محبت میں محبت کی کمی ہے —– فرحان کامرانی

0

ہر سال ہی 14 فروری اپنے ساتھ عجیب مناظر لے کر آ جاتا ہے۔ سرخ گلابوں سے لے کر کیک تک اور پرفیوم سے لے کر مہنگے فونز تک ہر نوع کے تحائف کی بکری بڑھ جاتی ہے۔ اس دن جو کچھ ہوتا ہے اس کی تفصیلات میں جانا راقم ضروری نہیں سمجھتا اور شائد بہت سے ثقہ قسم کے لوگوں کے منہ کا مزہ بھی ان تفصیلات سے بگڑ جائے۔ بس قصہ مختصر یہ کہ اس دن ”حسب ذائقہ“ محبت کی جاتی ہے۔

مگر یہ تو ایک خاص دن ہے ورنہ ”محبت“ کرنے والے اکثر پارکنگ لاٹس، پارکوں اور کونے کھدروں میں نظر آ ہی جاتے ہیں۔ پھر دوستوں کے فلیٹ بھی اکثر و بیشتر کافی کام آ جاتے ہیں۔ اس ”محبت“ کی فضا میں پچھلے 15 سالوں میں بڑی ترقی ہوئی ہے۔ سماج کو فلموں، ڈراموں وغیرہ سے بنے بنائے سوچنے کے سانچے اور عمل کے نمونے مل جاتے ہیں۔ لڑکے لڑکیاں بڑی تیزی سے اور تجسس سے ہر نئی چیز کو سیکھ کر تجربے کرنے لگتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ یہی سب تو محبت ہے، بقول سلم احمد…

لوگ کہہ دیتے ہیں ہوس کو بھی محبت
جیسے نام پڑ جائے مجاہد کسی بلوائی کا

مگر اس ”محبت“ کی ریل پیل میں محبت کے ساتھ کیا ہو رہا ہے بلکہ کیا کیا ہو رہا ہے وہ اپنے اندر ایک عبرت کی داستان ہے۔ ایسی عبرت کی داستان جو کسی کو تو لکھنی ہے۔ چلئے لکھتے ہیں۔ عموماً لڑکے ہی لڑکیوں کی طرف پیش قدمی کرتے ہیں۔ پھر سماجی رابطے کی ویب سائٹوں کی برکت سے بڑی آسانی سے تعلق استوار ہوتا ہے، پھر اظہار محبت ہو جاتا ہے، لڑکے کو لگتا ہے اس نے ایک اہم قلعہ فتح کر لیا، لڑکی کو بھی لگتا ہے کہ اس کو بھی توجہ مل ہی گئی۔

اب یہ دونوں ہر وقت فون اور سماجی میڈیا کے مختلف ذرائع پر جڑے رہتے ہیں۔ عموماً لڑکیاں ہر وقت لڑکوں سے توجہ کی طالب رہتی ہیں جب کہ لڑکے ہر وقت ایک اور ہی دھن میں رہتے ہیں۔ لڑکیاں توجہ حاصل کرنے کے لئے یا اس محبت کے تصور کی وجہ سے جو میڈیا پر دیکھ دیکھ کر وہ پل رہی ہیں، لڑکوں کے مطالبات پورے کرنے لگتی ہیں اور یوں ہر چیز کا تجسس بڑی تیزی سے ختم ہو جاتا ہے۔ پھر شادی ہو بھی تو کوئی چارم، کوئی کشش، کوئی اسرار رشتے میں رہتا نہیں۔ محض بوریت، بے کیفی اور اکتاہٹ ان رشتوں میں شادی کے ایک آدھ ماہ بعد ہی جھلکنے لگتی ہے۔

مگر اکثر تو شادی تک ایسے رشتے پہنچنے پاتے ہی نہیں۔ رس چوس کھا کر عموماً بھنورا اڑ جاتا ہے۔ پھر جو سہرا لگا کر آتا ہے بے چارہ وہ اکثر شب زفاف کے بعد دل میں کئی سوالات لے کر کچھ تجربہ کار بڑے بھائیوں (جن سے اتنی بے تکلفی ہو) یا دوستوں کے پاس دوڑتا ہے مگر آج کل تو ہر چیز چھپانے کے اوزار بازار میں دستیاب ہی ہیں، پھر لوگ دل کو یہ سوچ کر بہلا لیتے ہیں کہ دنیا مکافات عمل کا نام ہے۔

مگر یہ سب تو شائد آج کل کی محبتوں کے سامنے کے، بڑے ظاہری قسم کے معاملات ہیں۔ بات تو یہ ہے کہ جو لوگ محبت کی قسمیں وعدے کرتے نہیں تھکتے، وہ کیسے ایک دوسرے سے بعد میں گھناتے رہتے ہیں۔ کیسے یہ محبت کے وعدے ہر معاشی دباؤ میں، ہر بیماری میں، ہر قسم کے بحران میں کھل کر سامنے آ جاتے ہیں؟

راقم ایک ایسی خاتون سے واقف ہے جو اپنی شادی کے بعد عرصے تک بچہ پیدا کرنے پر اس لئے تیار نہ تھیں کہ ان کے شوہر کی تنخواہ محض تیس ہزار تھی اور وہ سوچتی تھیں کہ ایسی صورت میں بچہ پیدا کرنے سے بہتر ہو گا کہ وہ طلاق لے لیں اور کسی بہتر معاشی حالت والے لڑکے کو تلاش کریں۔ یہ شادی بھی ماشاء اللہ محبت کی شادی تھی۔

ویسے بات شادی تک جاتی ہے تو بہت سے لوگ ناک بھوں چڑھانے لگتے ہیں۔ یہ لوگ سوچتے ہیں کہ محبت اور شادی دو جدا چیزیں ہیں۔ ایسے لوگ سلیم احمد کے بقول عموماً ”آدھے دھڑ کے بھوت“ہوتے ہیں۔ ان”کسری“ شہزادوں اور شہزادیوں کے سر پر جو بھی سوار ہو، مگر بات یہ ہے کہ زندگی کو ٹکڑوں میں نہیں بانٹا جا سکتا، زندگی ایک اکائی کا نام ہے، اس اکائی میں خانے نہیں بنائے جا سکتے۔”محبت“ نہ تو فلٹریشن ہو سکتی ہے نہ محض چوما چاٹی۔ یہ جسم اور روح کی دوئی بھی وکٹورین عہد میں ہم اہل مشرق نے مغرب سے سیکھی ورنہ ہمارے یہاں تو روح اور جسم بھی جدا نہیں۔ محبت جسمانی، روحانی، جذباتی یا عقلی نہیں ہوتی۔ محبت بس محبت ہوتی ہے، یہ وہ وقت ہے جو قوت حیات بھی ہے اور انسان اور انسان، انسان اور کائنات کے سب سے خوبصورت رشتے کا نام بھی ہے۔ اور مجھے کہنے دیجئے کہ انسان اور خدا کا رشتہ بھی صرف محبت کا ہی ہے۔ اور جب محبت کے دعوؤں سے بھی محبت ختم ہو جائے تو کیا قیامت ہو گی؟ بقول شاہنواز فاروقی۔۔۔

جدائی سے بھی زیادہ جان لیوا۔۔۔محبت میں محبت کی کمی ہے
اور….
یہ عالم آتش ِدل کا
کہ اس پر چار کپ چائے بنانی ہو
تو مشکل ہو!

حقیقت میں محبت مر رہی ہے، محبت مر چکی ہے اور اس کی لاش کی ممی بنا کر یہ سماج اس کی نمائش میں بڑے زوروں سے لگا ہے۔ یہ پھو ل، گل دستے، پرفیوم، یہ فیس بک، واٹس ایپ وغیرہ….

مو قلم، ساز، گل تازہ، تھرکتے پاؤں
بات کرنے کے بہانے ہیں بہت
آدمی کس سے مگر بات کرے؟
بات جب غایت غایات نہ ہو
اور تقریب ملاقات نہ ہو
آدمی سوچتا ہی سوچتا رہ جاتا ہے

(ن م راشد)

(Visited 142 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: