اسلم کولسری ——— شہزاد وریا

0

یعنی ترتیبِ کرم کا بھی سلیقہ تھا اسے
اس نے پتھر بھی اٹھایا مجھے پاگل کر کے

ہماری زندگی میں خبر کی بہت اہمیت ہے۔ خبر کی تعریف یوں کی جاسکتی ہےکہ خبر ان واقعات، اسرار ، خیالات و آراء وغیرہ کی وقتی معلومات ہیں جن سے ناظرین دلچسپی رکھتے ہیں۔ خبر کسی واقعہ کا ضروری اظہار یا انسانی دلچسپی کا موضوع ہے یعنی وہ چیز جس کا تعلق انسانی معاشرے سے ہو جس کا اثر انسان کے رنج و راحت کا باعث ہو۔ چند دن قبل ایک ایسی خبر تھی جس نے ہر شخص کو سوگوار کیا قمر زمان کائرہ کا بیٹا جو گورنمنٹ کالج لاہور میں زیر تعلیم تھا اور ان کا انتقال لالہ موسیٰ میں ہونے والے ٹریفک حادثے میں ہوا۔ قمرالزمان کائرہ کے بیٹے کی ہلاکت کی خبر کے فوراً بعد ان کو لوگوں کی طرف سے تعزیتی پیغامات بھیجے گیے۔ ان پیغامات کو بھیجنے والوں میں ان کے حلیف، حریف، سماجی شخصیات، صحافی اور عام لوگ شامل تھے جنہوں نے ان کے بیٹے کی موت پر انتہائی ا فسوس اور صدمے کا اظہار کیا۔ جہاں سوشل میڈیا پر سب لوگ ان سے اظہار افسوس کر رہے تھے ان کی تصویر کے ساتھ اکثر لوگ ایک شعر ضرور پوسٹ کر رہے تھے۔

سورج سر مژگاں ہے اندھیرے نہیں جاتے
ایسے تو کبھی چھوڑ کے بیٹے نہیں جاتے

میں نے بار بار یہ شعر دیکھا اور پڑھا میں داد دیے بغیر نا رہ سکا تو میرا تجسس بڑھا کہ اس کا شاعر کون ہے تحقیق کی تو پتہ چلا کہ اس کے خالق اسلم کولسری صاحب ہیں۔

اسلم کولسری یکم اگست 1946ء کو اوکاڑہ کے نواحی گاؤں کولسر میں پیدا ہوئے۔
انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز لیبارٹری سپروائزر کے طور پر کیا اور ساتھ اپنی تعلیم کا بھی سلسلہ جاری رکھا۔ تعلیم کی تکمیل کی بعد آپ اخبار “مشرق “سے وابسطہ ہوگئے۔ روزنامہ مشرق میں شائع ہونے والے اس کے کالم ‘‘روشنیوں سے دُور‘‘ کی بہت پذیرائی ہوئی۔ صحافت کے شعبہ میں اسلم کولسری نے مولانا ظفر علی خان اور شورش کاشمیری کی تقلید کی۔

انہوں نے اردو سائنس بورڈ میں ریسرچ آفسیر کے طور پر کا م کیا اور بعد میں ترقی کر کے ڈپٹی ڈائریکٹر کے ٰعہدے تک پہنچ گئے۔  4200لاہور میں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف لینگویج آرٹ اینڈ کلچر (PILAC) کا قیام عمل میں لایا گیا تو یہاں اسلم کولسری کو ڈپٹی ڈائریکٹر لسانیات کی حیثیت سے کام کرنے کا موقع ملا۔ اسلم کو لسری اس ادارے کے زیر اہتمام پنجابی زبان میں شائع ہونے والے ادبی مجلے ’’ترنجن‘‘ کی مجلس ادارت میں شامل رہےاور پنجابی زبان و ادب کی ترویج و اشاعت میں گہری دلچسپی لی۔ نامور ادیب اشفاق احمدکے لکھے ہوئے ریڈیو پاکستان سے نشر ہونے والے پروگرام ’’تلقین شاہ‘‘ کا بھی اسلم کولسری حصہ رہے۔ جب پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف لینگو یج آرٹ اینڈ کلچر کے زیرِ اہتمام تاریخ کے پہلے پنجابی ریڈیو FM.95 پنجاب رنگ نے 11۔ اکتوبر  2007کو اپنی نشریات کا آغاز کیاتو اسلم کولسری بھی اس کا حصہ بنے اور پنجابی زبان کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ ’’مغلے دی جھوک‘‘ میں اسلم کولسری نے مغلے کا کردار بھی ادا کیا۔ اسلم کولسری کا لکھا ہوا پروگرام ’’خربوزہ‘‘ بھی بہت مشہور ہوا۔ اسلم کولسری نے بچوں کے لیے بھی کئی دلچسپ کہانیاں لکھی ہیں جن میں ’’چاند کے اُس پار‘‘، ’’کھنڈر میں چراغ‘‘، ’’زخمی گلاب‘‘، اور ’’انوکھے شکاری‘‘ بہت مقبول ہوئیں۔ سٹیج کے لیے ڈرامے بھی لکھے۔ ان میں ’’اور آ نکھ کُھل گئی‘‘ اور ’’ابھی نہیں تو کبھی نہیں‘‘ ناقابلِ فراموش ہیں۔

اسلم کولسری نے شعری مجموعوں میں کوئی، برسات، کاش، نیند، جیون، نخلِ جان، ویرانہ، پنچھی اور اِک نظر کافی ہے، شامل ہیں۔
ڈاکٹر سید شبیہہ الحسن کی کتاب ’’جدید غزل اور اسلم کولسری کا شعری سرمایہ‘‘ اسلم کولسری کی شخصیت اور شاعری کا مکمل احاطہ کرتی ہے۔ وہ کچھ عرصہ علیل رہے اور 7 نومبر 2016ء کو اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔

بات چلی تھی کولسری صاحب کے ایک شعر کی جس نے میرے سامنے ان کی شخصیت کے تمام پہلووّں کا اجاگر کر دیا وہ شعر نہیں غزل تھی جو انہوں نے اپنے بیٹے کی وفات پر لکھی تھی۔

سورج سر مژگاں ہے اندھیرے نہیں جاتے
ایسے تو کبھی چھوڑ کے بیٹے نہیں جاتے
تو جانب صحرائے عدم چل دیا تنہا
بچے تو گلی میں بھی اکیلے نہیں جاتے
بے حرف صداؤں کے وہ محرم تیرے ہمدم
اسکول میں جاتے ہوئے دیکھے نہیں جاتے
آنکھوں میں چمکتے ہیں ترے نقش کف پا
اشکوں سے بھی یہ دیپ بجھائے نہیں جاتے
جو پھول سجانا تھے مجھے تیری جبیں پر
بھیگی ہوئی مٹی پہ بکھیرے نہیں جاتے
جو زخم برستے ہیں میرے ذہن پر اسلم
لکھنا تو بڑی بات ہے سوچے نہیں جاتے
اور یہ شعر تو ان کی حقیقی پہچان بنا
شہر میں آ کر پڑھنے والے بھول گئے
کس کی ماں نے کتنا زیور بیچا تھا

ان کے اشعار ہمیں ان کی یاد دلاتے رہیں گے۔

جب میں اس گاؤں سے باہر نکلا تھا
ہر رستے نے میرا رستہ روکا تھا
میں نے اپنے سارے آنسو بخش دیئے
بچے نے تو ایک ہی پیسہ مانگا تھا
شہر میں قمقمے چمک اٹھے
گاؤں میں شام ہو گئی ہو گی

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: