آصف علی زرداری: مرد حر، اسٹیبلشمنٹ کے طفیلیوں کا ولن (1) —- قانون فہم

0

1977 میں ملک میں مارشل لا کا نفاذ ہوا۔ وزیراعظم بھٹو کو جیل اور پھر پھانسی لگا دی گئی۔ بینظیر بھٹو سترہ اٹھارہ سال کی ناز ونعم میں پلی شہزادی، تین سال جیل میں تشدد کا سامنا کرتی ہے۔ جون کے مہینہ میں سکھر جیل میں 45 ڈگری سنٹی گریڈ میں تنور کے ساتھ والے بیرک میں 1000 واٹ کی ٹیوب راڈ 24 گھنٹے جلا کر رکھی جاتی ہے۔ بھٹو کے دشمنوں نے رزالت اور کمینہ پن کی کسر نہ چھوڑی۔ بھٹو کی نعش پر پوشیدہ اعضا کی تصویریں اخبار میں چھپوانے کی غرض سے کھنچواتے ہیں۔ کردار کشی کیلئے بھٹو کا نام گھسیٹا رام کی تکرار کی جاتی ہے۔ بھٹو کی والدہ کی تذلیل پر مبنی پراپیگنڈا کیا جاتا ہے۔

بین الاقوامی دباو پر بینظیر بھٹو شدید بیماری کی حالت میں جلاوطن کر دی جاتی ہیں۔
1986 میں نوجوان، خوبصورت، دیومالائی حسن کی مالک بینظیر بھٹو باپ کا بدلہ لینے نہیں جمہوریت اور عوام کی لڑائی لڑنے پاکستان واپس آ جاتی ہیں۔ ان کے عورت ہونے۔ کنواری لڑکی ہونے اور کردار کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے۔ نام نہاد مذہبی راہنما جمعہ کے خطبات میں خواتین کے مخصوص ایام کے حوالہ سے تقریروں کو اپنا موضوع بنا لیتے ہیں۔ اخبارات میں ہیلی کاپٹروں سے۔ جلسوں میں جعلی گھٹیا تصاویر پر اس کنواری دوشیزہ کا چہرہ لگا کر پھینکی جاتی ہیں۔

بالآخر اس پاکستان کے عوام کی محبوب ترین قائد کی شادی کا فیصلہ ہونا ہے۔
شادی کا فیصلہ بینظیر بھٹو کی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ ہے۔ ملک کی 29 انٹیلی جنس ایجنسیاں متوقع امیدواروں کو ہراساں کرنے پر مامور ہیں۔ بھٹو دشمن کی دن رات ایک ہی کاوش ہے۔ کہ بینظیر کس سے شادی کرے گی۔ کم از کم دو زیر تجویز ناموں کو دھمکیاں دے کر دور ہو جانے پر مجبور کیا گیا۔
بینظیر بھٹو کا مسئلہ ایک ہی ہے۔ بھٹو دشمن بھٹو پتری کا سر جھکا ہیوا دیکھنا چاہتے ہیں اور بھٹو نے اپنی بیٹی کو باوقار زندگی گذرانا سکھایا ہے۔

بالآخر بینظیر بھٹو کا فیصلہ آصف علی زرداری کے حق میں ہوتا ہے۔ لاکھوں لوگوں سے ملاقات اور میٹنگز میں زندگی گذارنے والی عملیت پسند خاتون اپنی زندگی کا فیصلہ ایک ہی بنیاد پر کرنے پر مجبور تھی کہ دشمن اس کے شریک حیات کو اس کی کمزوری بنائیں گے اور آصف علی زرداری کی ایک ہی سوچ تھی کہ میں اپنی محبوب بیوی کا سر کبھی جھکنے نہیں دوں گا۔
منگنی کا اعلان دشمنوں پر بم بن کر ٹوٹتا ہے تو پارٹی میں بھی انتہائی تکلیف دہ صورت سامنے آتی ہے۔ پنجاب پی پی پی سے وابستہ بڑے خاندان اور حتی کہ مخالف بڑے خاندان بھی بینظیر بھٹو کو اپنی بہو بنانے کے جنون میں باولے ہوئے ہوئے تھے۔

پنجاب میں بینظیر بھٹو کی خوبصورتی کے مقابلہ میں آصف علی زرداری کے سندھی۔ سانولی رنگت اور چھوٹے قد کی وجہ سے حسد پیدا ہو۔ پنجاب کے بڑے جاگیردار خاندان پاگل ہو گئے کہ ان کے بچے لمبے تکڑے اونچے۔ گورے۔ خوبصورت تھے۔ انہیں کیوں یہ شرف نہ مل سکا۔ یہاں سے آصف علی زرداری کے ولن بننے کا سفر شروع ہوا۔
اور جو بھی حسن کی دیوی دیو مالائی حیثیت رکھنے والی پاپا اور قوم کی بینظیر بیٹی کو حاصل کرتا اسے ولن بننا ہی تھا۔

بہر حال منگنی کے اعلان کے بعد غلام اسحاق خان نے خود حاکم علی زرداری سے احتجاج کیا اور منگنی توڑنے کا دباو دیا اور اپنے خاندان کی خوبصورت ترین دوشیزہ کا رشتہ اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ سے دوستی اور تاعمر وزیراعظم بنائے جانے کی پیش کش کی گئی۔

بالآخر شادی ہو گئی۔ آصف علی زرداری نے پس منظر میں رہنے کا فیصلہ کیا۔ دشمنوں کی کمینگی کا جائزہ اس سے لیں کہ شہید محترمہ کے ہاں بلاول کی متوقع تاریخ پیدائش کو الیکشن کی تاریخ کا اعلان کیا گیا۔
وزیراعظم بننے کے بعد آصف علی زرداری کی کردار کشی دشمنوں نے تو کرنا ہی تھی 88 میں پنجاب پی پی پی کے 8 وزرا زرداری کے نام پر پیسہ کمانے میں مشغول رہے۔ زرداری کو اجازت نہیں تھی کہ ان کی زبان بند کی جا سکے۔ آصف زرداری کو بار بار جیل میں ڈالا گیا اور ایک ہی معصومانہ سا مطالبہ 88 سے 1999 تک جاری رہا۔ بھٹو پتری کا سر جھکانے میں مدد کرو اور سب کچھ یعنی دشمنوں کی بیٹی۔ پاکستان کی دولت اور وزیراعظم کا منصب محض بینظیر بھٹو کو طلاق کے عوض ہمیشہ دستیاب رہا۔

بالآخر ایک روز ایسا بھی آیا کہ شہباز شریف بنفس نفیس جیل میں آئی جی پنجاب کے ہمراہ گئے اور پولیس اہلکاروں کو آصف زرداری کو نکال کر اس پر جسمانی تشدد کے ذریعہ ایک بیان حلفی پر دستخط کروانے کو کہا۔ یہ بیان حلفی طلاق نامہ تھا جس میں آصف زرداری سے کی جانب سے بے نظیر بھٹو کے کردار پہ الزام لگاکر طلاق دینے کی بات کی گئی تھی۔ جب آصف علی زرداری انتہا درجہ کے جسمانی تشدد کے باوجود انکاری رہا تو پلاس سے زبان کھنچوا کر اس کی بولنے کی صلاحیت چھین لینے کی کوشش کی گئی۔ یہ آئی جی پنجاب رانا مقبول تھا جسے بلوچستان میں عدم اعتماد کا گلہ کرنے والوں نے قانون سے فرار کیلئے سینیٹر منتخب کروا رکھا ہے۔

1999 میں طلاق دلوانے والے اللہ کے گھر جا پہنچے تو آصف علی زرداری مال غنیمت کی طرح نئے مالکان کے قبضہ میں آگیا۔ یہ وہ دور تھا جب جیل میں تالا اندر سے آصف علی زرداری خود لگاتا تھا اور روزانہ رات کو ایک وردی والا بہت بڑا آفیسر اس کے ساتھ کھانا کھاتا اور بعض اوقات پوری رات گذارتا تھآ۔ اب سوال بدل گیا۔ اب فوجی حکومت بینظیر بھٹو اور پی پی پی سے شراکت اقتدار کی بھیک مانگتی تھی۔ جواب میں بینظیر بھٹو نے 2002 میں وردی اتارنے کی مانگ کی۔ اور پارٹی تڑوا لی آصف علی زرداری مزید 3 سال یرغمال رکھا گیا۔

2005 میں جب یہ یقین ہو گیا کہ آصف زرداری یا بھٹو پتری جھکنے پر تیار نہیں ہیں توآصف زرداری کو رہا کر دیا گیا۔
بھٹو پتری آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کی ناکامی کے بعد مشرف کی وردی اتروانے میں کامیاب رہی۔ تو مکمل جمہوریت کی کامیابی کے خوف سے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔

آصف زرداری کی بدترین کردار کشی دنیا میں اس طرح کی اپنی نوعیت کی سب سے بڑی مثال ہے۔ یاد رہے کہ آصف علی زرداری پر ذاتی حیثیت میں کرپشن کا کوئی الزام کبھی نہیں لگایا گیا۔ سب مبینہ مقدمات شہید محترمہ بینظیر بھٹو کیخلاف بنائے گئے اور محض خاوند ہونے کے ناطے آصف علی کو شریک مجرم قرار دیا گیا۔ قانون کی الف ب جاننے والابھی جانتا ہے کہ فوجداری میں شریک ملزم کی کیا شرائط ہیں اور کیا صرف خاوند ہونے کے ناطے کسی کو شریک جرم قرار دیا جا سکتا ہے یا نہیں۔

(جاری ہے)

نوٹ :- مضمون میں پیش کردہ خیالات مصنف کے ذاتی ہیں، ادارہ کا متفق ہونا لازم نہیں۔ ایڈیٹر

(Visited 437 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: