سید کیا کام کرتا تھا؟ —– محمد حمید شاہد

0

بچپن کا زمانہ تھا اور ہمیں نئی نئی باتیں سکھانے کے لیے کئی حیلے ہو رہے تھے۔ شاید یہاں مجھے ’نئی نئی‘ کی بہ جائے’ نئی پرانی سب باتیں‘ لکھنا چاہیے تھا کہ گھر میں رہتے تو ہمارے بزرگوں کے پاس، اور اسکول میں ہوتے تو اساتذہ کے پاس تہذیب، روایات اور تاریخ کے حوالے سے ہمارے ذہنوں میں انڈیلنے کو بہت کچھ تھا۔ اور واقعہ یہ ہے کہ بہت کچھ ذہن میں سما گیا اور اس میں بہت کچھ ایسا بھی ہو گا جو ادھر ادھر بہہ گیا ہوگا۔ خیر، جو بچ رہا اس میں سے مجھے یاد آتاہے کہ وہ ایک مشق تھی جو اسکول کے معاشرتی علوم والے اُستادمحترم نے دی تھی، یہی استاد محترم ہمیں ڈارئینگ بھی سکھایا کرتے تھے۔ یہ مشق ایسی اہم رہی کہ یہ بعد میں اباجی کی دلچسپی کا ساماں ہو جانے کی وجہ سے میری یادداشت کا مستقل حصہ ہو گئی ہے۔ ماسٹر صاحب نے کہا تھا کہ ہمیں اپنی تاریخ کے نمایاں افراد کی تصاویر اکٹھی کرکے اپنی ڈارئینگ کی دبیز صفحات والی کاپی میں چسپاں کرنا تھیں۔ ظاہر ہے یہ ایسا کام تھا جو اس عمر میں ہم اکیلے نہ کر سکتے تھے۔ اباجی سے کہا تو جیسے یہ ان کے اپنے مطلب کا کام نکل آیا تھا، ایک ایک کرکے کئی نام لیے، جن کی تصاویر کاپی پر چسپاں کی جا سکتی تھیں، ہر ایک کے کارہائے نمایاں کو گنوایا، جنہیں یاد رکھا جانا ضروری تھا۔ مگر تب انہوں نے جو کہا، اب ذہن پر زور دیتا ہوں تو ایک لفظ بھی یاد نہیں آتا۔

خیر، اگلے روزفجر کی نماز کے بعد راولپنڈی نکل گئے کہ پنڈی گھیب جیسے قصبے میں ایسی تصویروں کا ملنا ممکن نہ تھا۔ یوں تو ہمارے گھر میں اخبار باقاعدگی سے آتا تھا اور پرانے اخبارات کے ہر مہینے کا الگ سے بنڈل بنا کر سلیقے سے سنبھال کررکھ لیا جاتا۔ وہاں خاص خاص مواقع پر شائع ہونے والے مضامین کے ساتھ چھپنے والی شخصیات کی تصاویر سے بھی کچھ منتخب کی جا سکتی تھیں۔ دوسرے کئی لڑکوں نے ایسا ہی کیا تھا مگر مجھے یوں لگا تھا کہ جیسے یہ مشق اباجی کو ملی تھی، اور وہ اسے اپنے طریقے سے مکمل کرنا چاہتے تھے۔ سوا سو میل ایسی بس کے ذریعے پنڈی جانا جو ہر دوسرے میل پر سواریوں کو اُتار چڑھا رہی ہو، وہاں بازار میں جاکر ایسے ہی واپس ہونا، پورے دن کی کھیچل، خواری کا کام تھا، جسے ابا جی نے بہ خوشی سر انجام دیا۔ وہ شام کو ہاتھ سے بنی ہوئی پانچ رنگین تصویریں لے کر لوٹے تھے۔ جب وہ ہمیں یہ تصاویردکھا رہے تھے تو یوں لگتا تھا جیسے ایک عظیم خزانہ ان کے ہاتھ لگا تھا جسے وہ دکھا رہے تھے۔  ان تصویروں کے حوالے سے کئی گئی باتیں اب بھی رہ رہ کر یاد آتی ہیں۔ مجھے یاد ہے علامہ اقبال کی تصویر کے پس منظر میں عقاب نمایاں تھا اور قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر میں پاکستان کا نقشہ، الطاف حسین حالی نے گردن کے ارد گرد مفلر لپیٹ رکھا تھا اور غالب کے سر پر اوپر کو اٹھی ہوئی ایسی ٹوپی تھی جو میں نے اپنے ہاں کسی بزرگ کو کبھی پہنے ہوئے نہ دیکھا تھا۔ سرسید احمد خان نے بھی اوپر کو اُٹھی ہوئی ٹوپی پہن رکھی تھی مگر اُن کی تصویر میں اُن کی داڑھی نے بہت متوجہ کیا تھا۔ تصویر کا ملائم کاغذ، جہاں نیچے جاکر ختم ہو جاتا تھا، ایسے لگا، وہ داڑھی ختم نہیں ہوتی تھی۔ میں نے معصومیت سے اباجی سے پوچھا تھا ’’ان کی داڑھی اتنی بڑی ہے تو وہ سب کام کیسے کرتے ہوں گے داڑھی میں ہاتھ الجھتے نہیں تھے ‘‘ابا نے یہ سنا تو بہت ہنسے تھے، اتنے کہ ان کی آنکھوں کے کنارے چھلک پڑے، کہا ’’نامعقول کبھی داڑھی بھی کام سے روکتی ہے یا ہاتھوں میں الجھتی ہے‘‘۔ پھر ابا جی سنجیدہ ہو گئے تھے نظریں تصویر پر جم گئیں، کہا:’’ سرسید ایسے نہ تھے جن کی داڑھی انہیں محض مسجد تک محدود کر دیتی ہے، وہ تو قومی خدمت کا کام کرنے والے تھے۔ ابا جی اب دور کہیں دیکھ رہے تھے اور بڑے لطف سے اکبر الہ آبادی کو یاد کرتے ہوئے گنگنارہے تھے: ’’ہماری باتیں ہی باتیں ہیں سید کام کرتا تھا ‘‘
یہ بچپن کی باتیں میں یوں لے بیٹھا ہوں کہ سرسید احمد خان کی وہ تصویر جو، تب میرے ذہن کے کینوس پر بنی تھی، اب میں لاکھ چاہوں تو بھی اس میں ترمیم کی صورت نہیں نکل پاتی حالاں کہ ہماری نئی تنقید نے مابعد نوآبادیات کی ذیل میں جو مباحث قائم کیے ہیں، ان پر ایمان لائیں توسرسید احمد خان کی پرانی مگر روشن تصویر دھند لانے لگتی ہے۔ مثلاً دیکھئے ہمیں یہاں یہ بتایا جارہا ہے :

 ’’ہر چند ہندوستان میں 1757 سے 1857تک انگریزوں نے جنگیں لڑیں اور مقامی آبادی کے ہزاروں افراد قتل اور قید ہوئے مگر یہاں انگریزوں نے اجتماعی نسل کشی کے بجائے طاقت کے استعمال کی ایک اور صورت دریافت کی۔ ۔ ۔ طاقت کو سماجیانے کا عمل۔ ۔ ۔ اور ذہنی سرگرمیوں کی اصلاح کے لیے تعلیمی تحریک ‘‘

یہیں پر اس نئی تنقید نے ہمیں سرسید کا وہ بیانیہ بھی یاد دلایاہے، جو ’’مقالات سرسید‘‘ میں انہیں دستیاب رہا ہے:

’’جو شخص اپنی قومی ہمدردی سے اور دور اندیش عقل سے غور کرے گا، وہ جانے گا کہ ہندوستان کی ترقی، کیا علمی اور کیا اخلاقی، صرف مغربی علوم میں اعلیٰ درجہ کی ترقی حاصل کرنے پہ منحصر ہے۔ اگر ہم اپنی اصلی ترقی چاہتے ہیں تو ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی مادری زبان تک کو بھول جائیں، تمام مشرقی علوم کو نسیاًمنسیاًکردیں۔ ہماری زبان یورپ کی اعلیٰ زبانوں میں سے انگلش یا فرنچ ہو جائے، یورپ ہی کے ترقی یافتہ علوم ہمارے دست مال ہوں، ہمارے دماغ یورپین خیالات سے (بجز مذہب کے)لبریز ہوں۔ ہم اپنی قدر، اپنی عزت کی قدرخود آپ کرنی سیکھیں۔ ہم گورنمنٹ انگریزی کے ہمیشہ خیر خواہ رہیں اور اس کو اپنی محسن اور مربی سمجھیں ‘‘

سرسید احمد خان کی وہ تصویر جو بچپن میں ہم نے دیکھی، مجھے لگتا ہے کہ نہ وہ مکمل تھی اور نہ یہ تصویر مکمل ہے جو ہمیں ہمارے دوست ناصر عباس نیر نے ’’مابعد نو آبادیات‘‘ کو اردو کے تناظر میں دِکھانے کے لیے سرسید کو اِدھر اُدھر سے کاٹ پیٹ کر دکھایا ہے۔ پہلی تصویر میں لگ بھگ وہ فرشتہ ہو گئے ہیں اور اس نئی تنقیدی کتاب میں، جتنا سرسید استعمال ہوئے ہیں انگریزوں کے ایسے آلہ کار کے طور پر نظر آتے ہیں جن کی زندگی مقامی لوگوں، بالخصوص مسلمانوں کی ذہنی سرگرمیوں کی اصلاح والی تعلیمی تحریک کے ذریعے طاقت کو سماجیانے کے عمل میںصرف ہو گئی تھی۔  اچھا، لطف یہ ہے کہ ان دونوں صورتوں میں سرسید کو اپنے زمانے کاٹ کر اور جس کٹھن راستے پر وہ چل رہے تھے، اسے نظروں سے اوجھل رکھ کر دیکھا جارہا ہے۔  میں ان لوگوں میں سے ہوں، جو سرسید احمد خان کو انیسویں صدی کا سب سے بڑا مصلح اور مسلمانوں کا درمند انسان سمجھتے ہیں اور لطف یہ ہے کہ ایسا میں اس سب کے باوجود سمجھتا ہوں کہ وہ سب کچھ میری نظر میں ہے جس کا حوالہ دے کر نئی تنقید نے سرسید کو انگریزوں کا آلہ کاربنا ڈالا ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ سرسید احمد خان نے مسلمانوں کو اپنے قدموں پر تب اُٹھانا چاہا تھا جب وہ نڈھال ہو کر بالکل گر چکے تھے۔ پھر ایک زمانہ ایسا بھی آیا تھا کہ انگریز مسلمان کے خون کا پیاسا تھا، تعلیم ہو یا سرکاری ملازمتیں، ان پر سب دروازے بند تھے اور بہ ظاہر انگریز سے ٹکرا جانے کا مطلب تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہ تھا۔ اس پر مستزاد یہ کہ مسلمان بھی اپنی حالت بدلنا نہیں چاہتے تھے۔ سو اسی تاریک رات سے نکلنے کی جو صورت ان کے سامنے آ رہی تھی وہ انہوں نے مسلمانوں کو سجھائی اور خلوص نیت سے سجھائی۔ پھر یوں بھی ہے کہ وہ اس باب میں محض باتیں نہیں کر رہے تھے اس کی عملی صورتیں بھی سامنے لا رہے تھے۔ سو میری گزارش ہو گی کی سرسید احمد خان کی شخصیت کو اس طرح نہ دیکھا جائے جیسے سفید چادر پر مرے ہوئے مچھر کو زوم اِن کرتے کرتے کیمرے سے یوں دکھایا جاتا ہے جیسے ساری اسکرین خون رنگ ہو گئی ہے۔ کیمرہ زوم آوٹ ہونے دیں اور لانگ میں پورے تناظر کو حصہ بننے دیں، سرسید کی شخصیت کا روشن پہلو بھی نمایاں ہوتا چلا جائے گا۔

سرسید نے جو کام کیے ان کی فہرست کافی طویل ہے۔ یوں تو ان کاموں میں سرکاری ملازمت بھی قابل ذکر ہے کہ وہ 1838 میں دلی کچہری میں سرشتہ دار مقر ر ہوئے اور اگلے برس کمشنری آگرہ کے دفتر میں نائب منشی ہو گئے تھے۔ 1841میں منصفی کا امتحان پاس کیا اور منصف ہو گئے۔  جنگ آزادی ( کہ جسے انگریز نے اور سرسیداحمد خان نے بھی غدر کے نام سے یاد کیا تھا ) کے زمانے میں سرسید احمد خان کی تعیناتی بجنور میں تھی۔ کہتے ہیں 10مئی 1857کو دہلی میں بغاوت ہوئی تو اگلے دوروز میں اس کی خبر بجنور پہنچ گئی تھی۔ وہاں کئی انگریز اپنی بیوی بچوں سمیت موجود تھے۔ انگریزاس خبر کے پہنچتے ہی مقامی لوگوں کے تیور دیکھ کر بہت عدم تحفظ محسوس کرنے لگے تھے۔ سرسید احمد خان نے ایسے لمحات میں اپنا انسانی فریضہ سمجھا اور انہیں جاکر تسلی دیتے ہوئے کہا :

’’جب تک ہم زندہ ہیں آپ کو گھبرانا نہیں چاہیے۔ جب آپ دیکھیں کہ ہماری لاش کوٹھی کے سامنے پڑی ہے اس وقت گھبرانے کا مضائقہ نہیں۔ ‘‘

یہ کوٹھی کلکٹر صاحب کی تھی جس کا سرسید کے بیان میں ذکر ہوا ہے۔ اسی کوٹھی کے باہر سرسید نے باقاعدہ پہرہ دیا۔ باغیوں کو ان کے قتل سے باز رکھا اور بہ حفاظت وہا ں سے نکل جانے میں مدد دی۔ اچھا، یہ بھی پڑھنے کو ملا ہے کہ جب سرسید میرٹھ میں تھے تو دلی میں انگریزی فوج کے سپاہیوں نے ان کے اپنے گھر کا سامان لوٹ لیا تھا۔ صرف اسباب ہی نہیں لوٹا، ان کے ماموں اور ماموں کے بیٹے کو قتل کر دیا۔ سرسید دلی آئے ماں اور خالہ کو میرٹھ لے گئے۔ تب انگریز نے رُڑکی میں فوج جمع کی ہوئی تھی سرسید اور ان کے عملے کو بھی رُڑکی پہنچنے کا حکم مل چکا تھا، سرسید وہاں پہنچے اور وہاں بھی باغیوں کو سمجھا بجھا کر سرکار کے مقابلے سے باز رکھا۔ ان واقعات کوجنگ آزادی اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کے ساتھ جوڑ کر دیکھیں تو یوں لگتا ہے جیسے وہ خود زخم پر زخم کھا رہے تھے مگر اپنے گرے پڑے مسلمانوں کو ’’باغی‘‘ ہو کر کچلے جانے سے بچانا چاہتے تھے۔ سرسید احمد خان نے جنگ آزادی کے اگلے برس ’’رسالہ اسباب بغاوت ہند ‘‘ لکھ کر مسلمانوں کو انگریزوں کی نفرت اور انتقام سے محفوظ رکھنے کے لیے کوشش کی تھی۔ اسے اگر بغیر کسی تعصب کے، اسی تناظر میں پڑھا جائے گا تو یہ بات بھی سمجھ میں آ جائے گی کہ سرسید نے جنگ آزادی کو بغاوت ہند کیوں کہا تھا۔ یاد رہے جو معلومات حالی نے فراہم کی ہیں ان کی روشنی میں ہم آنک سکتے ہیں کہ رسالہ اسباب بغاوت ہند، جب شائع ہوا تو مقامی طور پر تقسیم نہ ہوا تھا اور اگر ہو جاتا تو جلتی پر تیل کاکام کرتا۔ اس کا مقصد مسلمانوں کا جوش جذبہ بڑھانا بھی نہ تھا بلکہ انگریز حکمرانوں کی ان کوتاہیوں کو نشان زد کرنا تھا جن کی وجہ سے صورت حال بگڑ کر غدر تک جا پہنچی۔ سرسید نے یہ رسالہ چھپوا کر اس کی ایک جلد گورنمنٹ آف انڈیا کو بھیجی اور باقی ولایت گورنمنٹ کو بھیج دیں، جہاں اس کے تراجم ہوئے اور سرسید کا نقطہ نظر موضوع بحث ہوا۔ پھر یہ بھی دلچسپ امر ہے کہ جس طرح ہمارے ہاں سرسید کے باب میں اور اس رسالہ اسباب بغاوت ہند کے بارے میں بدگمانی پائی جاتی ہے، ویسی ہی ادھر انگریزوں میں سے بھی کئیوں کو ہوئی تھی۔ مگر مجموعی طور پر سرسید اپنے مقصد میں کامیاب رہے اور انہوں نے انگریز حکمرانوں پر واضح کر دیا کہ اہل ہند نے کسی سازش کے تحت یہ بغاوت نہ کی تھی۔  بہت سی باتیں کئی برسوں سے جمع ہو رہی تھیں جو غدر کا باعث ہوئیں۔ اور ان باتوں کے جمع ہونے کا سبب یہ تھا کہ انگریزی حکومت، انتظام حکومت اور قانون سازی کے معاملات میں مقامی لوگوں کے مزاج کو سمجھے بغیر اور مقامی مشاورت کے بغیر فیصلے کر رہی تھی۔

صاحب، کچھ بات سرسید کی تعلیمی خدمات کی ہو جائے جنہیں اب، نئی تنقید نے مسلمانوں کی ذہنی سرگرمیوں کا رُخ موڑ کر انگریزوں کی طاقت کو سماجیانے سے تعبیر دینا چاہی ہے کہ میں اسے بھی سرسید کو اپنے زمانے کاٹ کر اور جس کٹھن راستے پر وہ چل رہے تھے، اسے نظروں سے اوجھل رکھ دینے کا شاخسانہ سمجھتا ہوں۔ سرسید احمد خان نے 1859ء میں مراد آباد میں فارسی مدرسہ بنایا۔ 1863ء میں غازی پور میں سائنٹفک سوسائٹی بنائی۔ اسی سال غازی آباد میں سرسید کی کوششوں سے انگریزی مدرسے کا قیام عمل میں آیا۔ 1866ء میں سرسید نے برٹش انڈین ایسوسی ایشن کے نام سے ایک انجمن قائم کی۔ مختلف اضلاع میں تعلیمی کمیٹیاں ہوں یا اُردو یونیورسٹی کے لیے کوششیں تہذیب الاخلاق کا جاری کرنا ہو یا علی گڑھ میں محمڈن اینگلو اورینٹل کالج کا قیام اور اس باب کی دوسری خدمات، ان کا مقصد مسلمانوں کی تعلیمی اور سماجی حالت کو بہتر کرنا تھااور اُس وقت کے منظر نامے میں انہیں جو بھی مواقع مل رہے تھے وہ ان سے، کسی تصادم کے بغیر، مسلمانوں کو فائدہ اُٹھانے کی راہیں فراہم کر رہے تھے۔  حالی نے ’’حیات جاوید‘‘ میں لکھا ہے:

’’ہم کو اس کتاب میں اس شخص کا حال لکھنا ہے، جس نے چالیس برس برابر تعصب اور جہالت کا مقابلہ کیاہے۔ تقلید کی جڑ کاٹی ہے۔ بڑے علماء مفسرین کو لتاڑا ہے۔ اماموں اور مجتہدوں سے اختلاف کیا ہے۔ قوم کے پکے پھوڑوں کو چھیڑا ہے۔ اور ان کو کڑوی دوائیں پلائی ہیں۔ جس کو مذہب کے لحاظ سے، کسی ایک گروہ نے صدیق کہا ہے تو دوسرے نے زندیق کاخطاب دیا ہے اور جس کو پالیٹکس کے لحاظ سے کسی نے ٹائم سرور سمجھا تو کسی نے راست باز لبرل جانا ہے۔ ‘‘

تو یوں ہے کہ سرسید ایسے نہ تھے جن کے ہاں سب اچھا تھا اور ان پر تنقید نہ ہو سکتی تھی، بلکہ ایسے تھے کہ انہیں کئی مقامات سے شدت سے رد کیا جا سکتا ہے، ان کے طریقہ کار سے اختلاف بھی ممکن ہے مگران کے اخلاص سے انکار ممکن ہی نہیں یہ اخلاص ہی ان کی تصویر کو اُجلا بنادیتا ہے۔  سرسید کے اخلاص کو سمجھنے میں الطاف حسین حالی کا یہ بیان بہت مدد دے گا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سرسید کی تمام ملکی و قومی خدمتوں کا محرک اسلام نہیں بلکہ مسلمان تھے۔ سرسید غدر کے بعد مسلمانوں کی تباہی سے نہایت درجہ متاثر تھے اور ان کو مکمل تباہی سے بچانا چاہتے تھے۔ اسی لیے انہوں نے انگریز حکمرانوں کے دل سے بدگمانیاں رفع کرنے کی کوشش کی اور مسلمانوں کو اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کے لیے انگریزی علوم اور زبان کی طرف متوجہ کیا۔ سرسید احمد خان کے پیش نظر یہی حکمت تھی اور یہی کام کر رہی تھی۔

اور ہاں یاد آتا ہے کہ اُس روزسفر کرکے اباجی بہت تھک گئے تھے مگر سرسید پر بات چل نکلی تو وہ اُن کی تصویر سامنے رکھ کر ان کی شخصیت پر بہت دیر بولتے رہے تھے۔ اُنہوں نے سرسید کے بچپن اور لڑکپن کی باتیں مزے لے لے کر سنائیں تو مجھے یقین نہ آتا تھا کہ اتنی بھری ہوئی داڑھی والا شخص کبھی اس سے مختلف بھی رہا ہوگا۔ میں نے تصور میں داڑھی کے بغیر سرسید کی تصویر بنانا چاہی تو ہر بار ناکام ہوا تھا جب کہ ابا جی نے بتایا تھا کہ اپنی نوجوانی میں، وہ بھی آجکل کے نوجوانوں کی طرح بہت رنگین مزاج ہوا کرتے تھے، شریںجان کے کوٹھے پرجاتے اور دوست احباب کے ساتھ میلوں ٹھیلوں میں بھی، مگر جب قومی خدمت کی طرف مائل ہوئے تو سب کچھ چھوٹ گیا۔ وہ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ایسی تعلیم چاہتے تھے جسے پاکر وہ اپنے حقوق حاصل کر سکیں۔  سرسید اور اس کے ساتھیوں نے علی گڑھ تحریک کو جس نہج پر چلایا تھا اس نے مسلمانوں کے اندر بیداری پیدا کی اور یہ ایسا کارنامہ ہے جو سرسید کو برصغیر پاک وہند کے مسلمانوں کے لیے محترم بنا دیتا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: