سائیکل ——– ندیم رزاق کھوہارا

0

ٹوں ٹوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ٹیں ٹین۔ ۔ ۔ ۔ ٹوں ٹوں۔ ۔ ۔

جنرل ہسپتال لاہور کے شعبہ نیورولوجی میں انتہائی نگہداشت کی وارڈ آئی سی یو میں رہ رہ کر آوازیں گونج رہیں تھیں۔ وارڈ کے اندر لگ بھگ دس سے بارہ مریض زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے تھے۔ ان کے بیڈ کے سرہانوں پرلگی مشینوں سے آنے والی آوازیں یوں محسوس ہو رہیں تھیں جیسے کوئی پرانی سائیکل کی چین اور پرزے چرچرا رہے ہو۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ کوئی شخص سائیکل کے پیڈل پر دباؤ ڈال کر چلانے کی کوشش کر رہا ہے جواب میں مجبوراً اس کے تمام کل پرزے صدائے احتجاج بلند کر رہے ہیں۔

نہیں معلوم یہ میرا وہم تھا۔ یا شاید یہی حقیقت تھی۔ مجھے لگ رہا تھا جیسے میں اس وقت کسی ہسپتال میں نہیں بلکہ کسی سڑک پر ایک سائیکل چلا رہا ہوں۔ میرے ذہن میں سائیکل کے دوڑتے پہیے شاید الٹے گھوم رہے تھے۔ جو وقت کی گردش کو آگے لے جانے کی بجائے الٹا گھما کر پیچھے لے جا رہے تھے۔ ماحول بدل رہا تھا۔ میری آنکھوں کے سامنے گورنمنٹ ہائی سکول جہان خان کو جانے والا راستہ تھا جس پر میں سائیکل کے پیڈل پر دباؤ ڈال کر راستے کو جلد از جلد طے کرنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

میں اس روز اسکول کے نصف راستے سے ہی گھر واپس لوٹ آیا تھا۔ میرا ایک ہاتھ اپنی سائیکل کے ہینڈل پر تھا یوں جیسے میں اسے کان سے پکڑ کر کھینچ رہا تھا۔ جب کہ دوسرے میں کتابیں پکڑی ہوئی تھیں۔ میرا پارہ ساتویں آسمان پر تھا۔ پرانی بیکو سائیکل میرے قدموں کا ساتھ دینے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔

گھر پہنچتے ہی میں نے غصے سے سائیکل کو بیٹھک کی اندرونی کچی دیوار کے ساتھ مارا۔ اور دھاڑ کر بولا۔ ۔ ۔
“مجھے نہیں چاہیے یہ پرانی کھٹارا سائیکل، میں پیدل چلا جاؤں گا لیکن آج کے بعد اس پر نہیں جاؤں گا”

پسینے کے قطرے میرے ماتھے سے ٹپک رہے تھے۔ ماں جی جو اس وقت شاید کمرے کے اندر بیٹھی سبزی چھیل رہیں تھیں۔ میری آواز سنتے ہی بھاگ کر باہر آئیں۔ ۔ ۔
“اللہ خیر کرے میرا پتر، آج اتنی جلدی گھر آ گئے۔ اور حال کیا بنایا ہوا ہے”

میں جواب دینے کی بجائے ساتھ پڑی چارپائی پر جیسے ڈھے سا گیا۔ مجھے کچھ وقت چاہیے تھا سانس بحال ہونے میں۔ ذرا دم لیتے ہی میں ایک بار پھر چلانے لگا۔ شکایتوں کا انبار تھا جو میرے منہ سے نکل رہا تھا۔

“یہ سائیکل ہے یا عذاب، جو میرے گلے میں ڈال دیا گیا ہے۔ میں کل سے پیدل اسکول چلا جایا کروں گا لیکن اس کھٹارہ کباڑ خانے پر بیٹھ کر نہیں جاؤں گا۔ راستے میں بیس بار اس کی چین اترتی ہے۔ ہار بار ہاتھ کالے کرنے پڑتے ہیں۔ چین چڑھا لیتا ہوں تو بریک نہیں لگتی۔ بریک لگتی ہے تو ہینڈل نہیں مڑتا۔ اور سب سے بڑھ کر اس کی چخ چخ، چاں چاں، ٹیں ٹیں سے میں تنگ آ چکا ہوں۔ دس قدم چلنے کے بعد دس منٹ تک اس کی مدارت کرنی پڑتی ہے تب جا کر پیڈل لگانے کے قابل ہوتی ہے۔ مجھے نہیں چاہیے ایسی بے کار زنگ لگے لوہے کی مشین، میں کل سے پیدل چلا جایا کروں گا لیکن اس پر نہیں جاؤں گا”

اپنے اندر کا تمام غبار نکالنے کے بعد میں نے آخر میں ایک بار پھر اپنا ارادہ بتایا کہ آئندہ میں اس سائیکل پر نہیں جاؤں گا۔

ہمیشہ کی طرح نرم و شفیق ہستی نے میری ساری بات کو صبر وتحمل سے سننے کے بعد شفقت سے سر پر پیار پھیرا اور کہا۔ ۔ ۔
“بیٹا، میں سمجھ سکتی ہوں تمہاری پریشانی۔ تھوڑا صبر کر لو۔ تمہارے ابو ڈیوٹی کے سلسلے میں حیدرآباد گئے ہیں۔ جب چھٹی پر آئیں گے تو ان سے کہ کر اپنے بیٹے کو نئی سائیکل لے دوں گی۔ تب تک تم اس سے گزارا کر لو۔ تمہیں پتہ ہے پہلے اتنی مشکل سے وہ یہ سائیکل تمہارے لیے حیدرآباد سے لے کر آئے تھے۔ ”

ماں جی کی باتیں سن کر میرا غصہ کچھ ٹھنڈا ہوا۔ لیکن ضد وہیں پر قائم تھی۔
“ٹھیک ہے۔ ۔ ۔ جب تک ابو نہیں آ جاتے میں پیدل اسکول جاؤں گا۔ لیکن اس سائیکل کو لے کر نہیں جاؤں گا”
ماں جی جواباً خاموش رہیں۔

ضد پر رہنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ میں اپنے ماں باپ کی نافرمان اولاد تھا۔ یا مجھے ہر وقت اپنی بات منوانے کی ضد ہوتی ہوتی تھی۔ بلکہ اس کے برعکس میرے والدین کو مجھ پر فخر تھا کہ سب سے بڑا بیٹا ہونے کے ناطے مجھ میں احساس زمہ داری سب سے زیادہ تھا۔ اور میں گھریلو حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے جیب خرچ کے معاملے پر انہیں بہت کم تنگ کیا کرتا تھا بلکہ اکثر یوں بھی ہوتا کہ میں اپنے اسکول کے اخراجات بھی پیسے نا ہونے کے باعث یوں ہی گزارا کر لیا کرتا۔

دراصل اس ضد کی وجہ یہ تھی میں اپنے ساتھ جانے والے گاؤں کے دیگر طالب علموں کی طنز و تشنیع سے بھری باتوں سے تنگ آ چکا تھا۔ جو وہ روز اسکول جاتے ہوئے کیا کرتے تھے۔

میں نے حال ہی میں گاؤں کے اسکول سے مڈل کا امتحان ہمیشہ کی طرح اپنی کلاس میں پہلی پوزیشن لے کر پاس کیا تھا۔ اب میٹرک تک کی تعلیم دلانے کے لیے والد صاحب نے مجھے تقریباً پانچ کلومیٹر دور ایک ہائی اسکول میں داخل کروایا تھا۔ کیونکہ اس وقت گاؤں کے نزدیک ترین کوئی ہائی اسکول نہیں تھا اس لیے روزانہ پانچ کلومیٹر کا سفر طے کر کے اسکول جانا پڑتا تھا۔ میرے ساتھ گاؤں سے تعلق رکھنے والے چند دیگر ہم جماعتوں نے بھی اسی اسکول میں داخلہ لیا تھا۔ لیکن ان سب کے پاس نئی یا قدرے بہتر بائیسکل تھیں۔ جن پر وہ ایک یا دو دو کی تعداد میں بیٹھ کر جایا کرتے۔

اکثر طلباء گاؤں میں ہمارے بڑوں کے مخالف گروہ سے تعلق رکھتے تھے۔ اس لیے میری انا اور خودداری ان کے ساتھ سفر کرنے کی اجازت نہیں دیتی تھی۔ میں نے کچھ دن تو یوں ہی گزارا کیا۔ لیکن چند دن بعد ہی ابو جب حیدرآباد سے چھٹی پر گھر آئے تو اپنے ساتھ “بیکو” کی پرانی لیکن قابلِ استعمال سائیکل بھی لائے تا کہ میں اس پر اسکول جا سکوں۔ پہلے پہل تو یہ سائیکل دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی کہ اب دوسرے لڑکوں کی کڑوی کسیلی باتیں نہیں سننا پڑیں گی۔ اور سفر بھی باآسانی طے ہو جایا کرے گا۔

لیکن چند دن بعد ہی میری ساری خوشی ہوا ہو گئی تھی۔ وہ سائیکل میرے لیے نعمت کی بجائے زحمت بن چکی تھی۔ میں روز صبح سب سے پہلے گھر سے سائیکل لے کر نکل جایا کرتا تھا تا کہ راستے میں جتنی خجالت اٹھانا پڑتی وہ سب اٹھا کر بھی میں دیگر لڑکوں سے پہلے اسکول پہنچ جایا کروں۔ لیکن اس کے باوجود اکثر میں راستے کے کسی نا کسی مقام پر سائیکل کھڑی کر کے اس کی چین چڑھا رہا ہوتا کہ پیچھے سے گاؤں کے دیگر لڑکے گزرتے اور آوازیں کستے جاتے۔ ایسے میں میرے پاس صبر کے گھونٹ پینے کے علاوہ اور کوئی چارہ نا ہوتا۔

اس روز تو حد ہو گئی تھی۔ میں سائیکل کے تارپیچ سیدھے کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ لڑکے پاس سے گزرے۔ میری حالت دیکھ کر ایک لڑکے نے آواز دی۔ ۔ ۔
“کیوں ہاتھ کالے کرتے ہو۔ اس لوہے کی نال کو کندھے پر رکھو اور اسکول آ جاؤ۔ ورزش بھی ہو جایا کرے گی۔ اور سفر بھی۔ پڑھ تو تم سکتے نہیں وزرش کر کے ڈولے شولے بنا لو۔ محنت مزدوری کر سکو گے”

اس کے ساتھ اس نے چند ایک باتیں ایسی کیں کہ میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ میری عادت تھی کہ اپنے آپ میں رہا کرتا تھا اور حتی الامکان تصادم سے گریز کیا کرتا۔ میں نے اسکول جانے کی بجائے واپسی کا فیصلہ کیا۔ مزید بے عزتی سے بچنے کے لیے بہتر تھا کہ میں اب پیدل جاؤں یا اسکول ہی چھوڑ دوں۔ یہی وجہ تھی کہ اس روز میں نے گھر چاردیواری کے ساتھ اس سائیکل کو دے مارا تھا اور اب پیدل چلنے پر بضد تھا۔

کچھ دن تو یوں ہی گزرے۔ میں روزانہ صبح سویرے اٹھتا۔ کتابیں بستہ سنبھالتا۔ اور کھیتوں کے بیچوں بیچ سے جانے والے ایک پگڈنڈی نما راستے پر تیز تیز چلتا ہوا تقریباً ایک ڈیڑھ گھنٹے میں اسکول پہنچ جایا کرتا۔ شروع شروع میں منزل پر پہنچنے تک شدید تھکن طاری ہو جاتی تھی۔ لیکن آہستہ آہستہ اس کا عادی ہونے لگا۔ لیکن میں روزانہ کے اس پیدل سفر سے تنگ آ چکا تھا اور کسی صورت اس سے نجات حاصل کرنا چاہتا تھا۔ دریں اثناء میری کوشش ہوتی تھی کہ سفر کے دوران ایسا راستہ اختیار کروں جس پر ان لڑکوں سے ٹکراؤ کے امکانات نا ہونے کے برابر ہوں۔ اس سلسلے میں میں نے ایک ایسا راستہ ڈھونڈ لیا تھا جو کھیتوں کے بیچوں بیچ سے ہوتا ہوا سیدھا اسکول کی پچھلی طرف جا نکلتا تھا۔ یہ سنسنان سا راستہ تھا اس پر سائیکل سوار تو ایک طرف پیدل چلنے والوں کی آمدورفت بھی نا ہونے کے برابر تھی۔

ایک روز میں یوں ہی اپنے خیالوں میں گم خراماں خراماں چلا جا رہا تھا کہ قریبی کھیت سے آواز آئی۔ ۔ ۔
“تم عبدالرزاق کھوہارا کے بیٹے ہو؟”
آواز سن کر میں ٹھٹھک گیا۔ ہاتھ میں درانتی تھامے ایک بوڑھا اور ضعیف العمر کسان پگڈنڈی کے بالکل پاس کھڑا تھا۔ اس کا کہنا درست تھا۔ یہ شخص یقیناً میرے والد صاحب کو جانتا تھا۔ میں نے ہاں میں سر ہلایا اور کھڑا ہو کر یہ انتظار کرنے لگا کہ اب وہ مزید کیا کہتا ہے۔ اس کا اگلا جملہ سن کر مجھے حیرانگی ہوئی، جب اس نے کہا۔ ۔ ۔

“تمہارے جوتے بہت خوبصورت ہیں۔ یقیناً تمہارے ابو نے لے کر دیے ہیں۔ ”
میں نے ایک نظر اپنے پاؤں میں پہنے ان چمکدار جوتوں پر ڈالی جو ایک ماہ پہلے ہی ابو نے سندھ کی مشہور مارکیٹ سے خرید کر بھجوائے تھے۔ یہ جوتے مجھے بہت پسند آئے تھے۔ ان میں چلنے سے بہت ہی راحت محسوس ہوتی تھی۔ لیکن اس کسان کا یہ سوال یا قیاس بے معانی تھا۔ اس لیے میں نے جھجھکتے ہوئے اسے کہا کہ۔ ۔ ۔
“آپ کی بات درست ہے۔ لیکن کہنا کیا چاہتے ہیں”
میرا سوال سن کر وہ گویا ہوا۔ ۔ ۔
“تمہارے ابو بہت اچھے انسان ہیں۔ وہ بھی اسی اسکول میں پڑھے ہیں جہاں تم جاتے ہو۔ وہ بھی روزانہ پیدل چل کر اسی راستے سے اسکول جایا کرتے تھے جس سے تم جاتے ہو۔ میں ان دنوں جوان ہوا کرتا تھا۔ جب تمہارے ابو روزانہ اس راستے پر پیدل چل کر جاتے تھے۔ میں اس کی ہمت و حوصلے کا مداح تھا۔ آج اتنے سالوں بعد تمہیں اس راستے پر چل کر جاتے ہوئے دیکھا تو مجھے خیال آیا کہ ہو نا ہو تم اسی کے بیٹے ہو۔ وہ بھی تمہاری طرح اپنے خیالوں میں گم ادھر ادھر جھانکے بغیر چلتا جاتا تھا۔ تم بھی ویسے ہی ہو۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس کے پاؤں میں جوتے نہیں ہوا کرتے تھے۔ یا پھر ٹوٹی پھوٹی سلیپر پہنی ہوتی تھی۔ جب کبھی تپتی مٹی سے اس کے پاؤں جلنے لگتے تو وہ کچھ دیر گھاس پر چل لیا کرتا اور اپنے پاؤں کو راحت دیتا تھا۔ لیکن اس نے تمہیں بہت اچھے جوتے خرید کر دیے ہیں۔ ہو سکتا ہے سائیکل کے لیے اس کے پاس وسائل نا ہوں لیکن وہ بہت اچھا اور باحوصلہ انسان ہے۔ فکر نا کرنا ایک نا ایک وہ محنت کر کے تمہیں اس قابل کر دے گا کہ تمہیں کوئی پریشانی نا ہو”

بوڑھے کسان کے الفاظ میرے کانوں میں سیسے کی مانند پگھل رہے تھے۔ مجھے اتنا تو علم تھا کہ والد صاحب نے انتہائی کسمپرسی کے عالم میں اپنا بچپن گزارا لیکن صورت حال یہاں تک ہو سکتی ہے کہ وہ ننگے پاؤں پیدل چلتے رہے۔ یہ میرے وہم و گمان میں بھی نا تھا۔ مجھے اپنے رویے پر شدید پشیمانی ہونے لگی۔

میں اس روز بڑی مشکل سے گھر پہنچا۔ آتے ہی کتابیں ایک جانب پھینک کر میں نے ماں جی سے پوچھا۔ ۔ ۔ “کیا یہ حقیقت ہے کہ ابو ننگے پاؤں اسکول پڑھنے جایا کرتے تھے۔ ان کے پاس کتابیں تک نہیں ہوتی تھیں لیکن پھر بھی تعلیم حاصل کرنے کی سعی کرتے رہے؟”

میرا سوال بظاہر سادہ تھا۔ لیکن میری جہاندیدہ ماں جی کے چہرے پر سینکڑوں سائے لہرا گیا۔ وہ جان چکیں تھیں کہ مجھے اپنے والدین کے ماضی کی تنگی و عسرت کا علم ہو چکا ہے۔ کافی دیر خاموش رہنے کے بعد وہ گویا ہوئیں۔ اور یوں جیسے اپنے دل میں دبے تمام راز اگل دیے۔

“ہاں بیٹا۔ ۔ ۔ ۔ تمہارے ابو کے بچپن کے حالات اس سے بھی زیادہ بدتر تھے جتنے تم سوچ رہے ہو۔ جب انہوں نے اسکول میں جانا شروع کیا تو گھر سے یہی سننے کو ملا کہ دو وقت کھانے کو روٹی نہیں ہے پڑھنے کے اخراجات کہاں سے اٹھائیں گے۔ یہ حقیقت بھی تھی کہ تمہارے دادا حاکم علی کھوہارا گردش زمانہ کے باعث مفسلی کا شکار تھے۔ ان کے پردادا کی اوکاڑہ میں بڑے بڑے قطعات پر مشتمل زمینیں تھیں۔ اور وہ علاقہ کی متمول شخصیات میں گنے جاتے تھے۔ لیکن پھر حالات نے پلٹا کھایا۔ اور تمہارے دادا تک پہنچتے پہنچتے نوبت یہاں تک آ چکی تھی پورے مہینے کے دوران شاید ہی کوئی دن ایسا ہو جب گھر میں مکمل دو وقت کی روٹی پکتی ہو۔ تمہارے دادا بہت بااصول اور جی دار انسان تھے وہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کو ہتک سمجھتے تھے۔ اس لیے جس حال میں بھی ہوتے صبر شکر کر کے گزارا کر لیتے۔

حالات سے تنگ آ کر انہوں نے ہجرت کا فیصلہ کیا اور تقریباً دس سال سندھ میں ایک جاگیردار کی زمینوں پر محنت مزدوری کرتے رہے۔ پھر اس گاؤں میں آ گئے جہاں ہم مقیم ہیں۔ یہاں آ کر بھی حالات نا بدلے۔ مفلسی و تنگی نے گھر پر ڈیرہ ڈالے رکھا۔ ایسے میں تمہارے ابو جب ذرا بڑے ہوئے تو انہیں بھی بڑے بھائی کے ساتھ کام پر جانا پڑا۔ لیکن انہیں پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ مسلسل ضد سے تنگ آ کر تمہارے دادا جان نے انہیں پڑھنے کی اجازت تو دے دی لیکن کسی قسم کے اخراجات اٹھانے سے انکار کر دیا۔ اخراجات اٹھاتے بھی تو کیسے؟ گھر میں کچھ تھا ہی نہیں۔

تمہارے ابو نے جیسے تیسے کر کے اپنی تعلیم جاری رکھی۔ وہ کافی بڑی عمر کے ہو گئے تھے جب اسکول میں داخل ہوئے۔ اس لیے اچھے بھلے کو سمجھ سکتے تھے۔ کبھی کبھار انہیں جیب خرچ کے نام پر آنا دھیلا ملتا تو اسے سنبھال کر رکھتے تا کہ مہینے بعد جو چار آنے فیس ادا کرنا ہوتی اس کے کام آ سکیں۔ ان کے پاس کتاب ہوتی تو کاپی نا ہوتی۔ کاپی ہوتی تو قلم نا ہوتی۔ ۔ ۔ الغرض وہ اسی طرح گزارا کر کے کام چلاتے رہے لیکن پڑھتے رہے۔

سامان کی تو خیر تھی۔ ۔ ۔ پڑھائی میں سب سے بڑا مسئلہ روزانہ اسکول جانے کا تھا۔ انہیں روزانہ کئی کلومیٹر پیدل سفر کر کے اسکول جانا پڑتا تھا۔ یہی نہیں بلکہ یہ سفر انہیں ننگے پاؤں ہی طے کرنا پڑتا کیونکہ جوتے یا تو ہوتے ہی نہیں تھے۔ یا پھر ہوتے بھی تو اتنے خستہ اور پھٹے ہوئے کہ انہیں نا پہننا ہی چلنے کے لیے بہتر ہوتا۔ ایسے میں گرمی سردی بارش دھوپ ہر طرح کے حالات کا انہیں سامنا کرنا پڑتا۔ راستے میں پیدل چلتے چلتے جب کبھی ان کے پاؤں جلنے لگتے تو کچھ دیر گھاس پر پاؤں رکھ کر انہیں راحت پہنچاتے۔ پھر سفر شروع کرتے۔

بوسیدہ کپڑے سے بنے بستے میں نامکمل دو چار کتابیں اور قلم۔ ۔ ۔ ۔ یہی کل متاع حیات تھی جسے وہ روزانہ اسکول جاتے وقت اپنے سینے سے لگا کر چلتے۔ لیکن اس قدر کسمپرسی اور مفلسی کے باوجود سفید پوشی کا بھرم رکھنا بچپن سے ہی ان کی عادت تھی۔ اس لیے کپڑے خواہ کتنے ہی پرانے اور پھٹے ہوئے ہوتے لیکن دھلے ہوئے پہنتے۔ اپنی ہر شے کو صاف ستھرا رکھتے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنے مزاج پر کبھی بھی اپنے مصائب کا شائبہ تک نا پڑنے دیتے۔ ہمیشہ ہر کسی کے ساتھ یوں زندہ دلی سے ملتے اور خوش و خرم رہتے گویا ہفت اقلیم کہ دولت کے مالک ہوں۔ یہی وجہ تھی کہ مکتب میں ہر کسی کی آنکھ کا تارا تھے۔ ساتھ پڑھنے والے طالب علم ان کی عزت کیا کرتے۔ اور ذہین ہونے کی وجہ سے وہ اپنے اساتذہ کے منظور نظر تھے۔

ذہانت کی وجہ سے ان کے اساتذہ نے دوسری جماعت سے ہی انہیں پانچویں میں منتقل کر دیا تھا۔ اس اعتماد کو انہوں نے ٹھیس نا پہنچنے دی۔ اور پنجم کے امتحانات میں پورے امتحانی مرکز میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ کامیابیوں کا یہ سلسلہ آنے والے سالوں میں بھی جاری رہا اور وہ یوں ہی تعلیمی میدان میں کامیابیاں و کامرانیاں سمیٹتے رہے۔ وہ تقریباً سات سال تک اس اسکول میں زیر تعلیم رہے۔ اور اس دوران روزانہ بلاناغہ کئی کلومیٹر پیدل چل کر جانا ان کا معمول رہا۔ انہوں نے صبر و استقامت کے ساتھ تعلیمی سلسلہ جاری رکھا۔ یہی نہیں بلکہ اس دوران غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتے۔ اسکول کی والی بال ٹیم کے کپتان تھے۔ اور تقریری مقابلے میں چودہ اسکولوں کے فاتح ٹھہرے۔ گویا مشکل حالات کے باوجود ہر میدان میں جھنڈے گاڑتے رہے۔

سب سے بڑھ کر ناقابل یقین بات یہ کہ اس دوران انہوں نے اپنے جیسے کئی دیگر طالب علموں کو تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے میں مدد بھی فراہم کی۔ یہ بات عجیب لگتی ہے کہ جو شخص خود تنگی و عسرت کا شکار ہو وہ دوسروں کی مدد کیا کر سکتا ہے۔ لیکن حقیقت یہی تھی کہ انہیں جب بھی معلوم پڑتا کہ کوئی طالب علم مفلسی کے باعث تعلیم جاری نہیں رکھ پا رہا تو وہ اپنا پیٹ کاٹ کر، اپنے تعلیمی اخراجات اور جیب خرچ کی قربانی دے کر اس کی مدد کرتے۔

ان حالات میں بمشکل میٹرک کرنے کے بعد مزید تعلیم جاری رکھنا ممکن تھا۔ اس لیے میٹرک کرنے کے بعد تعلیم چھوڑ دی اور روزی روٹی کا دھندہ تلاش کرنے لگے۔ ان دنوں میں ان کا معمول تھا کہ اکثر اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ فوج کے بھرتی مراکز میں جایا کرتے تھے۔ مقصد صرف ساتھ جانے کی حد تک محدود تھا۔ گو کہ انہیں خود بھی فوج میں بھرتی ہونے کا بہت شوق تھا لیکن تمہارے دادا جان اس کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ باپ کا حکم چونکہ حرف آخر تھا اس لیے وہ بس بھرتی مرکز تک ہو کر یوں ہی واپس آ جایا کرتے۔ ایک بار ایسا ہوا کہ وہ ایک بھرتی مرکز کے باہر موجود تھے۔ ان کے دوست اندر سے نکلے تو ناکامی ان کے چہرے سے جھلک رہی تھی کیونکہ ان کی سیلیکشن نا ہو سکی تھی۔ والد صاحب نے حال دیکھا تو بھرتی افسر کے پاس جا کر منت سماجت کرنے لگے کہ کسی طرح ان کے دوست کو رکھ لیا جائے۔ بھرتی پر مامور افسر نے ان پر نگاہ ڈالی۔ اور کہنے لگا کہ تم ان سب کی بہ نسبت زیادہ کڑیل جوان ہو۔ بہترین صحت کے مالک ہو پاک فوج میں اچھے عہدوں تک کا سکتے ہو۔ تم بھرتی ہو جاؤ۔ ۔ ۔ ۔

والد صاحب تذبذب کے عالم میں تھے۔ افسر کو بتا نہیں سکتے تھے کہ باپ کا حکم ہے۔ اس دوران افسر کے جی میں نا جانے کیا آئی اس نے ان کے سینے پر نمبر لگا کر (جو کہ ان دنوں پالیسی تھی) کہا کہ جاؤ تم بھرتی ہو چکے ہو۔ فلاں تاریخ کو ٹریننگ کے لیے آ جانا۔ پائے رفتن نا جائے ماندن کے مصداق ان کے پاس اب اور کوئی چارہ نا بچا تھا کہ اپنے والد کی اجازت لیتے۔ طے یہ پایا کہ واپس جا کر ایک بار پھر اجازت طلب کر کے دیکھیں گے۔ مل گئی تو ٹھیک ورنہ ٹریننگ پر نہیں جائیں گے۔

گھر پہنچنے کے بعد کچھ دن تو یوں ہی کشمکش کے عالم میں رہے۔ ایک روز ڈرتے ڈرتے اپنے عرض کی کہ “ابا جان میں فوج کے بھرتی مرکز گیا تھا۔ دوستوں کے ساتھ، وہاں موجود افسر کہتا ہے ان کو چھوڑو تم بھرتی ہو جاؤ”
داداجان جانے کس عالم میں بیٹھے تھے۔ تنک کر کہنے لگے تو ہو جانا تھا بھرتی۔ ۔ ۔ اب مجھے جو آ کر بتا رہے ہو۔

اتنا کہنے کی دیر تھی کہ وہ کھڑے ہو گئے اور قمیص کا بٹن کھول کر نمبر دکھایا اور کہنے لگے۔ ۔ ۔ ابا جان اجازت دیجیے۔ میں ٹریننگ پر جا رہا ہوں۔

تمہارے دادا جان بعد میں بہت پچھتائے کہ ایسا کیوں کہا۔ لیکن اب دیر ہو چکی تھی۔ اپنی بات اور اصولوں کے پکے تھے اس لیے اجازت دے دی۔ اور یوں تمہارے ابو کی پہلی ملازمت فوج میں ہو گئی۔ اس کے بعد کیا ہوا یہ ایک لمبی داستان ہے۔ پاک فوج کی ملازمت کے دوران انہیں پورے پاکستان کی خاک چھاننا پڑی۔ جگہ جگہ ڈیوٹی کرنا پڑی۔ لیکن اسے وہ اپنی نوکری سمجھنے کے ساتھ ساتھ قومی فرض سمجھ کر بھی نبھاتے رہے۔

اس دوران گھر کے حالات بدلے۔ پہلے پہل ضروریات زندگی وافر ہوئیں۔ پھر کچھ سہولیات بھی آئیں۔ انہوں نے اپنے بہن بھائیوں کی شادیاں کیں۔ اپنی شادی کے اخراجات اٹھائے۔ اپنے چھوٹے بھائی کو بھی نوکری پر لگوایا۔ اور یوں دھیرے دھیرے یہ خاندان تنگی و عسرت سے نکلنے لگا۔ لیکن ابھی سپیدہ سحر نمودار نہیں ہوا تھا۔ ابھی مکمل سویر نہیں ہوئی تھی۔

پندرہ سال نوکری کرنے کے بعد ایک روز چھٹی پر گھر آئے تو کیا دیکھا کہ گھر میں دو چارپائیاں پڑیں ہیں۔ ایک پر ان کی لاڈلی بیٹی یعنی تمہاری چھوٹی بہن ٹائفائڈ بخار سے مدہوش پڑی تھی۔ جبکہ دوسری پر ان کے والد یعنی تمہارے داداجان شدید بیمار پڑے تھے۔ میں بار بار کبھی ادھر جاتی کبھی ادھر۔ ۔ ۔ لیکن کوئی بہن بھائی ساتھ دینے کو تیار نا تھا۔ خود ہی سب سنبھال رہی تھی۔ یہ حالت ان سے دیکھی نا گئی۔ انہوں نے واپس جا کر ریٹائرمنٹ کی درخواست دے دی۔ ان کے افسران ان سے بہت معترف تھے۔ انہوں نے بہتیرا سمجھایا کہ ابھی یہ قدم نا اٹھاؤ۔ کچھ دن بعد تمہیں صوبیدار بنا دیا جائے گا۔ لیکن ان کا ارادہ اٹل تھا۔

پندرہ سال پاک فوج میں ملازمت کرنے کے بعد وہ گھر آئے تو آتے ہی کئی چیلنجز درپیش تھے۔ سب سے پہلے تو انہوں نے اپنے خاندان کو ایک کچے کوٹھڑی نما کمرے سے ایک حویلی نما گھر میں منتقل کیا جس کے چاروں طرف پکی چاردیواری اور کمرے بمع واش روم پختہ تھے۔ اس کے بعد چھ ایکڑ زمین ٹھیکہ پر لے کر اسے کاشت کرنا شروع کیا۔ یوں دیکھتے ہی دیکھتے گھر کی نوعیت ہی بدل گئی۔ لیکن پوری عمر کی کمائی اس جگہ پر لگانے کے بعد ان کے لیے ایک اور امتحان درپیش تھا۔ ان کی ساری اولاد بڑی ہو رہی تھی۔ ان کے تعلیمی اخراجات اور آئے روز کے ضمنی اخراجات اٹھانا انتہائی مشکل ہو گیا تھا۔ ایسے میں انہوں نے ایک بار پھر ملازمت کی ٹھانی۔ تا کہ روزمرہ اخراجات کو پورا کیا جا سکے۔ جوان ہوتی اولاد کو سہولیات سے آراستہ زندگی فراہم کی جا سکے۔

پاؤں کا چکر ایک بار پھر شروع ہوا۔ اور اب اسی چکر کے تحت وہ حیدرآباد سندھ میں مقیم ہیں۔ جب وہ نوکری لگنے کے بعد پہلی دفعہ ایک بار پھر سے اپنی پہلی تنخواہ لے کر گھر آئے تو ہاتھ میں پکڑے پیسوں کو اٹھا کر دور پھینک دیا ان کے الفاظ تھے کہ
“کاغذ کے چند پرزوں کی خاطر پوری زندگی رل گئی ہے۔ نا جانے کب میری اولاد کے حالات بدلیں گے”
لیکن وہ باہمت اور باحوصلہ انسان تھے۔ جلد ہی خود پر قابو پا لیا۔ انہیں اپنی ذات سے زیادہ اپنی اولاد اور اپنے سے جڑی ذمہ داریوں کی فکر ہے۔ اسی لیے وہ آج بھی پردیس کاٹ رہے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ جیسے ان کے حالات رہے ویسے ہی حالات کا سامنا ان کی اولاد کو بھی کرنا پڑے۔ اس لیے وہ شبانہ روز محنت کر کے تم سب بہن بھائیوں کے تعلیمی اخراجات پورے کر رہے ہیں۔

وہ خود تو ننگے پاؤں پڑھے لیکن تمہیں نئے نویلے جوتے خرید کر دیے ہیں۔ تا کہ تم احساس کمتری کا شکار نا ہو۔ یہ سائیکل وہ حیدرآباد سے ریل گاڑی پر لاد کر گھر لائے۔ اور اس دن بہت پرجوش تھے کہ ان کا بیٹا سائیکل پر اسکول جایا کرے گا۔ ”

یہاں تک پہنچ کر ان کی آواز رندھ گئی۔ یہ طویل داستان ماں جی نے سنائی تو میں دم بخود سنتا رہا۔ مجھے احساس ہی نا ہوا کہ کب ایک عظیم شخصیت کی داستان حیات بچپن سے لڑکپن اور پھر جوانی سے ہوتی ہوئی ادھیڑ عمری میں داخل ہو گئی تھی۔ آنسو خودبخود میری آنکھوں سے رواں تھے۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

زندگی کا سلسلہ یوں ہی چلتا رہا۔ کچھ دنوں کے بعد ابو جان چھٹی پر گھر آئے۔ وہ ہمیشہ سے ہی شفیق اور مہربان شخصیت تھے۔ لیکن اس بار مجھے ان کی آنکھوں میں بے پناہ شفقت، بے حد پیار اور محبت نظر آتی تھی۔ شاید یہ اس وجہ سے بھی تھا کہ میں اس پس منظر سے واقف ہو چکا تھا جس سے گزر وہ اپنا آج میرے آنے والے کل کے لیے قربان کر رہے تھے۔ یہ قربانی صرف ایک بار نہیں وہ بار بار دے رہے تھے۔ مجھے اپنے الفاظ اور عمل پر پشیمانی تھی۔ میں ان سے ملا تو ضرور لیکن شرمندہ شرمندہ سا۔ ۔ ۔ میری اس حالت کو دیکھ کر وہ کہنے لگے۔ ۔ ۔
“بیٹا کیا بات ہے۔ ۔ ۔ پریشان لگ رہے ہو”
پھر اپنے سدا سے شفیق لہجے میں لگاؤ سے کہنے لگے۔ ۔
“لگتا ہے میرا بیٹا پرانی سائیکل سے اکتا گیا ہے۔ بیٹے فکر نا کرو۔ اگلی بار میں اپنے پیارے بیٹے کے لیے نئی سائیکل لے کر آؤں گا”
میں ان کے لہجے کی لگاوٹ برداشت نا کر سکا۔ اور ان کے سینے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ وہ میرے اس اچانک رویے پر گھبرا گئے اور بھینچ کر سینے سے لگا لیا۔ اس دوران شاید ماں جی نے بتایا کہ میں کیوں رو رہا ہوں۔ لیکن مجھے صرف اپنی آواز سنائی دے رہی تھی۔ ۔ ۔ میں بار بار کہ رہا تھا۔ ۔ ۔
“مجھے نہیں چاہیے سائیکل ابو۔ ۔ ۔ مجھے کوئی سائیکل نہیں چاہیے۔ میں آپ کی طرح پیدل چل کر پڑھوں گا۔ اور آپ کی طرح ہی مشکلات سے گزر کر ایک بڑا آدمی بنوں گا”

میں روئے جا رہا تھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ ابو جان نے کس طرح مجھے چپ کروایا۔ وہ وقت تو گزر گیا۔ لیکن بعد میں آنے والے وقت میں بھی میں نے اپنے لفظوں کا پاس رکھا اور ان کے بار بار کہنے کے باوجود پیدل ہی چل کر پڑھتا رہا۔ مجھ پر ایک ہی دھن سمائی تھی کہ جتنا مشکلات سے گزر کر پڑھوں گا اتنا ہی اس کا ثمر ملے گا۔ میں نے میٹرک امتیازی نمبروں کے ساتھ پہلی پوزیشن لے کر پاس کیا۔ پھر شہر کے مشہور کالج میں داخلہ لیا۔ لیکن جتنا عرصہ پڑھتا رہا گاؤں سے شہر جانے والے اڈے تک پیدل چل کر ہی پڑھا۔ باوجود اس کے کہ ابو نے کئی بار مجھے سائیکل لے کر دینے کی کوشش کی۔ لیکن مجھے سائیکل کے پہیے سے ہی نفرت ہو چکی تھی جس کے باعث میں ایک عظیم شخصیت سے شکوہ کناں ہوا۔

دریں اثناء وہ میرے تمام تعلیمی اخراجات پورے کرتے رہے۔ مجھے کسی چیز کی کمی محسوس نا ہونے دی۔

وقت دھیرے دھیرے اپنی رفتار سے گزرتا رہا۔ میں نے اعلی تعلیم حاصل کی۔ تو ابو جان نے بھاگ دوڑ کر کے مجھے ملازمت دلوائی۔ اب وہ بھی اپنے شہر واپس آ کر ڈیوٹی دینے لگے تھے۔ میں نے بہت بار کہا کہ اب آپ ملازمت چھوڑ دیں۔ کیونکہ میں اب کمانے لگا ہوں۔ لیکن ان کی آنکھوں میں بہت بڑے خواب تھے جنہیں پورا کرنا تھا۔

انہوں نے مجھ سے چھوٹے بہن بھائیوں کو بھی اعلی تعلیم دلائی۔ دوسرے بھائی کو بھی دوڑ دھوپ کر کے ایک اچھی ملازمت پر لگوایا۔ اس دوران ان کی نظر صرف اپنی ہی نہیں بلکہ اپنے بہن بھائیوں کی اولاد پر بھی تھی۔ انہوں نے اپنے بڑے بھائی کے بیٹوں کے تعلیمی اخراجات برداشت کیے۔ ان کی تربیت اس طرح کی کہ وہ ایک کاروبار کی صورت میں اپنے پاؤں پر آپ کھڑے ہو سکیں۔ چھوٹے بھائی کو پہلے ہی ملازمت پر لگوایا تھا۔ اب ان کے بیٹے یعنی چھوٹے بھتیجے کو بھی بھاگ دوڑ کر کے برسرروزگار کروایا۔ بڑے بھائی کی رہائشی زمین پر غیر قانونی قبضے کی صورت حال پیدا ہوئی تو اپنا تمام اثر و رسوخ استعمال کر کے قبضہ چھڑایا۔

اس دوران انہوں نے اپنے خاندان کی خوشنودی و خوشحالی کے لیے کیا کیا پاپڑ بیلے یہ ایک لمبی داستان ہے۔ لیکن ایک وقت ایسا آیا کہ وہی عبدالرزاق کھوہارا جو ننگے پاؤں پیدل چل کر اسکول پڑھنے جایا کرتے تھے جنہیں اسکول فیس کے نام پر بھی پیسے نہیں ملتے تھے ان کا پورا خاندان اپنے پاؤں پر کھڑا ہو چکا تھا۔ اولاد ایک طرف تمام بہن بھائی بھی ضروریات زندگی سے بڑھ اسائشات اور سہولیات زندگی سے آراستہ ہو چکے تھے۔

اس دوران جب بھی کوئی نئی چیز آتی تو گاؤں میں سب سے پہلے ہمارے گھر آتی۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ جب پہلی بار ہمارے گھر ٹی وی آیا تو پورا گاؤں اسے دیکھنے کے لیے امنڈ آیا تھا۔ ٹیپ ریکارڈر آیا تو روزانہ رات کو گھر کے باہر حقے کی محفل جمتی۔ ۔ ۔ دادا جان کے یار دوست اور اہل علاقہ جمع ہو کر ریکارڈر پر عالم لوہار اور غلام حیدر آرائیں کے قصے سنا کرتے۔ مجھے ان دنوں ریڈیو سننے کا بہت شوق تھا۔ ابو جان جب بھی آتے نئی قسم کا کئی کئی بینڈ والا ریڈیو لے کر آتے۔ یوں میرے پاس قسم ہا قسم کے ریڈیوز کا ذخیرہ جمع ہو چکا تھا۔ الغرض وہ کون سی خواہش تھی جو وہ اپنی خوشیوں کی قربانی دے کر پورا نہیں کرتے تھے۔ اوائل زندگی سے ہی ضرورتوں کو ترسنے والے شخص نے اپنی اولاد کو ہر طرح کی سہولیات سے آراستہ کر دیا تھا۔

ایک دن دو پہیوں والی سواری بھی لے آئے۔ یہ نئی یاماہا موٹر سائیکل تھی۔ ان دنوں موٹر سائیکل شاذوناذر ہی کسی کے پاس ہوا کرتی تھی۔ ایسی سواری رکھنے والے لوگ علاقے میں متمول کہلائے جاتے تھے۔ ہم لوگ سائیکل کا دور دیکھے بغیر ہی امارت کے اس دور میں داخل ہو گئے تھے۔ مجھے آج بھی یاد ہے جب پہلی بار موٹر سائیکل گھر میں آئی تو ہم سب بہن بھائیوں کی خوشی دیدنی تھی۔ یہ ایک ایسی سواری تھی جس پر بیٹھ کر دنیا جہان کی سیر کی جا سکتی تھی اور سب سے بڑھ کر اس میں کوئی چخ چخ پخ پخ نہیں تھی۔ پرسکون سواری۔ ۔ ۔ جسے اپنانے میں مجھے کوئی دشواری نا ہوئی۔

وقت بدلتا رہا۔ ۔ ۔ ہمارا ایک کمرے کا کچا گھر ایک وسیع وعریض حویلی میں بدل چکا تھا۔ گھر میں فریج۔ ۔ ۔ اے سی اوون ہر چیز دستیاب تھی۔ اور وہ کچی دیوار جس کے ساتھ سائیکل لگنے سے ڈینٹ پڑ گئے تھے اب ایک پختہ اینٹوں سے بنی چاردیواری میں ڈھل چکی تھی۔ اس کے ساتھ ایک دو نہیں چار موٹر سائیکل کھڑے ہوئے تھے۔ چاروں جدید ہونڈا 125 سی سی موٹر سائیکل تھے۔ یہ چاروں بائیکس ہم باپ بیٹا اور دو چھوٹے بھائیوں کے زیر استعمال تھیں۔ لیکن میرا دل نہیں بھرا تھا۔ دو پہیوں کی سواری کا شوق اپنی انتہا کو پہنچا ہوا تھا۔ میں اس پر بیٹھ کر طویل سفر پر جانا چاہتا تھا۔ پہاڑوں کی سیر کرنا چاہتا تھا۔

مجھے کسی نے بتایا کہ ہونڈا نے ایک جدید ڈیلکس موٹر سائیکل نکالی ہے جو ہیوی بائیک ہے اور اس پر بیٹھ کر پہاڑوں کی سیر کرنے کا بہت لطف آتا ہے۔ کچھ دن بعد ڈیڑھ لاکھ سے بھی زائد قیمت رکھنے والی اس بائیک کی چابی میرے ہاتھ میں تھی اور میں اسے خوشی و حیرانگی کے ملے جلے جذبات کے ساتھ دیکھ رہا تھا کیونکہ یہ ایک اچانک سرپرائز تھا۔ ابو کو جب پتہ چلا تو انہوں نے میری خواہش کو پورا کرنے کی ٹھان لی۔ ماں جی نے جب یہ سنا کہ میں اس بائیک پر بیٹھ کر شمالی علاقوں کی سیر کو جانا چاہتا ہوں تو انہوں نے فوراً ہی ناں کر دی۔ لیکن ابو میرے دلی جذبات و احساسات سے بخوبی واقف تھے۔ مامتا کے جذبات اپنی جگہ لیکن اس جہاندیدہ شخصیت نے بھانپ لیا تھا کہ میرے اندر کی بے قراری کو اسی صورت تسکین مل سکتی ہے۔ اس لیے انہوں نے نا صرف اس بائیک کو لے کر اجازت دے دی۔ بلکہ ماں جی کو بھی کہا کہ وہ اصرار نا کریں اور اللہ کے حوالے کریں۔

اجازت اور بائیک پانے پر میں بہت خوش تھا۔ پھولے نا سما رہا تھا۔ کیونکہ میرا دیرینہ خواب تعبیر پانے کو تھا۔ مجھے وہ دن یاد آ رہا تھا جب ایک پرانی سی بائیسکل کو بھی چلانے سے انکار کر دیا تھا۔ اور پھر اپنے باپ کی محبت اور اپنی ضد کی پشیمانی میں سالوں پیدل چلا۔ اب میں ایک ہیوی بائیک پر بیٹھ کر سینکڑوں کلومیٹر دور شمال کے پہاڑوں میں جانے والا تھا۔ میں دن رات بیٹھ کر پلان بناتا رہا کہ کیسے کیسے کہاں سے ہو کر جانا ہے۔ کئی آن لائن بائیکرز کلب کا رکن بنا۔ میں اپنے خواب کو ملنے والی تعبیر پر بہت ہی پرجوش تھا۔ لیکن کسے معلوم تھا کہ تقدیر کیا رخ دکھلاتی ہے۔ انسان سوچتا کچھ اور ہے اور ہوتا کچھ اور ہے۔

ایک روز میں صبح صبح سو کر اٹھا تو دیکھا کہ ابو جان تیار ہو کر ماں جی کے ساتھ اسی بائیک پر بیٹھ کر قریبی شہر اوکاڑہ جا رہے تھے۔ ابو ہیوی بائیک پر بیٹھ کر اسے کک مار رہے تھے جب کہ میں انہیں فخر سے دیکھ رہا تھا۔ انہیں بخوشی الوداع کہا۔ میں آنے والے وقت سے بے خبر تھا۔

والد صاحب کو گھر سے گئے تقریباً آدھا گھنٹہ ہوا تھا کہ چھوٹے بھائی کی کال آئی۔ ۔ ۔ میں نے جیسے ہی کال ریسیو کی تو وہ گھبرائی ہوئی آواز میں بولا۔ ۔ ۔
“بھائی جان جلدی اوکاڑہ پہنچیں۔ ابوجان کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے۔ ”
یہ خبر سن کر کچھ لمحوں کے لیے تو مجھے یوں لگا جیسے میں اس دنیا میں نہیں۔ یہ خبر مجھے نہیں کسی اور کو دی گئی ہے۔ لیکن جلد ہی میں نے اپنے آپ کو سنبھالا۔ ۔ ۔ بھائی کو دلاسا دیا۔ اور جلدی سے گھر میں والد صاحب کی پڑی بائیک لے کر اوکاڑہ کے نواح میں موجود ملٹری ہسپتال پہنچا۔

ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں پہنچتے ہی ایک قیامت کا منظر میرے سامنے تھا۔ دو متوازی بیڈوں پر والد صاحب اور والدہ صاحبہ زخموں سے چور لیٹے تھے۔ ماں جی ہوش میں تھیں لیکن ابوجان کا بایاں ہاتھ سر پر تھا اور وہ یوں جیسے دنیا و مافیہا سے بے خبر تھے۔

باقی کے معاملات کس طرح کسی نہج پر پہنچے۔ یہ ایک الگ داستان ہے۔ مجھے اتنا یاد ہے کہ تقریباً ایک گھنٹہ بعد ڈاکٹر کی آواز میرے کانوں میں گونج رہی تھی۔ ۔ ۔

“آپ کے والد صاحب کے سر میں بہت گہری چوٹیں لگی ہیں۔ ایسے مریض کا بچنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوتا ہے۔ پھر بھی میں تجویز کرتا ہوں کہ آپ فوری طور پر انہیں ملتان یا لاہور لے جائیں۔ ہو سکتا بروقت ان کے دماغ کا آپریشن ہو جائے تو شاید جان بچ جائے”

یہ الفاظ نہیں منوں وزنی ہتھوڑے تھے جو میرے سر پر برس رہے تھے۔ مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ صرف چند گھنٹے پہلے میں اپنے پیارے ابو کو اپنی عزیز ترین ہستی کو ایک ہیوی بائیک کو کک لگاتے فخر سے دیکھ رہا تھا۔ اور اب وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں اپنی آخری سانسیں لے رہے تھے۔

اوکاڑہ سے جنرل ہسپتال لاہور تک دو گھنٹوں کا سفر دو صدیوں پر محیط تھا۔ یہ بیسویں اور اکیسویں صدی کی کہانی تھی جس میں ایک شخصیت نے غربت و افلاس کے ماحول میں آنکھ کھولی۔ خود کو اور اپنی اولاد کو پاؤں پر کھڑا کیا۔ اور اب اپنی اولاد کو خوش و خرم و خوش حال چھوڑ کر ایک اور ہی دنیا کی جانب جا رہی تھی جہاں ایک نا ایک دن سب کو جانا ہے۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ٹوں ٹوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ٹیں ٹین۔ ۔ ۔ ۔ ٹوں ٹوں۔ ۔ ۔

جنرل ہسپتال لاہور کے شعبہ نیورولوجی میں انتہائی نگہداشت کی وارڈ آئی سی یو میں رہ رہ کر آوازیں گونج رہیں تھیں۔ وارڈ کے اندر لگ بھگ دس سے بارہ مریض زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے تھے۔ ان کے بیڈ کے سرہانوں پرلگی مشینوں سے آنے والی آوازیں یوں محسوس ہو رہیں تھیں جیسے کوئی پرانی سائیکل کی چین اور پرزے چرچرا رہے ہو۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ کوئی شخص سائیکل کے پیڈل پر دباؤ ڈال کر چلانے کی کوشش کر رہا ہے جواب میں مجبوراً اس کے تمام کل پرزے صدائے احتجاج بلند کر رہے ہیں۔

میں اپنے والد کے سرہانے کھڑا تھا۔ ان کے منہ اور سینے کے ساتھ لگی نالیاں سرہانے سے ہو کر اوپر لگی مشینوں میں جا رہیں تھیں۔ جہاں سے رہ رہ کر مختلف آوازیں آ رہیں تھیں۔ یہ آوازیں وارڈ میں موجود دیگر مریضوں کے سرہانے لگی مشینوں سے بھی گونج رہیں تھیں۔ یہ مشینیں وقتاً فوقتاً مریض کے فشار خون اور اس کے دل کی حالت کو بیان کرتیں تھیں۔ اگر کسی مریض کی حالت خراب ہوتی اس کا بلڈ پریشر یا دل کی دھڑکن عدم توازن کا شکار ہوتی تو یہ مشین فوراً تیز آواز میں ٹوں ٹوں کے ساتھ نگرانی پر مامور نرس کو مطلع کرتی۔ کبھی کبھار یوں بھی ہوتا کہ کسی مشین پر اچانک تیز سے ٹوں ٹوں ہو کر پھر سکوت چھا جاتا۔ یوں جیسے سائیکل کی چین اترنے سے پہلے بہت شور کرتی ہے۔ اور پھر جب اترتی ہے تو اچانک خاموشی چھا جاتی ہے۔ پیڈل پر پاؤں مارنے سے بھی کوئی جواب موصول نہیں ہوتا اور انسان جہاں ہے وہیں رہ جاتا ہے ایک قدم آگے بڑھ نہیں پاتا۔ یہ اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ زندگی کا گھومتا پہیہ اب رک چکا، سفر کا انداز بدل چکا۔ منزل اب کچھ اور ہی ٹھہری ہے۔

آئی سی یو وارڈ میں یوں تو مریضوں کے عزیز و اقارب کو اتنی دیر رکنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ لیکن میں کسی طرح آنکھ بچا کر کافی دیر تک اپنے پیارے ابو کے پاس کھڑا ہونے میں کامیاب ہو جاتا۔ اس دوران وارڈ کا ماحول اور والد محترم کی حالت مجھے زندگی کے گزرے روز و شب میں الجھائے رکھتی۔ تین دن تک یہ کیفیت برقرار رہی۔ اور پھر تیسرے دن رات دس بجے کے قریب ان کے سرہانے لگی مشین پر بھی چند آوازیں گونجیں اور پھر وہ ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ سائیکل کی چین اتر چکی تھی۔ میں زبردستی اسے اوپر چڑھانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن جواب میں سوائے خاموشی کے اور کچھ نا تھا۔ اذن روانگی آ چکا تھا۔ وہ اپنے حصے کا کام کر کے ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے رخصت ہو چکے تھے۔

میں نے دیکھا کہ والد صاحب کے بیڈ کے ساتھ ایک بیڈ پر دس گیارہ سال کا بچہ موت وحیات کی کیفیت میں تھا۔ اس کے نیم مردہ ہاتھوں میں ایک جھنڈی پکڑی ہوئی تھی۔ نرس اسے بار بار اس جھنڈی کو لہرانے کی ہدایت کر رہی تھی۔ یکایک اس بچے کے ہاتھوں میں لرزش آئی اور جھنڈی کچھ دیر کے لیے اوپر اٹھی۔ یہ دیکھ کر اس کے سرہانے کھڑا اس کا باپ خوشی سے قلقاریاں مارنے لگا تھا۔ ۔ ۔
“سسٹر میرا بچہ ہوش میں آ گیا۔ ۔ ۔ میرا بچہ ہوش میں آ گیا۔ ”
سسٹر کے ہونٹوں پر ایک باپ کا ردعمل دیکھ کر مسکراہٹ تھی۔ ایک باپ اپنے بیٹے کو زندگی کی جانب واپس لوٹتے دیکھ کر نہال تھا۔ چین واپس چڑھ چکی تھی۔ منظر دیکھ کر میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو پھسل گئے۔

 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: