بھارتی انتخابی نتائج : کچھ دلچسپ پہلو —– احمد الیاس

0

بھارتی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے واضح اکثریت حاصل کرلی ہے (اگرچہ مجموعی طور پر نشستوں میں کمی واقعہ ہوئی ہے)۔ ان نتائج کے دو مثبت اور تین منفی پہلو ہیں۔

دو مثبت پہلو مندرجہ ذیل ہیں :-

  1. ہندوؤں نے ہندو قوم کی بات کرنے والی بی جے پی کو جتوا کر اور “ہندوستانی قوم” کی بات کرنے والی کانگرس کو ہرا کر دو قومی نظریے کو تسلیم کرلیا ہے۔ گویا اب برصغیر میں دو بڑی قوموں یعنی ہندو اور مسلمان کے ہونے پر ان دونوں قوموں میں سے کسی کو بھی شک نہیں ہے۔ مخلوط انڈین نیشنلزم کا سنجیدہ اور طاقتور نام لیوا اب کوئی نہیں رہا۔ یہ ایک طرح سے محمد علی جناح کی فائنل وکٹری ہے کیونکہ مخالف فریق نے خود ہی اپنا کیس واپس لے لیا ہے۔ “علیگڑھ کا لونڈا” ہونے کے ناطے یہ بات میرے لیے باعثِ مسرت ہے کہ برصغیر ہندو مسلم کی مشترک ہندوستانی قومیت جیسی فینٹسی سے باہر آگیا ہے۔ کچھ پاکستانی دانشور اور متاثرینِ ابوالکلام آزاد یہ مالا جپتے رہیں تو اور بات ہے۔
  2. محنت کرکے بالکل نیچے سے اپنی جگہہ خود بنا کر اوپر آنے والا شیطان بھی ہو تو اس نیک شہزادے سے کہیں نہ کہیں زیادہ قابل احترام ہوتا ہے جسے سب کچھ قدرتی طور پر یا وراثت میں مل گیا ہو۔ یہ گرمیِ کردار کی ویسی ہی افضلیت ہے جو اقبال ابلیس کو جبریل پر دیتے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ بات خوش کن ہے کہ برصغیر جیسے جاگیردارانہ سماج کے ایک ملک میں بھی “چائے والے مودی” نے “شہزادہ راہول” کو شکست دی۔ موروثی سیاست کو اس سے بہت دھکا پہنچا ہے۔ خدا کرے پاکستان میں بھی کچھ ایسا ہی ہو۔

ان انتخابی نتائج کے مندرجہ ذیل منفی پہلو ہیں۔

  1. مسلمانوں اور دلتوں کی زندگی مزید مشکل بن جائے گی۔ ان کے لیے اگلے پانچ سال کوئی امید نہیں۔ اٹھارہ کروڑ مسلمانوں اور اس بھی زیادہ دلتوں کا دوسرے درجے کا شہری بن جانا کسی انسانی المیے سے کم نہیں۔ یہ الیکشن مسلمانوں اور دلتوں کے متعلق ریفرنڈم تھا اور اس میں گائے اور مندر کا تقدس مسلمان اور دولت کی جان کے تقدس سے زیادہ تسلیم کرلیا گیا ہے۔
  2. انیس سو ستتر کے بھارتی انتخاب جو اندرا گاندھی کی ایمرجنسی کے بعد ہوئے، اس بارے میں تھے کہ بھارت جمہوری رہے گا یا نہیں۔ دو ہزار انیس کے انتخابات اس بارے میں تھے کہ بھارت بھارت رہے گا کہ نہیں۔ مسلمان اور ہندو اگرچہ دو الگ ثقافتیں اور قومیں ہیں لیکن ان کے درمیاں صدیوں کے رابطے اور پل تھے اور یہ رابطے ان دونوں کو توانائی فراہم کرتے اور ہندوستان کو وہ شناخت فراہم کرتے تھے جس کے سبب اقبال جیسا پین -اسلامسٹ مسلمان بھی کہتا تھا کہ “سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا”۔ اب یہ رابطے کمزور تر ہوتے جائیں گے اور ہندوستان کی شناخت بدل جائے گی۔
  3.  دو ہزار چودہ کی جیت بی جے پی کی جیت تھی۔ یہ جیت صرف مودی کی جیت کہی جارہی ہے کیونکہ امیدوار کو کہیں ووٹ نہیں پڑا، صرف مودی کو ووٹ پڑا ہے۔ دو ہزار چودہ میں بی جے پی کے دور نعرے تھے، وکاس یعنی معاشی ترقی اور ہندوتوا یعنی ہندو قوم پرستی۔ اب کی بار مودی کا صرف ایک نعرہ تھا یعنی ہندوتوا اور پاکستان دشمنی۔ گویا ایک تو شخصی آمریت کی طرف رجحان بڑھا ہے دوسرا معاشی ترقی ایجنڈے سے ہی نکل گئی ہے۔ اس سے جمہوریت اور معیشت دونوں کا نقصان ہوگا (دونوں کا مستقبل باہم ملا ہوا ہوتا ہے)۔ یاد رہے کہ بھارت جو انیس سو نوے سے مسلسل ترقی کررہا تھا، گزشتہ پانچ سال معاشی طور پر جمود کا شکار رہا ہے۔

اس کے علاوہ اس انتخاب کے دو دلچسپ پہلو اور بھی ہیں۔

  1. گزشتہ الیکشن میں بی جے پی ہندی بولنے والے علاقوں کی متفقہ پارٹی بن کر ابھری اور پوری ہندی بیلٹ سے نیز گجرات سے بھی سویپ کیا۔ اب کی بار بھئ ہندی علاقوں اور گجرات کی سب سے بڑی پارٹی یہی ہے لیکن اس کی کچھ سیٹیں کانگرس اور دولت جماعتوں نے چھین لی ہیں۔ اس کے برعکس بنگال، آسام، اڑیسہ اور کرناٹک جیسی غیر ہندی اور قدرے سیکولر سمجھی جانے والے ریاستوں میں جہاں گزشتہ الیکشن مین بی جے پی بالکل غائب تھی، اب کی بات بی جے پی یا و جیت گئی ہے یا بہت بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے۔ گویا اپنے روایتی علاقوں میں اس کا ترقی کے نام پر لیا گیا ووٹ چھن گیا ہے لیکن ہندوتوا کے نام پر دوسرے علاقوں میں اس نے ووٹ بنا لیا ہے۔
  2. بنگال اور آسام وغیرہ کے جو علاقے کبھی لیفٹ کی جماعتوں مثلاً کمیونسٹ پارٹی وغیرہ کا گڑھ سمجھے جاتے تھے وہاں بی جے پی جیتی ہے۔ لیفٹ کی جماعتوں کے سابقہ علاقوں میں انتہائی دائیں بازو کی نسل پرست جماعتیں فرانس اور جرمنی وغیرہ میں بھئ بہت اچھا پرفارم کرچکی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واقعتاً نظریات سے زیادہ سیاسی رویے اہم ہوتے ہیں۔ جن علاقوں کے لوگ انتہاء پسندی کو ووٹ دینا چاہتے ہیں وہ انتہاء پسندی کو ووٹ دیتے ہیں، چاہے وہ لیفٹ کی ہو یا رائٹ کی۔

پاکستان بھارت تعلقات کی بات اس لئے نہیں کی کیونکہ کانگرس یا بی جے پی میں سے کوئی بھی پارٹی جیتے، پاکستان سے تعلقات خراب رکھنے پر مجبور ہے۔اور نہ ہی سنجیدگی سے مذاکرات کرسکتی ہے۔ بھارتی الیکشن سے اس پر کچھ زیادہ اثر نہیں پڑتا۔ پاکستان کا وجود ہی بھارت کے سینے میں خنجر ہے، خنجر سے کوئی مذاکرات نہیں کرتا۔ پاکستان اور بھارت میں کبھی دوستانہ تعلقات نہیں ہوسکتے۔ ہاں جنگ سے دور رہنا بہت ضروری ہے۔ ایٹمی اسلحے اور پاکستان مں معتدل سیاسی قوتوں کی برسراقتدار ہوتے ہوئے امید کی جاسکتی ہے کہ ایسا ہی ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے:  نظریہ پاکستان کا مستقبل: خوش گمانیاں، بدگمانیاں —- خالد ولی اللہ بلغاری

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: