمام ہتھکنڈوں کا بھی مفصل ذکر کیا ہے۔ خصوصاً ’’ حشیش‘‘اور علم تنویم (ہیپناٹزم) کہ کیسے ان ہتھیاروں کے ذریعے حسن بن صباح انسان کی عقل کو اپنے قابو میں کر لیتا تھا۔ عنایت اللہ التمش نے اس داستان کا عنوان’’ فردوسِ ابلیس‘‘ اس لیے رکھا ہے کیونکہ حسن بن صباح نے جو بہشت بنائی تھی وہ اس کے ابلیسی ذہن کی تخلیق تھی۔

مندرجہ بالہ ناولوں کے علاوہ عنایت اللہ التمش نے حجاز کی آندھی، نیل بہتا رہا، ایک اور بُت شکن پیدا ہوا، اندلس کی ناگن وغیرہ جیسے ناولز بھی تحریر کیے ہیں۔ عنایت اللہ التمش ایک تاریخی ناول نگار ہیں جن کے مقاصد میں دینی و اخلاقی قدروں کا فروغ ایک اہم مقصدتھا۔ یہ ایک حقیقی امر ہے کہ عنایت اللہ التمش ادبی دنیا میں ہمیشہ اجنبی ہی رہے ہیں۔ انہیں وہ پزیرائی نہیں ملی ہے جس کے وہ حقدار تھے، تاہم ان کی تصنیفات سے محبت رکھنے والے آج بھی ساری دنیا میں پائے جاتے ہیں اور ان کی تحریریں ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہیں۔

(Visited 50 times, 4 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: