پاکستان میں شناخت کا بحران: چند گذارشات، ایک نتیجہ — خالد بلغاری

0

 

معروف ہالی ووڈ فلم ھدایت کار کوینٹِن ٹیرنٹینو نے “کِل بِل” کے نام سے دوحصوں پر مشتمل ایک بہت دلچسپ فلم بنائی تھی. اس فلم میں مرکزی کردار ایک خاتون کا ہے جسے اُما تھرمن نے نبھایا ہے. یہ خاتون جس کا نام “کِڈو” ہے ایک عالمی جرائم پیشہ گروہ کی رکن اور گروہ کے سرغنہ بِل کی چہیتی ہوتی ہے. کسی بات پر کِڈو کی بِل کیساتھ دشمنی ہو جاتی ہے جس کے نتیجے میں بِل اپنے پورے گروہ کو لے کر ٹیکساس کے ایک چرچ پر جہاں کِڈو اپنی شادی کی تقریب کی ریہرسل میں مصروف ہوتی ہے،  دھاوا بول دیتا ہے. کہانی لمبی ہے.

دوسرے حصے میں گروہ کا شیرازہ بکھر چکا ہے،  بِل کے چھوٹے بھائی بَڈ پر فلمائے گئے چند مناظر بہت دلچسپ ہیں . بَڈ کا کردار مائیکل میڈسن نے نبھایا ہے اور خوب نبھایا ہے. بَڈ الپاسو ٹیکساس کے ایک بنجر دورافتادہ صحرائی علاقے میں ایک خستہ کنٹینر میں مقیم ہے اور وہاں سے کچھ فاصلے پر موجود ایک شراب خانے میں معمولی ملازمت کرتا ہے. اس کے پاس پرانے وقت کے  جاپانی تیغ بازوں کی ایک بیش قیمت تلوار ہوتی ہے. بِل کے پوچھنے پر بَڈ اسے بتاتا ہے کہ وہ بیش قیمت تلوار اس نے کسی کے ہاتھ سستے داموں بیچ دی ہے. بِل کو اسکی بات پر یقین نہیں آتا. اسی دوران کِڈو بَڈ سے انتقام لینے جب اسکے کنٹینر میں آتی ہے تو اُس کے ہاتھ میں بھی اسی طرح کی ایک بیش قیمت جاپانی تلوار ہوتی ہے. بَڈ پہلے ہی بندوق تانے اسکا منتظر ہوتا ہے. وہ کِڈو کو گولی سے زخمی کرکے زندہ حالت میں ہی زمین میں دفن کردیتا ہے اور اسکی تلوار اپنے قبضے میں کرلیتا ہے. کڈو کی اس جاپانی تلوار کو بیچنے کیلئے بَڈ گروہ کی ایک اور خاتون رکن سے فون پر رابطہ کرکے اسے بلا لیتا ہے. یہ خاتون جسکا نام “ایلے ڈرائیور” ہے،  بَڈ سے تلوار خریدنے کیلئے ڈالروں سے بھرا صندوقچہ لیکر آتی ہے. خاتون اس صندوقچے میں ڈالروں کے نیچے ایک انتہائی زہریلا سانپ ڈال کر لائی ہے تاکہ سانپ بڈ کو ڈس لے. لین دین سے پہلے ایلے ڈرائیور جو ایک آنکھ سے معذور ہے، بڈ سے اس کے کنٹینر میں کچھ بات چیت کرتی ہے. یہ مکالمہ سننے اور دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے.
دونوں کے مابین کِڈو کی شادی پر کئے گئے اُس حملے اور قتلِ عام کے بارے میں گفتگو ہوتی ہے جسکو ایک عرصہ ہوگیا ہے، بَڈ اُس خاتون سے پوچھتا ہے کہ اب جبکہ تم ریٹائر ہوچکی ہو، اپنی گذری ہوئی زندگی اور اس واقعے کے متعلق سوچتی ہو تو کیا محسوس کرتی ہو؟ پچھتاوا یا اطمینان.
خاتون جواب دیتی ہے “آ لٹل بِٹ آف بوتھ”. دونوں ہی تھوڑا تھوڑا. یعنی کچھ پچھتاوا اور کچھ اطمینان. بَڈ کا جواب پڑھیے، کہتا ہے.
 “بکواس ! مجھے اچھی طرح پتہ ہے کہ تم یہ دونوں کیفیتیں محسوس کرتی ہو اور مجھے یہ بھی پتہ ہے کہ ان دو میں سے ایک کیفیت تم پر زیادہ حاوی ہے، سوال یہ ہے کہ کونسی.” 
وہ کچھ دیر سوچتی رہتی ہے…
پھر جواب دیتی ہے، پچھتاوا.

نسیم نکولاس طالب نے کسی جگہ لکھا ہے کہ انہیں ایسے فارم پُر کرتے وقت بڑے تذبذب کا سامنا رہتا ہے جن میں پوچھا جاتا ہے  کہ آپکی زبان کیا ہے یا نسل کونسی ہے اور پھر ان سوالوں کے آگے مخصوص خانے بنے ہوتے ہیں. اسکے علاوہ شہریت، مذھب،  ازدواجی حیثیت اور سالانہ آمدن کے خانے بھی نشان زد کرنے کیلئے ہوتے ہیں. نسیم طالب لبنانی مسیحی ہیں اور امریکی شہریت رکھتے ہیں. ان کو اپنا عرب کہلوانا درست نہیں لگتا. وہ تاریخی حوالوں سے اس بات کو ثابت کرنے پر کافی زور صرف کرتے ہیں کہ بحر روم کے مشرقی ساحل پر واقع جزائر پر بسنے والے لوگ جو مختلف زبانیں بولتے ہیں دراصل لیوانٹ ہیں. یہ لوگ عربوں سے نسلاً مختلف ہیں، اگرچہ ان میں عربی زبان بولنے والے بھی ہیں. نسیم طالب کے والدین لبنان سے تعلق رکھتے تھے ، گریک آرتھوڈاکس مسیحی تھے، فرانس میں رہتے تھے اور عربی بولتے تھے. نسیم کا بچپن یہیں پر گذرا. 
ایک صحافی کو انٹریو دیتے ہوئے نسیم کہتے ہیں.
“اگر آپ عربی بولتے ہیں، گریک آرتھوڈاکس مسیحی ہیں اور ایک فرانسیسی سکول میں زیر تعلیم،  تو قدرتی طور پر بہت تشکیک کا شکار ہوجاتے ہیں جب مثلاً صلیبی جنگوں ہی سے متعلق آپ کو واقعات کے تین مختلف نکتہ ہائے نگاہ سننے کو ملتے ہیں. ایک مسلمانوں کی طرف سے، ایک یونانیوں کی طرف سے اور پھر ایک کیتھولک مسیحیوں کی جانب سے.”

اسی انٹریو کے دوران صحافی کے ایک سوال کے جواب میں وہ اپنے لیپ ٹاپ کمپیوٹر سے کوہِ لبنان کے ساتھ اپنے آبائی گاؤں “آمیون” کی خوبصورت تصویریں دکھاتے ہوئے کہتے ہیں
“میرے سولہ دادوں پڑ دادوں میں سے سولہ کے سولہ یہاں دفن ہیں. اور یہ وہ جگہ ہے جہاں مجھے دفن ہونا ہے. یہ کہتے ہوئے وہ ایک چرچ کی طرف اشارہ کرتے ہیں. یہ جگہ مجھے اپنی کھڑکی سے نظر آتی رہتی ہے.”

نسیم طالب کئی زبانیں جانتے ہیں. انگریزی کے علاوہ عربی اور فرانسیسی بھی روانی سے بولتے ہیں. “بلیک سواان” اور “اینٹی فریجائیل” جیسی معروف کتابوں کے مصنف ہیں.

بِل کے بھائی بَڈ سے بیش قیمت جاپانی تلوار خریدنے کیلئے آنے والی آنکھ سے معذور “ایلے ڈرائیور”اپنی دو کیفیتوں میں سے ایک کیفیت کے زیادہ شدید ہونے کا ادراک کرچکی ہے. بَڈ کے استفسار پر وہ اس نتیجے پر پہنچ جاتی ہے کہ الپاسو ٹیکساس کے قتل عام کے بارے میں اسے اطمینان سے زیادہ پچھتاوا ہے. 
نسیم طالب، معلوم ہوتا ہے کہ اپنی شناخت کے حوالے سے تحقیق اور سوچ بچارجاری رکھے ہوئے ہیں لیکن لبنان کی سرزمین پر اپنے آباؤ اجداد کے پہلو میں دفن ہونے کا فیصلہ کافی حد تک واضح کرتا ہے کہ وہ زمین کو ہی اپنی شناخت کا زیادہ غالب جزو قرار دے چکے ہیں.

ہم، میں اور آپ، اس خطے میں بسنے والے لوگ کیا کریں. غور کریں تو ہمیں بھی نسیم طالب اور ایلے ڈرائیور کی طرح اسی نوع کے سوالات کا سامنا ہے. اب تک ہم “آ لٹل بِٹ آف بوتھ” کہہ کر اس سوال کا سامنا کرنے سے کترا رہے ہیں لیکن ہمیں زیادہ دیر تک اس سوال کو ٹالنا نہیں چاہئے.
 ہم نے شناخت کے مختلف حوالوں میں سے کس حوالے کو اوپر رکھنا ہے؟ نسل کو، زبان کو، مذھب کو، نظریے کو، یا جغرافیہ اور زمین کو؟ یہ سوال آج کے پاکستان میں بسنے والوں کے آگے رکھے جانے والے چند اہم ترین بنیادی سوالوں میں سے ایک ہے. اور تاریخ کا کیمرہ ہماری کارگزاری کو محفوظ کرتا جارہا ہے.

میڈیا کے مختلف میدانوں میں بشمول سماجی رابطے کی ویب سائٹس کے، طرح طرح کے گروہ اور دھڑے بنے ہوئے ہیں جو ایک دوسرے سے مباحث میں مشغول نظر آتے ہیں. ایسے گروہوں کے زاویہ ہائے نظر میں اختلاف واضح ہے اور مباحث کے موضوعات کی نوعیت بھی نہایت متفرق اور گوناگوں ہے. لیکن اگر ان مباحث کی اوپر کی تہیں ہٹا کر انکے اصل مغز کو دیکھیں تو تقریباً تمام بحثوں میں شناخت ہی کا سوال کارفرما نظر آئے گا. مثلاً ایک باہم مقابل  جوڑا جدیدیت پسندوں اور روایت پسندوں کا بنتا ہے. جو ہر زیر بحث موضوع کے علی الترتیب جدید اور روایتی پہلوؤں پر مورچہ زن رہتے ہیں. جدت پسند اپنی شناخت ہر نئی اور چمکتی ہوئی دریافت کیساتھ نتھی کرتے ہیں جبکہ روایت پسند ‘دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو’ الاپتے نظر آتے ہیں. پھر ایک گروہ وہ ہے جو ملکِ پاکستان کے وسیع جغرافیے کیساتھ وابستگی سے زیادہ چھوٹی علاقائی نسبتوں کو اپنی زیادہ قابل فخر پہچان سمجھتے ہیں. جیسے بلوچ قوم پرست، یا پختونخواہ کے پختون یا پنجاب کے باسی جو قومیت اور علاقائیت کی بنیاد پر اپنی اپنی الگ شناخت کو ان قوموں کے آپس میں موجود مشترک ملکی یا مذھبی نسبت سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں.
ایسا کرچکنے کے بعد بھی معاملہ رکتا نہیں ہے. ان قومیتوں کے اندر بھی شناخت کے مزید سلسلے جاری ہیں. مثلاً پختونوں کے اندر کا قبائلی نظام خود پختون قوم کے اندر شناخت کا مزید نہ ختم ہونے والا ایک سلسلہ جاری کئے ہوئے ہے. بلوچوں کے قبائل کی کہانی بھی زیادہ مختلف نہیں. پنجاب کے اندر بھی قومیتوں کی تقسیم کا ایک غیر مختتم سلسلہ ہے. سندھ میں بھی کم و بیش یہی حالات ہیں.
پھر ایک گروہ جدید روشن خیالوں کا بھی ہے، جو تقسیمِ ہند اور پاکستان کے وجود کو ایک غلط فیصلہ یا حادثہ قرار دیکر ماقبل تقسیم ہندوستان میں اپنی شناخت کی جڑیں تلاش کرنے کیلئے محوِ سفر رہتا ہے. تقسیم سے فوراً قبل کے متحد ہندوستان میں انگریز کی حکومت تو اکثر کو ھضم نہیں ہوتی، تو اس سے مزید پیچھے سفر کر کے مغل ھندوستان پہنچتے ہیں. یہاں پر انکو مغل بادشاہوں میں سے وہ بہت پسند آتے ہیں جن کی رانیاں ھندو ہیں اور مذھبی شناخت کی حدود کے آرپار آزادانہ نقل وحرکت کرتے ہیں. لیکن پھر مغل ہندوستان کے بانی ظہیرالدین بابر کو لٹیرا اور ڈاکو کہنا بھی روشن خیالی کا ایک پرزور تقاضا ہے، انکو چشم تصور سے حضرت بابر بنفس نفیس اپنے وحشی پیش روؤں کی طرح شمال مغربی پہاڑوں سے ہندوستان کے مندروں کا سونا چاندی اور جواہرات لوٹنے کیلئے دوڑتا شور مچاتا آتا نظر آتا ہے. وہاں سے مزید پس روی کرتے ہیں تو ہندوستان کے مقامی باشندوں کے ساتھ گنگا جل کرتے ہیں. ٹیکا لگاتے ہیں اور سیندور ملتے ہیں. یہاں دوران جل ان پر مزید حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ اِن برہمنوں کے باپ دادا بھی تو کہیں باہر سے وارد ہونے والے آریا ہیں، جو مقامی باشندوں میں اپنا نظام اور دھرم نافذ کرکے خود انکے مالک بن بیٹھے ہیں. اس دور کا نظام ذات پات بھی ہمارے روشن خیال کی حساس طبیعت پر کچوکے لگاتا ہے. کچھ اس شرمناک تقسیم سے چشم پوشی کرکے کام چلا لیتے ہیں. چند روشن ضمیر مزید پیچھے کی طرف سفر جاری رکھتے ہیں. نہ یہ سفر تھمتا ہے، نہ ضمیر چپ ہوتا ہے اور نہ وہ گرم بحثیں ہی رکتی ہیں جن کی بنیادوں میں شناخت کا مسئلہ کروٹیں لیتا رہتا ہے.

 

اپنی شناخت کو یورپ میں برپا ہونے والی اُس معاشی سماجی تحریک اور اس تحریک کے بانی سے جوڑنے والے سر پھرے بھی ان مباحث میں سرگرم عمل نظر آتے ہیں جس میں گردش ایام کیساتھ بندہ مزدور کے اوقات کی تلخی یوں گھل گئی ہے کہ معاش اور اقتصاد سے نکل کر اب اس تحریک کے وابستگان رومان اور تخیل کی بلندیوں کو چھو چھو کر لوٹ پوٹ ہوتے رہتے ہیں. انکی پشت پر جس طرح کے قد آور شعراء کا کلام سانس لے رہا ہے، انکا لوٹ پوٹ ہونا ایسا ناجائز بھی نہیں لگتا.
تاہم “میں کون ہوں؟ ” ،  یا شناخت کے سوال پر یہ گروہ بھی انگشت بدنداں اگر نہیں تو فکر میں غلطاں و پیچاں ضرور ہوجاتا ہے، کم از کم وہ  قیمتی افراد ضرور، جو ابھی تک سوچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں.
شناخت دراصل خودشعوری کا لازمی اور جبری نتیجہ ہے. یہ ایک سراپا سوال کی صورت فرد اور اجتماع کے گرد منڈلاتا رہتا ہے. ہر فرد اور جمعیت کا یہ جبر ہے کہ وہ اس سوال کا سامنا کرے اور  اپنے قول و عمل اور مجموعی رویے سے اس کا جواب مسلسل فراہم کرتا رہے. فرد ہو یا گروہ،  ہمہ وقت “میں کون ہوں” کی سوالیہ چھتری تلے ہی اپنے موجود ہونے کی شرائط پورے کرتے ہیں.
پاکستان کے لوگوں کیلئے قومیت کو، زمین کو، نسل کو، زبان کو یا مخصوص سیاسی نظریات کو شناخت کا مرکزی حوالہ بنانے کی راہ میں مصنف کی رائے میں جو رکاوٹ سب سے بڑی ہے وہ ان کی مذھبی یا دینی شناخت.
ہم میں مختلف نسلوں، علاقوں، قومیتوں اور سیاسی تحریکوں سے وابستہ لوگ جانے انجانے میں ایک ایسا دین قبول کربیٹھے ہیں جس کو کسی بھی زاویے سے دوسرے درجے کی اہمیت قبول کرنا ہرگز برداشت نہیں. ہم میں سے اکثریت کے مسلمان ہونے کی واحد علت اگرچہ یہ ہے کہ ہمارے والدین اس دین کو مانتے تھے اور والدین کے اسلام کی وجہ، آگے، انکے والدین، تاہم اتفاقی مسلمان اور ارادی مسلمان کی بحث میں فی الحال نہیں پڑتے. اتنا بہر حال طے ہے کہ مذھبی شناخت کو ہم میں سے اکثر چھوڑنا ہرگز نہیں چاہتے. لیکن اس دین کا تقاضا کچھ بڑھ کر ہے، یہ صرف نام کی سرسری شناخت کو کافی نہیں سمجھتا. یہ عبادات اور عبادت گاہ کی حدود میں محدود بھی نہیں رہتا. اسکو فرد اور اجتماع کے ہر معاملے میں داخلہ چاہئے اور داخلہ بھی اس نوعیت کا کہ اسی کا سکہ چلے اور اسی کی بات مانی جائے. گستاخی معاف لیکن دین بھی واٹس ایپ کی طرح ہے. انسٹال ہوتے وقت کیمرہ تک بھی رسائی چاہتا ہے، آپ کے فون میں موجود رابط نمبروں کی فہرست میں بھی داخل ہوجاتا ہے. آپکے ڈاکومنٹس، تصاویر اور کتب جہاں رکھی ہیں ادھر بھی پہنچ جاتا ہے. اور ان حساس جگہوں پر براجمان ہو کر وہاں سے آپکو حسب ذائقہ مشورے اور تجاویز دیتا رہتا ہے. مسئلہ یہ ہے کہ آپ خود کسی وقت پر اس پروگرام کو اس طرح کی دخل اندازیوں کی اجازت دے چکے ہوتے ہیں. اب پچھتانے سے کیا ہو.!
کسی بھی مثال کے اندر جو ایک لازمی نقص ہوتا ہے اسکو عارضی طور پر نظر انداز کردیں تو کہہ سکتے ہیں کم و بیش دین بھی ہماری ذاتی اور اجتماعی زندگی میں اسی طرح کی دخل اندازی کا اجازت نامہ ہم سے حاصل کرچکا ہے. اگرچہ اس کا دائرہ اثر اور شدتِ نفوذ واٹس ایپ سے وسیع تر اور کہیں زیادہ شدید ہے. 
پیدائش، غسل پیدائش اور کان میں آذان سے لیکر غسل میت، نماز جنازہ اور قبر میں کس پہلو پر لٹانا ہے تک کے  سبھی فیصلے تو دین اپنے اختیار میں رکھتا ہے.
پھر والدین سے تعلق کے آداب، ان کے حقوق، انکے فرائض. انکے آگے کس طرح بات کرنی ہے. بات کرتے وقت آواز کتنی اونچی کرنی ہے. کندھے اٹھا کر رکھو گے یا جھکا کر. تعلیم کس طرح کی ہوگی. کھانے میں کیا کھاؤگے اور کیا نہیں. کتنا کھاؤ گے اور کس ہاتھ سے کھاؤگے. کیا پیو گے اور کیا نہیں. اور کیا بیٹھ کر پیوگے یا کھڑے کھڑے.
کاروبار کروگے تو سود پر تو نہیں کروگے. زکوة بھی دینی پڑیگی. 
بات کروگے تو جھوٹ تو نہ بولو گے.
وعدہ کی پاسداری کروگے؟ معاہدوں کی خلاف ورزی تو نہ کروگے؟ دیکھ لینا ایک دن تمہارے سب پول کھول دئے جائینگے.
لباس یوں پہنا کرو، ڈاڑھی اتنی رکھ لو. مونچھیں یوں تراشا کرو. نظر ادھر ادھر نہ گھمایا کرو. پیٹ بھر کر کھانے سے پہلے پڑوس کی خبر بھی کرلو. شادی ایسے کرو گے. غم اور سوگ کی اس حد تک اجازت ہے. خوشی مناؤ گے تو ان اوقات میں اور اس طریقے پر. مسجد میں جاؤگے تو یہ والا پاؤں پہلے رکھا کرو. گھر آتے وقت یہ پڑھا کرو. پہلے سلام کیا کرو. راستے پر کیوں بیٹھتے ہو. مسافر کو تنگ مت کیا کرو. ایسے کیوں چل رہے ہو، اکڑتے کیوں ہو، کیا پہاڑ جتنے ہوجاؤگے؟ چیخ کر کیوں بولتے ہو گدھے کی آواز سب سے اونچی ہوتی ہے.
غرض آدمی چیخ اٹھتا ہے کہ جائیں تو جائیں کہاں.
واٹس ایپ کو تو اَن انسٹال کردینگے. دین کا کیا کرینگے.

سوچنے کی بات یہ ہے کہ اب جب ہر معاملے میں اور ہر قدم پر ھدایت کیلئے دین آ موجود ہوتا ہے تو شناخت کیلئے کسی اور حوالے کی کتنی گنجائش نکلتی ہوگی. 
“اے لوگو ہم نے تمہیں ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا پھر تمہارے گروہ اور قبائل بنائے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو، تم میں سے خدا کے ہاں اسی کی زیادہ عزت ہے جو خدا سے زیادہ ڈرنے والا ہے.” (حجرات)
سرسری طور پر دیکھیں تو گنجائش کافی نکلتی نظر آتی ہے، بلکہ قبائل اور گروہوں کو آیت میں پہچان کی وجہ بتایا گیا ہے. لیکن مزید غور کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ اُس بڑی شناخت کے اندر کی تقسیم ہے جس کا مرکزی عنوان دین ہے. شعب اور قبیلے کی شناخت قابل قبول تب ہے جب دین کی مرکزی شناخت کو تسلیم اور لاگو کیا جاچکا ہو. اگر دین کے مرکزی حوالے کو اوپر نہیں رکھا تو قبیلے اور برادری کی بات بے معنی اور بے اثر ہے. دینی شناخت کی چھتری سایہ فگن اگر ہے پھر تو آگے بات ہوتی ہے ورنہ بیٹے تک کے بارے میں پیغمبر پر وحی نازل ہوجاتی ہے کہ ‘جا وہ تیرا بیٹا ہی نہیں ہے’.

نوح علیہ السلام کا بیٹا انکے بلانے کے باوجود کشتی پر سوار نہیں ہوتا اور طوفان میں بہہ جاتا ہے. تو نوح بے تاب ہو کر خدا کو پکارتے ہیں،  سورہ ھود میں واقعہ درج ہے. 
“اور نوح نے اپنے رب کو پکار کر کہا اے میرے رب میرا بیٹاتو میرے خاندان میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے اور تو حاکموں کا حاکم. کہا اے نوح وہ تیرے اہل میں سے نہیں کیونکہ اسکے اعمال صالح نہیں. جس بات کا تم کو علم نہیں اسکا سوال مجھ سے مت کر. تم کو نصیحت کرتا ہوں تاکہ جاہلوں میں سے نہ ہوجاؤ.” (ھود) 
ساڑھے نو سو سال نام خدا کی تبلیغ کرنے والے جلیل القدر پیغمبر کے بیٹے کی یہ حیثیت ہے تو میری اور آپکی ذات یا برادری کس شمار اور کونسی قطار میں ہوگی.
پیغمبر کے پیغام کو رد کرنے کے بعد قبیلے اور شعب اور قومیت پر مبنی شناخت کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے. کچھ مزید کہنے کی ضرورت نہیں. 

قطع نظر اسکے کہ ہم میں سے کتنے لوگ اتفاقی مسلمان ہیں اور کتنے ارادی، اپنے مسلمان ہونے ہی کو شناخت کا مرکزی حوالہ بنائے بغیر بچاؤ کی کوئی راہ نکلتی نظر نہیں آتی. 
ایک راستہ تو یہ ہے کہ دینی شناخت کا لبادہ اتار پھینکیں اور پھر جیسے دل چاہے کریں. اپنے قبیلے کی مانیں اور اپنے خاندان کی روایات کو مقدم کر لیں یا اپنے سیاسی نظریات کو برتر مان لیں. اگر ایسا نہیں کرنا،  یا نہیں کر سکتے تو پھر دین کے آگے کسی ملک کے ساتھ وابستگی، علاقائی رسوم، نسلی روایات اور تہواروں کو کھڑا کرنا چھوڑ دیں. گردن ڈال کر دین جہاں لے جاتا ہے وہاں چلے جائیں. جو کہا جاتا ہے مان لیں. سمعنا و اطعنا کی تجسیم ہوجائیں.

جس دین کو ہم اتفاقاً یا ارادتاً کسی بھی طرح قبول کرچکے ہیں وہ دین زبان، نسل، قومیت، جغرافیائی سرحد اور سیاسی نظریے کو شناخت کے ایک ذیلی عنوان کے طور پر تو برداشت کرتا ہے لیکن مرکزی حوالہ کے مقام پر ہمیشہ خود متمکن رہتا ہے. ایسے میں شناخت کے سوال پر ہمارے شاعر کا یہ مصرع شاعرانہ خیال سے زیادہ ایک ٹھوس فلسفیانہ حقیقت معلوم ہوتا ہے.
             بازو ترا توحید کی قوت سے قوی ہے
            اسلام  ترا دیس  ہے تو مصطفوی  ہے

 

About Author

خالد ولی اللہ بلغاری. بلغار، گلگت بلتستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ پیشہ ورانہ میدان طب ہے. فلسفہ کے علاوہ شعر و ادب اور موسیقی سے بھی دلچسپی رکھتے ہیں.۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: