اسلام کودرپیش ۔ ۔ ۔ سابقے اور لاحقے —— عمر ابراہیم

0

اسلام فطری سچ ہے۔ اسے جھٹلانا ممکن نہیں۔ لیکن اسے مسخ کیا جاسکتا ہے۔ اس کے مطیع ومسلم کوگمراہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ حقیقت آفرینش سے لمحہ موجود تک مسلسل نظر آتی ہے۔ یہ حقیقت ابلیس پرواضح تھی۔ اُس نے کفرکا جوحیلہ فراہم کیا، وہ اسی بنیاد پر تھا، ’’اوریاد کروہ جبکہ ہم نے ملائکہ سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو، تو سب نے سجدہ کیا، مگرابلیس نے نہ کیا۔ اُس نے کہا ’’ کیا میں اُس کو سجدہ کروں جسے تونے مٹی سے بنایا ہے؟‘‘ پھر وہ بولا ’’دیکھ تو سہی، کیا یہ اس قابل تھا کہ تونے مجھے اس پر فضیلت دی؟ اگر تو مجھے قیامت کے دن تک مہلت دے تومیں اس کی پوری نسل کی بیخ کنی کرڈالوں، بس تھوڑے ہی لوگ مجھ سے بچ سکیں گے‘‘۔ (بنی اسرائیل، ۶۱، ۶۲)۔ ابلیس کا یہ مکالمہ کفر کا ازلی وابدی بیانیہ ہے۔ اس مکالمے کی دو اصطلاحیں ’فضیلت‘ اور’بیخ کنی‘ بنیادی اور کلیدی ہیں۔ ان اصطلاحوں کا تعلق علم وعجزواطاعت سے نہیں۔ یہ تکبر اور انتقام سے متعلق ہیں۔ تکبر فضیلت کے گمان پرہے۔ انتقام احساس محرومی پر ہے۔ کفر بمعنی تکبر اور انتقام ہے۔ واقعہ نمرود سے قصہ فرعون تک، اوربنی اسرائیل کی نخوت سے عرب و فارس کی نسل پرستی تک یہی ابلیسی طریقہ واردات رہا ہے۔ اُس نے امر الٰہی سے کفرکی راہ نکالی اورانسانی خلافت کی بیخ کنی کے لیے مہلت مانگی۔ تکبر سبب اوربیخ کنی نتیجہ قرارپائی۔ اس ’بیخ کنی‘ کے دو طریقے ظلم اور دجل (دھوکے) کی صورت سامنے آتے ہیں۔ ظلم کا ارتقاء مصری بچوں کے قتل عام سے غزہ کی نومولود سوختہ لاشوں تک صاف نظر آتا ہے۔ یہاں موضوع دوسرا طریقہ ’دھوکا‘ ہے۔ جسے عموما اسلام کودرپیش ’سابقوں‘ میں سمجھا جاسکتا ہے۔ موجودہ حالات میں ’مغربی اسلام‘ کی اصطلاح اس دھوکے کو واضح کرتی ہے۔ یہ سلسلہ قصہ ابلیس اور آدم سے جاری ہے،

’’اے آدم، تو اور تیری بیوی، دونوں اس جنت میں رہو، جہاں جس چیز کو تمہارا جی چاہے کھاؤ، مگر اس درخت کے پاس نہ پھٹکنا ورنہ ظالموں میں سے ہوجاؤ گے۔ پھرشیطان نے اُن کو بہکایا تاکہ ان کی شرم گاہیں جو ایک دوسرے سے چھپائی گئی تھیں اُن کے سامنے کھول دے۔ اس نے ان سے کہا ’تمہارے رب نے تمہیں جو اس درخت سے روکا ہے اس کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ، یا تمہیں ہمیشگی کی زندگی نہ حاصل ہو جائے۔ اور اُس نے قسم کھا کر اُن سے کہا کہ میں تمہارا سچا خیر خواہ ہوں۔ اس طرح دھوکا دے کر وہ ان دونوں کو رفتہ رفتہ اپنے ڈھب پر لے آیا۔ ‘‘(سورہ اعراف، ۲۱۔ ۲۲)۔

اس دھوکہ دہی کی قبل از ’قرآن ‘ صورت تحریفات ہیں۔ جو ماسوائے قرآن حکیم، ہرآسمانی کتاب اور صحیفے میں ہوئیں۔ اس کی بعد از’ قرآن‘ صورت اسلام کو درپیش ’سابقے‘ اور ’لاحقے‘ ہیں۔ اس کی پہلی واضح مثال ’یونانی اسلام‘ یا ’فلسفے کا اسلام‘ ہے۔ ’استشراقی اسلام‘، ’نوآبادیاتی اسلام‘،، ’ہندو اسلام (دین الٰہی)‘، ’جدید اسلام‘، ’قدامت پرست اسلام‘، ’اعتدال پسند اسلام‘، ’اشتراکی اسلام‘، ’صوفی اسلام‘، ’انقلابی اسلام‘، ’انتہا پسند اسلام‘ اور دیگر گمراہ کُن لاحقے اور سابقے متواتر سامنے آتے رہے ہیں۔ وجہ وہی ہے کہ کوئی علم کوئی دلیل اسلام کو قطع نہیں کرسکتی۔ لیکن کوئی گمراہ کُن سابقہ اور لاحقہ دھوکے میں یقینا مبتلا کر سکتا ہے۔ یہی آج بھی ہورہا ہے۔

پانچویں خلیفہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے بعد، یونان روم اور عجم کے جاہلی فلسفوں نے اسلامی تعلیمات میں گُم راہیاں نکالیں۔ اسلامی عقائد کی بنیادوں پرحملے کیے گئے۔ نام نہاد علوم عقلیہ اور دینی علوم کے درمیان تصادم کی کیفیت پیدا کی گئی۔ یونانی فلسفے کی خاطر علمی وحی کوتروڑا مروڑا گیا۔ اُس وقت کا ’مغربی اسلام‘ گھڑنے کی سعی نامسعود کی گئی۔ یہ ’یونانی اسلام سازی‘ کا خطرناک فتنہ تھا۔ یہ پانچویں صدی ہجری کا وسطی دور تھا۔ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے یونانی فلسفے کی بخیے ادھیڑے۔ یونانی منہاج پر اسلام کی تعبیر مسترد کردی۔ مسلمانوں پر’یونانی اسلام‘ کی نامعقولیت اور جہالت واضح کی۔ مسلمان فلاسفہ کی اصلاح ہوئی۔ بعدمیں امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے مغربی فلسفے پرعام فہم تنقید کی، جس نے علم وحی کی حقانیت مزید مستحکم کی۔

ساتویں صدی ہجری میں ہندوستان کے مغل بادشاہ اکبر نے ’دین الٰہی‘ کا فتنہ کھڑا کیا۔ اُس کے دربار میں یہ خیال عام تھا کہ اسلام جاہل بدوؤں کا مذہب ہے۔ قرآن کی تعلیمات پرشک و شبہ کیا گیا۔ ہندو مذہب کو اسلام سے مخلوط کیا گیا، یعنی اک طرح کا ’ہندو اسلام‘ وضع کیا گیا۔ سرہند سے اٹھنے والے شیخ احمد’اکبری‘ گُم راہیوں کے آگے ڈٹ گئے۔ پابند سلاسل ہوئے۔ لیکن پھر فتنہ اکبری کا منہ موڑنے میں کامیاب ہوئے۔

یہاں سے آگے بڑھیں، نوآبادیاتی دور میں ’استشراقی اسلام‘ کی نوآبادیاتی اسلام سازی نظر آتی ہے، جو بتدریج جدید اور روشن خیال اسلام کی گم راہیوں میں ضم ہوجاتی ہیں۔ سید احمد خان کا ’نیچری اسلام‘ اس کی واضح مثال ہے۔ محترم احمد جاوید صاحب کہتے ہیں کہ

’’اس قوم کی بد نصیبی کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا، جس کے ہیرو سرسید احمد خان جیسے لوگ ہوں۔ اس تہذیب کے افلاس کو ناپا نہیں جا سکتا، جس تہذیب کی صورت گری سر سید یا ان کی تحریک کے نتیجے میں ہوئی ہو۔ تو ہم وہ نقصان تاحال بھگت رہے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں مسلم سوسائٹی اور مسلم ذہن کی تشکیل میں سب سے زیادہ مؤثر کردار سرسید احمد خان نے ادا کیا اور یہ سرسید احمد خان کے ہی کام کا اور انہی کی تحریک کا نتیجہ ہے کہ آج ہم شعوری یا غیر شعوری، ارادی یا غیر ارادی طور پر مغرب کو اپنے لیے معیار بنا چکے ہیں۔ یعنی ہمارے لیے ترقی کا معیار مغرب ہے، ہمارے لیے اخلاق کا معیار مغرب ہے، ہمارے لیے علم کا معیار مغرب ہے، ہمارے لیے تمام سماجی، سیاسی، معاشی نظاموں کا معیار مغرب ہے، یعنی کہ شعوری طور پر اور کہیں غیر شعوری طور پر۔ ‘‘(دین اور موجودہ سماجی علوم)۔ ’جدیدیت زدہ اسلام‘ کی یہ اقسام متوازی خطوط پرساتھ ساتھ چلتی ہیں۔

۱۹۱۷ میں روس کے کمیونسٹ انقلاب کے بعد، اسلام کو’اشتراکی‘ کا سابقہ درپیش ہوا۔ اس کا آغازانیسویں صدی کے اواخرمیں ہوا۔ روسی ریاست تاتارستان کے مسلمان کسان اورمزارع اشتراکیت سے متاثر ہوئے، اورجاگیرداروں کے خلاف بغاوت پراترآئے۔ لیکن انہیں کچل دیا گیا۔ بعد میں یہ کسان زیرزمین اشتراکی تحریک کا حصہ بنے، اور Waisi تحریک کی بنیاد پڑی۔ غرض سوویت یونین کی سامراجیت کے ساتھ ساتھ ’اشتراکی اسلام‘ کی وبا مسلم دنیا میں عام ہوئی۔ عرب دنیا میں ’بعث‘ پارٹی کا فتنہ پیدا ہوا۔ پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو نے بھی ’اشتراکی اسلام‘ کا نعرہ استعمال کیا۔

’صوفی اسلام‘ کی تازہ ترین مثال گولن تحریک ہے۔ جس کے سربراہ نے امریکا میں پناہ لی ہوئی ہے۔ یہ اسلام کوجس ’سابقے‘ سے دوچار کرتے ہیں۔ وہ بھی ’مغربی اسلام‘ کی ایک صورت ہے۔ ایک ایسی صورت جس میں فلسطینی مظلومین کے لیے انصاف کی کوئی صورت نہیں، جس میں مسلم امہ کے لیے فلاح کی کوئی صورت نہیں، جس میں دنیا کے لیے اصلاح کی کوئی صورت نہیں۔ مثال کے طورپرمغرب میں مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ کی مثنوی کی بڑی قدر و منزلت ہے، مگر مولانا کے دین ’اسلام‘ کی کوئی وقعت نہیں۔ غرض یہ سارے ’سابقے‘ اور ’لاحقے‘ اسلام کی بیخ کنی کی غرض سے ہیں، اور دائیں بائیں ہر جانب سے حملہ آور ہیں، گم راہیوں کی کثرت ہے، اور صراط مستقیم کی راہ گُم کردی گئی ہے۔

جیسا کہ ابلیس نے کہا تھا کہ ’’اچھا تو جس طرح تونے مجھے گمراہی میں مبتلا کیا ہے میں بھی اب تیری سیدھی راہ پر ان انسانوں کی گھات میں لگارہوں گا، آگے اور پیچھے، دائیں اور بائیں، ہرطرف سے ان کوگھیروں گااور تو ان میں سے اکثرکو شکرگزار نہ پائے گا۔ ‘‘

اب صراط مستقیم کیا ہو؟ یقینا یہ ’سابقے‘ اور ’لاحقے‘ یکسر مسترد کیے جانے چاہیئں، اور وہی راہ عمل اپنانی چاہیے، جو امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے اختیار کی، جسے شیخ سرہندی رحمۃ اللہ علیہ نے زاد راہ بنایا، جسے امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے راہ حق جانا، جسے شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے زندہ کیا، اور سید ابوالاعلٰی مودودی نے جسے جدید دنیا پرواضح کیا۔ یعنی ’واحد‘ اسلام ’واحد‘ راہ راست ہے۔ اسلام کسی سابقے کسی لاحقے کی شرکت سے بے نیاز ہے۔ یہ معاملہ ’توحید‘ کا ہے۔ اسلام کی تکمیل صرف ’اسلام‘ کی پیروی میں ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: