دربدر افرادکا معرکہ بدر —– پروفیسر غلام شبیر

1

غزوہ بدرتاریخ عالم کا منفردواقعہ ہے۔ یہ تقریباًغیرمسلح تین سوتیرہ افراد کا تیرہ سوسے زائد مسلح جری افراد پرغلبہ و کامرانی کا دن تھا۔ قرآن اسے یوم الفرقان قراردیتا ہے۔ یہ الارض لللہ کی عملی تعبیر کا دن تھا۔ اس معرکہ عظیم نے اہل کفرکے پائوں سے زمین کھینچ کر اہل ایمان کے قدموں تلے یوں بچھائی کہ پھرفرزندان اسلام کیلئے کلمہ توحید “گہے برخاک می رقصم گہے برخارمی رقصم” کی عملی تصویر بن گیا۔ پھر وہ عرب کا صحرائے عظیم مومنین کے پائوں تلے مخملی قالین کی طرح بچھتا چلا گیا اورتین دہائیاں نہ گزری تھیں کہ اسلام کا علم ایشیا افریقہ اور یورپ پر لہرا رہاتھا۔ یہ ایسے دربدر افراد کی روٗ سائے قریش پر فتح کا دن تھا جنہیں زمین کے یہ نام نہاد وارث چاہتے تو سالوں شعب ابی طالب کی گھاٹی میں مقہور و مقید رکھتے کہ انہیں صرف خشک چمڑے اور پتوں سے آتش شکم بجھانے کا ساماں میسر آتا، کسی کے پیٹ پر چٹانیں رکھ کر پہروں کڑکتی دھوپ میں ریت پرلٹا کر الاحد اور الصمد کا ورد عظیم سنا جاتا۔ کسی کو دہکتی انگیٹھی پریوں اوندھے منہ لٹایا جاتا کہ پیٹ کی چربی کے بہنے سے دہکتے شعلے بجھ جایا کرتے تھے۔ کسی غریب مگراہل ایمان کی دختر عظیم کی دونوں ٹانگیں دو الگ الگ اونٹوں سے باندھ کر انہیں مخالف سمت چلا دیا جاتا۔

مگر قرآن انہیں الارض لللہ کا پیغام دیے جارہا تھا۔ قرآن کہے جارہا تھا کہ بے شک زمین اللہ کی ہے اوراس کا قانون امرحتمی طورپر مظلوم ومقہور افراد کو زمین کا وارث ٹھہراتا ہے۔ یہ دربدر افراد کبھی ہجرت حبشہ پرمجبور کردیے جاتے توقریش مکہ انہیں وہاں سے بھی دربدر کرنے کی پالیسی سے باز نہ آتے تھے۔ مگرقرآن کہے جارہا تھا کہ اگرتم نے خدا سے عہد وفا باندھا ہے اور کاربند رہتے ہو تو وہ تمہیں استخلاف فی الارض سے نوازے گا۔ وہ ہجرت مدینہ سے سات آٹھ سال قبل ایران کے ہاتھوں روم کی شکست پر کہہ رہا تھا کہ تمہارے نواح میں روم پرایران کو غلبہ ملا ہے، مگر الامر لللہ۔ قوموں کا عروج وزوال خدا کے قانون امر کا مرہون منت ہے، چند سالوں میں روم دوبارہ ایران پر غلبہ حاصل کرے گا اورعین اسی روز مومن بھی فتح و کامرانی کے شادیانے بجا رہے ہوں گے۔

تاہم غزوہ بدرجس قدر بڑا واقعہ ہے اسی قدر سیرت نگاروں اور مورخین کی تعبیرات کے پیچ وخم میں الجھا ہوا ہے۔ ایک طرف مستشرقین ہیں جو اسے برہنہ مسلم جارحیت قراردیتے نہیں تھکتے۔ دوسری جانب جہد و بصیرت ناآشنا مسلم مورخین ہیں جو اسے خالصتاً دفاعی اور قریش مکہ کی مسلط کردہ جنگ قرار دیتے ہیں۔ ان کا بس چلے تو اسلام کو بدھ ازم کی کاربن کاپی بنا ڈالیں۔ روایتی حلقہ صوفیاء غزوہ بدر کوقریش اورفرشتوں کی جنگ قراردیکرہمیں فقط اللہ ہو جپنے کی راہ پرقانع رکھ سکتا ہے۔ ہمارے دامن میں فتنہ خارجیت کی ایسی باقیات بھی ہیں جوغزوہ بدر کو واقعات کے تسلسل کی لڑی میں پنہاں سیاسی حکمت و بصیرت، سیاق و سباق اور معروضی حقائق سے محروم ایسا واقعہ سمجھتے ہیں “کہ شہرمانگے اگرتم سے علاج تیرگی،، صاحب اختیار ہو آگ لگا دیا کروـ” پھر کیا مساجد، کیا امام بارگاہیں اورکیا مزارات مقدسہ اور کیا اقلیتیں جن کی عبادت گاہوں کی تعمیر و حفاظت تک کا ذمہ اسلام خود لیتا ہے سب خون میں نہا جاتے ہیں “کسے خبرتھی کہ لیکرچراغ مصطفوی، ، ، جہاں میں آگ لگاتی پھرے گی بولہبی” جب غزوہ بدرمیں کارفرما سیاسی بصیرت و حکمت سے اعراض برتا جاتا ہے تویہ صرف کاٹنے یاکٹنے کا ایسا بے روح جذبہ محرکہ بن جاتا ہے کہ بھلے جانیں بھی اپنی تلف ہوں، زمینیں بھی اپنی چھن جائیں، خدا و جبرائیل ومصطفیٰ بھلے انگشت بدنداں منزل ہے کہاں تیری اے لالہ صحرائی! پکارتے رہیں، نگاہیں وعدہ حورسے خیرہ رہتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ فرزندان توحید کا جزبہ جہاد بار بار استعماری قوتوں کے مفادات میں استعمال ہوا ہے۔ لگتا ہے ریموٹ پرکوئی بٹن ہے جس پرجہاد رقم ہے یہ بٹن دبتا ہے اور ہم اپنے تئیں جہاد کرنا شروع کردیتے ہیں۔ دم فرصت پتہ چلتا ہے “منزل انہیں ملی جو شریک سفرنہ تھے” ایسے میں بہت ضروری ہے کہ غزوہ بدر کا پس منظر دیکھا جائے۔ محرکات پر غور کیا جائے، مقصودات پر نظر دوڑائی جائے۔ ان واقعات ومحرکات سے اخذ کردہ نتائج کی عصری معنویت پرغورکیا جائے۔

سیرت رسول ﷺ کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے تو پہلا مرحلہ تلاش حق کا ہے جو غار حرامیں قیام ومراقبے سے عبارت ہے۔ دوسرامرحلہ نزول وحی سے شروع ہوتا ہے جسے اعلان حق کہا جاسکتا ہے، تیسرا مرحلہ وحی کے اطلاق کا ہے جسے نفاذ حق کہا جا سکتا ہے۔ امام غزالی اورشاہ ولی اللہ سمیت دیگر گئی مسلم اکابرین کا خیال ہے کہ قرآن بحٰثیت مجموع قلب رسول پراترا اور پھر تیئیس سال تک حالات وواقعات کی روشنی میں آیات در آیات تنزیل وحی کا سفر جاری رہا۔ عبداللہ یوسف علی کے بقول پھر قلب رسول میں ایک گہرا الٹ پلٹ ہوا اورقرآن کی موجودہ ترتیب سامنے آئی اوریہ بھی من اللہ ہے۔ اگر اسے مان لیا جائے تو پھر یہ کہنے میں کوئی عارنہیں کہ پیغمبر اسلام جب غارحرا سے باہرآئے توان کے دامن میں قرآن کا بحیثیت مجموعی ایک کلی وژن تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک بارجب حضورؑ غار حرا سے باہرآئے توزندگی بھرواپس نہیں گئے۔ اور یہ سورۃ علق کی ابتدائی پانچ آیات نہیں تھیں بلکہ حقیقت کلی کے ادراک کا ساماں تھا جسے قرآن کہتا ہے کہ وہ مسائل جن کے ادراک کیلئے کوشاں کوشاں تھے آپ اور جس کا بوجھ آپ کی کمرتوڑے جارہا تھا کیا تیرے رب نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اوروہ بوجھ ہٹا نہیں دیا جو آپ کی کمر تورے جارہا تھا۔ لیکن اس سے تلاش حق کا سفرختم ہوا تھا، ابھی اعلان حق اور نفاذ حق کی منزل باقی تھی کہ انا سنلقی علیک قولاًثقیلا کا بارگراں آیا۔

ہم سمجھتے ہیں کہ پیغمبرانقلاب ﷺ غارحراکے مذہبی تجربے سے ایک سماجی، سیاسی معاشی نظم اخلاق کا وژن لیکر میدان عمل میں آئے جوعملی تصور توحید سے عبارت تھا۔ اگرخدا ایک ہے تو انسانیت بھی ایک ہی ہے۔ ایک خدا ایک انسانیت کا عملی تصور توحید ایک ایسے سماجی انقلاب کا متقاضی تھاکہ تمام سماجی معاشی اورسیاسی ناہمواریوں کو مٹا کر تمام انسانوں کو توحید کی مالا میں انسانی اخوت کے جذب باہم سے یوں پرویا جائے کہ ایک موتی کے ٹوٹنے سے پوری مالا کے بکھرنے کا یقیں ہو۔ یہ عملی تصور توحید مکہ کی مذہبی، سیاسی اورسرمایہ دارایلیٹ کے مفادات پرکاری ضرب تھا۔ اس لیے جتنا بڑا انقلاب تھا اتنا ہی بڑاردعمل۔

چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ غار حراسے نکلنے کے بعد پورے مکی اور مدنی عہد میں لازمی مساوات Essential egalitarianism اور سماجی معاشی انصاف socio-economic justice اس عملی تصور توحید کا مرکزومحور ہیں۔ تاریخ عالم گواہ ہے کہ تاریخ انسانی مذہبی، سیاسی اور سرمایہ دارانہ اجارہ داروں کی چراگاہ رہی ہے۔ یہ اجارہ دار گروہ ایک دوسرے کو سند جوازدینے کا ہتھیار رہے ہیں۔ ایک دوسرے کے مفادات کے محافظ رہے ہیں۔ پیغمبر اسلام ﷺ تاریخ کے گوشت پوست میں ایک ایسا نظام اخلاق انجیکٹ کرنے پر مصر ہیں جو سماجی معاشی اورسیاسی ناہمواریوں کے تابوت کا آخری کیل ثابت ہو۔ مگر اجارہ طبقات کا گٹھ جوڑ اس کی راہ کا سنگ عظیم ہے۔

یہ اتنا بڑا چیلنج ہے کہ مظلوم ومقہور طبقے کوہجرت حبشہ پر مجبور کیا جاتا ہے۔ شعب ابی طالب میں محصور رکھا جاتا ہے۔ بلال وعمار پر کوہ گراں گرائے جاتے ہیں۔ سمیعہ کی ٹانگیں دومختلف اونٹوں سے باندھ کرانہیں مخالف سمت چلا دیا جاتا ہے۔ حباب بن الارت کو اوندھے منہ انگیٹھی پر لٹایا جاتا ہے اور پیٹ کی چربی پگھلنے سے دہکتے انگارے ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں۔ اس تصور توحید کی قبولیت کا خوف اتنا ہے کہ دربار نجاشی میں پہنچ کر اس مقہور و مظلوم جماعت کو وہاں سے بھی دربدر کرنے کی سازش کی جاتی ہے۔ یہ تصور تو حید قلب و دماغ پر اتنا گہرا اثر ڈال رہا ہے کہ صدیوں سے جو قبیلے کی بنیاد پر جڑے آرہے تھے۔ بھائی  بھائی کیخلاف کھڑا ہے۔ بہن بھائی سے سراپا احتجاج ہے، باپ بیٹے کا مخالف اور بیٹا باپ کا مخالف بن گیا ہے۔

یہ نظریہ، یہ سماجی معاشی اورسیاسی نظام اخلاق یہ عملی تصورتوحید جب نفاذ حق کا متلاشی ہے تو اس کا نفاذ و اطلاق اتنا ضروری ہے کہ اگر اسے سرزمین مکہ راس نہیں توکوئی اورخطہ زمیں تلاش کیا جائے۔ چنانچہ اگرچہ اہل مکہ سے مایوسی ہوئی ہے اس نظام اخلاق سے ہرگزنہیں ہے تو پھر کیوں نہ کسی دوسرے مقام کا رخ کیا جائے۔ چنانچہ آنحضورﷺ نے طائف کا قصد کیا۔ سرزمین طائف اس نظام اخلاق کی آبیاری کیلئے مکہ سے بھی زیادہ سنگلاخ ثابت ہوئی۔ سفرواپسی پرخواب میں اجنبی گروہوں کا نظارہ ہوا جوکتاب حق (قرآن) کو کتاب موسیٰ کی مثل قراردیتے ہوئے مدد و حمایت کا یقین دلا رہے ہیں۔ واپس مکہ پہنچے تو میلے کا ساماں تھا۔ مدینہ سے اوس وخزرج کے کچھ افرادآئے ہوئے تھے جنہوں نے آپﷺکے متعلق سن رکھا تھا آپ کو مدینہ آنے کی دعوت دی۔ بیعت عقبیٰ اول ہوئی جس میں اوس و خزرج کے عرب قبائل نے مدینہ میں حضورؑ کو ہرطرح کے تحفظ کی یقین دہانی کرائی۔

اگرچہ مکہ میں جماعت المسلمین کو ہرطرح کا چیلنج درپیش ہے۔ کس روزتہمتیں نہ تراشا کیے عدو،، کس دن ہمارے سرپہ نہ آرے چلا کیے۔ اگرچہ چیلنجز اور مایوسی کے حصارمیں ہیں تاہم پیغام اخلاق کی صداقت کے متعلق کوئی شک وشبہ نہیں ہے۔ قرآن کہہ رہاہے اگرتم اپنے مشن کی سچائی پرقائم رہتے ہو تو تمہیں تمہارا خدا استخلاف فی الارض سے نوازے گا۔ ہجرت مدینہ سے سات سال قبل ایران روم پر فتح حاصل کرتا ہے۔ سورۃ روم کا نزول ہوتا ہے۔ “تمہارے نواح میں اہل روم کو شکست ہوئی ہے، چند ہی سالوں میں یہ دوبارہ ایران پرغلبہ حاصل کریں گے، فیصلے پہلے بھی خداکے قانون امرسے ہوتے تھے اب بھی اسی سے ہوں گے، اوراس دن نصرت خداوندی کے عوض مومن شاداں وفرحاں ہوں گے۔ وہ جس کی چاہے مددکرے وہ عزیزالرحیم ہے”

یہاں خدا کے قانون امر کی وضاحت ضروری ہے۔ شاہ ولی اللہ تخلیق کائنات کے دومراحل بیان کرتے ہیں ایک عالم امر ہے اوردوسرا عالم خلق۔ عالم امر میں مشیت خداوندی نے وہ قوانین تخلیق کیے جنہیں ہم رولز آف گیم کہہ سکتے ہیں اوریہ سنت اللہ کہلاتے ہیں خدوندعظیم خودان قوانین کا پابندہے ولن تجدلسنۃاللہ تبدیلا اورتم خداکے قوانین میں کوئی ہیرپھیر نہیں پائو گے۔ عالم خلق مرحلہ تخلیق ہے جو عالم امرکی روشنی میں کائنات کی تخلیق ہے اور پھر یہ کائنات بشمول آدم عالم امرکے وضع کردہ آئین پرگامزن ہے۔ عالم امرمیں یہ طے پایا تھا کہ جب ہائیدروجن کے دوایٹم ااکسیجن کے ایک ایٹم سے ملیں گے تو پانی بنے گا۔ عالم امرگویا Keybook of Universe ہے۔ لا رطب ولایابس الا فی کتاب مبین۔ کچھ خشک وترایسا نہیں جو اس کتاب مبین میں نہ ہو اس کتاب کوگاہے قرآن ام الکتاب، گاہے کتاب المکنون اورگہے لوح محفوظ کہتا ہے۔ الروح من امرنا۔ یہاں سے جبرائیل وحی لیکرقلب مصطفیٰ پر پہچاتا ہے۔

اگرچہ اس کتاب الامرمیں آئین عالمین رقم ہے۔ مگر اس کا اہم ترین حصہ معاملات آدم سے عبارت ہے۔ جب قرآن کہہ رہاہے کہ یہ رومی سردست شکست خوردہ ہوئے ہیں مگرخداکا عالم امرجو انسانی معاشرتوں کے عروج وزوال کے آئین بیان کرتا ہے وہ خداکارقم کردہ ہے۔ اس کے مطابق رومی چند سالوں میں دوبارہ ایران پرفتحیاب ہوں گے۔ عین اسی دن مومن بھی نصرت خداوندی سے شاداں وفرحاں ہوں گے۔ روایتی مفکرین نے لللہ الامرپرغورنہیں کیا اور ٹانکے لگائے کہ کیونکہ رومی اہل کتاب تھے اور پارسی ایران ثنویت یعنی دوخدائوں کا قائل تھا۔ مکہ کے بت پرستوں کو خوشی ہوئی کہ اہل کتاب ہار گئے اور بت پرست ایران جیت گیا مومن تھڑدلے ہوگئے کہ یہ تو اہل کتاب پرمنکرین توحیدکی فتح ہے لہٰذا خداایران پرروم کو فتحیاب کرکے مومنین کو خوشی فراہم کرے گا۔ ڈاکٹرعلی شریعتی لکھتے ہیں یہ تو غیروں کی شادی میں عبداللہ دیوانہ والی بات ہوئی بھلا ایران پرروم کی فتح سے عمار، سمیعہ، بلال، صہیب رومی کو کیا مسرت مل سکتی تھی جو اہل مکہ کے ظلم وستم کا نشانہ ہیں۔ سماجیات کے عالم بے مثل ڈاکٹرشریعتی لکھتے ہیں کہ یہ اس امرکا بیان تھا کہ روم کے دامن میں ابھی اتنی خیرہے کہ وہ دوبارہ ایران پرفتحیابی حاصل کرے گا۔ مگرحتمی فتح اس جماعت المسلمین کی ہے جو ایک نئے نظام اخلاق سے صفحہ ایام پر ابھر رہی ہے۔ حتمی مسرت و شادمانی جماعت المومنین کا حصہ ہے کہ روم اورفارس صدیوں کے کہنہ نظام کی وجہ سے خیرسے تہی دامن ہیں۔ یہ چارہزار سالہ تہذیب انسانی اپنے دن پورے کرچکی جلد یا بدیر اس نئے نظام اخلاق کی کاسہ لیس ہوگی۔ اسی سورۃ روم کا خلاصہ یہ تھا کہ پیغمبر اسلام مومنین سے فرمارہے تھے اگر تم اس نظام اخلاق سے پیوستہ رہتے ہو تو خداتمہیں قیصر و کسریٰ کے خزانوں کا وارث بنائے گا۔

چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ بیعت عقبیٰ اول کے اگلے سال پھرمیلے کے موقعے پر مدینہ سے کچھ اوس و خزرج کے آدمی مکہ آتے ہیں ان سے بیعت عقبیٰ ثانی ہوتی ہے، اب کے باراس بیعت کے موقعے پرحضرت عباس موجود ہیں اگرچہ ابھی ایمان نہیں لائے تھے مگران سے کہہ رہے تھے اگرتم محمدﷺ کی محافظت کا ذمہ لے سکو توٹھیک ورنہ محمد یہاں محفوظ ومامون ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے ہجرت مدینہ صرف خوف وہراس کا نتیجہ نہ تھی بلکہ ایسی سرزمین پرمومنین کو منتقل کرنے کی حکمت عملی تھی جہاں وہ نظام اخلاق تاریخ کے گوشت پوست میں انجیکٹ کیا جاسکے اوروہاں قوت مجتمع کرکے واپس مکہ کا کنٹرول بھی حاصل کیا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ فلپ کے ہٹی ہجرت مدینہ کو اچانک کی پرواز کے بجائے دوسالہ سوچا سمجھا منصوبہ قراردیتے ہیں۔

ہمارا مدعایہ ہے کہ محمدﷺ اگرغارحراسے نکلتے ہی کوئی خانقاہی طرزکا نظام متعارف کرواتے مکہ کے مذہبی سیاسی اورسرمایہ داراجارہ داروں کیلئے چیلنج نہ ہوتا۔ یہ کوئی بدھسٹ طرزکا مغلوب نظام اخلاق ہوتا توبھی ردعمل نہ آتا۔ یہ خداکا خدا کو دو اور قیصرکا قیصرکو دووالا اعلان ہوتا توبھی خطرات کا باب نہ کھلتا۔ یہ پیغام اخلاق روزاول سے ایک ایسی معاشرت کے قیام پرزور دے رہاتھا جہاں سماجی سیاسی اورمعاشی استحصال نہ ہو۔ ہم جانتے ہیں کہ سماجی سیاسی اورمعاشی انصاف تبلیغ سے ممکن نہیں اس کیلئے طاقت درکارہوتی ہے وہ نبوت ہے زمانے کیلئے برگ حشیش جس نبوت میں نہ ہوطاقت و قوت کا پیام۔ سماجی سیاسی اورمعاشی انصاف کی اقدارطاقت سے نموپاتی ہیں۔ کوشش کی گئی یہ قوت وطاقت مکہ میں میسرآجائے۔ نہی آئی طائف کا رخ کیا گیا۔ طائف راس نہیں آیا مدینہ کا رخ کیا گیا۔ اب مدینہ میں اسلامی اخوت کا باب عظیم رقم ہوا۔ میثاق مدینہ نے ریاست مدینہ کے قیام کی بنا ڈالی۔ لیکن پیغمبراسلام ﷺ کماحقہ جانتے تھے، جوقریش مکہ ہجرت حبشہ کے بعدبھی آرام سے نہیں بیٹھے تھے دربارنجاشی تک جماعت المومنین کا تعاقب کیا گیا، بھلا ہجرت مدینہ کو وہ ٹھنڈے پیٹوں کیسے برداشت کرسکتے تھے۔

ریاست مدینہ کی سیکیورٹی اب پیغمبراسلام کا اہم ترین مسئلہ تھا۔ ضروری تھا کہ ریاست مدینہ کی سیکیورٹی کیلئے فلیگ مارچ شروع کیے جاتے۔ حضرت امیرحمزہ کی قیادت میں چالیس افراد کا دستہ ساحلی پٹی کیطرف روانہ کیا گیا جہاں ابوجہل تین سوافراد کیساتھ خیمہ زن تھا۔ عبیدہ ابن الحارث کی قیادت میں ساٹھ افرادکا دستہ حجازکی وادی راغب کی جانب روانہ کیا گیا جہاں ابوسفیان دوسافرادکے ساتھ موجود تھا۔ ہجرت کے بارہ ماہ بعدحضورؑ نے ایک دستے کی مقام ابواء کیطرف قیادت کی۔ ایک ماہ بعد دوسو افراد کا دستہ لیکرآپ ﷺ بوات کی جانب روانہ ہوئے جہاں امیہ بن خلف پندروہ سواونٹوں اور ایک ہزارسواروں کے ساتھ موجو دتھا۔ ان مہمات سے قریش کو ریاست مدینہ کی رٹ کا احساس دلانا تھا۔ ہرمہم میں کم افرادی قوت کا بھیجنا کوئی جنگی مہم نہیں تھی بس قریش کو ریاست مدینہ کی رٹ کا احساس دلانا تھا کہ اب ہمیں کمزورنہ سمجھا جائے چاہو توکوئی معاہدہ کرلو۔ آپ مکہ سے شام کی جانب تجارتی راستے پر مقیم قبائل سے معاہدے بھی کیے اورسوچاشایداہل مکہ کو احساس ہواوروہ انہیں کسی معاہدے کی دعوت دیں تاکہ نفسیاتی جنگ کا خاتمہ ہو اور پرامن طور پر دین کی تبلیغ کا فریضہ سرانجام دیا جاسکے اورنفاذحق کا حق ادا ہو۔

ان فوجی دستوں کی نقل وحمل کو عسکری مہمات کے بجائے فلیگ مارچ قرار دیا جائے تو زیادہ موزوں ہوگا۔ کیونکہ ہر دستے میں قریش کی تعداد سے کم افرادی قوت بھیجی گئی اگرجنگی مہمات ہوتیں تو زیادہ افرادی قوت کو یقینی بنایا جاتا، اور امیرحمزہ جیسے جری بہادرشخص کا ابوجہل سے بغیر تصادم کیے واپس آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ جنگی دستے تھے ہی نہیں۔ پھران دستوں میں صرف مہاجرین کو بھیجا گیا تھا انصارشامل نہیں تھے کہ ان سے معاہدہ محافظت کا ہوا تھا کسی کیخلاف جارحیت کا نہیں تھا۔

مکہ سے شام تک کا تجارتی کوریڈوراہل مکہ کیلئے لائف لائن تھا جو مدینہ کے مضافات سے گزرتا تھا۔ یورپی مستشرق Sprengerکیمطابق اس تجارتی کوریڈور سے اہل مکہ کی سالانہ برآمدات اڑھائی لاکھ دینار یا ایک لاکھ ساٹھ ہزار گولڈ پائونڈز تک کی تھیں۔ اس راہ پرریاست مدینہ کے فلیگ مارچ یا مختلف قبائل سے نبی کریم ﷺ کے معاہدے اس حکمت عملی کا مظاہرہ تھے کہ یا توقریش اس رسک کو برداشت کریں یا پھر انہیں آزادنہ مذہبی پرچاراور مکہ میں آنے جانے کی اجازت دیں۔ ایسا ممکن نہیں تھا جب تک ان کا تجارتی ناطقہ بند نہ کیا جاتا یا خطرات ان پر مسلط نہ کیے جاتے۔

پھر رجب دوہجری کوپیغمبراسلام ﷺ نے عبداللہ ابن جحش کو بلاکرایک خط دیا اورکہاکہ دودن بعد سفر پر روانہ ہونے سے قبل اسے نہ کھولا جائے۔ دودن بعد جب عبداللہ بن جحش نے روانگی سے قبل خط کھولا تو تحریرتھاـ جیسے ہی یہ خط کھولو تم مدینہ اورطائف کے درمیان مقام نخلع پر پہنچو اورہمیں قریش کی نقل وحرکت کے بارے خبرفراہم کرو۔ جب خط میں کسی دستے کی روانگی کا ذکرنہیں تھا توکسی نے ان کیساتھ روانگی کی حامی نہ بھری تاہم سعد ابن ابی وقاس اورعتبہ ابن غزوان نے ساتھ روانگی کا قصدکیا کہ انہیں ان اونٹوں کی خبرملے جوقریش نے بوقت ہجرت چھین لیے تھے۔ عبداللہ ابن جحش اپنے ساتھیوں کے ہمراہ روانہ ہوئے نخلع پہنچے تو انہیں قریش کا سامان بردار گدھوں کا کارواں نظر آیا جس کی محافظت عمرابن الحضرمی کے سپرد تھی۔ رجب میں جنگ منع تھی کچھ مشاورت ہوئی مگرابن الحضرمی کوقتل کرکے گدھے اور دو قیدی ہمراہ لیے عبداللہ ابن جحش مدینہ پہنچے۔ پیغمبرؑ نے سخت ناراضگی کا اظہارکیا کہ انہیں لڑنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی اورمال غنیمت لینے سے بھی انکارکردیا۔ عرب دستورکے مطابق رجب مقدس مہینہ تھا جنگ بندی لازم تھی۔ مگرعبداللہ بن جحش اورساتھیوں سے خلاف ورزی ہوئی۔ قریش اور یہود مدینہ نے خوب پروپیگنڈہ اور واویلا کیا کہ دیکھئے مقدس مہینے کا تقدس پامال ہوا ہے۔ قرآن نے کہا کہ

“یہ پوچھتے ہیں کہ مقدس مہینے میں جنگ جائز ہے یا نہیں۔ کہیے یہ برا عمل ہے۔ مگر لوگوں کو راہ خدا سے روکنا، خداکا استرداد، کعبۃ اللہ کے تقدس کی پامالی اوروہاں سے لوگوں کو نکال بھگانا خدا کے نزدیک اس سے بھی براترین عمل ہے۔ فتنہ قتل سے بھی بدترہے۔ تہمارے دشمن تمہیں دین سے پھیرنے کیلئے یہ سب حربے بروئے کارلارہے ہیں”۔

یہاں فتنہ سے مرادکسی کی مذہبی آزادی کودباناہے۔ اوریہ قرآن کے نزدیک اتنا بڑاجرم ہے جوقتل سے بھی بدترہے۔ گویاہم محفوظ و مامون پیرائے میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ قرآن مذہبی استبداد کو فتنہ قرار دیتا ہے اوراس کے مقابلے میں قتال کو چھوٹا جرم قراردیتا ہے۔ یہ ایک بڑی پالیسی شفٹ تھی۔ یہاں مستشرقین کی بھنویں اٹھتی ہیں دیکھئے محمدﷺ یہاں شدت کے پرچارک بنتے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ توجنگ کی دعوت ہے یہ تو تلوارکی طاقت سے قبول اسلام پرمجبورکرنے کی دعوت ہے۔ یہی رویہ ہے جو آج مسلم شدت پسندوں میں نظر آتا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ اعلان ہے ہی مذہبی استبداد کیخلاف۔ فتنہ کسی پرمذہبی جبرمسلط کرنے کا نام ہے اورقرآن اسی مذہبی استبداد کیخلاف جدوجہد کی دعوت دے رہاہے۔ یہ فکری اورمذہبی آزادی کی جانب ایک جست عظیم ہے۔ لیکن جب روم اور بازنطینی سلطنت میں عیسائیت کا اثر و رسوخ بڑھا تو عیسائیت نے مذہبی ایجنڈے کیلئے ریاستی طاقت کو استعمال نہیں کیا۔ اورکیا صلیبی جنگیں عیسائیت کے فروغ کیلئے جدوجہد نہ تھیں۔ کوئین ازابیلہ اورجارج فرنانڈس کا اتحادعیسائیت کے فروغ کیلئے نہیں تھا۔ کیا کولمبس کو انڈیا اس لیے روانہ نہیں کیا گیا تھا کہ وہاں ملٹری بیس بناکربیت المقدس کا کنٹرول حاصل کیا جائے یہ الگ بات کہ وہ امریکا جا پہنچا۔ اور پہلی جنگ عظیم اگرفاشزم کیخلاف جمہوریت کیلئے لڑی جارہی تھی تو پھراتحادی افواج کے سربراہ لارڈایلن بائی نے بیت المقدس فتح کرکے 1918میں یہ کیوں کہا تھا کہ آج صلیبی جنگ پایہ تکمیل کو پہنچی ہے۔

شہدائے بدر قبرستان

تاہم حقیقت یہ ہے کہ جب عبداللہ بن جحش اوراس کے دو ساتھیوں کی جانب سے عمرابن الحضرمی کے قتل کو قریش اوریہودنے پروپیگنڈا مشین میں بدلا تو محمدعربی ﷺ کی جانب سے قریش کے ساتھ کسی بھی طرح کے امن کے معاہدے کی امیدیں دم توڑ گئیں۔ شعبان دوہجری کوابوسفیان کا تجارتی قافلہ شام پہنچا تھا کہ آپ ﷺ نے اعلان کر دیا کہ اس قافلے کی واپسی پرآپﷺ اس پر حملے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہاں ایک اورعقدہ کھلتا ہے کہ چند ہفتے قبل ہی قافلے پرحملے کا اعلان یہ بتاتا ہے کہ حضورعربی ﷺ اب قریش سے ایک عسکری تصادم چاہتے تھے۔ کیونکہ اگر مقصود صرف مال غنیمت ہوتا تو قبل ازوقت حملے کا اعلان نہ کیا جاتا انتظار کیا جاتا اور جب قافلہ مدینہ کے مضافات سے گزرتا تو اس پرحملہ کرکے مال غنیمت حاصل کیا جاسکتا تھا۔ قبل ازوقت وقت حملے کا اعلان قریش کو ایک مکمل تصادم کی دعوت دینے کے مترادف تھا۔ ابوسفیان کو اس اعلان کی خبرمل چکی تھی۔ اوروہ حالات پرنظر رکھے ہوئے تھا۔ جب اسے پتہ چلا تو وہ ساحلی پٹی کیطرف مدینہ سے دور ہوتا گیا اور یوں حملے سے بچ نکلا مگراس نے ایک میسنجر مکہ روانہ کر دیا تھا جس نے مکہ پہنچتے ہی اونٹ کے کان کاٹ دیئے تھے ناک کی ہڈی توڑدی تھی اور منادی کردی تھی مدد مدد یا اہل المکہ ابوسفیان کا کارواں لٹنے کوہے۔ ابو جہل کی قیادت میں رئوسائے مکہ جمع ہوئے ابوجہل نے اہل مکہ کو جنگ پرابھارااورتیرہ سوسے زائدافرادی قوت اورجنگی سازوسامان اورجنگی گھوڑوں کیساتھ روانہ ہوا۔ بدر پہنچے تو پتہ چلا ابوسفیان کا قافلہ بچ نکلا ہے کچھ نے واپسی کا مشورہ دیا مگروہ تیزابی مزاج کہاں ٹلنے کو آیا تھا۔ قرآن کہتا ہے۔

” اور خدانے تم سے عہدکیا کہ وہ ان دومیں سے ایک گروہ تمہارے آگے سرنگوں کرے گا۔ تم نے چاہا تھا کہ کم طاقت والے کارواں کا محاصرہ کیا جائے مگر تمہارا خدا چاہتا تھا کہ وہ حق کو غالب کردکھائے اورکفر کی پیٹھ کاٹ دے تاکہ وہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ ثابت کر دکھائے چاہے یہ اہل کفر پر کتنا ہی گراں گزرے”۔ اے پیغمبر مومنین کو جنگ پر ابھاریے تمہارے بیس مستقل مزاج دو سو افراد پربھاری ثابت ہوں گے، تمہارے ایک سو افراد اہل کفرکے ہزارافراد پرغالب رہیں گے کیونکہ تمہارا واسطہ ان افراد سے ہے جو کسی نظریے یا نظام اخلاق سے محروم ہیں۔ خدانے تمہارا بوجھ ہلکا کر دیا ہے وہ جانتا ہے کہ تم کمزور ہو، تمہارے ایک سو مستقل مزاج دوسو پر بھاری رہیں گے، تمہارے ایک ہزارافراد اذن خداوندی سے دوہزار پرغالب آئیں گے اور اللہ صابرین کیساتھ ہے”۔

یہ بالکل فطری ہے کہ نظریے کی طاقت سے کمزورطاقتوروں پرغلبہ پاتے آئے ہیں۔ کیونکہ دشمن جب کبرواستغناء کی چادراوڑھتاہے تویہ اس کے قویٰ میں اضمحلال پیدا کرتا ہے۔ اورجب اہل حق کو حق کا یقین ہوتا ہے ان کی قوت ہردوچند بڑھتی چلی جاتی ہے۔ نیوٹیسٹامنٹ میں یہی ہے کہ جب کسی کو یہ اخلاقی قوت ملتی ہے اگروہ چٹان سے کہے کہ دورپرے منتقل ہوجائو توچٹانیں حکم کی تعمیل بجالاتی ہیں۔ اور پھر جب جنگ کا یہ عالم ہو کہ خدا کہہ رہا ہو۔ “تمہاراخدا فرشتوں کو وحی کر رہا تھا کہ جائو مومنوکو میرا پیغام دو تمہارا رب تمہارے ساتھ ہے ان کو ثبات دو جو اہل ایمان ہیں۔ خدا تمہارے دشمنوں کے دل میں تمہاری دہشت بھردے گا، مارو، ان کی گردنیں اڑائو ان کے ایک ایک مسام پروارکرو” اس سے ایک یہ تاثرملتاہے کہ طبعی طورپرفرشتوں نے جنگ میں حصہ لیا۔ امام رازی اوررشیدرضا دونوں اس تصورکے منافی رائے رکھتے ہیں، ان کا خیال کسی بھی جنگ میں فرشتوں نے طبعی طور پر حصہ نہیں لیا یہاں فرشتوں کی معاونت سے مرادیہ ہے کہ مومنین کی رگوں میں گویا برف بھردی گئی تھی خدا نے ان کے اندرتقویٰ کی شمع روشن کردی تھی وہ صحیح اورغلط کو کماحقہ سمجھ کرفولادی اعصاب کی حامل قوت بن گئے تھے۔

اس جنگ میں مومنین کو خدا نے کفرپرواضح فتح دی اورغزوہ بدرصحرائے عرب سے کفرکی صفائی کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. بہت اعلی۔ سبحان اللہ۔ بہت محنت اور عرق ریزی سے نچوڑ نکالا اس سے اور اسے الفاظ میں ڈھالا۔ دقیانوسی کی بجائے سائنسی، مذہبی، تاریخی ، اخلاقی نچوڑ پر سوچا جو بہت ضروری بھی آج کل کے دور میں کہ ابھی تک ایک طبقہ وہی سوچ اور الفاظ لے کر چل رہا مگر آپ کی کاوش بہت زبردست۔ جاری رکھیے

Leave A Reply

%d bloggers like this: