معیشت کی ناکامی: پروپیگنڈہ یا حقیقت —— عاصم چوہدری

0

ناصر عباس صاحب نے گزشتہ دنوں ایک تحریر میں بتایا کہ پاکستان کیسے اپنے معاشی اخراجات پورے کرنے کی کوشش کررہا ہے جس کی وجہ سے ہم آئی ایم ایف سے ایک بہتر اور کامیاب ڈیل کرنے میں کامیاب رہے- اور پی ٹی آئی نے اس معاشی پر قابو کیسے پایا- اس تحریر پہ  ایک صاحب نے تبصرہ کیا کہ آپکی یہ ٹیکنیکل باتیں عام عوام کی سمجھ میں نہیں آسکتیں- چنانچہ انکی اسی تحریر کو آسان سے الفاظ میں لکھنے کی جسارت کررہا ہوں- یوں میری تحریر میں انکی تحریر کا کچھ حصہ بھی آگیا ہے۔

ملک کی معیشت کو چلانے کی مثال گھر چلانے کی مثال سے سمجھیئے- جیسے کچھ چیزیں ہم اپنے گھر میں بنا سکتے ہیں- اور کچھ چیزیں ہمیں بازار سے لیکر آنی پڑتی ہیں- اورگھر کے نظام کو چلانے کے لیئے ہمارے پاس ایک مستقل آمدن ہوتی ہے- کہ جب پہلی تاریخ کو تنخواہ ملتی ہے تو بیویاں گھر کے بجٹ بناتی ہیں بچوں کی فیس، گھر کا کرایہ، کھانے پینے کا خرچہ، بجلی،سوئی گیس کے بل- یہ تمام خرچے نکالنے کے بعد اگر انکے پاس پیسے بچتے ہوں تو وہ باقی چیزوں کے لیئے پیسے نکالتی ہیں- جیسے شاپنگ یا پھر کوئی اور پلان وغیرہ-اور ان سب پلان کے لیئے آمدن شرط ہوتی ہے- لیکن اگر ایک مہینے آپکو تنخواہ لیٹ ملی تو پھر آپ کو اپنا سسٹم چلانے کے لیئے پیسے ادھار لینے پڑتے ہیں- اس لیئے سمجھدار لوگ اپنا سایئڈ بزنس ساتھ ضرور رکھتے ہیں-

یہی صورت حال ملک کی معیشت کے ساتھ ہوتی ہے- ملک کے کچھ اخراجات ہوتے ہیں جن میں درآمدات، امور سلطنت کو چلانے کے لیئے وغیرہ خرچہ چاہیئے ہوتا ہے- اسی طرح ملک کی آمدنی ہوتی ہے- اور ملک کی آمدنی میں برآمدات اور بیرون ملک میں رہنے والے پاکستانیوں کی طرف سے بھیجا گیا روپیہ اور بیرونی انویسٹمینٹ شامل ہوتی ہیں- اب جو ہمارے ملک کا جو ٹوٹل خرچہ ہے وہ اس کی آمدن سے زیادہ ہے- اس کو کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کہتے ہیں- جو کہ ن لیگ نے اپنے آخری زبردستی کے بنائے بجٹ میں تقریبا 18 سے 20 بلین ڈالر کا رکھا- حالانکہ نیا بجٹ بنانا غیر قانونی تھا- لیکن ن لیگ نے غیر قانونی بجٹ کی منظوری دی- اور ابھی تک وہی بجٹ چل رہا ہے- لیکن میڈیا اینکرز کی عجیب منطق ملاحظ فرمایئں کہ پچھلی حکومت کے اس بجٹ کو تحریک انصاف کے کھاتے میں ڈالتے رہتے ہیں- اور الزام لگاتے رہتے ہیں کہ تحریک انصاف کی معاشی پالیسی ناکام ہوگئی- جبکہ منی بجٹ میں کاروباری طبقے کی طرف سے کی گئی گزارشات کی روشنی میں ٹیکس میں چھوٹ کے لیئے بس تبدیلیاں کی گئی- تحریک انصاف اپنا پہلا مکمل بجٹ اس سال پیش کرے گی- پھر اس پر تنقید جائز بھی ہوگی-

جب تحریک انصاف نے ستمبر 2018 میں حکومت سنبھالی تو ملک کا نظام اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ پورا کے لیئے سالانہ 18 سے 20 بلین ڈالر چاہیئے تھا- اب اس کا ایک طریقہ تو یہ تھا کہ اپنی کمائی کو زیادہ کیا جائے، اگر کمائی بہتر نہیں کرنی تو پھر دوسرا طریقہ وہی رہ جاتا ہے جو کہ ن لیگ نے اپنایا ہوا تھا- یعنی قرضہ لینے والا- تحریک انصاف نے جب حکومت سنبھالی تو کمائی کے سارے راستے بند تھے- کیونکہ ن لیگ ڈالر کو مصنوعی طور پر ساڑھے 4 سال ایک جگہ پر رکھ کر اس ملک کی لوکل انڈسٹری کو جو ناقابل تلافی نقصان پہنچا کر گئی اس کی تلافی صرف 5 یا 6 مہینوں میں کسی صورت ممکن نہیں تھی- اور اس کے علاوہ ملک کی آمدنی کو بہتربنانے کے کسی لانگ ٹرم منصوبے کو شروع نہیں کیا گیا- جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہمیں کرنٹ اکاؤنٹ کے اس بحران پر قابو پانے کے لیئے قرض کی آپشن کی طرف دیکھنا پڑا- آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کی بات چلائی گئی تو آئی ایم ایف نے اتنی خراب صورت حال دیکھنے کے بعد اپنی سخت شرائط کے ساتھ پیکج آفر کردیا- جو کہ پالیسی سازوں کے لیئے کسی بھی طرح ناقابل قبول تھا- چنانچہ دوست ممالک سے درخواست کی گئی- جس میں سعودی عرب، یو اے ای اور چین نے آگے بڑھ کر پاکستان کی مدد کی- لیکن اس حکومت نے ساتھ میں اچھا کام یہ کیا کہ دوست ممالک سے مدد لینے کے ساتھ انہوں نے آمدن کو بہتر بنانے کے طریقوں پر کام جاری رکھا- یعنی صرف مدد مانگنے پر ہی زور نہیں دیا گیا بلکہ آمدن کو بہتر بنانے کے طریقوں پر کام شروع کیا گیا- جس کے لیئے بند انڈسٹریز کو چلانے کے لیئے انکے رکے ہوئے 250 ارب روپے کے ریفینڈ واپس کیئے- جو کہ خود ساختہ بہترین وزیر خزانہ اسحاق ڈار صاحب نے بجٹ میں ہیرا پھیرا کرنے کے لیئے روکی ہوئی تھی- (یہ فنڈز روک کر آئی ایم ایف کو دھوکہ دیا کہ پاکستان کی ٹیکس کولیکشن زیادہ ہے- جبکہ یہ 250 ارب انڈسٹریلسٹس کے ریفینڈ کے پیسے تھے) یہ وہ رقم ہوتی ہے جو کہ ٹیکس پیئرز کو واپس کرنی ہوتی ہے- ان انڈسٹریلسٹس کو سبسڈیز دی گئی- یوں مارچ میں ہونے ٹیکسٹائل ایکسپو میں انکو بیرون ملک سے پہلی دفعہ آرڈرز ملنا شروع ہوئے-

بیرون ملک پاکستانیوں کے بھیجے ہوئے پیسوں کی شرح میں تقریبا 10 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا- گو کہ ابھی پیسے بھیجنے کے قوانین میں اور بہت سی بنیادی تبدیلیاں کرنے کی ضرورت ہے اور حوالہ اور ہنڈی کے خلاف بھرپور طریقے سے کاروائی کرنے کی ضرورت ہے- اس وقت تقریبا 18 بلین ڈالر بیرون ملک پاکستانی قانونی طریقے سے بھیجتے ہیں اور تقریبا اتنی یا اس سے زیادہ زیادہ کی رقم حوالہ اور ہنڈی کے ذریعے بھیجی جاتی- اور یوں ملک کو تقریبا 20 بلین ڈالر کا سالانہ نقصان صرف حوالہ اور ہنڈی کے ذریعے سے پہنچایا جاتا ہے- اگر حکومت پیسے بھیجنے کے قوانین میں ہی تبدیلیاں کرکے اس کو عوام دوست بنادے تو ہمارا آدھا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ صرف ریمیٹینس کی مد میں ہی ختم ہوجائے گا- لیکن پھر 10 مہینوں میں بیرون ملک پاکستانیوں کے پیسے بھیجنے میں تقریبا 10 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا-

دوسرا کام تحریک انصاف نے ملک کی آمدنی کو بہتر بنانے کے لیئے اپنے خرچے کم کرنے شروع کیئے۔ اور یہ کہ اپنی درآمدات میں کمی کردی- اور تقریبا 13 فیصد درآمدات کم ہوگئی- اب اگر نعرے پاکستان سے محبت کے لگایئں اور چیزیں بیرونی دنیا کی استعمال کریں اور تو آپکی ملک سے محبت پرحیرت ہے- اس کے لیئے صرف حکومت ہی نہیں بلکہ آپ عوام کو بھی کچھ کرنا ہوگا- اور وہ ہے کہ اپنے ریسورسز کو پروموٹ کریں ضروری نہیں کہ دہی نیسلے کا ہی لیکر آیا جائے- آپ اس کو گھر میں بھی بنا سکتے ہیں- لہذا امپورٹڈ چیزوں کے مقابلے میں اپنی لوکل چیزوں کو پروموٹ کریں-اس کے بعد حکومت نے غیر ضروری اخراجات میں کمی کی اور مزید کررہی ہے- جیسے پچھلے دنوں ایکسپریس کی ایک خبر کے مطابق حکومت نے صرف ایوان صدر نے اپنے اخراجات میں 6 فیصد کمی کی-

اوپربیان کیئے گئے سب طریقوں بشمول دوست ممالک سے امداد کو ملا کر حکومت نے اپنے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے 20 بلین ڈالر میں سے 17 بلین ڈالر کا انتظام کرلیا- اور یوں باقی 3 بلین ڈالر باقی رہ گیا-

حکومت نے اس 3 بلین ڈالر کے خرچے کو پورا کرنے کے لیئے آئی ایم ایف سے بھی مذاکرات جاری رکھے کئی دفعہ مذاکرات میں ڈیڈ لاک بھی آیا- لیکن یہ مذاکرات کامیابی سے طے پاگئے- اور یوں تحریک انصاف کی حکومت 6 بلین ڈالر کی ڈیل آئی ایم ایف سے آسان شرائط پر کرنے میں کامیاب رہی- یہ وہی آئی ایم ایف تھا جو ہم سے پہلے سی پیک اور کچھ دوسری چیزوں کی ڈیٹیل مانگ رہا تھا- لیکن بعد میں بغیر اس شرط کے قرضہ دینے کو مان گیا- کیونکہ ہم نے اپنے خسارے کا 80 فیصد کسی نہ کسی طریقے سے پورا کرلیا تھا-

لہذا میں پروپیگنڈے کرنے والوں کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ پاکستان معاشی بحران سے تقریبا باہر نکل چکا ہے- اور اگلے ایک سال کے اندر سٹیبل ہوجائے گا- اب آگیا مہنگائی کا مسئلہ- جب بھی کوئی نئی حکومت آتی ہے تو پالیسیوں میں تبدیلی کی وجہ سے عوام کو اس کا بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے- آپ ماضی کی حکومتوں سے اس کی مثال لے سکتے ہیں- پی پی نے 2008 میں حکومت سنبھالی تومہنگائی کی شرح 25 فیصد تھی- ن لیگ نے 2013 میں جب حکومت سنبھالی تو مہنگائی کی شرح 11 فیصد سے زیادہ تھی- جبکہ تحریک انصاف کے دور میں مہنگائی کی شرح ساڑھے 9 اور 10 کے آس پاس ہے-یہ سب باتیں آن دی ریکارڈ موجود ہیں- اتنی مہنگائی نہیں ہوئی جتنا پروپیگنڈا کیا جارہا ہے- یہی 2008 کے بعد پنجاب میں ن لیگ اور مرکز میں پی پی کی حکومت تھی تو چینی 100 روپے کلو، آٹا 70 روپے کلو بکتا تھا- اور آپ ہی لوگوں نے ٹی وی پر نعرے لگوائے تھے کہ شیر آٹا کھاگیا- بجٹ کا انتظار کریں- انشاء اللہ تحریک انصاف کی حکومت اپنا پہلا بجٹ پیش کرے گی تو عوام کو اس میں ریلیف ملے گا-

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: