ممدوح محترم جناب سعید ابراہیم کی خدمت میں —— محمد دین جوہر

0

عقل، علم، تجربے اور سیکولر اخلاق کو لے کر فیس بک پہ ہونے والی ایک حالیہ بحث کے بعد جناب جوہر صاحب کا محترم سعید ابراہیم کے جواب میں موقف۔

 

بہت شکریہ جناب سعید ابراہیم صاحب۔ گزارش ہے کہ گفتگو صرف اس وقت مفید و کارآمد ہو سکتی ہے جب زیرِ بحث موضوع پر رہتے ہوئے اسے آگے بڑھایا جائے، جو قدر اور علم ہے۔ اس پر تو آپ کی طرف سے کوئی بات سامنے نہیں آئی۔ میں اپنے مجموعی موقف کے بارے میں کوئی ابہام روا نہیں رکھتا، اور نہ معذرت خواہانہ یا جارحانہ انداز میں گفتگو کا عادی ہوں، اور نہ ہی کسی رعایت وغیرہ کا آرزومند ہوتا ہوں۔ مذہبی آدمی کا موقف اقدار کی اضافت کو قبول نہیں کرتا۔ میرے لیے آپ کا لامذہبی ہونا کوئی نفسیاتی مسئلہ نہیں ہے، لیکن آپ کے لیے میرا مذہبی ہونا گہری نفسیاتی پیچیدگی رکھتا ہے۔ اسی نفسیاتی گرہ کے باعث آپ نے موضوع زیربحث کو نظرانداز کر کے میرے مذہبی ہونے کو نشانہ بناتے ہوئے فرمایا ہے کہ ”تو پھر یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ اولین پیغمبر پر اترنے والی وحی اور اس میں موجود اقدار کے سیٹ کے بارے میں شواہد پیش کریں۔ وگرنہ ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ اسلام کے نام پر پیش کی جانے والی اقدار ماضی کے مذاہب سے مختلف تھیں“۔ ایسے لگتا ہے کہ سپاہی نے چور پکڑ لیا ہو! مذہب ہمارے درمیان مختلف فیہ ہے، آپ اس کو رد کرتے ہیں، جبکہ میں مذہبی پوزیشن پر کھڑے ہو کر بات کرتا ہوں۔ مذہب زیربحث نہیں ہے کیونکہ اس کا اختلافی ہونا طے شدہ ہے، اور طے شدہ موقف یا امور بحث کا موضوع نہیں ہوتے۔ اس لیے آپ کا یہ مطالبہ بالکل لغو ہے۔ آپ جس چیز کو رد کر چکے اس کے شواہد چہ معنی؟ آپ فرما رہے ہیں کہ میں مزید ”شواہد“ پیش کر کے آپ کے رد کو تقویت دوں؟ آپ کے اس مطالبے سے اندازہ ہوتا ہے کہ کسی کٹھ ملا کی طرح آپ کو علمی گفتگو سے کوئی مناسبت نہیں ہے۔ قدر، علم اور ان کی باہمی نسبتیں زیربحث ہیں، ان پر کچھ ارشاد ارزانی فرمائیں تو میں بھی کچھ عرض کروں۔ آپ تفتیشی دھونس سے شواہد نہیں نکلوا سکتے، کیونکہ آپ مذہبی آدمی سے ’شواہد‘ ویسے ہی نکلوانا چاہتے ہیں جیسے بلکتا ہوا بچہ ٹافی نکلوانا چاہے۔ لیکن ہمارے درمیان یہ امر متفق ہے کہ آپ بھی قدر اور علم پر یقین رکھتے ہیں، اور وہی زیربحث ہیں۔

مجھے لونڈیوں کے مسئلے پر لونڈیوں سے اور آپ سے کافی ہمدردی ہے۔ لیکن غلامی ایک سیاسی اور معاشی ادارے کے طور پر آپ کے محبوب مغرب میں جو تاریخ رکھتا ہے، انسانیت اس کی سفاکی اور بربریت کی مثال دینے سے قاصر ہے۔ آپ جس انسان دوستی کے دعویدار ہیں، ہم اس کی مثالیں شمالی و لاطینی امریکہ اور افریقہ کی تاریخ میں دیکھ چکے ہیں۔ موجودہ مغربی معاشرے میں افراد کی کثیر تعداد کام کی مشقت میں غلاموں جیسی زندگی گزارتے ہیں، ان پر بھی اپنی اخلاقیات کی روشنی ڈالیں۔ اس کے لیے Occupy Wall Street Movement کے اعداد و شمار دیکھ لیجیے گا تسلی ہو جائے گی۔ اور اگر ہو سکے تو نومی کلائن کی کسی کتاب پر بھی نظر ڈال لیجیے گا۔ آج کی پورن انڈسٹری تو چلتی ہی غلاموں پر ہے، اس پر آپ کیا ارشاد فرماتے ہیں؟ ہر معاشرہ اور تہذیب جنسی تحدیدات کا ایک نظام ضرور قائم کرتی ہے، اور لونڈی کا مسئلہ اسی کا حصہ ہے، لیکن وہ زیربحث بھی نہیں ہے۔ مغربی معاشروں میں نصف سے زیادہ آبادی incest سے گزرتی ہے، اس کے بارے میں آپ کی اخلاقیات ہمیں کیا بھاشن دیتی ہے؟

اس میں کچھ شک نہیں کہ جب آپ جیسا روشن خیال ’غلامی‘ یا ’لونڈی‘ وغیرہ کا فلیش کارڈ لہراتا ہے تو مذہبی آدمی گھبرا جاتا ہے۔ ویسے ڈر مجھے بھی لگتا ہے لیکن میں ڈرتا نہیں ہوں کیونکہ آپ جیسے نرے اخلاقی کو علم سے کوئی نسبت نہیں ہوتی، اور جو آپ کے تبصروں سے بالکل عیاں ہے۔ قدیم معاشروں میں غلامی ایک معاشرتی ادارہ رہا ہے، اور یہ بالکل غیراہم ہو گیا جب مغرب نے پورے انسانی معاشروں کو غلام بنانے کی سیاسی اور سرمایہ دارانہ ٹیکنالوجی ایجاد کر کے استعماری دور غلامی کا آغاز کیا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آپ اس کے ادراک کے ابتدائی وسائل بھی نہیں رکھتے۔ یہ جاننا بھی قطعاً مشکل نہیں کہ غیریورپی معاشروں کی غلامی اور غارت آج بھی استعماری مغرب کی واحد عالمی پالیسی ہے۔ غلامی کی بحث میں ساری غلامیاں آئیں گی یا صرف وہ جو آپ کو پسند نہیں آتیں؟

‬‬‫آپ نے بہت خوب فرمایا ” اس سے پہلے کہ آپ اپنی اگلی تحریروں میں اس طرح کے کئی اور تجزیاتی دعوے پیش کرتے چلے جائیں“۔ عرض ہے کہ آپ تو ہماری کسی تاریخ کے ہونے سے ہی انکاری ہیں، تو اس کا حوالہ کیوں درکار ہے؟ یعنی آپ کے رد کے لیے حوالے دیتا جاؤں؟ یہ تو بالکل ان پڑھوں والی بات کی کہ جس چیز کو آپ علی الاطلاق رد کرتے ہیں، میں اسی سے دلیل پکڑوں۔ آپ صبح و شام نعروں میں گزارتے ہیں، تو میرے کسی دعوے پر کیوں سیخ پا ہوتے ہیں؟ بہت خوب۔ بھئی ایسی کوئی چالاکی نہیں چلے گی۔ آپ کے خیال میں ہمارا تو کچھ بھی نہیں اور آپ سے بات کرنے کی خاطر فرض بھی کر لیا۔ لے دے کے ہمارے نصیب میں آپ کے بھاشن رہ گئے ہیں، اور سوچا کہ انہی سے دوا دارو کر کے دیکھتے ہیں۔ ہمارے عیب بہت ہیں، اور آپ نے گنوائے بھی کچھ کم نہیں، لیکن ہر وقت کی عیب جوئی اور خردہ گیری تو کوئی علمی گفتگو نہیں ہوتی۔ کبھی تو غصے اور عقل کے حسین امتزاج سے باہر آ کر ہمیں بھی کچھ بتائیں کہ آپ کا فلسفہ کیا ہے، اقدار کا کیا تصور ہے؟ فنکار ہیں تو ہمیں بھی معلوم ہو کہ آپ کا تصور جمال کیا ہے؟ فن

‬‬میں ممنون ہوں کہ آپ نے یہ تو تسلیم کیا کہ ”میرا تصورِ عظمت کسی بھی صورت مغرب سے وابستہ نہیں بلکہ اس کی واحد بنیاد عقل، علم، تجربہ اور غور و فکر کے عناصر ہیں جنہیں آپ کسی نہ کسی طرح عقیدے کی ضرب سے شکست دینا چاہتے ہیں۔ (حالانکہ یہ عمل ایسے ہی ہے جیسے کوئی نابینا شخص کوئی خیالی گرز ہوا میں گھمائے جا رہا ہو۔)“ آپ کی عظمت کا اعتراف تو میں پہلے ہی کر چکا ہوں۔ اس عظمت کو سلام باقی رہ گیا تھا، وہ میں اب پیش خدمت کرتا ہوں، اور تاخیر کے لیے معذرت خواہ بھی ہوں۔ میں حیران ہوں کہ آپ کے ”عناصر“ نے اتنی دھوم مچا رکھی ہے، اور اگر وہ ”عقل، علم، تجربہ اور غور و فکر“ کے ملکات ہوتے تو نہ جانے کیا نوبت آتی۔ بہرحال ”علم“ کا آپ کے ہاں ملکہ ہو جانا بھی جدید عہد کے اہم واقعات سے ہے۔

یہ آپ کی خاص بندہ پروری ہے کہ آپ ”انسانی زندگی کے کسی بھی معاملے یا مظہر کو عقل، علم، تجربے اور غور و فکر کے دائرے سے باہر نہیں [مانتے]۔ اس بنیاد پر گو غلط فیصلے بھی ممکن ہو سکتے ہیں مگر یہی چار عناصر ہیں جن کی بنیاد پر ان فیصلوں کی خامیوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔“ شکر ہے آپ نے ”غلط فیصلے“ کی گنجائش رکھی، لیکن ”معاملے یا مظہر کو عقل، علم، تجربے اور غور و فکر کے دائرے سے باہر نہیں [مانتے]“ کے بنیادی موقف کے درست ہونے کو تو کٹھ ملا ہی کی طرح مانا ہے۔ تو بھئی دھونس کس بات کی ہے؟ آپ کے بقول ہمارے پاس ان میں سے کچھ نہیں۔ آپ کو یہ کبریت احمر حاصل ہو گئی ہے، تو کبھی کوئی عقل کی بات بھی تو کر کے دکھائیں۔ جھاگ پہلے بہتی ہے فقرہ بعد میں رونما ہوتا ہے، بھئی اس کی ترتیب پر بھی کچھ ”غور و فکر“ فرمائیں۔ مخاطب کو defensive کرنے کے لیے آپ عیب جوئی کا نعرہ لگاتے ہیں، لیکن اس سے آپ کی بات نہیں بنے گی کیونکہ یہ استشراقی اور استعماری طریقہ اب بہت پٹ چکا ہے۔ وہ کہتے تھے ”بوئے خوں آتی ہے اس قوم کے افسانوں سے“ اور آپ کی تھاپ، الاپ بھی وہی چلی آتی ہے۔ مغرب کی ایسی بےمغز غلامی پر کبھی عقل کی رائے بھی لے لینا۔ آپ کی عظمت کے پیش نظر، میں نے آپ کی سوانح عمری ہومی کے بھابھا کے ہاں پڑھی تھی، اور اگر طبع روشن پر گراں نہ گزرے تو آپ بھی اس پر ایک نظر ڈال لیجیے گا۔ اس نے آپ کا پورا نین نقشہ بخوبی بیان کیا ہے۔ آپ ”عقل، علم، تجربہ اور غور و فکر“ کے تمام ملکات کے باوجود ابھی تفتیش اور مکالمے میں امتیاز کے بھی قابل نہیں ہوئے، کجا یہ کہ آپ کسی علمی اور فکری موضوع پر گفتگو کی کوئی لیاقت پیدا کر سکیں۔

آپ کا یہ فرمانا درست ہے کہ ”جہاں تک مغربی اخلاقیات کا تعلق ہے تو ان کی تو بنیاد ہی سیکولر ہے“، لیکن میں نے اسے ملغوبہ نہیں کہا، کیونکہ یہ اس سے بہت درجے بدتر ہے۔ ”ملغوبہ“ میں نے آپ کے اخلاقی تصورات کے بارے میں عرض کیا تھا۔ آپ فرماتے ہیں کہ ”سیکولر بنیاد کا سوائے اس کے کچھ مطلب نہیں کہ اخلاقی اقدار کو عقل، علم اور اب تک کے تجربات کی روشنی میں دلائل کے ساتھ طے کیا جائے نا کہ کسی عقیدے کی بنیاد پر اندھوں کی طرح اپنا لیا جائے“ یعنی سیکولر اور آپ کی اخلاقیات تو پھر ایک ہی ہوئی، کہ آپ کا منبع و منہج بھی وہی ہے جس سے سیکولر اخلاقیات اخذ ہوتی ہے، اور آپ نے دعویٰ تو کیا ہے لیکن مانا اندھوں ہی کی طرح ہے۔ آپ اپنی اخلاقیات کو ذرا ”دلائل سے طے“ کر کے دکھائیں تو عرض کروں گا کہ آنکھیں کہاں کہاں ساتھ چھوڑ گئی ہیں۔ کیا یہ اخلاقیات کوئی خفیہ چیز ہے؟ آپ اس کے اطلاقات تو دن رات سامنے لاتے ہیں، لیکن اسے ظاہر نہیں کرتے۔ اپنی وافر عقل سے سیکولر اخلاقیات پر ہی کچھ روشنی ڈال دیں تاکہ ہمیں بھی پتہ چلے آپ کیا رٹ لگائے رہتے ہیں۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ آپ سے ”شواہد“ کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔ میں تو یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ آپ نے ”عقل، علم، تجربہ اور غور و فکر کے عناصر“ سے کون سی اخلاقیات دریافت کر لی ہے؟ ہو سکتا ہے آپ کی اخلاقی دریافتوں سے قوم کی کچھ ڈھارس بندھے۔ اس لیے نیکی کے اس اہم کام میں تاخیر نہ فرمائیں۔

یہ بھی پڑھیئے:  جدید فزکس الحاد کو کیوں رد کرتی ہے؟ سکاٹ ینگرن کی تحقیق: اسامہ مشتاق
(Visited 258 times, 2 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: