قرآن کی روشنی میں اہلِ تقویٰ کی چند صفات —- سید متین احمد شاہ

0

رمضانِ کریم 1440ھ کی مناسبت سے یہ دوسرا درس تحریر کیا جا رہا ہے جس میں قرآن کی نظر میں اہلِ تقویٰ کی صفات کا بیان مقصود ہے۔ پہلا درس ’’دین سے دنیا مقصود بنانے کا عبرت ناک انجام ‘‘ کے نام سے تھا اور اس لنک http://daanish.pk/35068 پر موجود ہے۔

قرآنِ کریم ایسی کتاب نہیں ہے کہ اس میں موضوعات کے تحت گفت گو ہو، بلکہ اس میں نصیحت، عقیدہ، انذار، بشارت، قِصَص وغیرہ امور ایک ساتھ چلتے ہیں۔ ان میں گہری حکیمانہ مناسبت بھی ہوتی ہے۔ قرآن فہمی کے اصولوں میں نہایت بنیادی اصول جسے ہر مفسر نے برتا ہے، تفسیر القرآن بالقرآن کا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی موضوع کو قرآن کی روشنی میں دیکھنا ہو تو قرآن کے تمام متعلقہ مقامات کو دیکھا جائے۔ اس سے وہ موضوع ایک حسین وحدت میں ڈھل کر سامنے آ جاتا ہے اور قرآن کی ہدایت کی پوری روشنی میں وہ پیکر پورے طور پر منور ہو جاتا ہے۔

تقویٰ، قرآن کی تعلیمات کا اصل الاصول ہے اور ساری تعلیمات کا مقصود بھی۔ سورۂ حُجُرات میں تقویٰ کو اللہ کے ہاں سب سے زیادہ محترم ہونے کا سبب بتایا گیا ہے۔ {إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ } [الحجرات: 13](تم میں سے اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے، جو تم میں زیادہ تقوے والا ہے۔) تقویٰ کا شرعی اصطلاح میں معنی اللہ سے ڈرنے اور اس کی حدود کی پاس داری کے ہیں؛ لہذا متقی وہ شخص ہے جو الحاد سے، شرک وکفر سے، کبائر اور صغائر سے، اور پھر لایعنی اور فضول اقوال وافعال سے حتی کہ شبہات سے بھی بچے۔ جو شخص جتنا اللہ کی مرضی کے منافی امور سے بچتا جائے گا، وہ تقویٰ میں اتنا ہی آگے ہوگا۔ ارشادِ باری ہے: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ } [آل عمران: 102](اے ایمان والو! اللہ سے اس طرح ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے۔) ابو عبداللہ روزبای ؒ فرماتے ہیں:’’تقویٰ یہ ہے کہ تو ان تمام چیزوں سے اجتناب کرے، جو اللہ سے دور رکھیں۔ ‘‘(ابوالقاسم القُشَیری، ’’رسالہ قُشیرِیہ‘‘، ص 325۔) حضرت ذوالنون مصریؒ فرماتے ہیں:’’زندگی تو وہی زندگی ہے جو ایسے لوگوں کے ساتھ ہو جن کے دل تقویٰ کے مشتاق ہیں اور ذکرِ الہی سے خوش ہیں۔ یہ دل روحِ یقین کے پاس اس طرح مطمئن ہیں جس طرح ایک دودھ پیتا بچہ گود میں سکون حاصل کرتا ہے۔ ‘‘ (نفسِ مصدر وصفحہ)

الحاد وشرک جیسے سب سے بڑے گناہوں سے لے کر صغیرہ گناہوں تک ہر گناہ اللہ سے دوری اور حجاب کا باعث ہے۔ تقویٰ کی تکمیل کے لیے ان سب سے بچنا ضروری ہے۔

قرآنِ کریم نے متقیوں کے اوصاف کو مختلف مقامات پر بیان کیا ہے۔ چند مقامات کا سادہ انداز میں مطالعہ زیرِ تحریر درس میں شامل ہے۔ (آیات کا ترجمہ مولانا محمد تقی عثمانی صاحب کے ترجمۂ قرآن سے ماخوذ ہے۔)سورۂ بقرہ کے آغاز ہی میں اللہ نے قرآن کو اہلِ تقویٰ کے لیے ہدایت قرار دیا ہے اور ان کے اوصاف کے بیان میں فرمایا: {الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ (3) وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ (4) أُولَئِكَ عَلَى هُدًى مِنْ رَبِّهِمْ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (5) } [البقرة: 3 – 5](جو بےدیکھی چیزوں پر ایمان لاتے ہیں (٤) اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا اس میں سے (اللہ کی خوشنودی کے کاموں میں) خرچ کرتے ہیں۔)

سورۂ بقرہ ہی میں ایک دوسرے مقام پر اہلِ تقویٰ کی صفات کو بڑے جامع انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ ارشادِ باری ہے: {لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ أُولَئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ (177)} [البقرة: 177]( نیکی بس یہی تو نہیں ہے کہ اپنے چہرے مشرق یا مغرب کی طرف کرلو، (١٠٨) بلکہ نیکی یہ ہے کہ لوگ اللہ پر، آخرت کے دن پر، فرشتوں پر اور اللہ کی کتابوں اور اس کے نبیوں پر ایمان لائیں، اور اللہ کی محبت میں اپنا مال رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سائلوں کو دیں، اور غلاموں کو آزاد کرانے میں خرچ کریں، اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں، اور جب کوئی عہد کرلیں تو اپنے عہد کو پورا کرنے کے عادی ہوں، اور تنگی اور تکلیف میں نیز جنگ کے وقت صبر و استقلال کے خوگر ہوں۔ ایسے لوگ ہیں جو سچے (کہلانے کے مستحق) ہیں، اور یہی لوگ ہیں جو متقی ہیں۔)

اس آیتِ بر میں مختلف اوصاف کو اہلِ تقویٰ کا سرمایہ قرار دیا گیا ہے جن میں مابعدالطبیعی حقائق پر ایمان، ضرورت مندوں پر خرچ کرنا، عبادات، ایفاے عہد اور مصائب وحالات کی سختیوں میں صبر جیسے اوصاف شامل ہیں۔ صبر کے لیے تین الفاظ بولے گئے: الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ۔ الْبَأْسَاءِ کا اصل تعلق مالی پریشانیوں سے ہے۔ الضَّرَّاءِ کا اصل تعلق جسمانی آزار اور قلبی پریشانی سے ہے۔ حِينَ الْبَأْسِسے مراد دشمن سے جنگ کا وقت ہے۔ (’’تفسیرِ ماجدی‘‘، 1: 320۔)

’’قرآنِ مجید کی ہر آیت بجائے خود معظم، محترم اور واجب العمل ہے لیکن اس آیت کے باب میں تو حدیثِ نبوی میں یہاں تک صراحت موجود ہے کہ جس نے اس آیت پر عمل کر لیا، اس نے اپنا ایمان مکمل کر لیا۔ ۔ ۔ فرنگیوں میں ایک ذات شریف پادری وہیری (Wherry) نامی ہوئے ہیں۔ مسلمانوں اور اسلام کے بڑے ’’عنایت فرما‘‘، سِن سفید داڑھی کے بال، اسلام کی عداوت ہی میں سفید کیے۔ سیل (Sale) کے انگریزی ترجمۂ قرآن پر اضافہ انھی کے قلم سے ہے۔ اس آیت پر پہنچ کر قدرت ان کے قلم سے یوں لکھواتی ہے:’’یہ (آیت) قرآن کی بلند ترین آیتوں میں ہے۔ ۔ ۔ ذاتِ باری پر ایمان اور نوعِ انسانی کے ساتھ حسنِ سلوک، اس کو اس میں واضح طور پر مذہب کا جوہرِ اصلی بتایا گیا ہے، اس میں لُبِّ لُباب عقائد اور اعمال کا آ گیا۔ ‘‘(’’تفسیرِ ماجدی‘‘، 1: 321۔)

اہلِ تقویٰ کے بعض اوصاف کا بیان سورۂ آلِ عمران میں یوں بیان کیا گیا ہے: { يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَأُولَئِكَ مِنَ الصَّالِحِينَ (114) وَمَا يَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ يُكْفَرُوهُ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالْمُتَّقِينَ (115)} [آل عمران: 114، 115] (یہ لوگ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، اچھائی کی تلقین کرتے اور برائی سے روکتے ہیں، اور نیک کاموں کی طرف لپکتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا شمار صالحین میں ہے۔ وہ جو بھلائی بھی کریں گے، اس کی ہرگز ناقدری نہیں کی جائے گی، اور اللہ پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے۔)

یہ آیات سورۂ آلِ عمران میں اصلاً مومنین اہلِ کتاب کی توصیف میں آئی ہیں۔ ان میں اہلِ تقویٰ کا وصف اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا اور خیر کے کام کی طرف دوڑ کر پہل کرنا ہے۔ نیکی کا کام جہاں نظر آئے دوڑ کر اس کی طرف پہل کرنا اصل ایمانی مزاج ہے۔ یہ اہلِ کتاب پہلے دوسرے انبیاء پر ایمان رکھتے تھے، مگر جب محمد عربی ﷺ حق لے کر آئے تو اس کی روشنی کی طرف دوڑ پڑے اور اپنے سابقہ تعصباتِ مذہبی ان کی راہ میں مانع نہیں ہوئے۔ امتِ محمدی پر چوں کہ نبوت ختم ہو گئی ہے، اس لیے اس میں ہر دور میں حق کی آواز بلند کرنے والے موجود رہیں گے۔ انسان کا فریضہ ہے کہ وہ ہر معاملے میں حق کا طلب گار رہے اور جہاں کسی معاملے میں حق نظر آئے، خواہ اپنے مسلک یا فرقے سے ہٹ کر کسی کی طر ف سے ہو، اس کو تسلیم کرے اور اس کے اعتراف میں بخل سے کام نہ لے۔ یہ رویہ اس آیت میں مؤمنین اہلِ کتاب کا بیان ہوا ہے۔

سورۂ آلِ عمران ہی میں دوسری جگہ اہلِ تقویٰ کی صفات کے بیان میں یہ صفت بھی آئی ہے۔ ارشاد ہے: {وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ (133) الَّذِينَ يُنْفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (134)} [آل عمران: 133، 134]( اور اپنے رب کی طرف سے مغفرت اور وہ جنت حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے بڑھ کر تیزی دکھاؤ جس کی چوڑائی اتنی ہے کہ اس میں تمام آسمان اور زمین سما جائیں۔ وہ ان پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ جو خوشحالی میں بھی اور بدحالی میں بھی ( اللہ کے لیے) مال خرچ کرتے ہیں، اور جو غصے کو پی جانے اور لوگوں کو معاف کردینے کے عادی ہیں۔ اللہ ایسے نیک لوگوں سے محبت کرتا ہے۔)

یہ آیات غزوۂ احد کے سیاق میں ہیں جن کے ذریعے مسلمانوں کے بعض رذائلِ اخلاق کی اصلاح مقصود ہے۔ مسلمانوں میں احد کی شکست کا سبب حبِ مال کا فتنہ تھا۔ ان آیات سے پہلے اسی لیے سودخوری کی ممانعت ہے، کیوں کہ

’’سود خواری جس سوسائٹی میں موجود ہوتی ہے، اس کے اندر سود خواری کی وجہ سے دو قسم کے اخلاقی امراض پیدا ہوتے ہیں:سود لینے والوں میں حرص وطمع، بخل اور خود غرضی اور سود دینے والوں میں نفرت غصہ اور بغض وحسد۔ اُحُد کی شکست میں ان دونوں قسم کی بیماریوں کا کچھ نہ کچھ حصہ شامل تھا۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو بتاتا ہے کہ سود خواری سے فریقین میں جو اخلاقی اوصاف پیدا ہوتے ہیں، ان کے بالکل برعکس انفاق فی سبیل اللہ سے یہ دوسری قسم کے اوصاف پیدا ہوا کرتے ہیں اور اللہ کی بخشش اور جنت اسی دوسری قسم کے اوصاف سے حاصل ہو سکتی ہے، نہ کہ پہلی قسم کے اوصاف سے۔ ‘‘(’’تفہیم القرآن‘‘، 1: 288۔)

’’آرنلڈ وغیرہ فرنگی فاضلوں نے کہا ہے کہ عرب جیسی تند خو، جنگ جو، جدل پیشہ قوم کے سامنے حِلم وضبط، صلح وآشتی کے ایسے معیار پیش کرنا اور پھر اس تعلیم کو کامیاب بنانا بجائے خود ایک اعجاز ہے۔ ‘‘ (تفسیرِ ماجدی، 1: 634۔)

اس آیت میں اہلِ تقویٰ کا ایک وصف غصہ پی جانا بیان ہوا ہے۔ علامہ جلال الدین رومیؒ نے مثنوی میں ایک حکایت لکھی ہے:

گفت عیسی را یکے ہشیار سر
چیست در ہستی زِ جملہ صعب تر
گفت اے جاں، صعب تر خشمِ خدا
کز ہماں دوزخ ہمی لرزد چو ما
گفت ازاں خشمِ خدا چوبودماں
گفت کظمِ خشمِ خویش اندر جہاں
( کسی نے حضرت عیسیٰ ؑ سے سوال کیا کہ کائنات میں سخت ترین چیز کیا ہے؟آپ نے جواب دیا کہ اللہ کا غضب جس سے دوزخ تھرتھراتی ہے۔ اس نے پوچھا پھر اس سے بچاؤ کی کیا صورت ہے؟آپ نے فرمایا : اپنے غصے کو پی جانا۔)

یہ کچھ اوصاف ہیں اہلِ تقویٰ کے جو قرآن کے مختلف مقامات پر موتیوں کی صورت بکھرے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی دیگر مقامات ہیں جن پر یہ اوصاف بیان ہوئے ہیں۔ اس تصویر کے خانے میں رکھ کر ہم اپنی ظاہری اور باطنی زندگی کا محاسبہ کر سکتے ہیں۔

(Visited 55 times, 3 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: